Haadiya e-Magazine

درس قرآن اشفاق النساء


Listen Later

وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُم مِّنَ النِّسَآءِاِلَّا مَا قَدسَلَفَ‌ ۔اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقتًا وَسَآءَسَبِيۡلًا (النساء 22)

زمانہ جاہلیت میں سوتیلے بیٹے اپنے باپ کی بیوی (یعنی سوتیلی ماں سے) نکاح کرلیتے تھے، ان سے روکا جارہا ہےکہ یہ بہت بے حیائی کا کام ہے۔ اسلام ایسی عورت سے نکاح کو ممنوع قرار دیتا ہے، جس سے اس کے باپ نے نکاح کیا۔ یہاں تمدنی اور معاشرتی مسائل میں جاہلیت کے غلط طریقوں کو حرام قرار دیا جارہا ہے۔ جو ہوچکا سو ہو چکا، سے مراد بے علمی اور نادانی میں جو غلطیاں تم لوگ کرتے رہے ہو ،ان کی گرفت نہیں کی جائے گی۔ بشرطیکہ حکم آنے کے بعد اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلو اور جو غلط کام ہیں، انہیں چھوڑ دو۔ دوسرے یہ کہ پچھلے زمانے میں اگر کسی کام کو کم یا کسی طریقے کو حرام ٹھہرایا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پچھلے قانون یا رسم و رواج کے مطابق جو کام پہلے ہوچکے ہیں ان کو ختم کیا جائے اور ان سے پیدا شدہ نتائج کو ناجائز اور عائد شدہ ذمہ داریوں کو لازماً ساقط بھی کیا جارہا ہے:

...more
View all episodesView all episodes
Download on the App Store

Haadiya e-MagazineBy Haadiya e-Magazine