
Sign up to save your podcasts
Or


یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے۔ ابو عبداللہ بن نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں ،میں نے رسول الله صلى الله عليه وسلم کو فرماتےہوئے سنا: ’’یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ۔ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں ،چنانچہ جو شخص شبہ سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کر لیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ جائے گا ۔اس کی مثال اس چرواہے کی ہے، جو کسی محفوظ چراگاہ کے ارد گرد چراتا ہے، تو قریب کے جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لیں ۔سنو ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراگاہ ہوتی ہے۔ (جس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ )آگاہ رہو اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔سنو جسم کے اندر گوشت پوست کا ایک ٹکڑا ہے ۔جب وہ درست ہوتا ہے ،تو سارا جسم درست رہتا ہے ،اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے ۔
جان لو وہ دل ہے ۔‘‘(صحیح بخاری : 52،صحیح مسلم : 1599 )
مذکورہ حدیث سورہ آل عمران کی آیت نمبر 7 کی تشریح ہے ۔اللہ کا فرمان ہے:
هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّـهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ ﴿سورہ آل عمران 7﴾
(وہی خدا ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں : ایک محکمات جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات ۔جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ،اور ان کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں ،حالانکہ ان کاحقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔برخلاف ان لوگوں کے جو علم میں پختہ کار ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں ۔) (سورہ آل عمران)
By Haadiya e-Magazineیقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے۔ ابو عبداللہ بن نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں ،میں نے رسول الله صلى الله عليه وسلم کو فرماتےہوئے سنا: ’’یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ۔ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں ،چنانچہ جو شخص شبہ سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کر لیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ جائے گا ۔اس کی مثال اس چرواہے کی ہے، جو کسی محفوظ چراگاہ کے ارد گرد چراتا ہے، تو قریب کے جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لیں ۔سنو ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراگاہ ہوتی ہے۔ (جس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ )آگاہ رہو اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔سنو جسم کے اندر گوشت پوست کا ایک ٹکڑا ہے ۔جب وہ درست ہوتا ہے ،تو سارا جسم درست رہتا ہے ،اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے ۔
جان لو وہ دل ہے ۔‘‘(صحیح بخاری : 52،صحیح مسلم : 1599 )
مذکورہ حدیث سورہ آل عمران کی آیت نمبر 7 کی تشریح ہے ۔اللہ کا فرمان ہے:
هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّـهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ ﴿سورہ آل عمران 7﴾
(وہی خدا ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں : ایک محکمات جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات ۔جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ،اور ان کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں ،حالانکہ ان کاحقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔برخلاف ان لوگوں کے جو علم میں پختہ کار ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں ۔) (سورہ آل عمران)