قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلْ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰـكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ ۚ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡئًــا ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞(سورۃ الحجرات : 14)
(دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ یوں) کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو اس وقت تمھارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور تم اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرو گے تو اللہ تمھارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔ بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔)
(2)ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَهِ صَلَّى اللَهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ :‘‘بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ عُرِضُوا عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ فَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ اجْتَرَّه’’
قَالُوا :‘‘فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَهِ ؟’’
قَالَ : ‘‘الدِّين’’.
(صحيح بخاري، كتاب التعبير: 3691)
(حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں،وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں۔ ان میں بعض کی قمیص تو صرف سینے تک ہے اور بعض کی اس سے بڑی ہے،اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کی قمیص زمین پر گھسٹ رہی تھی۔‘‘
صحابہ نے پوچھا:
’’یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟‘‘