ن کے اندر کئی طرح کے جذبات و میلانات ودیعت کیے اور ان کی تسکین کے لیے حدود متعین کیے، ان میں سے ایک جنسی میلان ہے۔اس کی تسکین کے لیے نکاح کی حد مقرر کی۔ نکاح کے شرائط اور اصول و ضوابط، زوجین کے حقوق و فرائض اور دائرۂ کار مقرر کیے۔ نکاح کے ذریعے ایک اجنبی مرد اور اجنبی عورت پاکیزہ بندھن میں بندھتے ہیں، اور ایک خاندان وجود میں آتا ہے۔ نکاح کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد نسل انسانی کا تسلسل ہے۔خاندان سماج کا بنیادی ادارہ ہے۔ اس ادارے میں سربراہ کی حیثیت مرد کو حاصل ہے۔ مرد اور عورت اس ادارے کو ایک خوش گوار ادارہ اسی صورت میں بنا سکتے ہیں جب وہ حقوق اور فرائض میں اعتدال رکھیں۔ حقوق کی طلب سے زیادہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کی طرف متوجہ ہوں ۔مستحکم اور مضبوط خاندان کی بنیاد تعلقات کی خوش گواری یعنی محبت، عزت، احترام، عفو و درگزر اور ایثار و قربانی جیسی صفات پر استوار ہوتی ہے ۔ضروری ہے کہ گھر میں شوہر اور بیوی کے تعلقات، اولاد اور والدین کے تعلقات اور بھائی بہنوں کے تعلقات مضبوط ہوں۔ ایک فرد سماج میں بہتر کارکردگی اسی وقت انجام دے سکتا ہےجب وہ ایک پرسکون گھر کے ماحول میں پرورش پا رہا ہو۔ اگر گھر میں اطمینان، فرحت، الفت و محبت ہو تو وہ باہری دنیا میں بھی یہی کچھ تقسیم کرنے والا ہوگا اور اپنی سماجی اور معاشی زندگی میں بہتر طور پر کام کر سکے گا، لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو وہ گھر اور سماج کہیں بھی خوشیاں بانٹنے والا نہیں بن سکے گا اور ذاتی زندگی میں بھی اپنے فرائض کی انجام دہی بہتر طریقے سے نہیں کر سکے گا ۔آج جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں، وہاں خاندانی نظام بری طرح متاثر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ زیادہ دور نہیں، صرف ایک نسل پیچھے جاکر اپنے خاندانی نظام اور اقدار پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ اور خاندانی نظام میں کتنی تبدیلیاں آگئی ہیں؟ زوجین میں محبت و مودت اوروفاداریاں،والدین اور بزرگوں کا احترام، بھائی بہنوں کی آپسی محبت،مل جل کر ایک دوسرے کی تکالیف اور پریشانیوں کو دور کرنا، گھر کے افراد کی مشکلات کو دور کرکے خوشی اور اطمینان محسوس کرنا، باپ کا اپنی اولاد پر محنت کی کمائی کو خرچ کرنا اور ماں کا اولاد کی پیدائش اور پرورش میں اپنے جسم و جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا خون جگر پلانا وغیرہ ، موجودہ دور میں اکثر گھروں میں یہ سب باتیں قصہ ٔپارینہ بن گئی ہیں۔