بہت دنوں کے بعد آج طویل سفر سے حامد صاحب گھر لوٹے ہیں،گھر میں خوشی کا ماحول ہے۔ محمد زید اور ہادیہ نور بھی بہت خوش ہیں۔ عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر امی نے کھانے کا دسترخوان لگایا۔ محمد زید اور ہادیہ نور نے بھی اپنے ابو کے ساتھ کھانا کھایا۔کھانے سے فارغ ہوکر ہادیہ نور نے ابو سے کہانی سننے کی فرمائش کر ڈالی۔ بچوں کو ابو کی زبانی کہانی سنے ایک عرصہ گزر چکا تھا۔ محمد زید بھی کہانی سنانےکی ضد کرنے لگا۔ ابو نے ایک مرتبہ بچوں کے معصوم چہروں پر نظر ڈالی اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا:
’’بچو!ہم نے ابھی کھانا کھایا ہے۔پہلے ہم سب مل کر چہل قدمی کرلیں، اس کے بعد آپ لوگوں کو چڑیا اور اس کے معصوم بچوں کی سچی کہانی سنائی جائے گی۔‘‘یہ سنتے ہی دونوں بہن بھائی خوشی سے جھوم اٹھے۔چہل قدمی کے بعد جیسے ہی حامد صاحب کمرے میں داخل ہوئےتو دیکھا بچوں کی امی پہلے سے ہی کہانی سننے کے لیے منتظر بیٹھی تھیں۔
حامد صاحب نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ لگتا ہے آج آپ بھی کہانی سننے کے لیے بےتاب ہیں۔ محمد زید اور ہادیہ نور نے شور مچانا شروع کردیا۔
’’ابو جان! ابو جان! کہانی سنائیں… کہانی سنائیں۔‘‘
امی نے دونوں بہن بھائی کو انگلی کے اشارے سے خاموش رہنےکو کہا۔دونوں بچے امی کے ایک ہی اشارے پر خاموش ہوگئے۔
کمرے میں کچھ دیر تک سنّاٹا سا چھایا رہا ۔حامد صاحب نے کہانی کچھ ا س طرح شروع کی:
اب سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے ملک عرب کے ریگستانی راستوں سے ہوتا ہوا مسافروں کا ایک قافلہ اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا۔یہ اس زمانہ کی بات ہے جب لوگ گھوڑے، اونٹ اور خچر وغیرہ پر دور دراز کے سفر طے کیا کرتے تھے۔ اس زمانہ میں آج کی طرح ہوائی جہاز، ریل گاڑیاں اور بس، موٹر گاڑیاں وغیرہ نہیں ہوا کرتی تھیں۔
بچو!اس قافلے کو چلتے ہوئے کئی روز گزر چکے تھے۔ دوپہر کا وقت تھا، دھوپ کی تیزی کی وجہ سے گرمی بھی خوب ہورہی تھی۔ قافلے والوں کے گھوڑے اور اونٹ تھک چکے تھے اور ان پر سوار مسافروں پر بھی تھکن کے آثار نمایاں نظر آرہے تھے۔ قافلے کے تمام مسافر بہت ہی نیک اور پیارے انسان تھے، اس لیے تمام مسافر اپنی سواریوں پر بیٹھ کر قرآن کریم کی تلاوت اور اللّٰه کا ذکر کرتے ہوئے چل رہے تھے۔ اس قافلے کے امیر بہت ہی باوقار، نرم دل اور بلند مرتبہ شخصيت کے حامل تھے۔ امیرِ قافلہ نےجب اپنے ساتھیوں اور جانوروں پر تھکاوٹ اور سستی کے آثار محسوس کیےتو قافلے کو پڑاؤ کاحکم دے دیا۔