
Sign up to save your podcasts
Or


(طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے ،پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے۔یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ اور تمہارے لیے اس میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ۔جو تم نے انہیں دیا ہے۔ مگر یہ کہ وہ دونوں ڈریں کہ وہ اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے۔ پھر اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے۔ تو ان دونوں پر اس میںکوئی گناہ نہیں جو عورت اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں دے دے۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں ۔ سو ان سے آگے مت بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے گا تو یہی لوگ ظالم ہیں۔)
اسلام ایک مکمل ضابطہ ٔحیات ہے۔ یہ زندگی کے ہر شعبے میں ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ جس طرح اسلام نے نکاح کے معاملے میں فریقین کی رضامندی ضروری قرار دی ہے۔ اسی طرح نباہ نہ ہونے کی صورت میں علیحدگی کے لیے مرد کو طلاق کا اختیار دیا ہے، اور عورت کو خلع کا اختیار دیا ہے۔ طلاق خالص مرد کا حق ہے اور خلع خالص عورت کا حق ہے۔ طلاق کے بےجا اور غلط استعمال اور خلع کے بےجا مطالبے سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ان ابغض الحلال الی اللہ الطلاق
(بے شک اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے نا پسندیدہ چیز طلاق ہے۔)(ابوداؤد ،کتاب الطلاق : 2178)
By Haadiya e-Magazine(طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے ،پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے۔یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ اور تمہارے لیے اس میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ۔جو تم نے انہیں دیا ہے۔ مگر یہ کہ وہ دونوں ڈریں کہ وہ اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے۔ پھر اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے۔ تو ان دونوں پر اس میںکوئی گناہ نہیں جو عورت اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں دے دے۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں ۔ سو ان سے آگے مت بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے گا تو یہی لوگ ظالم ہیں۔)
اسلام ایک مکمل ضابطہ ٔحیات ہے۔ یہ زندگی کے ہر شعبے میں ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ جس طرح اسلام نے نکاح کے معاملے میں فریقین کی رضامندی ضروری قرار دی ہے۔ اسی طرح نباہ نہ ہونے کی صورت میں علیحدگی کے لیے مرد کو طلاق کا اختیار دیا ہے، اور عورت کو خلع کا اختیار دیا ہے۔ طلاق خالص مرد کا حق ہے اور خلع خالص عورت کا حق ہے۔ طلاق کے بےجا اور غلط استعمال اور خلع کے بےجا مطالبے سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ان ابغض الحلال الی اللہ الطلاق
(بے شک اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے نا پسندیدہ چیز طلاق ہے۔)(ابوداؤد ،کتاب الطلاق : 2178)