
Sign up to save your podcasts
Or


حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسُبُّ ابْنُ آدَمَ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِيَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ(صحیح مسلم: 5862)
(ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابوسلمہ بن عبدالرحمن ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اللہ عز وجل فرماتے ہیںکہ ابن آدم زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں زمانہ ہوں ،دن اور رات میرے قبضہ میں ہیں۔)
قال اللہ عزوجل یؤذینی ابن آدم یسب الدھر ، وأنا الدھر بیدی الأمر أقلب اللیل و النھار (صحیح البخاری : 4826)
(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے ،حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں ، میرے ہی ہاتھ میں سب کچھ ہے ۔ میں رات اور دن کو بدلتا رہتا ہوں ۔)
زمانۂ جاہلیت میں جب مشرکین عرب کو کوئی دکھ، غم ، شدت و بلا پہنچتی تو وہ کہتے :’’یا خیبۃ الدھر!‘‘ (ہائے زمانے کی بربادی !) وہ ان کاموں کو زمانے کی طرف منسوب کرتے اور زمانے کو برا بھلا کہتے اور گالیاں دیتے، حالانکہ ان افعال کا خالق اللہ جل جلالہ ہے تو گویا انھوں نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی۔
By Haadiya e-Magazineحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسُبُّ ابْنُ آدَمَ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِيَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ(صحیح مسلم: 5862)
(ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابوسلمہ بن عبدالرحمن ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اللہ عز وجل فرماتے ہیںکہ ابن آدم زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں زمانہ ہوں ،دن اور رات میرے قبضہ میں ہیں۔)
قال اللہ عزوجل یؤذینی ابن آدم یسب الدھر ، وأنا الدھر بیدی الأمر أقلب اللیل و النھار (صحیح البخاری : 4826)
(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، وہ زمانہ کو گالی دیتا ہے ،حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں ، میرے ہی ہاتھ میں سب کچھ ہے ۔ میں رات اور دن کو بدلتا رہتا ہوں ۔)
زمانۂ جاہلیت میں جب مشرکین عرب کو کوئی دکھ، غم ، شدت و بلا پہنچتی تو وہ کہتے :’’یا خیبۃ الدھر!‘‘ (ہائے زمانے کی بربادی !) وہ ان کاموں کو زمانے کی طرف منسوب کرتے اور زمانے کو برا بھلا کہتے اور گالیاں دیتے، حالانکہ ان افعال کا خالق اللہ جل جلالہ ہے تو گویا انھوں نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی۔