خطبات

خطبات

By Rahimia Institute of Quranic SciencesReligion & SpiritualityEducationIslam
Download on the App Store

خطبات episodes

  • عصرِ حاضر کے فکری و معاشی بحران کے تناظر میں آن لائن مذہبی سطحیت و جذباتیت کا جائزہ اور صحبتِ صالحہ کے ذریعے اجتماعی تربیت کی اہمیت| 09-10-2026
    عصرِ حاضر کے فکری و معاشی بحران کے تناظر میں آن لائن مذہبی سطحیت و جذباتیت کا جائزہ اور صحبتِ صالحہ کے ذریعے اجتماعی تربیت کی اہمیت*
    خطبہ جمعۃ المبارک
    حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
    بتاریخ: 26؍ ربیع الثانی 1448ھ /9؍ اکتوبر 2026ء
    بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
    خطبے کی راہ نما قرآنی آیت
    وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًاٝ (28)
    سورۃ الکھف:18 (28)
    ترجمہ: تو ان لوگوں کی صحبت میں رہ جو صبح اور شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اسی کی رضامندی چاہتے ہیں، اور تو اپنی آنکھوں کو ان سے نہ ہٹا، کہ تو دنیا کی زندگی کی زینت تلاش کرنے لگ جائے، اور اس شخص کا کہنا نہ مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا، اور اپنی خواہش کے تابع ہو گیا ہے، اور اس کا معاملہ حد سے گزرا ہوا ہے۔
    ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
    ✔ دینِ اسلام کی جامعیت اور رہبانیت کا ردّ
    ✔ عملی حقائق سے عاری مروّجہ دینی مباحث اور نوجوانوں کی کنفیوژن
    ✔ دینِ اسلام میں معاشرتی معاملات کی اہمیت اور ان پر راہ نمائی کا نظام
    ✔ دینی مباحث میں معاشرتی موضوعات سے پہلو تہی کے نقصانات
    ✔ مُلکِ عزیز کے تلخ حالات کی بنیادی وجہ: کالونیل نظام کا تسلسل
    ✔ ورلڈ بنک کی حالیہ جاری کردہ معاشی رپورٹ (میناپ) کا تنقیدی تجزیہ
    ✔ انسانی فطرت اور دینِ اسلام میں اجتماع کی اہمیت اور اجتماعی نظام کی خرابی کے تباہ کن اثرات
    ✔ اجتماعی نظام کی درستگی کے لیے صحیح فِکر، اجتماعیت اور تاریخی تسلسل کی اہمیت
    ✔ دینی موضوعات پر آن لائن کورس اور لیکچر دینے والے ’بُقراطوں‘ کا شعوری جائزہ
    ✔ دینی تعلیم و تربیت کے لیے دینی اجتماع کی ضرورت
    ✔ کاروباری بنیادوں پر موجود دینی آن لائن کورسوں کے نوجوانوں پر خطرناک اثرات
    ✔ صحابہؓ کا مقامِ صحابیت اور دینِ اسلام میں دینی اجتماع اور صحبتِ صالح کی قدر و قیمت
    ✔ آن لائن ’سکالروں‘ کا غیر سماجی دینی موضوعات کے ذریعے نوجوانوں کو متأثر کرنے کا رجحان
    ✔ حضرت عمرِ فاروقؓ کا حدیث کے ثبوت میں حدّ درجہ احتیاط کا رویّہ اور ہمارے لیے راہ نمائی
    ✔ باشعور قیادت کی پہچان کے لیے تنقیدی رویہ اپنانے کی ضرورت
    ✔ اُسوہ حسنہﷺ کی روشنی میں فِکری تشکیل اور تربیت کے لیے دینی اجتماع کی ضرورت کا جائزہ
    ✔ مذہبی لبادے میں خواہش پرست راہ نماؤں کے شعوری جانچ پرکھ کا طریقہ کار
    ✔ تاریخی تسلسل کے ذریعے حقائق کی آگہی اور متوازن رویوں کے اختیار کرنے کی ضرورت و اہمیت
    55 min
  • نظمِ کائنات کے تناظر میں نظمِ معاشرت کے اجتماعی اصولوں کی اہمیت اور ریاستی و عالمی تناظر میں ان سے انحراف کے نتائج کا جائزہ | 09-10-2026
    نظمِ کائنات کے تناظر میں نظمِ معاشرت کے اجتماعی اصولوں کی اہمیت اور ریاستی و عالمی تناظر میں ان سے انحراف کے نتائج کا جائزہ
    خطبۂ جمعۃ المبارک
    خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
    بتاریخ : 26؍ ربیع الثانی 1448ھ / 09؍ اکتوبر 2026ء
    بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
    خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی
    سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(1) یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(3) اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(4). (61–صف:1 تا 4)
    ترجمہ : ” اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا، اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے۔ بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو، اللہ چاہتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے
    🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
    0:00 آغاز خطاب
    1:37 کل انسانیت کی فلاح و بہبود کا نسخۂ حیات‘ اجتماعیت کی ضرورت و اہمیت
    3:13 میدانِ حشر میں کل انسانیت؛ فرد سے لے کر بین الاقوامی سطح کی ذمہ داریوں کے حساب کی بنیاد پر جزا و سزا
    9:40 معاشرے اور اجتماعیت کی بنیاد‘ باہمی معاہدات کی پاسداری اور اپنی آزاد مرضی سے ذمہ داریاں قبول کرنا
    11:25 معاہدات کی خلاف ورزی‘ اجتماعی نظم کے لیے انتہائی خطرناک اور انسانیت سے راہِ فرار اختیار کرنا ہے
    14:10 انسانی زندگی میں قول اور فعل کی اہمیت نیز احکاماتِ الہیہ کے مطابق اور ذمہ داری کی ادائیگی کے ساتھ کنٹرول گفتگو کرنا‘ قرآنی تعلیم ہے
    17:06 خطبے کی مرکزی آیات کے پسِ منظر میں سماجی تشکیل کے لیے قول و فعل کی یکسانیت کی ضرورت و اہمیت
    18:39 ریاستِ مدینہ میں منافقین جماعت کا ظہور‘ غزوہ بدر میں ریاستِ مکہ کی شکست کے بعد ہوا
    21:48 تسبیح و تحمید کی حقیقت: کائنات کی تمام مخلوقات کا اپنی مخصوص فطری اور طے شدہ ذمہ داریوں کو بغیر کسی انحراف کے مکمل طور پر پورا کرنا
    26:21 عرشی و فرشی مخلوقات کی طے شدہ ذمہ داریوں کے تناظر میں تسبیح و تحمید کی مزید وضاحت
    32:45 ’’العزیز‘‘ اور ’’الحکیم‘‘ کی وضاحت اور ان دو اوصاف کے تناظر میں تمام مخلوقات پر اللہ تعالٰی کی قولی اور عملی حاکمیت
    37:34 عمل کے لیے منظم ترتیب اور حکمت لازمی و ضروری نیز قرآن میں قانونِ الہی کے بعد اسمِ الہی کے ذکر کرنے کا گہرا راز
    40:00 ایمان کا مفہوم: اللہ تعالٰی کو عزیز اور حکیم تسلیم کرتے ہوئے اپنے قول و فعل کو اللہ کے احکامات کے تابع کر دینا
    43:24 دنیا میں نبی اکرم ﷺاور آپؐ کی جماعتِ صحابہؓ‘ اللہ کے ’’عزیز‘‘ اور ’’حکیم‘‘ ہونے کا مظہر ہیں نیز انسان کا امتحان اور آیت ’’لم تقولون ما لا تفعلون‘‘ کے تناظر میں جماعتی زندگی کا فساد‘ قول اور فعل میں تضاد کا نتیجہ ہے
    45:24 اس آیت کا پسِ منظر، غزوہ احد میں آپؐ کی حکمتِ عملی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے نتائج اور قول و فعل میں تضاد پر اللہ کی تنبیہ و توبیخ
    55:49 دشمن کا مقابلہ کرنے والی منظم، بنیانِ مرصوص اور معیاری ایمان‘ قول و عمل میں یکسانیت والی جماعت‘ اللہ کو بہت ہی محبوب
    57:13 نظامِ شمسی اور گردشی نظام کے تناظر میں نظم و ضبط، ذمہ داری اور اجتماعیت کی اہمیت
    58:40 ایک فرد کا اپنی ذمہ داری سے انحراف کا خمیازہ‘ پوری اجتماعیت بھگتی ہے
    1:02:35 یورپین اقوام کا ریاستی نظام میں نفاق اور جھوٹ پر مبنی قول و عمل کے تضاد اور منافقانہ معاہدوں کی اساس پر قائم قومی و عالمی نظام کی تین سو سالہ تاریخ اور عصری المیے کا جائزہ
    1:08:46 قول و عمل کے تضاد پر غضبِ الٰہی اور سزا؛ قومی شناخت تباہ اور سیاسی و اقتصادی غلامی
    1:10:05 انسانی سماج کے تجزیے کا قرآنی اسلوب اور قول و عمل کے تضاد کا شکار جماعتوں، ریاستوں اور عالمی قوانین کا جائزہ
    1:17:37 حضورؐ نے ایک ماں کو اپنے بچے سے بھی جھوٹا وعدہ کرنے سے منع کیا
    1:19:59 آج کے عالمی، ریاستی اور جماعتی منافقت کے دور میں ایمانی تقاضے کے مطابق ذمہ دارانہ طرز عمل اپنانے کی اہمیت
    بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
    https://www.rahimia.org/
    https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
    https://www.youtube.com/@rahimia-institute
    منجانب: رحیمیہ میڈیا
    1 hr 27 min
  • شعورِ حق اور "قولِ سدید" کے قرآنی اصول پر صالح معاشرے کی تشکیل: مذہبی و سیاسی منافقت اور سامراجی حکمتِ عملی کے شعوری تجزیے کی ضرورت | 02-10-2025
    شعورِ حق اور "قولِ سدید" کے قرآنی اصول پر صالح معاشرے کی تشکیل: مذہبی و سیاسی منافقت اور سامراجی حکمتِ عملی کے شعوری تجزیے کی ضرورت
    خطبہ جمعۃ المبارک
    خطاب: حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ
    بتاریخ: 19؍ ربیع الثانی 1448ھ /2؍ اکتوبر 2026ء
    بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
    خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
    یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ (70) یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا(71)
    سورۃ الاحزاب:33 (70-71)
    ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔ تاکہ وہ تمہارے اعمال کو درست کرے اور تمہارے گناہ معاف کر دے۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانا، سو اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔
    ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
    ✔ بعثتِ انبیائے کرامؑ اور انسانی شرف و وقار کی بحالی کی جدوجہد
    ✔ بعثتِ محمّدیﷺ کے ذریعے تکمیلِ اخلاق کا نظام
    ✔ عدل اور حق کے ساتھ استقامت کا قرآنی حکم اور اس کی وضاحت
    ✔ باطل کے بالمقابل حق اور سچ کے ساتھ تعاون: قرآن و سنت اور تاریخی استشہادات کی روشنی میں
    ✔ قرآنی اصولوں کی روشنی میں سچے معاشرے کی پہچان
    ✔ غیر مسلم اور دُشمن طبقات کے ساتھ سماجی معاملے میں عدل و انصاف کا رویہ: اسوہ حسنہ کا اہم سبق
    ✔ اسلامی معاشرے کی پہچان: حق اور انصاف کی بنیاد پر ظالم کا مقابلہ اور مظلوم کی حِمایت
    ✔ مسلمانوں کا عدل و انصاف پر مبنی اخلاق و رویہ: اشاعت اسلام کا اساسی اُصول
    ✔ سرد جنگ کے دوران مسلمانوں کے مذہبی تعصّب اور مفاد پرستانہ ذہنیت کا سامراجی استعمال
    ✔ مسلمانوں کی باہمی لڑائی میں صُلح و آشتی کا قرآنی اُصُول
    ✔ مذہبی لبادے میں منافق قیادت کی تکفیری ذہنیت کا شعوری تجزیہ
    ✔ موجودہ دور کا بڑا المیہ: جھوٹی اور منافق قیادت
    ✔ عالمی سامراجی طاقتوں کی جنگی حکمت عملی اور اس کے شعوری تجزیہ کی ضرورت و اہمیت
    ✔ سیاسی و مذہبی قیادت کا منافقانہ طرزِ عمل اور قولِ سدید سے انحراف
    ✔ قرآنی اُصولوں کی روشنی میں موجودہ دور کا تقاضا: حق اور سچ کے ساتھ تعاون
    ✔ علمائے سُو کی مفاد پرستانہ ذہنیت اور ان کے بے شعوری کا رویہ اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں
    55 min
  • ایمان کی حقیقت، نفاق کے تاریخی مظاہر ؛ نفاق زدہ ریاستی و معاشی نظام کے تعلیم اور صحت پر تباہ کن اثرات اور حضرت رائے پوری رابع کی رہنمائی | 02-10-2025
    ایمان کی حقیقت، نفاق کے تاریخی مظاہر ؛ نفاق زدہ ریاستی و معاشی نظام کے تعلیم اور صحت پر تباہ کن اثرات اور حضرت رائے پوری رابع کی رہنمائی
    خطبۂ جمعۃ المبارک
    خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
    بتاریخ : 19؍ ربیع الثانی 1448ھ / 02؍ اکتوبر 2026ء
    بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
    خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
    "وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ" (2 –البقرہ:8)
    ترجمہ : ”اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور دن قیامت پر اور وہ ہرگز مومن نہیں “ ۔
    حدیثِ نبویﷺ:
    عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِيمَانُ مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ، وَقَوْلٌ بِاللِّسَانِ، وَعَمَلٌ بِالْأَرْكَانِ۔
    ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان دل کی معرفت، زبان سے اقرار اور اعضائے بدن سے عمل کا نام ہے‘‘ (سنن ابن ماجہ: 65)
    🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
    0:00 آغاز خطاب
    1:20 قرآنی تعلیمات پر صدقِ دل سے ایمان لانا‘ دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن
    2:46 حدیث: الْإِيمَانُ مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ (الحدیث) میں ایمان کی حقیقت اور ایمانِ مُفصَّل کی روشنی میں ایمانی تقاضوں کی وضاحت
    7:40 آخرت کے دن پر ایمان کے تناظر میں یومِ آخرت (عقیم) کی حقیقت و معنویت اور وجہ تسمیہ
    12:26 یومِ حشر: تمام انسانوں کے ہر ہر لمحے کے اعمال کا ٹھیک ٹھیک حساب و کتاب کا دن
    19:36 کائنات کی تقدیرِ خیر و شرّ (نظام) کی حقیقت اور اس پر ایمان لانے سے مقصود‘ معرفتِ باری تعالیٰ
    22:33 اظہار ما فی الضمیر کے مطابق معرفتِ خداوندی کا زبان سے اقرار (قَوْلٌ بِاللِّسَانِ)
    24:00 الہی احکامات اور نبوی ہدایات پر ایمانی تقاضے کے مطابق عمل کرنا (عَمَلٌ بِالْأَرْكَانِ)
    28:02 سورة البقرہ کی ابتدائی آیات میں دو جماعتوں کا ذکر، ایمان لانے والوں کی تعریف اور اگلی دو آیتوں میں ایمان کی ضد کفر کی حقیقت پھر اگلی تیرہ آیات میں تیسرے گروہ منافقین کی تفصیلی وضاحت
    30:51 مکی دور اور غزوہ بدر سے قبل مدنی دور میں پکے مومن اور کافر موجود تھے مگر منافق نہیں تھے
    33:15 یہود کے بڑے عالم حضرت عبداللہ بن سلامؓ کے ایمان لانے پر یہود کی متعصبانہ روش کی وضاحت
    37:08 مدینہ منورہ کی تاریخ اور سماجی و ریاستی ساخت کی روشنی میں منافقت کے بارے میں آیاتِ قرآنی کی تشریح
    41:25 مدینہ کی قومی طاقت؛ اوس و خزرج پر یہودیوں کے علمی و تجارتی رعب کی حقیقت اور ان دونوں قبائل میں دعوتِ اسلام کے پھیلاؤ کا اصل سبب
    44:51 بدر کے بعد مدینہ کا منظر نامہ یکسر تبدیل‘ میثاقِ مدینہ، ایمانی جماعت کا رعب و دبدبہ اور ریاستِ مدینہ کی ظاہری سیادت و قیادت نبی اکرمؐ کے سپرد
    51:00 یہود کی ریشہ دوانیاں؛ شکوک و شبہات پیدا کرکے مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانا یا نفاق کے مرض میں مبتلا کرنا
    52:32 خطبے میں تلاوت کی گئی آیت کا معنی و مفہوم: بظاہر ایمان لانے کا دعویٰ لیکن دھوکہ دہی کا عمل
    54:17 اوس و خزرج کے سچے ایمان والوں اور یہود سے ذاتی و کاروبای فوائد اٹھانے کے حصول کے لیے منافقین بظاہر ایمان لائے
    55:19 حدیث کی روشنی میں نفاق کی دو قسموں؛ ۱) نفاقِ اعتقادی، ۲) نفاقِ عملی کی حقیقت اور انجامِ کار
    59:52 نفاقِ عملی کی چار علامات؛ کذب بیانی، خیانت، معاہدہ شکنی اور قانون شکنی
    1:04:20 ان آیات میں منافقین کی ریاستِ مدینہ، جماعتِ صحابہؓ اور نبی اکرمﷺ سے نفاق کی حقیقت، اثرات اور نتائج کا مکمل تجزیہ
    1:05:44 خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں سرمایہ دارانہ غلبے کے پچھلے تین سو سالوں میں بین الاقوامی منافقت کا غلبہ، جوع الارض اور فساد فی الارض کا سامراجی کردار اور اس کے ایشیائی اقوام پر اثرات اور عصری جائزہ
    1:11:16 برعظیم پاک و ہند کے دورِ زوال میں منافقانہ روش کا افراد سے بڑھ کر جماعتوں، ریاستوں اور نظاموں کے اندر سرایت کر جانے کا عبرت ناک جائزہ
    1:12:23 دارالسلام کا حقیقی مفہوم اور دارالاسلام کے دارالمنافقت بن جانے کے عمل کا جائزہ نیز امام شاہ ولی اللہ دہلوی کے نزدیک ریاست کا ایک شخصی وجود
    1:16:31 پچھلے سوسال میں سامراجی جماعتوں سے معرضِ وجود میں آنے والی بظاہر اسلامی ریاستوں میں نفاقِ عملی کی چار علامات اور بنیادی ریاستی حقوق‘ تعلیم و صحت کی پامالی اور ملکی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے منافقانہ رویوں کی اساس پر دارالاسلام کے بیانیے کا جائزہ
    1:28:46 حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے خطابات و دروس میں عمومی طور پر نفاق والی آیات پر گفتگو کی بنیادی وجہ اور پیغامِ فکر و عمل
    1:31:47 رسول اللہﷺ کا منافق جماعتوں کو سخت سزا دینے کا عمل نیز تما م صحابہ کرامؓ‘ رسول اللہ کی زندگی میں ہی نفاق سے مکمل طور پاک تھے
    1:34:58 منافقانہ سماج، جماعتیں اور ریاستوں کی پہچان پیدا کرنا‘ آج کے دور کا تقاضا
    بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
    https://www.rahimia.org/
    https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
    https://www.youtube.com/@rahimia-institute
    منجانب: رحیمیہ میڈیا
    1 hr 37 min
  • نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں| 04-09-2026
    نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں
    خطبۂ جمعۃ المبارک
    خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
    بتاریخ : 21؍ ربیع الاول 1448ھ / 04؍ ستمبر 2026ء
    بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، پشاور کیمپس
    خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
    آیتِ قرآنی:
    يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا۔ (33 – الأحزاب: 45-46)
    ترجمہ: ”اے نبی ! ہم نے آپ کو بلاشبہ گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بُلانے والا اور چراغ روشن بنایا ہے“۔
    حدیثِ نبویﷺ:
    لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169)
    ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“
    🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
    0:00 آغاز خطاب
    1:32 ربیع الاول‘ انسانوں کی روحانی ترقی اور دلوں میں نورِ محمدی کے ذریعے سے نورِ خداوندی کی پرورش کا مہینہ
    5:49 کرۂ ارض پر ظلم و کفر اور روحانی مُردَنی کے خاتمے کے لیے ’ازکی خلقِ اللہ‘ روحِ محمدﷺ کا انتخاب اور بعثت
    12:11 نبی اکرمؐ کا نور اور وجودِ گرامی‘ باعثِ تخلیقِ کائنات نیز جسمانی فضائل اور نورانی و روحانی تاثیرات
    15:56 جسمانی اور عقلی نشو و ارتقاء اور کامل انسان بننے کا دورانیہ‘ مثالوں سے وضاحت
    19:25 ماہِ ربیع الاول اور چالیس سال کی عمر مبارک میں سچے خوابات کی صورت میں انخصرتؐ کی نبوت و رسالت کے اظہارات
    20:53 نبوت و رسالت کا تئیس سالہ تدریجی ارتقاء؛ وحی الہی، نزولِ قرآن اور تکمیلِ دین
    24:06 ربیع الاول میں وصال؛ روضۂ رسول میں روحِ محمدیﷺ کی روحانیت و نورانیت کا برزخی نشو و ارتقاء اور فیوضات و برکات
    27:53 ربیع الاول میں سیرتِ مقدسہ کا تذکرہ‘ دلوں کو منور کرنے اور محبتِ رسولؐ پیدا کرنے کا ذریعہ
    29:02 نبی اکرمؐ کی نبوت کے فیضان سے کائنات اور آدمیت کی ابتدا اور خاتم النبیین کی وجہ سے تا قیامت کوئی نیا نبی نہیں آئے گا
    30:56 حضرت عیسیٰؑ کے دنیا میں نزول اور آمد کا ہدف اور مقصد
    32:46 دنیا میں حضورؐ کی پیدائش اور اعلانِ نبوت سے میدانِ حشر تک آپؐ کی نبوت اور حکومت (اتھارٹی) برقرار اور قائم ہے
    41:24 خلفاء اور اولیاء کی صورت میں فیضِ و برکاتِ نبوت تک قیامت جاری نیز حضرت مہدی کی آمد کا مقصد
    44:33 محبتِ رسولؐ کے بغیر ایمان نامکمل
    47:54 خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر؛ غزوۂ احزاب کے موقع پر عرب کی تمام قوتوں کی مدینہ پر یلغار اور صحابہ کرامؓ کا امتحان
    56:34 خطبے کی مرکزی آیت میں ریاست، اتھارٹی اور حکومت سے متعلق رسول اللہؐ کے پانچ اوصاف (شاہد، مبشر، منذر، داعی اور سراج منیر) کی توضیح و تشریح
    1:07:27 ’دَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ‘ کی روشنی میں منصبِ دعوت کے تقاضے، شیخ و مرشد کی تربیت اور اجازت کی ضرورت و اہمیت اور آج کا المیہ
    1:12:46 منصبِ دعوت اور وعظ کا اختیار صرف بادشاہ وقت اور با رعب عالم کو حاصل ہے
    1:14:15 مولانا الیاس دہلویؒ کی چھ نمبروں کی دینی دعوت و تبلیغ اور منصبِ دعوت کے حوالے سے بڑی غلطی فہمی کا ازالہ
    1:17:47 پانچواں نبوی وصف؛ سراجِ منیر کے نتائج (دنیا کا ہر کونہ نورِ محمدیﷺ سے روشن اور مکمل دینی غلبہ)
    1:23:24 حدیثِ نبوی میں حضورؐ کے پانچ صفاتی نام اور ان کے اثرات و نتائج
    1:24:40 ورثة الانبیاء: علماء کا پانچ نبوی اوصاف اپنانے اور دور کے تقاضے کے مطابق کردار ادا کرنے کی ناگزیر ضرورت
    1:31:00 پانچ نبوی اوصاف کی اساس پر برعظیم پاک و ہند میں حریت پسند علماء کے کردار و افکار اور ان کی اتباع کی ضرورت و اہمیت
    بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
    https://www.rahimia.org/
    https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
    https://www.youtube.com/@rahimia-institute
    منجانب: رحیمیہ میڈیا
    1 hr 38 min
  • سماج شکن اور عدل دشمن جہنمی طرزِ فکر و عمل: جرم پیشہ طبقہ کے اعتراف اور حق سے خوفزدگی کی قرآنی تمثیل کا مطالعہ | 25-09-2026
    سماج شکن اور عدل دشمن جہنمی طرزِ فکر و عمل: جرم پیشہ طبقہ کے اعتراف اور حق سے خوفزدگی کی قرآنی تمثیل کا مطالعہ خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 12؍ ربیع الثانی 1448ھ /25؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیات فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَۙ (49) كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ (50) فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍﭤ(51) بَلْ یُرِیْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ (52) كَلَّاؕ-بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَﭤ(53) كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌ۠ (54)ٝ فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗﭤ(55) وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُؕ-هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠ (56) سورۃ المدثر:74 (49-56) ترجمہ: پس انہیں کیا ہو گیا کہ وہ نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں؟ گویا کہ وہ بِدکنے والے گدھے ہیں، جو شیر سے بھاگے ہیں، بلکہ ہر ایک آدمی اِن میں سے چاہتا ہے کہ اسے کُھلے ہوئے صحیفے دیے جائیں۔ ہرگز نہیں! بلکہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔ ہرگز نہیں! بے شک یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے۔ پس جو چاہے اس کو یاد کر لے، اور کوئی بھی یاد نہیں کر سکتا مگر جب کہ اللہ ہی چاہے۔ وہی ہے جس سے ڈرنا چاہیے اور وہی بخشنے والا ہے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 ✔ دینِ اسلام بطور ترجمان فطرتِ انسانیت ✔ سلسلہ ہدایت کا تاریخی تسلسل اور قرآنِ حکیم بطور ہدایت کا آخری مجموعہ ✔ مُجرم طبقات کا ہدایت اور نصیحت سے متعلق منفی طرزِ عمل ✔ مُجرم طبقات کے لیےگدھے سے مماثلت کی قرآنی مثال ✔ مُجرم طبقات کے انفرادیت اور انانیت پر مبنی اجتماعیت شِکن رویّے ✔ انفرادی سوچ اور رویّوں کے انسانی معاشرے پر بھیانک اثرات ✔ مجرمین کے دو بُنیادی جرائم: نظامِ صلٰوۃ سے انحراف اور سرمایہ پرستانہ طرزِ عمل ✔ مجرمین کا تیسرا بڑا جُرم: عملی تقاضوں سے عاری بے کار مُباحثے ✔ مجرمین کا چوتھا بڑا جُرم: یومِ انصاف کا اِنکار ✔ موجودہ معاشرے میں زیرِ بحث موضوعات کا ناقدانہ جائزہ ✔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے مطالعہ قرآن کا اُصول ✔ شفاعتِ محمّدیﷺ کا حقیقی مفہوم ✔ انبیائے کرامؑ کی معاشرتی جدوجہد کا تعارف ✔ موجودہ معاشرے میں مُجرمین کے جرائم کا غلبہ اور معاشرتی زوال ✔ قرآن حکیم انسانیت کے لیے بطور کتابِ نصیحت ✔ موجودہ معاشرے کی زبوں حالی اور ہماری انفرادی و اجتماعی ذمہ داریاں
    55 min
  • ظلم اور جبر کے خلاف تربیت یافتہ خدا پرست جماعت (رِبِّیُّون) کی منظم جدوجہد کا تاریخی تسلسل اور عصری چیلنجز | 25-09-2026
    ظلم اور جبر کے خلاف تربیت یافتہ خدا پرست جماعت (رِبِّیُّون) کی منظم جدوجہد کا تاریخی تسلسل اور عصری چیلنجز
    خطبۂ جمعۃ المبارک
    خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
    بتاریخ : 12؍ ربیع الثانی 1448ھ / 25؍ ستمبر 2026ء
    بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
    خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:
    وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَا اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(146) وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّا اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ(147)
    (3 –آل عمران:146، 147)
    ترجمہ : ” اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر لڑے ہیں بہت خدا کے طالب پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے اللہ کی راہ میں اور نہ سست ہوئے ہیں اور نہ دب گئے ہیں اور اللہ محبت کرتا ہے ثابت قدم رہنے والوں سے۔ اور کچھ نہیں بولے مگر یہی کہا کہ اے رب ہمارے بخش ہمارے گناہ اور جو ہم سے زیادتی ہوئی ہمارے کام میں اور ثابت رکھ قدم ہمارے اور مدد دے ہم کو قوم کفار پر “ ۔
    🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
    0:00 آغاز خطاب
    1:39 سماجی معاہدات اور قوم کی ترقی کے لیے سچی لیڈر شپ کی ضرورت و اہمیت
    4:23 گذشتہ جمعہ کے مضامین کا خلاصہ؛ سابقہ اقوام کے اجتماعی جرائم، غلط قیادت کا تسلط: مہلت کے بعد اللہ کی گرفت
    6:56 شدید مخالفت اور اذیت کے باوجود حضرت نوحؑ کی صبر و استقامت کے ساتھ قانون شکن اور گمراہ قوم کی ہدایت کے لیے ساڑھے نو سو سال تک دعوت و تبلیغ
    10:58 عاد و ثمود اور قومِ موسیٰؑ پر اترنے والے عذاب کی شکلیں اور بنیادی وجوہات
    15:05 ظالم قوموں پر عذاب کی دوشکلیں نیز حضرت موسیٰؑ کے دور میں پہلی بار تربیت یافتہ جماعت نے منظم قوت کے ساتھ فلسطین و بیت المقدس کی آزادی کے لیے قومِ عمالقہ کے خلاف جہاد و قتال کیا
    19:08 بنی اسرائیل کی کنعان سے مصر ہجرت کے بعد حضرت یوسفؑ کی قیادت میں ان کی تمدنی اور شہری تربیت کا باقاعدہ آغاز ہوا
    22:48 خطبے میں تلاوت کی گئی آیت میں ’رِبِّیُّون‘(دس دس ہزار افراد پر مشتمل منظم اور تربیت یافتہ جماعتیں) اور ظالم طاقتوں کے خلاف ان کے جماعتی کردار کی توضیح و تشریح
    25:12 غزوۂ احد کے موقع پر نازل ہونے والی آیتِ مبارکہ (آلِ عمران: 146) کا پسِ منظر
    29:43 چار انبیاءؑ کی جدوجہد کا شعوری تسلسل، حضرت موسیٰؑ کی جدوجہد سے خدا پرست جماعت (رِبِّیُّون) کا ظالم و جابر قومِ عمالقہ کے خلاف منظم کردار
    35:09 نبوت کا نیا رنگ؛ جماعت کی بنیاد پر قومی اور بین الاقوامی انقلاب برپا کرنے والے دو اولو العزم انبیاءؑ
    36:52 ’رِبِّیُّون‘ کا معنی و مفہوم نیز حضرت موسیٰؑ کی قومی جدوجہد سے نبی اکرمؐ تک ظلم اور جبر کے خلاف تربیت یافتہ خدا پرست جماعتوں (رِبِّیُّون) کی منظم جدوجہد کا تاریخی تسلسل
    41:01 غزوۂ احد کے موقع پر جماعتِ صحابہؓ کو ’رِبِّیُّون‘ کی اساس پر اجتماعی کردار ادا کرنے کی دعوت
    45:37 نبی کی تربیت یافتہ ربیّ جماعت‘ مصائب و مشکلات کے وقت اور دشمن کے آگے وہن (ذہنی شکست) اختیار نہیں کرتی
    47:59 مسلمانوں میں ’وَہن‘ سے سامراجی غلبے تک: ذہنی کمزوری، وسائل پر قبضہ اور سامراج کا تسلط نیز ان کے مدمقابل‘ اپنے وسائل کی حفاظت کرنے والے ’رِبِّیُّون‘
    51:38 ربّی جماعت کی پہلی خصوصیت: وَہن (ذہنی شکست اور دشمن کا خوف) اختیار نہیں کرتی
    54:44 دوسری اور تیسری خصوصیت: ضعف (جسمانی کمزوری) اور استکانت (ٹوٹ کر بکھرنے) سے اجتناب
    57:17 ’ضعف‘ اور ’استکانت‘ اختیار نہ کرنے کے تناظر میں حضرت شاہ عبدالرحیم دہلویؒ کی امام شاہ ولی اللہؒ کو کی گئی نصیحت اور مولانا سندھیؒ کے کانگریس کے نام خط کی تفصیلات
    1:00:04 ان تین خصوصیات پر جماؤ اختیار کرنے والے ’صابرین‘ سے اللہ محبت کرتا ہے نیز صبر و استقامت کی تین صورتیں
    1:03:46 اگلی آیت میں نبوی مشن کی حامل منظم جماعت کی وہن، ضعف اور مسکنت کا مقابلہ کرنے کے لیے توبہ ، ڈسپلن اور استقامت کی دعا
    1:07:34 عصری تقاضا اور آیت کی پکار: غلبۂ دینِ محمد ﷺ کے لیے تین صفات کی حامل’ربیّون‘ صفت اجتماعیت کا قیام اور ظلم و جبر کے خلاف منظم قومی کردار ادا کرنے کی ضرورت و اہمیت
    بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
    https://www.rahimia.org/
    https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
    https://www.youtube.com/@rahimia-institute
    منجانب: رحیمیہ میڈیا
    1 hr 19 min
  • عصرِ حاضر کا ابلاغی بحران اور استعماری پروپیگنڈا: قرآنی بصیرت کی روشنی میں خبر کی تحقیق اور فکری و اجتماعی شعور کی ضرورت | 18-09-2026
    عصرِ حاضر کا ابلاغی بحران اور استعماری پروپیگنڈا: قرآنی بصیرت کی روشنی میں خبر کی تحقیق اور فکری و اجتماعی شعور کی ضرورت خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 5؍ ربیع الثانی 1448ھ /18؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (36) سورۃ بنی اسرائیل:17 (36) ترجمہ: اور جس بات کی تجھے خبر نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑ۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے بازپرس ہو گی۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 0:00 آغاز خطاب 0:49 دینِ اسلام بطور عظمتِ انسانی کا تکمیلی پیغام 4:18 معاشرتی تبدیلی کے لیے علم و شعور کی اہمیت اور پہلی وحی کا نزول 7:48 جاہلی معاشرے کی علامات اور دینِ اسلام کی حقیقت شناس تعلیمات 11:23 قرآنِ حکیم کا تدریجی نزول اور انسانی معاشرے پر اس کے عملی اثرات 14:31 قرآنِ حکیم میں مذکور علم کے تین ذرائع: سمع، بصر اور عقل 19:20 انسانی ذرائع علم کی ذمہ داریاں اور ان کے محاسبہ کا نظام 23:33 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں جھوٹ کی حقیقت اور موجودہ میڈیا کا کردار 27:32 خبر کی تحقیق میں اہلِ ایمان کی ذمہ داری کا قرآنی حکم 32:43 قرآنِ حکیم کی راہ نمائی میں خبر کی تحقیق کا ذمہ دار: ملکی سیاسی نظام اور اس کے ادارے 35:54 عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے تابع ذرائع ابلاغ کا فریب زدہ نظام اور ہماری شعوری ذمہ داریاں 38:46 موجودہ مسلم معاشرے میں جذباتی رویے اور جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کا رجحان 40:11 حضرت اسامہ بن زیدؓ کا میدانِ جنگ میں مخالف کو قتل کرنے کے واقعہ سے راہ نمائی 44:36 عالمی استعمار نظام کا مسلمانوں کی جذباتی بے شعوری سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی 47:39 موجودہ سوشل میڈیائی دور کے منفی رجحانات کا تجزیہ اور ان کا تدارک کی قرآنی راہ نمائی 52:58 عالمِ عرب کی سیاسی قیادت کا موجودہ المیہ 55:18 مغربی پروپیگنڈہ کے ماحول میں قرآنی بصیرت سے راہ نمائی کی ضرورت و اہمیت 57:58 علم و شعور کی قرآنی دعوت اور ہماری ذمہ داریاں بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
    1 hr 2 min
  • منصبِ نذیرِ مبین ﷺ کا تاریخی تسلسل : قیامِ عدل اور تحفظِ حرمین شریفین کا لائحۂ عمل | 18-09-2026
    منصبِ نذیرِ مبین ﷺ کا تاریخی تسلسل : قیامِ عدل اور تحفظِ حرمین شریفین کا لائحۂ عمل خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 05؍ ربیع الثانی 1448ھ / 18؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی: وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا-وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ (48) قُلْ یٰاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (49) (22 -الحج:48، 49) ترجمہ : ” اور کتنی بستیاں ہیں کہ میں نے ان کو ڈھیل دی اور وہ گناہ گار تھیں پھر میں نے ان کو پکڑا اور میری طرف پھر کر آنا ہے۔ تو کہہ اے لوگوں میں تو ڈر سنا دینے والا ہوں تم کو کھول کر “ ۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 1:33 تاریخِ اقوام کا قرآنی مطالعہ: ماضی کا تجزیہ اور مستقبل کی حکمتِ عملی 4:15 خطبہ کی مرکزی آیات کی تشریح: نبوی منصبِ نذیر مبینﷺ اور 'قریہ ظالمانہ' کے تناظر میں ظالم اقوام کے انجام کا تذکرہ 6:38 تصورِ قریہ نیز تشکیلِ معاشرہ میں عدل، امن اور معاشی استحکام بطور بنیادی ارکان 12:42 سیاسی انتظامِ معاشرہ اور تشکیلِ قریہ: عادلانہ نظام کے لیے صالح قیادت اور نمائندوں کا انتخاب 16:42 حکومت کے دو بنیادی فرائض؛ معاشرتی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ٹیکس اکٹھا کرنا اور قومی وسائل کو اجتماعی مفاد میں استعمال کرنا 19:29 قریہ ظالمانہ؛ معاشرے پر ظالم، جابر اور استعماری طبقات کا تسلط اور کنٹرول کی چند شکلیں 21:48 بستیوں کی آباد کاری اور بقا و فلاح کا دار و مدار‘ عدل و انصاف پر منحصر 24:07 بستیوں کی تعمیر و ترقی اور قوموں کی شناخت پیدا ہونے میں صدیاں گزر جاتی ہیں نیز ظالم طاقتوں کو ڈھیل اور مہلت دینے (استدراج) کی قرآنی حکمت 30:12 ماضی کی تاریخ اور مقاصدِ بعثتِ انبیاءؑ کی روشنی ظلم پر مبنی بستیوں اور جابر طبقات کی سرکشی اور مہلتِ الٰہی سے غفلت پر گرفت اور عبرت ناک انجام پر اہلِ مکہ کو اِنذار و تنبیہ 37:57 حضرت اسماعیلؑ کا حنیفی اصولِ عشرہ پر ام القریٰ‘ مکہ مکرمہ کی آباد کاری اور عمرو ابن لحی کے دور سے ظلم و کفر کی بنیاد پر بت پرستی کی ابتداءاور ارتقاء کا پسِ منظر 44:38 مکہ میں کسریٰ ایران و قیصرِ روم کی پراکسیز نیز ابراہیمی اصولوں کو چھوڑ کر کسریٰ و قیصر کے نظامِ حکومت کی عادات کو اپنانے والی یرغمال طفیلی ریاست (قریہ ظالمانہ) کا قرآنی نقشہ 50:16 مکہ کی ظالم پر مبنی حکومت کی گرفت اور ملتِ ابراہیمی کی اصل تعلیمات کے احیاء کے لیے نبی اکرمﷺ کی بطور نذیرِ مبین‘ بعثت 53:00 نبی اکرمؐ کے وصفِ نذیرِ مبین کے بنیادی اہداف و مقاصد 55:34 نبی اکرمؐ کی دعوت قبول کرکے ابراہیمی حنیفی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے والے اہلِ ایمان کے لیے ’مغفرت‘ اور ’رزقِ کریم‘ کا قرآنی وعدہ نیز رزق کا وسیع تر مفہوم 59:27 مقدس دھرتی‘ مکہ سے معززین؛ انحضرتؐ اور جماعتِ رسولؐ کی بے دخلی کا مکافاتِ عمل: جابر طبقات کی پکڑ اور عبرت ناک انجام نیز حرمتِ مکہ و مدینہ کی پاسداری 1:04:35 نبیِ رحمت ﷺ کی امن پسند، تحفظِ انسانیت اور مکہ کی قومی طاقت پیدا کرنے کی بصیرت افروز حکمت عملی اور ہزار سالہ عادلانہ نظام کا قیام 1:09:47 عربوں کے بعد عادل ترک (عثمانی و تیموری)حکمران اور کل انسانیت کے لیے پیغامِ نذیرِ مبینؐ کی عالمگیر پاسبانی اور رہنما کردار 1:11:38 ظالم برطانوی شہنشاہیت اور یورپین بھیڑیوں کی ظالمانہ تاریخ، مہلتِ الٰہی کا اِتمام اور برطانیہ و امریکہ کے ظلم و استبداد پر گرفت 1:15:25 مکہ کی مرکزیت کی تباہی اور خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے اور برطانوی تسلط قائم کرنے کے لیے شریفِ مکہ کی ہاشمی خلافت کی سازش، فتویٰ فروشی، حضرت شیخ الہندؒ کا انکار، عرب اقوام کی بغاوت اور آلِ سعود کا تسلط 1:25:29 آبِ زمزم کا جغرافیائی و ہائیڈرولوجیکل نیٹ ورک نیز تحفظِ حرمین شریفین اور عالمی استعمار کا سدِباب: جزیرہ عرب اور خلیجی ممالک کے اتحاد کی ناگزیریت 1:30:22 عرب سرزمین کے تقدس کی پامالی، اللہ کی مہلت اور عرب حکمرانوں کو انذار و تنبیہ 1:33:01 عالمی منظر نامے اور سیاسی حالات پر حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت مدنیؒ کے رہنما کردار کو اپنانے کی ضرورت و اہمیت 1:33:59 نبی اکرمﷺ کی وراثت؛ منصبِ نذیرِ مبینؐ اپنانے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی ناگزیریت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
    1 hr 36 min
  • نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں| 04-09-2026
    نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں

    خطبۂ جمعۃ المبارک
     خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
     بتاریخ : 21؍ ربیع الاول  1448ھ / 04؍ ستمبر 2026ء
    بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، پشاور کیمپس
    خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
    آیتِ قرآنی:
     يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا۔ (33 – الأحزاب: 45-46)
    ترجمہ: ”اے نبی ! ہم نے آپ کو بلاشبہ گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بُلانے والا اور چراغ روشن بنایا ہے“۔
    حدیثِ نبویﷺ:
     لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169)
    ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“

    🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
    0:00 آغاز خطاب
    1:32 ربیع الاول‘ انسانوں کی روحانی ترقی اور دلوں میں نورِ محمدی کے ذریعے سے نورِ خداوندی کی پرورش کا مہینہ
    5:49 کرۂ ارض پر ظلم و کفر اور روحانی مُردَنی کے خاتمے کے لیے ’ازکی خلقِ اللہ‘ روحِ محمدﷺ کا انتخاب اور بعثت
    12:11 نبی اکرمؐ کا نور اور وجودِ گرامی‘ باعثِ تخلیقِ کائنات نیز جسمانی فضائل اور نورانی و روحانی تاثیرات
    15:56 جسمانی اور عقلی نشو و ارتقاء اور کامل انسان بننے کا دورانیہ‘ مثالوں سے وضاحت
    19:25 ماہِ ربیع الاول اور چالیس سال کی عمر مبارک میں سچے خوابات کی صورت میں انخصرتؐ کی نبوت و رسالت کے اظہارات
    20:53 نبوت و رسالت کا تئیس سالہ تدریجی ارتقاء؛ وحی الہی، نزولِ قرآن اور تکمیلِ دین
    24:06 ربیع الاول میں وصال؛ روضۂ رسول میں روحِ محمدیﷺ کی روحانیت و نورانیت کا برزخی نشو و ارتقاء اور فیوضات و برکات
    27:53 ربیع الاول میں سیرتِ مقدسہ کا تذکرہ‘ دلوں کو منور کرنے اور محبتِ رسولؐ پیدا کرنے کا ذریعہ
    29:02 نبی اکرمؐ کی نبوت کے فیضان سے کائنات اور آدمیت کی ابتدا اور خاتم النبیین کی وجہ سے تا قیامت کوئی نیا نبی نہیں آئے گا
    30:56 حضرت عیسیٰؑ کے دنیا میں نزول اور آمد کا ہدف اور مقصد
    32:46 دنیا میں حضورؐ کی پیدائش اور اعلانِ نبوت سے میدانِ حشر تک آپؐ کی نبوت اور حکومت (اتھارٹی) برقرار اور قائم ہے
    41:24 خلفاء اور اولیاء کی صورت میں فیضِ و برکاتِ نبوت تک قیامت جاری نیز حضرت مہدی کی آمد کا مقصد
    44:33 محبتِ رسولؐ کے بغیر ایمان نامکمل
    47:54 خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر؛ غزوۂ احزاب کے موقع پر عرب کی تمام قوتوں کی مدینہ پر یلغار اور صحابہ کرامؓ کا امتحان
    56:34  خطبے کی مرکزی آیت میں ریاست، اتھارٹی اور حکومت سے متعلق رسول اللہؐ کے پانچ اوصاف (شاہد، مبشر، منذر، داعی اور سراج منیر)  کی توضیح و تشریح
    1:07:27 ’دَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ‘ کی روشنی میں منصبِ دعوت کے تقاضے، شیخ و مرشد کی تربیت اور اجازت کی ضرورت و اہمیت اور آج کا المیہ
    1:12:46 منصبِ دعوت اور وعظ کا اختیار صرف بادشاہ وقت اور با رعب عالم کو حاصل ہے
    1:14:15 مولانا الیاس دہلویؒ کی چھ نمبروں کی دینی دعوت و تبلیغ اور  منصبِ دعوت کے حوالے سے بڑی غلطی فہمی کا ازالہ
    1:17:47  پانچواں نبوی وصف؛ سراجِ منیر  کے نتائج (دنیا کا ہر کونہ نورِ محمدیﷺ سے روشن اور مکمل دینی غلبہ)
    1:23:24 حدیثِ نبوی میں حضورؐ کے پانچ صفاتی نام اور ان کے اثرات و نتائج
    1:24:40 ورثة الانبیاء: علماء کا پانچ نبوی اوصاف اپنانے اور دور کے تقاضے کے مطابق کردار ادا کرنے کی ناگزیر ضرورت
    1:31:00 پانچ نبوی اوصاف کی اساس پر برعظیم پاک و ہند میں حریت پسند علماء کے کردار و افکار اور ان کی اتباع کی ضرورت و اہمیت

    بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔
    https://www.rahimia.org/
    https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
    https://www.youtube.com/@rahimia-institute
    منجانب: رحیمیہ میڈیا

    1 hr 38 min

About خطبات

From the publisher's feed

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان

More shows like خطبات

واحتي مع ربي by رحاب

واحتي مع ربي

21 Listeners