
Sign up to save your podcasts
Or


وحدثنا قتيبة بن سعيد ،حدثنا ليث،عن ابن الهاد ، عن عمر بن علي بن حسين ،عن سعيد ابن مرجانة،عن ابي هريره،قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من اعتق رقبة مؤمنة، اعتق الله بكل عضو ء منه عضؤا من النار ،حتى يعتيق فرجه بفرجه.(صحیح مسلم : 3797 )
(عمر بن ( زین العابدین ) علی بن حسین ( بن علی بن ابی طالب) نے سعید بن مرجانہ سے اور اُنھوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ،اُنھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے کسی مومن گردن کو آزاد کیا ،اللّہ تعالیٰ اس کےہر عضو کے بدلے اس آزاد کرنے والے کا وہی عضو آگ سے آزاد کرے گا ،حتیٰ کہ اس کی شرمگاہ کے بدلے اُسکی شرمگاہ کو بھی آزاد کردےگا ۔)
وحدثنا قتيبة بن سعيد ،حدثنا ليث،عن ابن الهاد ، عن عمر بن علي بن حسين ،عن سعيد ابن مرجانة،عن ابي هريره،قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من اعتق رقبة مؤمنة، اعتق الله بكل عضو ء منه عضؤا من النار ،حتى يعتيق فرجه بفرجه.(صحیح مسلم : 3797 )
(عمر بن ( زین العابدین ) علی بن حسین ( بن علی بن ابی طالب) نے سعید بن مرجانہ سے اور اُنھوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ،اُنھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے کسی مومن گردن کو آزاد کیا ،اللّہ تعالیٰ اس کےہر عضو کے بدلے اس آزاد کرنے والے کا وہی عضو آگ سے آزاد کرے گا ،حتیٰ کہ اس کی شرمگاہ کے بدلے اُسکی شرمگاہ کو بھی آزاد کردےگا ۔)
مومن گردن کو آزاد کرنے سے مراد یہاں غلاموں کے آزاد کرنے سے ہے۔غلام دراصل وہ شخص ہوتا ہے جس سے اپنے مفاد کے لیے اس کے جسمانی و سماجی اختیارات چھین لیے جاتے ہیں اور پھر وہ معاشرے کا ایک کمزور ترین انسان ہوجاتا ہے، جس پر اس کامالک چاہے جانوروں جیسا سلوک کرےاور وہ اپنے حق کے لیے بھی آواز نہیں اٹھا پا تا ہے ۔
اس طرح سے لوگوں کو غلام بنانے کا رواج ہر زمانے میں ہر قوم میں پا یا گیا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف جنگی قیدیوں کے ساتھ خاص تھا ،بلکہ کبھی کبھی طاقتور قبیلہ اپنے سے کمزور قبیلہ کو ذاتی مفاد اور دد عیش کے لیے غلام بنالیتا تھا۔ایک دفعہ جب کسی کی گردن میں غلامی کا طوق پڑگیا تو وہ کبھی اس سے آزاد نہیں ہو سکتا تھا ۔اگر کوئی خود سے آزاد ہو نے کی کوشش بھی کرتا تو اُسے اتنے سخت قوانین اور کٹھن مرحلوں سے گزرنا پڑتا کہ وہ اسی میں دب کر رہ جاتا ۔
By Haadiya e-Magazineوحدثنا قتيبة بن سعيد ،حدثنا ليث،عن ابن الهاد ، عن عمر بن علي بن حسين ،عن سعيد ابن مرجانة،عن ابي هريره،قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من اعتق رقبة مؤمنة، اعتق الله بكل عضو ء منه عضؤا من النار ،حتى يعتيق فرجه بفرجه.(صحیح مسلم : 3797 )
(عمر بن ( زین العابدین ) علی بن حسین ( بن علی بن ابی طالب) نے سعید بن مرجانہ سے اور اُنھوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ،اُنھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے کسی مومن گردن کو آزاد کیا ،اللّہ تعالیٰ اس کےہر عضو کے بدلے اس آزاد کرنے والے کا وہی عضو آگ سے آزاد کرے گا ،حتیٰ کہ اس کی شرمگاہ کے بدلے اُسکی شرمگاہ کو بھی آزاد کردےگا ۔)
وحدثنا قتيبة بن سعيد ،حدثنا ليث،عن ابن الهاد ، عن عمر بن علي بن حسين ،عن سعيد ابن مرجانة،عن ابي هريره،قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من اعتق رقبة مؤمنة، اعتق الله بكل عضو ء منه عضؤا من النار ،حتى يعتيق فرجه بفرجه.(صحیح مسلم : 3797 )
(عمر بن ( زین العابدین ) علی بن حسین ( بن علی بن ابی طالب) نے سعید بن مرجانہ سے اور اُنھوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ،اُنھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے کسی مومن گردن کو آزاد کیا ،اللّہ تعالیٰ اس کےہر عضو کے بدلے اس آزاد کرنے والے کا وہی عضو آگ سے آزاد کرے گا ،حتیٰ کہ اس کی شرمگاہ کے بدلے اُسکی شرمگاہ کو بھی آزاد کردےگا ۔)
مومن گردن کو آزاد کرنے سے مراد یہاں غلاموں کے آزاد کرنے سے ہے۔غلام دراصل وہ شخص ہوتا ہے جس سے اپنے مفاد کے لیے اس کے جسمانی و سماجی اختیارات چھین لیے جاتے ہیں اور پھر وہ معاشرے کا ایک کمزور ترین انسان ہوجاتا ہے، جس پر اس کامالک چاہے جانوروں جیسا سلوک کرےاور وہ اپنے حق کے لیے بھی آواز نہیں اٹھا پا تا ہے ۔
اس طرح سے لوگوں کو غلام بنانے کا رواج ہر زمانے میں ہر قوم میں پا یا گیا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف جنگی قیدیوں کے ساتھ خاص تھا ،بلکہ کبھی کبھی طاقتور قبیلہ اپنے سے کمزور قبیلہ کو ذاتی مفاد اور دد عیش کے لیے غلام بنالیتا تھا۔ایک دفعہ جب کسی کی گردن میں غلامی کا طوق پڑگیا تو وہ کبھی اس سے آزاد نہیں ہو سکتا تھا ۔اگر کوئی خود سے آزاد ہو نے کی کوشش بھی کرتا تو اُسے اتنے سخت قوانین اور کٹھن مرحلوں سے گزرنا پڑتا کہ وہ اسی میں دب کر رہ جاتا ۔