Haadiya e-Magazine

درس قرآن عارفہ خاتون


Listen Later

القرآن، سورۃ نمبر: 2 البقرہ،آیت نمبر : 165
أَعُوذُ بِاللٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلٰهِ ؕ

(حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں۔) (مودودی رحمۃ اللہ علیہ)
(اور جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ،وہ اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت رکھتے ہیں۔) (جونا گڑھی رحمۃ اللہ علیہ)
ح ب ب، الحب والحبۃ،المحبۃکے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں۔
محبت تین قسم پر ہے :
( 1) محض لذت اندوزی کے لیے،جیسے مرد کسی عورت سے محبت کرتا ہے ۔ چناںچہ آیت :

وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً (سورۃ الدہر: 8)

میں اسی نوع کی محبت کی طرف اشارہ ہے۔
( 2 ) محبت نفع اندوزی کی خاطر،جیسا کہ انسان کسی نفع بخش اور مفید شے سے محبت کرتا ہے ۔ چناںچہ اسی معنی میں فرمایا :

وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ (سورۃالصف: 13 )

(اور ایک چیز کو تم بہت چاہتے ہو ،یعنی تمھیںخدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح حاصل ہوگی۔)
( 3 ) کبھی یہ محبت یہ محض فضل وشرف کی وجہ سے ہوتی ہے،جیسا کہ اہل علم وفضل آپس میں ایک دوسرے سے محض علم کی خاطر محبت کرتے ہیں۔(مفردات القرآن)
یعنی ایمان کا اقتضا یہ ہے کہ آدمی کے لیے اللہ کی رضا ہر دوسرے کی رضا پر مقدم ہو، اور کسی چیز کی محبت بھی انسان کے دل میں یہ مرتبہ اور مقام حاصل نہ کرلے کہ وہ اللہ کی محبت پر اسے قربان نہ کرسکتا ہو۔ (تفہیم القرآن)
محبت کا اصلی حق دار اللہ ہے
ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ اپنے مزعومہ شریکوں اور ساجھیوں سے اس طرح محبت کرتے ہیں، جس طرح خدا سے محبت کرنے کا حق ہے، حالانکہ محبت کا اصلی حق دار اللہ ہی ہے۔ وہی ہے جس نے سب کچھ پیدا کیا ہے، وہی ہے جس کے ہاتھ میں سارا انتظام ہے اور اس کائنات کے ہر گوشہ میں پھیلی ہوئی ربوبیت و رحمت سے اس بات کی شہادت مل رہی ہے کہ وہ رحمان و رحیم ہے، تو ا

...more
View all episodesView all episodes
Download on the App Store

Haadiya e-MagazineBy Haadiya e-Magazine