Haadiya e-Magazine

تعلیم ہے امراض ملت کی دوا عذرا زمرد


Listen Later

دنیا میں کسی بھی مذہب یا نظریہ نے علم وحکمت کی اہمیت و ضرورت کو اتنا اجاگر نہیں کیا جتنا اسلام نےکیا ہے ۔صحیح علم کی رہنمائی،اس کا شوق دلانے،اس کی قدر و منزلت،اہل علم کی عزت افزائی کرنے،اس کے آداب بیان کرنے اوراس کے اثرات ونتائج واضح کرنے میں اسلام نے جو بھرپور اور مکمل ہدایات پیش کی ہیں،ایسی مثالیں کہیں اورنہیں ملتی ہیں ۔
قرآن مجید میں علم کا ذکر دیگر مشتقات کے ساتھ آٹھ سو سے زائد بار ملتا ہے۔اس سے علم و حکمت کی افادیت و اہمیت کا پتہ چلتا ہے ۔اسی طرح جب ہم حدیث کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں علم سے متعلق مکمل ابواب ملتے ہیں ۔مثلا ًصحیح بخاری میں وحی کی ابتدا اور ایمان کے باب کے بعد ہی علم کا باب شروع ہو جاتا ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے علم کو عزت بخشی اسی طرح علم کے حصول میں مددگار چیزوں کو بھی عزت بخشی ہے۔اللہ نے قرآن مجید میں سب سے پہلے قلم کا ذکر کیا ہے اور یہ قلم کی نہایت عزت افزائی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

نٓ‌ ۚوَالۡقَلَمِ وَمَايَسۡطُرُوۡنَۙ ۞(القلم:01)

ن۔ قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں
یہاں قلم کے ساتھ قلم سے لکھی جانے والی چیز کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔علم کی روشنی کو سورج،چاند اور ستاروں کی روشنی پر ترجیح دی گئی۔قرآن میں علم اور علم سے متعلق چیزوں کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ سے منسوب ہوا،کبھی رسولوں سے منسوب ہو کر، اور کبھی لوگوں کی نسبت سے، اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا سکھائی گئی:

وَقُلْ رَّبِّ زِدۡنِىۡ عِلۡمًا ۞ (طٰہ :114)

 (اے پروردگار مجھے  مزید علم عطا کر۔)
امام قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں کہ اگر کوئی چیز علم سے افضل اور برتر ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا کہ وہ اس میں سے مزید طلب کرے جیسا کہ مزید علم طلب کرنے کا حکم دیا گیا ۔اس لیے رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے علماء کی روشنائی کو شہیدوں کے خون کے برابر قرار دیا ہے۔علم ان مادی چیزوں کا احاطہ کرتا ہے جو کائنات میں ظاہر یا پوشیدہ ہیں۔مثلا ًسائنسی علوم، علم کیمیا،فزیالوجی،فلکیات، طب اور انجینیئرنگ وغیرہ جو مشاہدے اور تجربے پر مبنی ہے، لیکن مغربی اصطلاح میں علم کا محدود تصور ہے جس کے مقابلے میں اسلامی تعلیمات میں دینی و دنیوی تمام علوم پر علم کا اطلاق ہوتا ہے۔ مغرب جہاں علم کو دنیوی کامیابی کا ذریعہ اور زینہ سمجھتا ہے، اسلام اسے آخرت کی سرخروئی اور دنیا میں کامیابی دونوں کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔وہ دین ودنیا کو الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کرتا۔اسی لیے قدیم و جدید یا دینی و دنیوی علوم کی تفریق غلط بنیاد پر قائم ہے، البتہ آخرت کی سرخروئی اور دنیا میں سر بلندی کے لحاظ سے جو علم جتنا ضروری ہے، اسی کے بقدر اس کی اہمیت سمجھنی چا ہیے۔
علم کو صدیوں سے جتنا نظر انداز مسلمان کرتے آرہے ہیں ،اتنا کسی اور قوم نے نہیں کیا۔دنیوی علوم میں بھی یہی حال ہے،اور دینی علوم میں کی بھی یہی صورت حال ہے ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ ملت کے افراد دینی علوم میں غیر معمولی طورپر منہمک و مشغول ہیں،اسی لیے دنیوی علوم کی طرف توجہ نہیں ہو پا رہی ہے، بلکہ جب سے دنیوی علوم میں پیچھے جا رہے ہیں،تبھی سے دینی علوم میں بھی بتدریج زوال آ رہا ہے۔یہ ملت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اگر زمانے کی رفتار سے آگے نہیں تو کم از کم ساتھ ساتھ چلنے کی صلاحیت تواپنے اندر پیدا کرے ،اور اس کے لیے عالمی حالات سے واقفیت بھی ضروری ہے اور بنیادی دینی علوم میں مہارت کے ساتھ دنیوی علوم میں بھی عبورحاصل کرنا اشد ضروری ہے ۔

...more
View all episodesView all episodes
Download on the App Store

Haadiya e-MagazineBy Haadiya e-Magazine