
Sign up to save your podcasts
Or


وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ
بے شک اللہ تعالیٰ اس کائنات کا اور اس پر بسنے والی تمام جاندار چیزوں کا موجد ہے۔ تو اے زمین و آسمان کے رہنے والو! زندوں یا مردوں میں سے کسی کی عبادت نہ کرو مگر اس ذات کی جس نے تمھیںپیدا کیا ۔تمہارے لیے رنگین دنیا بنائی، اور تمھاری خوراک کے لیے غلے اور لذیذ پھل فراہم کیے ۔ مخلوق میں کوئی ہستی کسی بھی پہلو سے اس کی کسی بھی صفت میں مشابہت نہیں کر سکتی۔ وہی ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازتا ہے ۔خالق ،رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے ۔
وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا ؕ
اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے ۔رشتے بنانے کے بعد اللہ نے ان کے حقوق مقرر فرمائے ۔ان حقوق میں سے ہر ایک کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔ اللہ نے اپنی بندگی اور اطاعت کے فوراً بعد والدین کے حق کا ذکر فرمایا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہےکہ اللہ کے بعد رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے۔ اللہ کی بے شمار نعمتوں اور بے پایاں رحمتوں کے احسان اور شکر کے بعد انسان پر اگر کسی کی نعمتوں اور اور احسانات کا شکر ہےتو وہ اس کے والدین ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالی نے جہاںاپناشکرادا کرنے کا حکم دیا ہے، وہیں والدین کی شکر گزاری کا بھی حکم دیا ہے ۔
اَنِ اشۡكُرۡ لِىۡ وَلِـوَالِدَيۡكَؕ اِلَىَّ الۡمَصِيۡرُ ۞
(میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو ۔میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔)
رحم مادر میں بچے کی بتدریج تخلیق قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے ۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ بالکل کمزور اور عاجز ہوتا ہے ۔ اس میں حرکت کرنے کی بھی صلاحیت نہیں ہوتی ۔اس وقت سے ماں باپ ہی اللہ کے بعد اس کاسہارا بنتے ہیں ۔ تو گویا اس کے وجود کی بقاء کے لیے اللہ کی قدرت کے بعد انہی کی شفقت و محبت کام کرتی ہے ۔والدین کے ساتھ حسن سلوک کی فرضیت میں بہت سی احادیث ہیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ،پھر فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، پھر فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ۔جس نے اپنے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے میں پایا اور جنت میں داخل نہ ہوا۔ (صحیح مسلم: 6510)
ابو بکرہ ؓ سے روایت ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں تمھیںاکبر الکبائر نہ بتاؤں؟ ‘‘تین مرتبہ آپ نے فرمایا ۔ہم نے عرض کیا: ’’کیوں نہیں اے اللہ کے رسول !‘‘آپ نےفرمایا:’’ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کو ستانا۔
(صحیح بخاری: 5976)
اگر والدین غیر مسلم ہوں پھر بھی ان کے ساتھ نیک سلوک واجب ہے۔ حضرت اسماء بنت ابو بکرؓ بیان کرتی ہیں کہ میری والدہ میرے پاس آئیں ۔وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مشرکہ تھیں ۔ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :’’یا رسول اللہ! وہ اسلام سے اعراض کرتی ہیں ۔کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ ہاں تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو ۔‘‘
(صحیح بخاری: 2620، صحیح مسلم: 1003 )
سعد بن ابی وقاص کی والدہ ایمان نہیں لائی تھیں۔ آپﷺ نے ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی ۔حضرت ابو ہریرہؓ کی والدہ ایمان نہیں لائی تھیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی تھیں ،پھر بھی آپ ﷺ ان کو اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے تھے۔
والدین اگر معصیت اور نافرمانی کا حکم دیں مثلاً پردہ کرنے سے روکیں ، غیرساتر لباس پہننے کو کہیں تو ان معاملات میں والدین کی اطاعت نہیں ۔البتہ دنیا میں حسن اخلاق ، حسن سلوک اور تحمل کے ساتھ ان کاساتھ دینا ہے ۔اللہ کا فرمان ہے :
By Haadiya e-Magazineوَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ
بے شک اللہ تعالیٰ اس کائنات کا اور اس پر بسنے والی تمام جاندار چیزوں کا موجد ہے۔ تو اے زمین و آسمان کے رہنے والو! زندوں یا مردوں میں سے کسی کی عبادت نہ کرو مگر اس ذات کی جس نے تمھیںپیدا کیا ۔تمہارے لیے رنگین دنیا بنائی، اور تمھاری خوراک کے لیے غلے اور لذیذ پھل فراہم کیے ۔ مخلوق میں کوئی ہستی کسی بھی پہلو سے اس کی کسی بھی صفت میں مشابہت نہیں کر سکتی۔ وہی ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازتا ہے ۔خالق ،رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے ۔
وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا ؕ
اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے ۔رشتے بنانے کے بعد اللہ نے ان کے حقوق مقرر فرمائے ۔ان حقوق میں سے ہر ایک کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔ اللہ نے اپنی بندگی اور اطاعت کے فوراً بعد والدین کے حق کا ذکر فرمایا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہےکہ اللہ کے بعد رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے۔ اللہ کی بے شمار نعمتوں اور بے پایاں رحمتوں کے احسان اور شکر کے بعد انسان پر اگر کسی کی نعمتوں اور اور احسانات کا شکر ہےتو وہ اس کے والدین ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالی نے جہاںاپناشکرادا کرنے کا حکم دیا ہے، وہیں والدین کی شکر گزاری کا بھی حکم دیا ہے ۔
اَنِ اشۡكُرۡ لِىۡ وَلِـوَالِدَيۡكَؕ اِلَىَّ الۡمَصِيۡرُ ۞
(میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو ۔میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔)
رحم مادر میں بچے کی بتدریج تخلیق قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے ۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ بالکل کمزور اور عاجز ہوتا ہے ۔ اس میں حرکت کرنے کی بھی صلاحیت نہیں ہوتی ۔اس وقت سے ماں باپ ہی اللہ کے بعد اس کاسہارا بنتے ہیں ۔ تو گویا اس کے وجود کی بقاء کے لیے اللہ کی قدرت کے بعد انہی کی شفقت و محبت کام کرتی ہے ۔والدین کے ساتھ حسن سلوک کی فرضیت میں بہت سی احادیث ہیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ،پھر فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، پھر فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ۔جس نے اپنے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے میں پایا اور جنت میں داخل نہ ہوا۔ (صحیح مسلم: 6510)
ابو بکرہ ؓ سے روایت ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں تمھیںاکبر الکبائر نہ بتاؤں؟ ‘‘تین مرتبہ آپ نے فرمایا ۔ہم نے عرض کیا: ’’کیوں نہیں اے اللہ کے رسول !‘‘آپ نےفرمایا:’’ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کو ستانا۔
(صحیح بخاری: 5976)
اگر والدین غیر مسلم ہوں پھر بھی ان کے ساتھ نیک سلوک واجب ہے۔ حضرت اسماء بنت ابو بکرؓ بیان کرتی ہیں کہ میری والدہ میرے پاس آئیں ۔وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مشرکہ تھیں ۔ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :’’یا رسول اللہ! وہ اسلام سے اعراض کرتی ہیں ۔کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ ہاں تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو ۔‘‘
(صحیح بخاری: 2620، صحیح مسلم: 1003 )
سعد بن ابی وقاص کی والدہ ایمان نہیں لائی تھیں۔ آپﷺ نے ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی ۔حضرت ابو ہریرہؓ کی والدہ ایمان نہیں لائی تھیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی تھیں ،پھر بھی آپ ﷺ ان کو اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے تھے۔
والدین اگر معصیت اور نافرمانی کا حکم دیں مثلاً پردہ کرنے سے روکیں ، غیرساتر لباس پہننے کو کہیں تو ان معاملات میں والدین کی اطاعت نہیں ۔البتہ دنیا میں حسن اخلاق ، حسن سلوک اور تحمل کے ساتھ ان کاساتھ دینا ہے ۔اللہ کا فرمان ہے :