آج فرزین اسکول سے لوٹا تو خلاف معمول کچھ خاموش تھا ۔ورنہ اسکول سے واپسی پر گھر کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے ہی وہ اپنی مما کو آوازیں لگانا شروع کر دیتا ۔’
’مما !السلام علیکم ۔مما آپ کہاں ہیں ؟مما آپ کا راجا بیٹا اسکول سے واپس آگیا ہے ۔‘‘مما سے ملنے کی بے قراری کو دیکھ کر اس کی مما بھی اس کے استقبال کے لیے کچھ سیڑھیاں اتر کر نیچے آجاتیں، پھر اس کے کاندھے سے بیگ نکالتیں اور تقریباً گود میں اٹھائے اوپر لاتیں اسے پیار کرتیں، اور فرزین اپنے اسکول کی روداد سنانے لگ جاتا ۔اپنی مما کی بانہوں میں جھول جاتا ۔دادی اماں دونوں کو مسکرا کر دیکھتیں اور مصنوعی خفگی سے کہتیں:’’بہو رانیً بچے کو کچھ کھلاؤ گی پلاؤ گی یا خالی پیلی یوں ہی لاڈ کرتی رہو گی؟‘‘
اور فرزین کی مما ہنس کر فرزین کے پیٹ میں گدگدی کر کے کہتیں:’’ہاں امی! اس کی باتیں ختم ہو جائیں ،پھر پیٹ میں کچھ جگہ بن جائے تو کھلاؤں گی۔‘‘
جب تک اپنی مما کو وہ اپنے دوستوں سے کی گئی باتیں، کھیل اور مس کا پڑھایا ہوا سبق سنا نہ دیتا، فرزین کو قرار نہیں آتا تھا ،لیکن آج وہ خاموشی سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر بھی آگیا ۔
مما کو حیرانی ہوئی کہ کیا بات ہے!؟مما کے سلام کرنے پر بھی اس نے دھیمی آواز سے’’وعلیکم السلام‘‘ کہا اور صوفے پر لیٹ گیا ۔مما بھی اس کے سر کو سہلاتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئیں، اور آہستہ سے اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا، لیکن یہ کیا؟ فرزین نے مما کی گود سے پھسل کر اپنا سر صوفے پر کر لیا ۔اب مما سمجھ گئیں کہ کچھ تو گڑبڑ ہے، لیکن کیوں؟ وہ سمجھ نہیں سکیں ۔آخر انھوں نے اپنے لاڈلے سے پوچھ ہی لیا۔
’’ لگتا ہے آپ مجھ سے ناراض ہیں،ذرا وجہ بھی بتا دیجیےپلیز !‘‘
’’مجھے بہت نیند آرہی ہے۔ سو نے دیجیے!‘‘ فرزین نے جواب دیا ۔
’’اچھا !‘‘فرزین کی جینیس مام کا شک یقین میں بدل گیا، انھوں نے روم کی لائٹس بند کیں اور باہر نکلیں۔
باہر فرزین کی بڑی بہن پودوں کو پانی دے رہی تھی، مما نے آواز دی۔’’مریم!پودوں کو پانی میں دے دوں گی ۔آپ میرا ایک کام کر دیجیے۔فرزین مجھ سے ناراض ہے ۔آپ پتہ لگائیے کہ وہ مجھ سے کیوں ناراض ہے؟‘‘ انھوں نے مریم سے پائپ لے لیا ۔مریم کو ہنسی آئی ۔’’اچھا تو مجھے Investigation کرنا ہے ۔‘‘