Haadiya e-Magazine

درس حدیث سلمیٰ سلامت


Listen Later

ن ابی ہریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلممن لم یدع قول الزور والعمل به فلیس اللہ حاجۃ فی ان یدع طعامه و شرابه۔ (بخاری)

(ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص بحالت روزہ جھوٹ بولنا اور برے عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ،اور ایک پکارنے والا پکارتا ہے ۔اے طالب خیر ! آگے آ، اے شر کے متلاشی رک جا، اور اللہ تعالیٰ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔(ترمذی،ابن ماجہ)

عن ابي هريرة قال قال رسول الله : حسن اسلام المرء تركه ما لايعنيه (حديث حسن، رواه الترمذي)

(کسی شخص کے اسلام کی خوبی (اچھا ہونے کی دلیل ) یہ ہے کہ وہ لایعنی (فضول ) باتوں کو چھوڑ دے۔)

یہ حدیث جوامع الکلم میں سے ہے، یعنی الفاظ کم معانی بہت زیادہ ۔ نبیٔ کریمﷺ نے اس مختصر سی حدیث کے ذریعےامت کی رہنمائی فرمائی ہے کہ بے مقصد اور بے فائدہ مشاغل کو ترک کرنا ہی دین ودنیا کی سعادت کا ضامن ہے۔ اس امت کو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم مقصد کے لیے عظیم ذمہ داری کے ساتھ پیداکیا ہے، جس کی ادائیگی میں ہی اس کی کامیابی کا انحصار ہے، اور اس سے غفلت کے بدترین نتائج آج ہمارے سامنے ہیں، کیوں کہ امت کی اکثریت اپنے مقصد سے غافل اور لغویات میں منہمک نظر آتی ہے۔
بندۂ مومن کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ اس کا وقت ہے ،جو ہر لمحہ برف کی طرح پگھل کر ختم ہورہا ہے، جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:

...more
View all episodesView all episodes
Download on the App Store

Haadiya e-MagazineBy Haadiya e-Magazine