عن ابی الدرداء عن النبیّ قال مامن شیٔ اثقل فی المیزان من حسن الخلق (رواہ الترمذی و ابوداو‘د)
(ابودرداءؓسے روایت ہے، وہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا حسن اخلاق سے بڑھ کر میزان میں کوئی بھاری چیز نہیں ہوگی ۔)
عن جابر ؓ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال انّ من احبّکم الیّ واقربکم منی مجلسا یوم القیامة احسانکم اخلاقا
(رواہ الترمذی)
( جابرؓ سے روایت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے زیادہ پیارے اور قیامت کے دن میرے نزدیک ترین بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں اخلاق میں اچھے ہیں ۔)
عن عائشة ؓ انّ المؤمن لیدرک بحسن خلقہ درجة الصائم القائم (رواہ ابوداو‘د)
(حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہےکہ بے شک مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے روزہ رکھنے والے اور رات بھر عبادت کرنے والے کے درجہ کو حاصل کرلیتاہے ۔)
حسن اچھائی اور خوب صورتی کو کہتے ہیں ۔اخلاق جمع ہے خلق کی، جس کا معنی ہےرویہ ،عادت،برتاؤ ۔یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے رویے یا اچھے برتاؤ کو حسن اخلاق کہا جاتا ہے۔
انسانی زندگی میں حسن اخلاق عظیم اہمیت کا حامل ہے ۔اسلام نے اپنی تعلیمات کے ذریعے اس جوہر سے امت کو روشناس کرایا ۔متعدد احادیث حسن اخلاق کے متعلق مروی ہیں جن سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ہر مذہب اور ہر دھرم کے لوگ ،بلکہ دنیا میں بسنے والا ہر انسان اچھے اخلاق وکردار اور اچھے برتاؤ کا قائل ہے ،یہ فطرت انسانی کا اہم تقاضہ ہے۔یہی وہ عظیم صفت ہے جس کےذریعے معاشرے میں آپسی بھائی چارہ، عفوودرگزر اور ہم آہنگی پیدا کی جاسکتی ہے ۔اسی طاقت کے ذریعے آپسی اختلاف وانتشار ، باہمی رنجش اور ہر طرح کے تضاد دور کیے جاسکتے ہیں ۔
اسلام زندگی کے تمام شعبوں میں حسن اخلاق کی تعلیم دیتا ہے ،اور اس کی یہی خصوصیت حسن اخلاق کے حسن میں اضافہ کرتی ہے ۔ والدین، استاد ، بھائی بہن ، عزیز واقارب ، بیوی بچے ، یتیم ، مسکین ، مسافر ، قیدی ، پڑوسی اور غیر مسلم حتیٰ کہ جانوروں اور پرندوں کے ساتھ بھی حسن اخلاق کا حکم ہے ۔
زندگی کے تمام شعبوں میں اچھا رویہ اختیار کرنے والا ہی اچھے اخلاق کا حامل اور اس عظیم صفت سے متصف کہلانے کا مستحق ہوگا ۔اسلام جن اعلیٰ اعمال و اخلاق کی تعلیم دیتا ہے، محمد صلى الله عليه واٰله وسلم ان سب کا عملی نمونہ ہیں ۔اللہ کافرمان ہے:
وانک لعلیٰ خلق عظیم (سورۃ القلم : 4)
(بے شک آپ اخلاق (حسنہ) کے اعلیٰ پیمانے پر ہیں ۔)
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة لمن کان یرجو اللہ والیوم الآخر وذکر اللہ کثیرا (سورۃ الاحزاب: 21)
(بےشک تمھارے لیے رسول محمد صلى الله عليه واٰله وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔)
آپ کی پوری زندگی اخلاق حسنہ کا عملی پیکر ہے، حتیٰ کہ آپ نے اخلاق حسنہ کی تعلیم اور اس کی دعوت و تبلیغ کو اپنی بعثت کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے فرمایا:
(میری بعثت اس لیےہوئی ہےکہ میں حیات انسانی میں اخلاق حسنہ کی تکمیل کروں ۔)
اپنے اہل وعیال،اعزہ واقارب سے لگاؤاور محبت تو فطری چیز ہے، حسن اخلاق کا اعلیٰ نمونہ یہ ہےکہ غیر اور دشمن بھی ہمارے رحم وکرم ، عفو درگزر اور خوش خلقی سے محروم نہ رہیں ۔قرآن اس سلسلے میں ہماری بہترین تربیت کرتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: