بچےکی شخصیت کی تشکیل کا عمل اس کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے، جوں جوں وہ بڑا ہوتا جاتا ہے وہ اپنے ماحول کی سرگرمیوں سے متاثر ہو کر اسے اپنانا شروع کر دیتا ہے ، وہ اپنے ارد گرد ہونے والے حالات و واقعات سے شعوری و لاشعوری طور پہ سیکھ رہا ہوتا ہے، بچے کا ذہن بالکل سادہ سلیٹ کی طرح ہوتا ہے ،وہ سب کچھ دیکھ دیکھ کر سیکھتے ہوئے کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
ماہرین کی رائے کے مطابق ابتدائی تین سال کی عمر میں بچے کے اندر سیکھنے کی صلاحیت عروج پر ہوتی ہے، وہ ہر روز کچھ نہ کچھ نیا سیکھ رہا ہوتا ہے، بچپن میں بچے کو جس طرح کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ جس طرح پیش آیا جاتا ہے، اس کے اثرات اس کی پوری زندگی میں محسوس کیےجا سکتے ہیں۔ بچہ صرف وہی کچھ نہیں سیکھتا جو اسے سکھایا جاتا ہے، بلکہ وہ اپنے بڑوں کی زندگی سے سیکھ رہا ہوتاہے، اس کے اندر نقالی کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے۔ چوں کہ ابتدائی عمر میں صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، اس لیے وہ بلا تامل کسی بھی عادت کو اپنا لیتا ہے۔
ہر ماں باپ اپنے بچوں کو اچھی تربیت اور اچھا مستقبل دینا چاہتے ہیں، لیکن کبھی کبھی جانے انجانے میں وہی ان کے ساتھ زیادتی کر جاتے ہیں، اس کی بےشمار مثالیں مل سکتی ہیں ،جہاں ماں باپ بچوں کے جذبات اور ان کے احساسات کو مکمل طور سے نظر انداز کر کے ایسے فیصلے لیتے ہیں یا ان سے اس طرح سے پیش آتے ہیں کہ بچے کی اندرونی شخصیت مجروح ہو جاتی ہے، اس پوری صورت حال کے سب سے بڑے وکٹم بچے بن جاتے ہیں، جیسے ماں باپ اکثر اپنے آپسی تعلق میں پائی جانے والی ناچاقی کو کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کی کوشش نہیں کرتے، وہ الزام تراشی، لعن طعن اور بےجا طاقت اور انا کی برتری کے لیےبچے کے سامنے ہی ایک دوسرے سے الجھتے رہتے ہیں اور کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ اس ساری صورت حال سے بچے کی شخصیت کس طرح متاثر ہو رہی ہے۔ بچے کے لیے ماں اور باپ دونوں ہی اہم ہوتے ہیں۔ جب وہ انھیں لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اس کی نفسیات اس سے متاثر ہوتی ہے، وہ ان سے قریب ہونے کے بجائے دور ہوتے چلے جاتے ہیں، چوں کہ اس عمر میں بچوںکے جذبات انتہائی نازک ہوتے ہیں، وہ خود سے اسے سنبھال نہیں سکتے، اس لیے یہ جذباتی شکست و ریخت ان کے رویوں کو ایک خاص سمت میں معلق کر دیتی ہے، اس سے اس کا پورا بچپن Traumatize ہو جا تا ہے، اس کی ذہن سازی کا عمل منفی رخ پر مائل ہو جاتا ہے۔