Haadiya e-Magazine

درس قرآن ماریہ سعید


Listen Later

(طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے ،پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے۔یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ اور تمہارے لیے اس میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ۔جو تم نے انہیں دیا ہے۔ مگر یہ کہ وہ دونوں ڈریں کہ وہ اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے۔ پھر اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے۔ تو ان دونوں پر اس میںکوئی گناہ نہیں جو عورت اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں دے دے۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں ۔ سو ان سے آگے مت بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے گا تو یہی لوگ ظالم ہیں۔)

اسلام ایک مکمل ضابطہ ٔحیات ہے۔ یہ زندگی کے ہر شعبے میں ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ جس طرح اسلام نے نکاح کے معاملے میں فریقین کی رضامندی ضروری قرار دی ہے۔ اسی طرح نباہ نہ ہونے کی صورت میں علیحدگی کے لیے مرد کو طلاق کا اختیار دیا ہے، اور عورت کو خلع کا اختیار دیا ہے۔ طلاق خالص مرد کا حق ہے اور خلع خالص عورت کا حق ہے۔ طلاق کے بےجا اور غلط استعمال اور خلع کے بےجا مطالبے سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ان ابغض الحلال الی اللہ الطلاق

(بے شک اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے نا پسندیدہ چیز طلاق ہے۔)(ابوداؤد ،کتاب الطلاق : 2178)

قرآن کریم نے جن احکام کو تفصیل سے بیان کیا ،ان میں طلاق اور خلع کے مسائل بھی ہیں ۔ آیات کی روشنی میں ان احکام کی تفصیل درج ذیل ہے:

...more
View all episodesView all episodes
Download on the App Store

Haadiya e-MagazineBy Haadiya e-Magazine