
Sign up to save your podcasts
Or


أَعُوذُ بِاللٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَاۤ اِكۡرَاهَ فِى الدِّيۡنِۙ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَىِّۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَيُؤۡمِنۡۢ بِاللٰهِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى لَا انْفِصَامَ لَهَا ؕ وَاللٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞
(دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ہدایت گم رہی سے بالکل الگ ہوچکی ہے۔ تو جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا، اس نے مضبوط رسی پکڑی جو ٹوٹنے والی نہیں ،اور اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔)
(سورۃ البقرہ : 256)
چونکہ قرآن شریف کی آیات ایک دوسرے سے باہم متصل اور متواتر وابستہ ہوتی ہیں ،چنانچہ درج بالا آیت کی تفسیر جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سورہ ٔبقرہ کے موضوع بیان پر ایک نظر ڈال لیں۔
لا اکراہ فی الدین …
اس آیت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کا ایک سامان بھی ہے کہ ہدایت وضلالت دینے کا کام آپ کا نہیں، نہ ہی کسی بندۂ مومن کا ۔اللہ تعالیٰ نے حق و باطل سب کے سامنے واضح کر کے رکھ دیا ہے، اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے اس سے انکار کرے۔
ہم سورۂ بقرہ کے اسلوب پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہ انداز بیان رکوع 32 سے ایک تقریر کے طور پر چل رہا ۔پہلے مسلمانوں کو دین حق کے قیام کی راہ میں جان ومال سے جہاد کرنے پر اکسایا گیا ہے اور ان کمزوریوں سے بچنے کی تاکید کی گئی، جن میں بنی اسرائیل مبتلا ہوگئے تھے ۔پھر یہ حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ فتح و کامیابی کا مدار تعداد اور سازو سامان کی کثرت پر نہیں،بلکہ ایمان،صبر وضبط اور پختگی عزم پر ہے ۔پھر جنگ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جو حکمت وابستہ ہے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ،یعنی یہ کہ دنیا کا انتظام برقرار رکھنے کے لیےوہ ہمیشہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعہ سے دفاع کرتا رہتا ہے ،ورنہ اگر ایک ہی گروہ کو غلبہ واقتدار کا دائمی پٹہ مل جاتا ،تو دوسروں کے لیے جینا دشوار ہو جاتا ۔
پھر اس شبہ کو دفع کیاگیا ہے ،جو ناواقف لوگوں کے دلوں میں اکثر کھٹکتا ہے کہ اگر اللہ نے اپنے پیغمبر اختلافات اور نزاعات کا سد باب کرنے ہی کے لیے بھیجے تھے، اور ان کی آمد کے باوجود اختلافات نہ مٹے ،نہ نزاعات ختم ہوئے تو کیا اللہ ایسا ہی بے بس تھا کہ اس نے ان خرابیوں کو دور کرنا چاہا اور نہ کر سکا؟اس کے جواب میں بتایا گیا کہ ایک خاص راستے پر بزور چلانا اللہ کی مشیت ہی میں نہ تھا، ورنہ انسان کی کیا مجال تھی کہ اس کی مشیت کے خلاف چلتا ۔جو اسے مان لے گا وہ خود ہی فائدہ میں رہے گا اور جو اس سے منہ موڑے گا وہ آپ نقصان اٹھائے گا۔
By Haadiya e-Magazine أَعُوذُ بِاللٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَاۤ اِكۡرَاهَ فِى الدِّيۡنِۙ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَىِّۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَيُؤۡمِنۡۢ بِاللٰهِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى لَا انْفِصَامَ لَهَا ؕ وَاللٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞
(دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ہدایت گم رہی سے بالکل الگ ہوچکی ہے۔ تو جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا، اس نے مضبوط رسی پکڑی جو ٹوٹنے والی نہیں ،اور اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔)
(سورۃ البقرہ : 256)
چونکہ قرآن شریف کی آیات ایک دوسرے سے باہم متصل اور متواتر وابستہ ہوتی ہیں ،چنانچہ درج بالا آیت کی تفسیر جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سورہ ٔبقرہ کے موضوع بیان پر ایک نظر ڈال لیں۔
لا اکراہ فی الدین …
اس آیت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کا ایک سامان بھی ہے کہ ہدایت وضلالت دینے کا کام آپ کا نہیں، نہ ہی کسی بندۂ مومن کا ۔اللہ تعالیٰ نے حق و باطل سب کے سامنے واضح کر کے رکھ دیا ہے، اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے اس سے انکار کرے۔
ہم سورۂ بقرہ کے اسلوب پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہ انداز بیان رکوع 32 سے ایک تقریر کے طور پر چل رہا ۔پہلے مسلمانوں کو دین حق کے قیام کی راہ میں جان ومال سے جہاد کرنے پر اکسایا گیا ہے اور ان کمزوریوں سے بچنے کی تاکید کی گئی، جن میں بنی اسرائیل مبتلا ہوگئے تھے ۔پھر یہ حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ فتح و کامیابی کا مدار تعداد اور سازو سامان کی کثرت پر نہیں،بلکہ ایمان،صبر وضبط اور پختگی عزم پر ہے ۔پھر جنگ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جو حکمت وابستہ ہے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ،یعنی یہ کہ دنیا کا انتظام برقرار رکھنے کے لیےوہ ہمیشہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعہ سے دفاع کرتا رہتا ہے ،ورنہ اگر ایک ہی گروہ کو غلبہ واقتدار کا دائمی پٹہ مل جاتا ،تو دوسروں کے لیے جینا دشوار ہو جاتا ۔
پھر اس شبہ کو دفع کیاگیا ہے ،جو ناواقف لوگوں کے دلوں میں اکثر کھٹکتا ہے کہ اگر اللہ نے اپنے پیغمبر اختلافات اور نزاعات کا سد باب کرنے ہی کے لیے بھیجے تھے، اور ان کی آمد کے باوجود اختلافات نہ مٹے ،نہ نزاعات ختم ہوئے تو کیا اللہ ایسا ہی بے بس تھا کہ اس نے ان خرابیوں کو دور کرنا چاہا اور نہ کر سکا؟اس کے جواب میں بتایا گیا کہ ایک خاص راستے پر بزور چلانا اللہ کی مشیت ہی میں نہ تھا، ورنہ انسان کی کیا مجال تھی کہ اس کی مشیت کے خلاف چلتا ۔جو اسے مان لے گا وہ خود ہی فائدہ میں رہے گا اور جو اس سے منہ موڑے گا وہ آپ نقصان اٹھائے گا۔