ملت کے مسائل کا حل پیش کرنے والی مختلف تجاویز میں سب سے زیادہ جس تجویز کو پیش کیا جاتا ہے، وہ ملت میں تعلیم کے فروغ کی تجویز ہے۔ تعلیم کی صدا ہر اس پلیٹ فارم سے گونجتی ہے ،جو ملت کو موجودہ بھنور سے نکالنے کے لیے بنایا جاتا ہے، لیکن تعلیم کے حوالے سے جتنی گفتگو ہوتی ہے، اس میں بہت کم ہولسٹک اپروچ (Holistic approach) یعنی ہمہ جہت طریقہ ٔتعلیم پر مشتمل ہوتی ہے۔
تعلیم سے متعلق تجاویز میں زیادہ تر زور اس پر دیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو تعلیم حاصل کرنا چاہیے لیکن جب لفظ ’’تعلیم‘‘ بولا جاتا ہے تو اس سے عام تصور یہی ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو ڈگریوں سے آراستہ کردیا جائے۔ یعنی انہیں خواندہ (Literate) بنایا جائے، نہ کہ تعلیم یافتہ(Educated)۔ ظاہر ہے کہ خواندہ اور تعلیم یافتہ بنانے میں بڑا فرق ہے۔ آج مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد خواندہ تو ہورہی ہے لیکن تعلیم یافتہ بننے کی رفتار سست ہے۔ دنیا میں بڑی تبدیلیاں صرف خواندگی کو بڑھانے سے نہیں آتیں، بلکہ بڑی تبدیلیوں کے لیے تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمارے اکثر تعلیمی ادارے نوجوانوں کو خواندہ بنارہے ہیں، تاکہ وہ امپلائیبل (Employable) یعنی روزگار حاصل کرنے کے قابل بن سکیں، اور معاشرے میں بھی یہی تصور ہے کہ ڈگری حاصل کریں گے تو روزگار کے بہتر مواقع حاصل ہوں گے اور زندگی میں آسودگی آئے گی۔ یہی تصور تعلیم کے حوالے سے عام ہے۔ یہ تصور اور بھی نقصان پہنچاتا ہے جب خواتین اس تصور کو اختیار کرلیتی ہیں۔ اکثر خواتین تعلیم اس لیے حاصل کرتی ہیں کہ وہ معاشی اور سماجی طور پر بااختیار ہوجائیں۔ یہ سوچ غلط بھی نہیں ہے، تاہم اگر اس میں توازن بگڑ جاتا ہے اور خواتین بھی تعلیم کو محض معاشی دوڑ میں شامل ہونے کا ذریعہ بنالیتی ہیں تو اکثر خواتین اپنے اصل کردار اور زیورِ حیا نیز نسوانیت کے وقار سے محروم ہونے لگتی ہیں۔ مثلاً سماج میں خواتین کی تعلیم کا مقصد اکثر ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے: ’’…تاکہ لڑکی اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکے ۔‘‘