
Sign up to save your podcasts
Or


کثرت میں وحدت یااتحاد کا وہ تصور ہے جہاں مختلف مذاہب، ثقافت، نسل،زبان ،نظریات ،طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہی خطے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کا بھر پور تعاون کرتے ہوں۔
ہندوستان میں تنوع
’’تنوع میں اتحاد‘‘ یہ لفظ آزادی کے بعد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اپنی مشہور کتاب ’’The Discovery of India‘‘ میں سب سے پہلے وضع کیا تھا۔
ہندوستان بھر پور تنوع کی سرزمین تصور کیا جاتا ہے، ہندوستان تقریباً 5000 سال پرانی خوش رنگ تہذیب و ثقافت کا گہوارہ ہے، جہاں صدیوں سے مختلف رنگ و نسل کے لوگوں نے مل کر امن و سکون کے میٹھے راگ گائے ہیں، اور ہندوستان کو ست رنگی ملک بنایا ہے۔
آئیے ہندوستانی تہذیبی تنوع کو سمجھتے ہیں!
مشہور ماہر لسانیات گریئرسن نے 179 زبانوں اور 544 بولیوں کو نوٹ کیا ، مزید یہ کہ 1971 ءکی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں 1652 زبانیں بولی جاتی ہیں، ہمارے ہندوستانی آئین میں تقریباً 22 زبانوں کا ذکر ہے جن میں آسامی، بنگالی، گجراتی، ہندی، کنڑ، کشمیری، کونکنی، ملیالم، منی پوری، مراٹھی، اوڑیا، پنجابی، سنسکرت، سندھی، تامل، تیلگو، اردو، بوڈو ، نیپالی، سنتھالی، میتھلی، ڈوگری یہ ساری زبانیں شامل ہیں۔
ہندوستان میں ایک طرف لمبے سروں والے بحیرۂ روم کی نسل کے لوگ رہتے ہیں تو دوسری طرف چوڑے سروں والےالپائن نسل کے لوگ بھی رہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کئی کروڑ قبائلی لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں اور سب اپنی الگ ہی ثقافت کے ساتھ ایک ہی سر زمین پر امن کے ساتھ چل رہے ہیں، ہندوستان میں تقریباً 3000 ذات پات کے گروہ موجود ہیں۔ ہندوستان میں مختلف مذاہب مثلاً ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی کا وجود عرصہ ٔقدیم سے زندہ ہے ۔ہندوستان کے دستور کا آرٹیکل 27 – 28 میں مذہب کی آزادی کا تصور ہندوستان کو مکمل سیکولر تصور کرواتا ہے، ہندوستان ’’دنیا ایک خاندان ہے‘‘ کے تصور پر یقین رکھتا ہے، ہندوستان کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی قدروں کی مثال ہے۔
By Haadiya e-Magazineکثرت میں وحدت یااتحاد کا وہ تصور ہے جہاں مختلف مذاہب، ثقافت، نسل،زبان ،نظریات ،طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہی خطے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کا بھر پور تعاون کرتے ہوں۔
ہندوستان میں تنوع
’’تنوع میں اتحاد‘‘ یہ لفظ آزادی کے بعد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اپنی مشہور کتاب ’’The Discovery of India‘‘ میں سب سے پہلے وضع کیا تھا۔
ہندوستان بھر پور تنوع کی سرزمین تصور کیا جاتا ہے، ہندوستان تقریباً 5000 سال پرانی خوش رنگ تہذیب و ثقافت کا گہوارہ ہے، جہاں صدیوں سے مختلف رنگ و نسل کے لوگوں نے مل کر امن و سکون کے میٹھے راگ گائے ہیں، اور ہندوستان کو ست رنگی ملک بنایا ہے۔
آئیے ہندوستانی تہذیبی تنوع کو سمجھتے ہیں!
مشہور ماہر لسانیات گریئرسن نے 179 زبانوں اور 544 بولیوں کو نوٹ کیا ، مزید یہ کہ 1971 ءکی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں 1652 زبانیں بولی جاتی ہیں، ہمارے ہندوستانی آئین میں تقریباً 22 زبانوں کا ذکر ہے جن میں آسامی، بنگالی، گجراتی، ہندی، کنڑ، کشمیری، کونکنی، ملیالم، منی پوری، مراٹھی، اوڑیا، پنجابی، سنسکرت، سندھی، تامل، تیلگو، اردو، بوڈو ، نیپالی، سنتھالی، میتھلی، ڈوگری یہ ساری زبانیں شامل ہیں۔
ہندوستان میں ایک طرف لمبے سروں والے بحیرۂ روم کی نسل کے لوگ رہتے ہیں تو دوسری طرف چوڑے سروں والےالپائن نسل کے لوگ بھی رہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کئی کروڑ قبائلی لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں اور سب اپنی الگ ہی ثقافت کے ساتھ ایک ہی سر زمین پر امن کے ساتھ چل رہے ہیں، ہندوستان میں تقریباً 3000 ذات پات کے گروہ موجود ہیں۔ ہندوستان میں مختلف مذاہب مثلاً ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی کا وجود عرصہ ٔقدیم سے زندہ ہے ۔ہندوستان کے دستور کا آرٹیکل 27 – 28 میں مذہب کی آزادی کا تصور ہندوستان کو مکمل سیکولر تصور کرواتا ہے، ہندوستان ’’دنیا ایک خاندان ہے‘‘ کے تصور پر یقین رکھتا ہے، ہندوستان کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی قدروں کی مثال ہے۔