’’شہلا گڑیا! ذرا یہ کپڑے الماری میں رکھ دو ۔‘‘ امی نے شہلا کو آواز دی۔
’’ابھی رکھتی ہوں ۔‘‘ شہلا نے حسب عادت جواب دیا اور اپنی کہانی میں مگن ہوگئی ۔ کہانی تھی ہی اتنی دلچسپ۔ دس منٹ میں کہانی ختم ہوئی تو شہلا امی کا کام بھول چکی تھی۔
’’شہلا بیٹی ! نماز پڑھ لی۔‘‘
’’ابھی پڑھتی ہوں۔‘‘شہلا حسب عادت بول اٹھی ۔
’’ذرا یہ دیکھ لوں۔‘‘سوچتی ہوئی شہلا کی نظریں موبائل اسکرین پر تھیں۔
’’ بیٹا! اسکول کے جوتے پالش کرلو ۔‘‘امی نے رات یاد دہانی کروائی۔
’’ابھی کرتی ہوں۔‘‘پھر وہی بھول کا سلسلہ۔ اور صبح اسکول کے لیے دیر سے آنکھ کھلی۔ جوتے پالش کیے بغیر ہی پہنے گئے ، ڈانٹ کے ساتھ ۔ اور یہ ایک دن کی بات نہیں،شہلا کا روز کا معمول تھا۔
’’ابھی کرتی ہوں۔‘‘
’’ابھی اٹھاتی ہوں۔‘‘
’’ابھی رکھتی ہوں۔‘‘یہ جملے بطور عادت اس کے منہ سے پھسل پڑتے۔ کام دھرا کا دھرا رہتا۔ امی کی ڈانٹ ،غصہ اور خفگی کے باوجود اس کی عادت کم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی جا رہی تھی ، اور آج تو غضب ہو گیا۔امی نے دودھ چولھے پر رکھا اور چھوٹے اسد کو کھانا کھلا نے بیٹھ گئیں ، پھر شہلا کو آواز دی۔’’شہلا!دودھ چولھے پر ہے، ذرا دیکھ لو ۔‘‘
’’ ابھی دیکھتی ہوں۔‘‘جواب بڑی سعادت مندی سے دیا گیا مگر عمل؟ پھر کیا تھا۔ دودھ بے چارا کچھ ابل گیا، کچھ جل گیا۔ امی کا تو غصے کے مارے برا حال ہو گیا۔ اتنی ڈانٹ پڑی کہ شہلا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ قصور تھا، لہٰذا سر جھکائے سنتی رہی۔ امی کا غصہ رات گئے تک نہ اترا تھا۔ بچوں کو سلانے کے بعد امی نے سارا معاملہ ابو کے سامنے رکھ دیا۔
’’چھٹی جماعت میں آگئی ہے۔ اتناسا کام نہیں کرسکتی۔‘‘ امی کی بات میں وزن تھا۔
’’ اور بات آج کی نہیں ، ہر کام میں یہ ہی ہوتا ہے۔ ابھی اٹھاتی ہوں، ابھی کرتی ہوں، ابھی اٹھاتی ہوں اور اس کے بعد کام وہیں کا وہیں ۔‘‘ابو مسکراکرسنتے رہے۔