’’مطالعہ ‘‘عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ،کسی چیز کو اس سے واقفیت حاصل کرنے کی غرض سے دیکھنا ،غور و خوض کرنا، کسی چیز سے آگاہ ہونا۔ قرآن کی سب سے پہلی وحی کا آغاز لفظ ’’اقرأ‘‘ سے ہوتا ہے، جس میں تعلیم کی اہمیت اور کامیابی کا بہترین راز پنہا ںہے ۔تاریخ کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن نے مسلمانوں کے اندر دیکھنے کا ذوق پیدا کر دیا تھا،جو مذہب کے پس منظر میں پیدا ہو کر علم کی تمام شاخوں تک پھیلتا چلا گیا۔جب تک مسلمانوں نے علم سے تعلق جوڑے رکھا، کتب بینی کو اپنے معمول میں شامل رکھا، علم عرفان کے گوہر لٹاتے رہے۔مطالعے کے شوق نے مسلم معاشرے کو بڑے بڑے سائنس دان اور حکماء دیے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جن قوموں نے کتابوں سے اپنا رشتہ مضبوط رکھا، وہی قومیں عروج اور ترقی حاصل کرسکیں۔
امریکی ناول نگار جارج مارٹن لکھتے ہیںکہ جو شخص مطالعہ کرتا ہے وہ ہزاروں زندگیاں جیتا ہے اس کے برعکس مطالعہ نہ کرنے والا محض ایک زندگی جیتا ہے۔ علم انسان کا امتیاز ہی نہیں بلکہ اس کی بنیادی ضرورت بھی ہے، جس کی تکمیل کا سب سے بہتر اور مؤثر ذریعہ کتب بینی ہی ہے۔ ایک پڑھے لکھے شخص کے لیے معاشرہ کی تعمیر کا فریضہ بھی انتہائی اہم ہے۔ اس لحاظ سے مطالعہ ہماری معاشرتی ضرورت بھی ہے۔ اگر انسان اپنی تعلیم مکمل کر کے اسی پر اکتفا کر کے بیٹھ جائے تو فکر و نظر کا دائرہ انتہائی تنگ ہو کر رہ جائے گا۔
کیونکہ مدارس ،اسکولس، کالجز اور یونیورسٹیاں طالب علم کو علم و دانش کی دہلیز تک لا کر کھڑا تو کر دیتی ہیں، لیکن حصول علم کا اصل سفر اس کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔ اساتذۂ کرام طلبہ کی کامیابی اور ترقی کی راستے کی طرف رہنمائی تو کر سکتے ہیں، لیکن ان طریقوں کو اپنانا طلبہ کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی طالب علم کامیاب بننے کی آرو رکھتا ہو، لیکن کلاس کے درس کو ہی کافی سمجھتا ہو اور کتب بینی کی مزیدضرورت محسوس نہ کرتا ہو تو اس کی مثال ’’کباسط کفیہ الی الماء لیبلغ فاہوماھو ببالغہ ‘‘کی طرح ہے۔ترقی وکامیابی کی منازل کو طے کر نے کی آرزو