میرا نام بلندی، عالی ہمتی، سخت کوشی اور استقامت کے لیے استعارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ہر زبان کے ادب میں مجھ کو اسی معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اردو زبان میں بہت سے شاعروں نےمجھ پر اشعار کہے ہیں ، نظمیں لکھی ہیں۔ کئی محاورات و کہاوتیں بھی موجود ہیں ۔خالق کائنات نےکوئی بھی چھوٹی سے چھوٹی باریک سے باریک چیز عبث یعنی بیکار پیدا نہیں کی ہے، پھر مجھ جیسے دیو قامت کو کیا وہ یوں ہی پیدا کر دیتا ؟
پیارے بچو !تم مجھے پہچان گئے ہو گے ۔جی ہاں، میں پہاڑ ہوں ۔زمین کے اندر موجود ٹیکٹونک پلیٹس کے آپس میں ٹکرانے سے میں وجود میں آتا ہوں۔میری پیدائش کا مقصد خود خالق کائنات نے قرآن مجید میں بتایا:
’’ ہم نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ زمین تم کو لے کر ڈھلک نہ جائے۔ اس نے دریا جاری کیے اور قدرتی راستے بنائے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔‘‘
قرآن مجید میں پہاڑوں کےلیے’’ رواسی‘‘ کا لفظ آیا ہے ،جس کے معنی سلسلۂ کوہ ہے ۔زمین پر اللہ تعالی نے یوں ہی بے ہنگم سے پہاڑ کھڑے نہیں کیے، اس کی خاص ترتیب رکھی ہے ۔جدید سائنس کے مطابق میں زلزلوں کو روکنے میں معاون ہوتا ہوں۔زمین کا توازن قائم رکھنا میری پیدائش کا مقصد ہے ۔
پینے کے صاف پانی کے چشمے مجھ سے ہی پھوٹتے ہیں۔پہاڑوں میں راستے ہیں جو کہ سفر کی طوالت اور صعوبتوں کو کم کرتے ہیں ۔میں معدنیات کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہوں۔ ان معدنیات کی وجہ سے میرے مختلف رنگ نظر آتے ہیں ،جو دیکھنے میں بہت خوبصورت لگتے ہیں ۔
میرے دامن میں ماحول کے مطابق مختلف قسم کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں،جو مختلف بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں ۔موسمیاتی تبدیلیاں بھی میری وجہ سے واقع ہوتی ہیں ۔ہوائیں مجھ سے ٹکراتی ہیں اور بارش ہوتی ہے ۔ معدنیات ، جنگلات اور ندیوں کا جاری ہونا مجھ ہی سے ہے ۔پھر ان ندیوں سے نرم اور زرخیز میدان میرے ہی سبب وجود میں آتے ہیں ۔سبزہ زار مجھ ہی سے ہے ۔پھر حضرت انسان اپنے بچوں کے ساتھ میرے دامن میں سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں ۔
پیارے بچو! ہوں نا میں دلچسپ اور دلکش ؟آؤ میری وادیوں میں کھیلو کودو اور غور کرو میری تخلیق پر ۔تم بے اختیار کہہ اٹھو گے:سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم.