مطالعہ روح اور ذہن کی غذا ہے۔ اس کی وہی اہمیت ہے جو غذا کی ہے۔ جس طرح غذا سے محرومی جسم کو لاغر کر کے بالآخر نا کارہ بنادیتی ہے، اچھی کتابوں سے دوری ہمارے ذہنی و فکری قویٰ کو کمزور اور پھر مردہ کر دیتی ہے۔ چاہے ہم کتنے ہی جہاں دیدہ ہوں ، ہمارے مشاہدات اور تجربات اپنے وقت اور مقام کی تنگنائیوں سے ماورا نہیں ہو سکتے۔ ایک بھر پور اور طویل زندگی کی شام میں بھی ، ہمارے حصہ میں اسی نوے برس کے مشاہدات ہی آپاتے ہیں، جو بنی نوع انسان کے تجربات کا بہت ہی معمولی اور حقیر حصہ ہوتا ہے۔ زندگی بھر کی سیاحت کے باوجود ہم دنیا کے بہت سے حصوں میں نہیں جا پاتے ۔ ہم ماضی میں سفر نہیں کر سکتے ۔ انسانی تجربات کے بہت سے گوشوں میں ہم جھانک بھی نہیں پاتے۔ مطالعہ ہمیں ان سب سے جوڑتا ہے۔ اس عمل سے ہم پوری نوع انسان کے مشترک علمی ورثہ سے تعلق قائم کرتے ہیں۔ بنی نوع انسان کے تمام مشاہدات، انسانوں کے ہزاروں سالہ غور وفکر اور سعی و جہد کا حاصل اور سیکڑوں عبقری شخصیتوں کے فکر و تدبر کا نتیجہ ہماری دسترس میں آجاتا ہے۔
اس لیے کہتے ہیں کہ جسے مطالعہ کی عادت نہ ہو وہ صرف ایک زندگی گزارتا ہے اور جسے مطالعہ کی عادت ہو وہ ہزاروں زندگیاں گزارتا ہے۔ مطالعہ سے غزالی وابن تیمیہ، ارسطو اور افلاطون اور مودودی و اقبال کی گراں مایہ زندگیوں سے بھی کچھ خوبصورت اور بیش قیمت لمحے ہمارے دامن میں آ گرتے ہیں، ان کی نظر اور ان کے مشاہدہ اور ان کی فکر اور ان کے ادراک کا کچھ حصہ ہمیں بھی نصیب ہو جاتا ہے۔ اس طرح مطالعہ کرنے والا انسانی تاریخ کی تمام عظیم ہستیوں کا ہم نشیں بن جاتا ہے۔ ایک طرح سے ان کی صحبت اور ہم مشربی اسے حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ ایسی محفل میں بیٹھتا ہے جہاں انسانی تاریخ اپنی تمام تر حشرسامانیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوتی ہے اور جہاں انسانی افکار و خیالات اور تجربات و مشاہدات کی پوری کہکشاں روشن ہو جاتی ہے۔