’’ماما جانی! پلیز اپنے پہلے گھر واپس چلتے ہیں۔ مجھ سے یہاں نہیں رہا جاتا۔‘‘ننھے زوہیب نے فریاد کی۔
’’ہاں ماما جانی! ہمارا بھی یہاں دل نہیں لگتا، اور اتنے گندے بچے ہیں کہ ہمیں ان کے ساتھ کھیلنا بھی پسند نہیں۔‘‘اب تو زوہیب کی فریاد میں بڑے بیٹے صہیب کی بھی صدا شامل ہوئی۔
’’ہمم! کون کیا کہہ رہا ہےَ زرا پھر سے کہو، کیوں ؟کیا پرابلم ہے تم لوگوں کو اس گھر اور محلے سے ؟‘‘
’’اگر بابا جان کاٹرانسفر اس شہر میں نہیں ہوتا تو ہم اپنے گھر میں ہی رہتے اور وہیں اپنے پیارے دوستوں کے ساتھ کھیلتے، اسکول جاتے، لکھتے پڑھتے اور خوب مزہ کرتے۔‘‘ ماما جانی کے کہنے پر ایمن نے مدعا بیان کیا تھا۔
’’اووہ! تو یہ بات ہے۔ تم تینوں کو یہ محلہ اور یہاں کے پڑوسیوں سے تکلیف ہے۔ تو بیٹا جانی! میدان چھوڑ کر بھاگ جانا کہاں کی عقلمندی ہے؟ یہ تو بزدلی ہے بزدلی۔‘‘ ماما جانی نے تینوں پر اچھا خاصہ طعنہ کسا۔
’’ماما جانی !آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ میری سمجھ میں نہیں آرہا۔ آپ تفصیل سے بتائیں ناں۔ ‘‘زوہیب نے کہا۔
’’اچھا ، چلو تم تینوں مجھ کو بتاؤکہ تمہیں یہاں کیا تکالیف ہیں جو تم کہہ رہے ہو کہ تمہیں یہاں نہیں رہنا۔‘‘
’’ماما جانی! سب سے پہلے میں بتاؤں گا،میں سب سے چھوٹا ہوں۔‘‘زوہیب نے کہا۔
’’اوکے بیٹا جانی! شروع کرو۔‘‘