
Sign up to save your podcasts
Or


ڈاکٹر عبد الکلام کا ایک بامعنی قول ہے :
’’اگر کسی ملک کو بدعنوانی سے پاک اور اعلیٰ خطوط پر معیاری قوم بنانا ہے تو مجھے شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ اس معاشرے کی جوتین شخصیات تبدیلی لا سکتی ہیں وہ ماں، باپ اور استاد ہیں۔‘‘
اس وقت ہمارے معاشرے میں غیر متوازن تبدیلی نے جس طرح کا ماحول پیدا کیا ہے، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ کسی کے نزدیک معاشرے کی اخلاقیات و اقدار اب روبہ زوال ہو رہے ہیں اور کسی کے نزدیک یہ تبدیلی حسب توقع ہے، اب ہمیں انھیں کے ساتھ جینے کا سلیقہ سیکھنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا اور نہ ہی اپنا رخ تبدیل کرتا ہے۔
سب سے پہلے تو ہم یہاں معاشرے کی موجودہ صورت حال کی زبوں حالی اور ارتقاء پذیری پر بات کریں گے، بےشک تبدیلی دنیاوی نظام کا لازمی جزو ہے، جیسا کہ اقبال نے بھی کہا ہے:
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں
بےشک یہ تبدیلی انسانی زندگی کا لازمی جزو ہے، لیکن اس تبدیلی کےلزوم سے قطعی یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ ہم ان اصولوں اور اقدار سے بغاوت کرنے لگیں جو کہ انسانی فطرت اور صالح معاشرے کے تشکیل میں ایک اہم تقاضے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انسانی فطرت تجربات کے ذریعے زندگی میں بہتری لانے کی خواہش رکھتی ہے، ناکہ درست سمت کا تعین کیےبغیر خود کو کسی بھی راہ پر گام زن کر دیا جائے۔ بےشک یہ سچ ہے کہ تجربات سے ہمیشہ مثبت نتائج پیدا ہوں یہ ضروری نہیں، کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ تبدیلی جو مثبت اقدار کو سامنے رکھ کر قبول کی گئی تھی، لوگ اپنی مخرب ذہنیت اور منفی خیالات کے ذریعے اس سے برائی کو فروغ دینے لگ جاتے ہیں۔ معاشرے میں خیر و شر کی کش مکش ہمیشہ سے رہی ہے، اس لیے صورت حال کو یکسر ایک رنگ میں دیکھنے کی خواہش رکھنا فضول ہے، بحیثیت انسان ہم سب اس کے پابند ہیں کہ ہم اپنے ارد گرد کے تاریک گوشے میں اپنے حصے کی شمع کو جلائے رکھنے کی جدوجہد کرتے رہیں، یہ چاہنا کہ جب میں چراغ جلاؤں تو ہواؤں کو تھم جانا چاہیے انتہائی فضول ہے، یہی اختیار و ارادے کی آزادی اور کش مکش ہی تو انسانوں کے لیے ذریعۂ آزمائش ہے۔
By Haadiya e-Magazineڈاکٹر عبد الکلام کا ایک بامعنی قول ہے :
’’اگر کسی ملک کو بدعنوانی سے پاک اور اعلیٰ خطوط پر معیاری قوم بنانا ہے تو مجھے شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ اس معاشرے کی جوتین شخصیات تبدیلی لا سکتی ہیں وہ ماں، باپ اور استاد ہیں۔‘‘
اس وقت ہمارے معاشرے میں غیر متوازن تبدیلی نے جس طرح کا ماحول پیدا کیا ہے، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ کسی کے نزدیک معاشرے کی اخلاقیات و اقدار اب روبہ زوال ہو رہے ہیں اور کسی کے نزدیک یہ تبدیلی حسب توقع ہے، اب ہمیں انھیں کے ساتھ جینے کا سلیقہ سیکھنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا اور نہ ہی اپنا رخ تبدیل کرتا ہے۔
سب سے پہلے تو ہم یہاں معاشرے کی موجودہ صورت حال کی زبوں حالی اور ارتقاء پذیری پر بات کریں گے، بےشک تبدیلی دنیاوی نظام کا لازمی جزو ہے، جیسا کہ اقبال نے بھی کہا ہے:
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں
بےشک یہ تبدیلی انسانی زندگی کا لازمی جزو ہے، لیکن اس تبدیلی کےلزوم سے قطعی یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ ہم ان اصولوں اور اقدار سے بغاوت کرنے لگیں جو کہ انسانی فطرت اور صالح معاشرے کے تشکیل میں ایک اہم تقاضے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انسانی فطرت تجربات کے ذریعے زندگی میں بہتری لانے کی خواہش رکھتی ہے، ناکہ درست سمت کا تعین کیےبغیر خود کو کسی بھی راہ پر گام زن کر دیا جائے۔ بےشک یہ سچ ہے کہ تجربات سے ہمیشہ مثبت نتائج پیدا ہوں یہ ضروری نہیں، کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ تبدیلی جو مثبت اقدار کو سامنے رکھ کر قبول کی گئی تھی، لوگ اپنی مخرب ذہنیت اور منفی خیالات کے ذریعے اس سے برائی کو فروغ دینے لگ جاتے ہیں۔ معاشرے میں خیر و شر کی کش مکش ہمیشہ سے رہی ہے، اس لیے صورت حال کو یکسر ایک رنگ میں دیکھنے کی خواہش رکھنا فضول ہے، بحیثیت انسان ہم سب اس کے پابند ہیں کہ ہم اپنے ارد گرد کے تاریک گوشے میں اپنے حصے کی شمع کو جلائے رکھنے کی جدوجہد کرتے رہیں، یہ چاہنا کہ جب میں چراغ جلاؤں تو ہواؤں کو تھم جانا چاہیے انتہائی فضول ہے، یہی اختیار و ارادے کی آزادی اور کش مکش ہی تو انسانوں کے لیے ذریعۂ آزمائش ہے۔