
Sign up to save your podcasts
Or


أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : مَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ مَظْلَمَۃٌ لأَخِیہِ فَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْہَا فَإِنَّہُ لَیْسَ ثَمَّ دِینَارٌ وَلاَ دِرْہَمٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ یُؤْخَذَ لأَخِیہِ مِنْ حَسَنَاتِہِ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ لَہُ حَسَنَاتٌ أُخِذَتْ مِنْ سَیِّئَاتِ أَخِیہِ فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ.
( حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہےکہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ اس سے معاف کروائے؛اس لیے کہ آخرت میں درہم و دینار نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے کہ اس کے بھائی کے لیے اس کی نیکیوں میں سے حق لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو (مظلوم ) کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔)(صحیح بخاری2449۔3534)
’’ظلم‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے ۔عربی لغت میں اس کی تعریف یوں کی گئی ہے:
الظلم،وضع الشیٔ علی غیر موضعہ
یعنی ظلم کا مطلب ہے کسی بھی چیز کو اسک کی اصل جگہ سے ہٹاکر رکھنا ۔ظلم کے اصطلاحی معنی یہ ہے کہ کسی بات یا معاملات میں کمی بیشی جو حق و انصاف کے خلاف ہو،زبردستی کسی کی کوئی چیز لے لینا ،کسی بھی معاملے میں حد سے تجاوز کرنا ،گم راہی ،غلط کاری۔
پوری امت مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہےکہ ظلم حرام ہے ۔نبی کریم محمد صلى الله عليه واٰله وسلم حدیث قدسی میں فرماتے ہیں کہ اللہ نے ارشاد فرمایا اے میرے بندو، میں نے ظلم کو اپنے اوپر بھی حرام کیا ہے اور تم پر بھی حرام کیا ہے، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو (صحیح مسلم ، باب تحریم الظلم)
علماء کرام نے ظلم کی تین قسمیں بیان کی ہیں:
By Haadiya e-Magazine أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : مَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ مَظْلَمَۃٌ لأَخِیہِ فَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْہَا فَإِنَّہُ لَیْسَ ثَمَّ دِینَارٌ وَلاَ دِرْہَمٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ یُؤْخَذَ لأَخِیہِ مِنْ حَسَنَاتِہِ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ لَہُ حَسَنَاتٌ أُخِذَتْ مِنْ سَیِّئَاتِ أَخِیہِ فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ.
( حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہےکہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ اس سے معاف کروائے؛اس لیے کہ آخرت میں درہم و دینار نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے کہ اس کے بھائی کے لیے اس کی نیکیوں میں سے حق لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو (مظلوم ) کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔)(صحیح بخاری2449۔3534)
’’ظلم‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے ۔عربی لغت میں اس کی تعریف یوں کی گئی ہے:
الظلم،وضع الشیٔ علی غیر موضعہ
یعنی ظلم کا مطلب ہے کسی بھی چیز کو اسک کی اصل جگہ سے ہٹاکر رکھنا ۔ظلم کے اصطلاحی معنی یہ ہے کہ کسی بات یا معاملات میں کمی بیشی جو حق و انصاف کے خلاف ہو،زبردستی کسی کی کوئی چیز لے لینا ،کسی بھی معاملے میں حد سے تجاوز کرنا ،گم راہی ،غلط کاری۔
پوری امت مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہےکہ ظلم حرام ہے ۔نبی کریم محمد صلى الله عليه واٰله وسلم حدیث قدسی میں فرماتے ہیں کہ اللہ نے ارشاد فرمایا اے میرے بندو، میں نے ظلم کو اپنے اوپر بھی حرام کیا ہے اور تم پر بھی حرام کیا ہے، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو (صحیح مسلم ، باب تحریم الظلم)
علماء کرام نے ظلم کی تین قسمیں بیان کی ہیں: