
Sign up to save your podcasts
Or


سورۃ العلق کی ابتدائی چند آیات ’’اِقْرَأْ بِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ….‘‘ سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد آنے والی سورۃ القدر میں بیان کیا کہ قرآن کریم رمضان کی بابرکت رات میں اتراہے، جیساکہ سورۃ الدخان میں ہے:
إِنَّا اَنْزَلْنَاہٗ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ(سورۃالدخان : 3)
(ہم نے اس کتاب کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔)
اور سورۃ البقرہ میں ہے:
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ أُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ(سورۃالبقرۃ: 185)
(رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا۔)
ان آیات میں یہ مضمون صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ غرض قرآن وحدیث میں واضح دلائل ہونے کی وجہ سے اُمتِ مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قرآن کریم لوحِ محفوظ سے سماء دنیا پر رمضان کی مبارک رات میں ہی نازل ہوا، اس طرح رمضان اور قرآن کریم کا خاص تعلق روزِ روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے۔
قرآن کریم کو رمضان المبارک سے خاص تعلق حاصل ہے، چنانچہ رمضان المبارک میں اس کا نازل ہونا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کا شغل نسبتاً زیادہ رکھنا، حضرت جبرئیل علیہ السلام کا رمضان المبارک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کا دور کرانا، تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کرنا، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور بزرگانِ دین کا رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام کرنا، یہ سب امور اس خصوصیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ لہٰذا اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہنا چاہیے۔ ماہِ رمضان کا قرآن کریم سے خاص تعلق ہونے کی سب سے بڑی دلیل قرآن کریم کا ماہِ رمضان میں نازل ہونا ہے۔ اس مبارک ماہ کی ایک بابرکت رات میں اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ سے سماء دنیا پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اس کے بعد حسبِ ضرورت تھوڑا تھوڑا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا اور تقریباً 23 سال کے عرصےمیں قرآن مکمل نازل ہوا۔ قرآن کریم کے علاوہ تمام صحیفے بھی رمضان میں نازل ہوئے، جیساکہ مسند احمد میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ مصحف ابراہیمی اور تورات وانجیل سب کا نزول رمضان میں ہی ہوا ہے۔‘‘
قرآن مجید پڑھنا اور سمجھنا کسی دن کا محتاج نہیں، ہر روز ہی یہ اپنے قاری کےلیےہدایت کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن رمضان المبارک میں تلاوت قرآن کی ایک منفرد اہمیت ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ماہِ رمضان اور قرآنِ حکیم کا ایک گہرا تعلق ہے، یہ دونوں ابد تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ قرآن مجید کتابِ رحمت ہے جو رمضان یعنی ماہِ رحمت میں نازل ہوئی ہے۔
تلاوتِ قرآن کے کچھ آداب ہیں، جن کا تلاوت کے وقت خاص خیال رکھا جائے، تاکہ ہم عند اللہ اجر عظیم کے مستحق بنیں۔ تلاوت چوں کہ ایک عبادت ہے، لہٰذا ریا وشہرت کے بجائے اس سے صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ومقصود ہو، نیز وضو وطہارت کی حالت میں ادب واحترام کے ساتھ اللہ کے کلام کی تلاوت کریں۔ تیسرا اہم ادب یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر اور اچھی آواز میں تجوید کے قواعد کے مطابق تلاوت کریں۔ تلاوتِ قرآن کے وقت اگر آیتوں کے معانی پر غور وفکر کرکے پڑھیں تو بہت ہی بہتر ہے۔ قرآن کریم کے احکام ومسائل پر خود بھی عمل کریں اور اس کے پیغام کو دوسروںتک پہنچانے کی کوشش کریں۔
By Haadiya e-Magazineسورۃ العلق کی ابتدائی چند آیات ’’اِقْرَأْ بِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ….‘‘ سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد آنے والی سورۃ القدر میں بیان کیا کہ قرآن کریم رمضان کی بابرکت رات میں اتراہے، جیساکہ سورۃ الدخان میں ہے:
إِنَّا اَنْزَلْنَاہٗ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ(سورۃالدخان : 3)
(ہم نے اس کتاب کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔)
اور سورۃ البقرہ میں ہے:
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ أُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ(سورۃالبقرۃ: 185)
(رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا۔)
ان آیات میں یہ مضمون صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ غرض قرآن وحدیث میں واضح دلائل ہونے کی وجہ سے اُمتِ مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قرآن کریم لوحِ محفوظ سے سماء دنیا پر رمضان کی مبارک رات میں ہی نازل ہوا، اس طرح رمضان اور قرآن کریم کا خاص تعلق روزِ روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے۔
قرآن کریم کو رمضان المبارک سے خاص تعلق حاصل ہے، چنانچہ رمضان المبارک میں اس کا نازل ہونا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کا شغل نسبتاً زیادہ رکھنا، حضرت جبرئیل علیہ السلام کا رمضان المبارک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کا دور کرانا، تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کرنا، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور بزرگانِ دین کا رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام کرنا، یہ سب امور اس خصوصیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ لہٰذا اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہنا چاہیے۔ ماہِ رمضان کا قرآن کریم سے خاص تعلق ہونے کی سب سے بڑی دلیل قرآن کریم کا ماہِ رمضان میں نازل ہونا ہے۔ اس مبارک ماہ کی ایک بابرکت رات میں اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ سے سماء دنیا پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اس کے بعد حسبِ ضرورت تھوڑا تھوڑا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا اور تقریباً 23 سال کے عرصےمیں قرآن مکمل نازل ہوا۔ قرآن کریم کے علاوہ تمام صحیفے بھی رمضان میں نازل ہوئے، جیساکہ مسند احمد میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ مصحف ابراہیمی اور تورات وانجیل سب کا نزول رمضان میں ہی ہوا ہے۔‘‘
قرآن مجید پڑھنا اور سمجھنا کسی دن کا محتاج نہیں، ہر روز ہی یہ اپنے قاری کےلیےہدایت کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن رمضان المبارک میں تلاوت قرآن کی ایک منفرد اہمیت ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ماہِ رمضان اور قرآنِ حکیم کا ایک گہرا تعلق ہے، یہ دونوں ابد تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ قرآن مجید کتابِ رحمت ہے جو رمضان یعنی ماہِ رحمت میں نازل ہوئی ہے۔
تلاوتِ قرآن کے کچھ آداب ہیں، جن کا تلاوت کے وقت خاص خیال رکھا جائے، تاکہ ہم عند اللہ اجر عظیم کے مستحق بنیں۔ تلاوت چوں کہ ایک عبادت ہے، لہٰذا ریا وشہرت کے بجائے اس سے صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ومقصود ہو، نیز وضو وطہارت کی حالت میں ادب واحترام کے ساتھ اللہ کے کلام کی تلاوت کریں۔ تیسرا اہم ادب یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر اور اچھی آواز میں تجوید کے قواعد کے مطابق تلاوت کریں۔ تلاوتِ قرآن کے وقت اگر آیتوں کے معانی پر غور وفکر کرکے پڑھیں تو بہت ہی بہتر ہے۔ قرآن کریم کے احکام ومسائل پر خود بھی عمل کریں اور اس کے پیغام کو دوسروںتک پہنچانے کی کوشش کریں۔