( بندہ اپنے پروردگارسے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے ۔)فرد و معاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز از حد ضروری ہے، اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ نماز کی اہمیت کا اندازہ مذکورہ بالا حدیث سے لگایا جاسکتا ہےکہ قیامت کے دن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا ۔نماز کی ادائیگی ، اور اس کی اہمیت و فضیلت اس قدر اہم ہےکہ سفر وحضر اور میدان جنگ اور بیماری میں نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔مذکورہ بالا حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ فرائض کے علاوہ کثرت سے نوافل کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔
احادیث مبارکہ میں فرائض کے علاوہ سنن و نوافل کی ترغیب دی گئی ہے ۔
جن نمازوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہتمام کے ساتھ ادا فرمایا انھیںسنت مؤکدہ کہا جاتا ہے ۔ان کی اہمیت کے لیےیہی بات کافی ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سنتوں کو نہایت اہتمام کے ساتھ ادا فرماتے تھے ۔
سنت مؤکدہ کے تعلق سے آپﷺ کا فرمان ہےکہ جس نے دن ا ور رات میں بارہ رکعت نماز پڑھی، اس کےلیے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے۔ ظہر کی فرض سے پہلے چار رکعت اور ظہر کی فرض کے بعد دو رکعت ،
مغرب کے بعددو رکعت، اور عشاء کے بعد دورکعت ، فجر کی نماز سے پہلے دو رکعت۔(سنن ترمذی)
اللہ کے رسولﷺ فرض نماز کے علاوہ کثرت سے نوافل کا بھی اہتمام کرتے تھے ۔اور قیام اللیل (تہجد)میں اتنا لمبا قیام کرتے تھےکہ آپ کےپاؤں میں ورم آجاتے تھے ۔
ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول آپ اتنا لمبا قیام کیوں کرتے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کی اگلی پچھلی خطائیں معاف فرمادی ہیں تو آپﷺنے فرمایا:یا میں ا للہ کا مزید شکر گزار بندہ نہ بنوں؟(بخاری)