Haadiya e-Magazine

اتھاریٹیرین پیرینٹنگ: ایک خطرناک رویہ علیزے نجف


Listen Later

اس دنیا میں کئی ساری ایسی نعمتیں ہیں جن کا کوئی بدل نہیں اور ان میں سے کچھ نعمتیں اس دنیا کی خوبصورتی کا باعث ہوتی ہیں اور کچھ نعمتیں اس کائنات کے نظام میں حسن کے ساتھ ایک اہم کردار کی حیثیت رکھتی ہیں، جیسے کہ انسانی بچے۔ بلاشبہ بچے ماں باپ کے لیے دولت کونین سے کم نہیں ہوتے، قدرت کے قانون کے تحت یہ افزائش نسل کا ذریعہ ہوتے ہیں، قدرت نے ان کے لیے خاندان نامی ادارہ بنا کر ان کی شخصیت سازی اور ذہن سازی کے لیے پورا انتظام کیا ہے۔ اس خاندانی ادارے کے سربراہ عمومی طور پہ ماں باپ ہوتے ہیں، اس کے ساتھ گھر کے دوسرے افراد بھی ایک ضمنی کردار ادا کرتے ہیں۔
بچے اپنے آپ میں سب سے بڑی نعمت ہیں ،چناچہ اس نعمت کے حوالے سے جو سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ ہے ان کی تربیت، کیونکہ ہر بچہ اپنے ساتھ پوٹینشیل نامی امکانی صلاحیتوں کے خزانے کے ساتھ اس دنیا میں آتا ہے، لیکن محض اس کے ہونے سے ہی کامیاب زندگی کا حصول ممکن نہیں، اسے عملی سطح پہ بروئے کار لانے کے لیے مختلف طرح کے عوامل کی مدد لینی پڑتی ہے، اسے ہم مجموعی طور پر ذہن سازی بھی کہہ سکتے ہیں، جس میں خاندان بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں کی بہترین خطوط پہ تربیت سازی کرنا فرض عین کے زمرے میں شامل ہے، اس کے لیے ماں باپ جواب دہ ہیں۔
بچوں کی تربیت ایک شعوری عمل کا نام ہے، اس کے ذریعے ان کی نفسیات اور ان میں موجود غیر معمولی صلاحیتوں کو پرکھ کر ان کے ساتھ ڈیل کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے رویے پائے جاتے ہیں جو اگرچہ یوں ہی یا کسی روایت کے ساتھ اپنائے جاتے ہیں، لیکن اس کے نتائج منفی اثرات کے حامل ہوتے ہیں، المیہ یہ بھی ہے کہ لوگ ان غلطیوں کا دفاع اپنی اچھی نیت کو دلیل بنا کر کرتے ہیں، وہ اقدامات و معاملات کی نتیجہ خیزی پرنہ غور کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی صد فیصد ذمہ داری قبول کرتے ہیں ،اس کی وجہ سے ان منفی نتائج کے حامل رویوں کی نشوونما ہوتی رہتی ہے، وہ اس قدر عام ہو جاتے ہیں کہ لوگ انہیںمعمولات زندگی میں شامل کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتے، جس کے منفی نتائج معاشرے اور افراد دونوں کو ہی یکساں طور پہ متاثر کرتے ہیں۔

...more
View all episodesView all episodes
Download on the App Store

Haadiya e-MagazineBy Haadiya e-Magazine