
Sign up to save your podcasts
Or


’’تکاثر ‘‘کامعنیٰ ہے مال و اولاد کی کثرت میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش، تگ و دو کرنا۔ اور’’ الہا‘‘ کا معنیٰ ہےغافل کرنا، لہو و لعب میں مشغول ہو کر مقصد سے غافل ہونا۔ عرب جاہلیت میں مال میں تکاثر کے ساتھ اولاد کے تکاثر کا جذبہ بھی پایا جاتا تھا۔ اب موجودہ دور میں مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر مسلم سماج میں بھی خاندانی منصوبہ بندی کا تصور غالب ہے، اس وجہ سے اب اولاد کی کثرت کا رجحان ختم ہو گیا ہے البتہ معیار زندگی کا تصور غالب ہے، البتہ معیار زندگی کو بلند کرنے میں پوری طاقت، وقت اور صلاحیت لگا دی جاتی ہے جس کی کوئی حد و انتہاء نہیں ہے۔
اس عارضی دنیا کی نعمتوں کے حصول میں ہر دن تسابق و مقابلہ آرائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ اس تکاثر کی برائی سے پاک نہیں، خواہ تعلیم کا میدان ہو یا معاشی سرگرمیاں۔ حتی ٰکہ عبادات میں بھی مذموم مقابلہ آرائی ہوتی ہے، مسجد کی تعمیر میں تفاخر، قربانی کے جانور میں تفاخر، انفاق کی تختیاں لگانا، نکاح کے مراسم میں حد سے زیادہ تفاخر اور مقابلہ آرائی؛ حتی کہ موت کے بعد بھی مفاخرت کا سلسلہ بند نہیں ہوتا۔ عربی کا ایک شعر ہے:
أبوا الامباہاۃً و فخراً
علی الفقرائِ حتی فی القبور
( عالیشان مقبروں کی تعمیرتک میں اہل ثروت غریبوں پر فخر جتاتے ہیں۔)
حتی زرتم المقابر
اس کا مفہوم یہ ہے اسی تکاثر کی تگ و دو میں پوری زندگی ختم ہو جاتی ہے اور لوگ قبروں میں جا پہنچتے ہیں۔ زیارت کا مطلب اس دنیا کی زندگی سے نکل کر قبر کے عارضی مسکن کی زیارت کرنا ہے۔ اس کے بعد اپنے دائمی مستقر کی طرف جانا ہوگا۔ اس عارضی تنگ و تاریک کوٹھری میں آخرت کے اچھے اور برے انجام کا مشاہدہ کرا دیا جاتا ہے۔
آگے کی آیات میں غفلت میں پڑے انسانوں کو بہت زوردار اور مؤثر انداز میں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ متاع دنیا کی محبت نے تمہیں فریب میں مبتلا کر رکھا ہے، مگر جان لو کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو اس دنیا میں بھی ذلّت و مسکنت سے دوچار رہو گے اور آخرت میں بھی۔ اس جملے میں جو وعید اور ڈر مضمر ہے، وہ محتاج بیان نہیں ہے ۔اس کے بعد غفلت کا اصل سبب بتاتے ہوئے فرمایا کہ تم کو یقین نہیں آرہا ہے کہ فی الواقع وہ دن آنے والا ہے، جس دن جہنم کو یقین کی آنکھوں سے دیکھو گے اور پھر ہر نعمت کے بارے میں بازپرس ہوگی، جزا اور سزا ملے گی۔ اگر پختہ یقین ہوتا تو تم اپنی قیمتی زندگیاں جو آخرت کی تیاری کے لیے ملی ہیں، بے مقصد کاموں میں برباد نہ کرتے، انجام کا یقینی علم ہوتا تو حقیر مفادات کے لیے مسابقت نہ کرتے ،بلکہ مسابقت کے حقیقی میدان کی طرف توجہ دیتے ،جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
By Haadiya e-Magazine’’تکاثر ‘‘کامعنیٰ ہے مال و اولاد کی کثرت میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش، تگ و دو کرنا۔ اور’’ الہا‘‘ کا معنیٰ ہےغافل کرنا، لہو و لعب میں مشغول ہو کر مقصد سے غافل ہونا۔ عرب جاہلیت میں مال میں تکاثر کے ساتھ اولاد کے تکاثر کا جذبہ بھی پایا جاتا تھا۔ اب موجودہ دور میں مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر مسلم سماج میں بھی خاندانی منصوبہ بندی کا تصور غالب ہے، اس وجہ سے اب اولاد کی کثرت کا رجحان ختم ہو گیا ہے البتہ معیار زندگی کا تصور غالب ہے، البتہ معیار زندگی کو بلند کرنے میں پوری طاقت، وقت اور صلاحیت لگا دی جاتی ہے جس کی کوئی حد و انتہاء نہیں ہے۔
اس عارضی دنیا کی نعمتوں کے حصول میں ہر دن تسابق و مقابلہ آرائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ اس تکاثر کی برائی سے پاک نہیں، خواہ تعلیم کا میدان ہو یا معاشی سرگرمیاں۔ حتی ٰکہ عبادات میں بھی مذموم مقابلہ آرائی ہوتی ہے، مسجد کی تعمیر میں تفاخر، قربانی کے جانور میں تفاخر، انفاق کی تختیاں لگانا، نکاح کے مراسم میں حد سے زیادہ تفاخر اور مقابلہ آرائی؛ حتی کہ موت کے بعد بھی مفاخرت کا سلسلہ بند نہیں ہوتا۔ عربی کا ایک شعر ہے:
أبوا الامباہاۃً و فخراً
علی الفقرائِ حتی فی القبور
( عالیشان مقبروں کی تعمیرتک میں اہل ثروت غریبوں پر فخر جتاتے ہیں۔)
حتی زرتم المقابر
اس کا مفہوم یہ ہے اسی تکاثر کی تگ و دو میں پوری زندگی ختم ہو جاتی ہے اور لوگ قبروں میں جا پہنچتے ہیں۔ زیارت کا مطلب اس دنیا کی زندگی سے نکل کر قبر کے عارضی مسکن کی زیارت کرنا ہے۔ اس کے بعد اپنے دائمی مستقر کی طرف جانا ہوگا۔ اس عارضی تنگ و تاریک کوٹھری میں آخرت کے اچھے اور برے انجام کا مشاہدہ کرا دیا جاتا ہے۔
آگے کی آیات میں غفلت میں پڑے انسانوں کو بہت زوردار اور مؤثر انداز میں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ متاع دنیا کی محبت نے تمہیں فریب میں مبتلا کر رکھا ہے، مگر جان لو کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو اس دنیا میں بھی ذلّت و مسکنت سے دوچار رہو گے اور آخرت میں بھی۔ اس جملے میں جو وعید اور ڈر مضمر ہے، وہ محتاج بیان نہیں ہے ۔اس کے بعد غفلت کا اصل سبب بتاتے ہوئے فرمایا کہ تم کو یقین نہیں آرہا ہے کہ فی الواقع وہ دن آنے والا ہے، جس دن جہنم کو یقین کی آنکھوں سے دیکھو گے اور پھر ہر نعمت کے بارے میں بازپرس ہوگی، جزا اور سزا ملے گی۔ اگر پختہ یقین ہوتا تو تم اپنی قیمتی زندگیاں جو آخرت کی تیاری کے لیے ملی ہیں، بے مقصد کاموں میں برباد نہ کرتے، انجام کا یقینی علم ہوتا تو حقیر مفادات کے لیے مسابقت نہ کرتے ،بلکہ مسابقت کے حقیقی میدان کی طرف توجہ دیتے ،جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: