’این آئی او ایس‘میں ایک اور سہولت’مطالبے پر امتحان‘کی ہے۔ یعنی میٹرک اور بارہویں کے سالانہ امتحانات میں پرچہ لکھنے کے بعد اگر کسی طالب علم کو یہ محسوس ہورہا ہے کہ وہ کسی مضمون میں فیل ہوسکتا ہے یا اسے کم نمبرات مل سکتے ہیں تو پھر ایک مہینے بعد وہ ’مطالبے پر امتحان‘دے سکتا ہے۔’مطالبے پر امتحان‘دینے کا عمل ایک مضمون کے لیے بھی ہوسکتا ہے یا کئی مضامین کے لیے بھی۔ یہ ایک ایسی سہولت ہے جو کسی اور بورڈ میں فراہم نہیں کی جاتی۔ اگر ایک طالب علم تین مضامین میں کام یاب ہوجاتا ہے اور اس کے دو مضمون رہ جاتے ہیں، جن میں وہ پاس نہیں ہوا ہے تو نتائج آنے کے ایک ماہ بعد وہ ایک مضمون کا امتحان دے سکتا ہے یا دو مہینے کے بعد اس مضمون کا امتحان دوبارہ دے سکتا ہے اور جس مضمون کا امتحان رہ گیا، تین ماہ کے بعد اچھی تیاری کے ساتھ اس کا امتحان دے سکتا ہے۔ اس طرح طلبہ مختلف وقفوں میں تمام مضامین کا امتحان دے کر اپنا سرٹیفکیٹ حاصل کرسکتے ہیں۔
اس بورڈ میں ہر سال دو بار داخلے کا موقع آتا ہے۔ طلبہ اپنی سہولت اور حالات کے مطابق داخلہ لے سکتے ہیں۔ پہلا موقع 11 مارچ تا 31 جولائی کا ہے۔ اس کا امتحان اکتوبر، نومبر میں ہوتا ہے۔ دوسرا موقع 15 ستمبر تا 31 جنوری ہے۔ اس کا امتحان اپریل، مئی میں ہوتا ہے۔اگر کوئی طالب علم دونوں داخلے کی تاریخوں میں فارم نہیں پُر کرسکا تو لیٹ فیس کے ساتھ بھی فارم پر کرنے کی ایک مدت دی جاتی ہے۔
’این آئی او ایس‘سے تعلیم حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ طلبہ اپنے طور پر’این آئی او ایس‘سے رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔ انھیں ان کے مقام سے قریب واقع’این آئی او ایس‘کے سینٹر سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ وہاں طالب علم کو ہفتہ میں ایک بار جانا ہوتا ہے۔ اگر پریکٹیکل والامضمون ہے تو پریکٹیکل کرنے ہوتے ہیں۔ ورنہ وہاں کنٹیکٹ کلاسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کسی مدرسے میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے طلبہ اپنے مدرسے سے قریب والے سینٹر کو منتخب کرسکتے ہیں اور وہاں امتحان دے سکتے ہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ’این آئی او ایس‘دینی مدارس کو بھی اب اپنا اسٹڈی سینٹر بنا رہا ہے۔ پہلے یہ بات قدرے مشکل تھی لیکن اب یہ آسان ہوچکی ہے۔ پہلے ’این آئی او ایس‘ اس اسکول یا مدرسے کو مرکز بناتا تھا جو’این آئی او ایس‘سے یا پھراسٹیٹ بورڈ یا مدرسہ بورڈ سے ملحق ہوتا تھا۔ لیکن اب اگر کوئی مدرسہ’اسٹیٹ بورڈ‘یا ’مدرسہ بورڈ ‘سے ملحق نہیں ہے لیکن اس کے پاس اتنی عمارت دستیاب ہے جہاں کلاسوں کا اہتمام کیا جاسکتاہے اور اس میں مدرسین کی وہ تعداد موجود ہے جو’این آئی او ایس‘کے مضامین کو پڑھا سکتے ہیں تو اسے سینٹر دیاجاسکتا ہے۔