Haadiya e-Magazine

یوم آب پر بچوں کے لیے کہانی تحسین عامر


Listen Later

شاداب نے نہانےکےلیے غسل خانے میں نل کھولا، بکیٹ بھرنے لگی۔ اچانک اسے کچھ یاد آیا اور وہ اپنے دوست کو فون کرنے چلا گیا۔ ادھر بکیٹ بھر کر پانی بہنے لگا ۔
دوپہر میں مما نے کچن کا نل کھولا، پانی نہیں آیا، انھوں نے بور ویل کی موٹر On کی ،اور دیگر کاموں میں مشغول ہوگئیں۔ ادھر ٹیرس کی ٹنکی بھر گئی اور پانی چھت سے گرنے لگا۔ پانی گرنے کی آواز پر دادا جان نے زوردار آواز لگائی:’’ کس نے بھری دوپہر میں موٹر چلایا؟فوراً بند کرو۔ ‘‘
’’کتنی مرتبہ کہا ہے ،پانی احتیاط سے استعمال کیا کرو۔ کسی کو بھی خیال نہیں رہتا۔ پانی ختم ہوا اور موٹر چلادیا۔ انگلی کی جنبش پر سب ملنے لگا ہے۔ دیہات میں جاکر دیکھو !پتہ چلےگا، پانی کی تلاش میں کیسے لوگ میلوں پیدل چلتے ہیں۔
ہر نعمت پر اپنا ہی حق نہ سمجھو، اللہ کی دوسری مخلوقات کا بھی حق یاد رکھو۔‘‘
پیارے بچو! دادا جان کو کیوں غصہ آیا؟ کیوں کہ پانی ضائع ہو رہا تھا۔
اس کرۂ ارض پر جتنے بھی جاندار ہیں، ان سب کی زندگی کی بقا پانی ہی پر منحصر ہے۔پانی کے بغیر زندگی کا تصور ہی ناممکن ہے۔ ہماری دنیا کا تقریبا 71 فی صد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔جس میں سے صرف 0.5 فیصد پانی پینے کے قابل ہے،باقی ماندہ کھارا سمندری پانی ہے۔سارے علم اور ترقی یافتہ دور کے باوجود آج یہ صورت حال ہے کہ ہر تین افراد میں سے ایک فردکو پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں ہے۔
UNICEFکی رپورٹ کے مطابق پینے کے صاف پانی کی عدم دست یابی کی وجہ سے ہر سال ایک اعشاریہ چھ ملین (1.6) بچوں کی موت واقع ہوجاتی ہے ۔بر اعظم ایشیا اور افریقہ کی کثیر تعداد دیہاتوں میں بستی ہے، جہاں انھیں پینے کے لیے صاف پانی دست یاب نہیں ہے۔ دیہات میں رہنے والی ہر خاتون کو پانی کی تلاش میں تقریبا ًچھ کلومیٹر پیدل چلنا ہوتا ہے، یہ بہت ہی تکلیف دہ بات ہے ۔

...more
View all episodesView all episodes
Download on the App Store

Haadiya e-MagazineBy Haadiya e-Magazine