
Sign up to save your podcasts
Or


اَلۡحَجُّ اَشۡهُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِيۡهِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوۡقَۙ وَلَا جِدَالَ فِى الۡحَجِّ ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يَّعۡلَمۡهُ اللّٰهُ ؕ وَتَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَيۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰى ۚ وَاتَّقُوۡنِ يٰٓاُولِى الۡاَلۡبَابِ ۞ (البقرہ،آیت: 197)
(حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیّت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل ، کوئی بدعملی،کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو ۔ اور جو نیک کام تم کرو گے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفرِحج کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جاوٴ۔ اور سب سے بہتر زادِراہ پرہیزگاری ہے ۔ پس اے ہوشمندو ! میری نافرمانی سے پرہیزکرو۔)
حج کے مہینے تو سب کو معلوم ہیں تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرے اسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران شہوانی فعل ،کوئی بد عملی نہ ہو ۔
جن مقررہ مہینوں میں اللّٰہ ربّ العزّت نے حج کا حکم دیا ہے وہ شوال کی چاند رات سے لے کر ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کی شام تک دو مہینے دس روز حج کے مہینے کہلاتے ہیں ۔ان مہینوں سے پہلے احرام باندھنا اور حج شروع کرنا جائز نہیں ہے ۔حج مختلف عبادات کا مجموعہ ہے اور یہ عبادات ہی دراصل مناسک حج کہلاتے ہیں ،جن میں حج کرنے کے طور طریقے اور اعمال و افعال ہوتے ہیں ۔ان مناسک کا ادا کرنا بہت ضروری ہے ورنہ حج مقبول نہیں ہوگا۔
By Haadiya e-Magazineاَلۡحَجُّ اَشۡهُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِيۡهِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوۡقَۙ وَلَا جِدَالَ فِى الۡحَجِّ ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يَّعۡلَمۡهُ اللّٰهُ ؕ وَتَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَيۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰى ۚ وَاتَّقُوۡنِ يٰٓاُولِى الۡاَلۡبَابِ ۞ (البقرہ،آیت: 197)
(حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیّت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل ، کوئی بدعملی،کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو ۔ اور جو نیک کام تم کرو گے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفرِحج کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جاوٴ۔ اور سب سے بہتر زادِراہ پرہیزگاری ہے ۔ پس اے ہوشمندو ! میری نافرمانی سے پرہیزکرو۔)
حج کے مہینے تو سب کو معلوم ہیں تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرے اسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران شہوانی فعل ،کوئی بد عملی نہ ہو ۔
جن مقررہ مہینوں میں اللّٰہ ربّ العزّت نے حج کا حکم دیا ہے وہ شوال کی چاند رات سے لے کر ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کی شام تک دو مہینے دس روز حج کے مہینے کہلاتے ہیں ۔ان مہینوں سے پہلے احرام باندھنا اور حج شروع کرنا جائز نہیں ہے ۔حج مختلف عبادات کا مجموعہ ہے اور یہ عبادات ہی دراصل مناسک حج کہلاتے ہیں ،جن میں حج کرنے کے طور طریقے اور اعمال و افعال ہوتے ہیں ۔ان مناسک کا ادا کرنا بہت ضروری ہے ورنہ حج مقبول نہیں ہوگا۔