193۔ ان چار استعاروں کے ذریعے یسوع مسیح اس عظیم خطبے کا اطلاقی حصہ شروع کرتا ہے۔ پہلا استعارہ یہ ہے کہ ایسے رویے والا شاگرد زمین کا نمک ہے۔ اصل زبان میں لفظی طور پر لکھا ہے "صرف اور صرف تم زمین کا نمک ہو۔"
193۔ ان چار استعاروں کے ذریعے یسوع مسیح اس عظیم خطبے کا اطلاقی حصہ شروع کرتا ہے۔ پہلا استعارہ یہ ہے کہ ایسے رویے والا شاگرد زمین کا نمک ہے۔ اصل زبان میں لفظی طور پر لکھا ہے "صرف اور صرف تم زمین کا نمک ہو۔"