معمر اور شعیب نے ابن شہاب زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے حدیث بیان کی ، انہیں عروہ بن زبیر نے بتایا کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا :
’’میرے پاس ایک عورت آئی ، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ، اس نے مجھ سے ( کھانا ) مانگا تو اسے میرے پاس ایک کھجور کے سوا اور کچھ نہ ملا ۔ میں نے وہی اس کو دے دی ، اس نے وہ کھجور لے کر اپنی دو بیٹیوں میں تقسیم کر دی اور خود اس میں سے کچھ نہ کھایا ، پھر وہ کھڑی ہوئی ، اور وہ اور اس کی دونوں بیٹیاں چلی گئیں ، پھر نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس عورت کی بات بتائی تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس کسی پر بیٹیوں کی پرورش کا بار پڑ جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے ( بچانے والا) پردہ ہوں گی ۔‘‘(صحیح مسلم: 6694)
اسلام نے عورت کو جس قدر عزت اور مقام عطا کیا، وہ دنیا کے کسی مذہب نے نہ کسی قوم نے دیا ہے ۔عورت کا ہر روپ اپنی جگہ باعث عزت و حرمت ہے۔خواہ وہ ماں ہو ،بہن ہو یا بیٹی؛زمانۂ جاہلیت میں بیٹی کی پیدائش باعث شرم وعار ہوا کرتی تھی ۔اس بات سے دنیا واقف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب کا کیا حال ہوا کرتا تھا،بیٹی پیدا ہونے پر گھروں میں ماتم چھا جایا کرتا تھا ۔اس کا حق یہ بھی نہیں سمجھا جاتا تھا کہ اس کو زندہ رہنے دیا جائے ۔بہت سے شقی القلب خود اپنے ہاتھوں سے گلا گھونٹ کر اس کا خاتمہ کر دیتے تھے ،یا اس کو زندہ دفن کر دیتے تھے ان کا یہ حال قرآن مجید اس طرح بیان کرتا ہے:
’’جب ان میں سے کسی کو لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سنائی جاتی ہے تو وہ دل مسوس کے رہ جاتا ہے،لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے ،پھر ان کو منہ نہیں دکھانا چاہتا ،اس برائی کی وجہ سے جو اسے خبر ملی ہے،سوچتا ہے کیا اس نومولود بچی کو ذلت کے ساتھ با قی رکھے یا اس کو کہیں لے جاکے مٹی میں دبا دے۔‘‘(النحل)