Haadiya e-Magazine

بدگمانی درس حدیث منذرہ بیگم


Listen Later

اہلِ ایمان کو اسلام نے یہ رہنمائی دی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے تعلق سے ہمیشہ نیک گمان رکھے۔ یہاں پر اپنے دل و دماغ کے اندر برے خیالات کو پالنے اور اسے پروان چڑھانے سے قطعاً روکا جا رہا ہے۔بدگمانی ایک مہلک بیماری ہےجو غصہ، غیظ و غضب، نفرت، حسد و بغض جیسے بنیادی عناصر سے ظہور عمل میں آتا ہے۔شریعتِ مطہرہ نے بدگمانی سے مطلقاً روکا ہے۔ ان تنبیہات سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب آدمی گمان کر رہا ہو تو یہ سوچے کہ کیا یہاں پر فی الواقع اس گمان کی معقول وجہ میرے پاس ہے؟مجھ سے کہیں گناہ کا عمل تو سرزد نہیں ہورہا؟ یہ احتیاط لازماً ہر وہ شخص کرے گا جو اللہ اور روزِ آخر سےخوف کھاتا ہو۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے بارے میں نیک گمان رکھے۔ إلّا یہ کہ یہ ثابت ہوجائے کہ وہ اس نیک گمانی کا سزاوار نہیں ہے،تو اس کی یہ نیک گمانی، اخوت و محبت کا لازمی تقاضا بن جائے گی۔روزمرہ کی زندگی میں نوعِ انسان کو جن سے سابقہ پیش آتا ہے ان کی بابت کوئی اچھا یا برا گمان دل میں پیدا ہوجانا ایک فطری امر ہے۔ بدگمانی انفرادی و اجتماعی، تنظیمی و خاندانی تعلقات کے اندر بگاڑ، مخالفت اور غلط فہمیوں کا ظہور پیدا کرتی ہے۔

...more
View all episodesView all episodes
Download on the App Store

Haadiya e-MagazineBy Haadiya e-Magazine