ولاالشھر الحرام( المائدہ:2)
(محترم مہینہ ماہ محرم کو حلال نہ سمجھو!)
اسلام کی آمد کے بعد بھی اس ماہ کی حرمت و عظمت کو اس کی سابقہ حالت میں برقرار رکھا گیا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی باقیات میں سے تھے، جس کو لوگ اپناتے آ رہے تھے ،چنانچہ حدیث میں اس ماہ کو’’ شہر اللہ‘‘( اللہ کا مہینہ )( مسلم۔باب فضل صوم المحرم، حدیث: 2813) قرار دیا گیا ہے۔ماہِ محرم الحرام سے اسلامی سال نو کی ابتدا ہوتی ہے، زمانۂ جاہلیت میں لوگ اپنے فوائد ومنافع کی خاطر مہینوں کو آگے پیچھے کیا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج الوداع کے موقع سے یہ اعلان کر دیا کہ اللہ عزوجل نے جب سے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا ہے اسی دن سے اس نے مہینوں کی ترتیب و تنظیم قائم کر دی ۔
اسلامی تاریخ جس کو ہجری تاریخ کہا جاتا ہے، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اس کی بنیاد رکھی گئی اور یہ تاریخ حضرات صحابہ کرام(رضی اللہ عنہم) کے مشورے سے طے پائی تھی، چنانچہ علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہجری تاریخ کی بنیاد رکھی، اس کی وجہ یہ بنی کہ حضرت ابو موسی ٰاشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ کی طرف سے مراسلے موصول ہوتے ہیں؛ مگر اس پر تاریخ لکھی نہیں ہوتی ہے ، یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ خط کب کا لکھا ہوا ہے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا، اس وقت اکثر کی رائے یہ تھی کہ ہجرت سے ہی اسلامی تاریخ کی ابتداء ہو، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی پر فیصلہ کیا۔( الکامل فی التاریخ 9:1 ،دارالکتاب العربی )کیونکہ ہجرت نے ہی حق اور باطل کے درمیان حد فاصل کا کام کیا۔