
Sign up to save your podcasts
Or


أَعُوذُ بِاللٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لِلرِّجَالِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ ۖ وَلِلنِّسَآءِنَصِيۡبٌ مِّمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ مِمَّا قَلَّ مِنۡهُ اَوۡ كَثُرَ ؕ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا ۞ (النساءآیت:7)
(مردوں کے لیےاس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے، جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور حصہ ،اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔)
یہ سورہ نساء کی آیت نمبر7 ہے ۔ سورہ نساء وہ سورہ ہے جس میں عورتوں،یتیموں، خاندانی و معاشرتی زندگی، شادی بیاہ، رشتے ناطے، طلاق و خلع ، وراثت اور صلہ رحمی وغیرہ سے متعلق ضح احکامات ملتے ہیں۔ سورہ کی تمہید میں اللہ تعا لی ٰ تقوی اختیار کرنے کا حکم دے رہا ہے ۔ اس تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ تمام مخلوقات اللہ کی پیدا کردہ ہیں اور اس کائنات کا خالق و مالک اور رب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، تو کسی کے لئے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس کی مخلوق کو ظلم و تعدی کا شکار بنائے اور ان کے حقوق کو ضبط کرے۔ تمہید میں دوسری بات یہ بیان فرمائی گئی کہ تمام نسل انسانی ایک ہی آدم و حوا کا گھرانہ ہے ۔ اس اعتبار سے حقوق کے حصول میں سب برابر ہیں۔چونکہ حوا علیہا السلام، آدم علیہ السلام کی ہی جنس سے بنی ہیں اور وہ نسل انسانی کی ماں ہیں۔ اس لحاظ سے عورت شرف انسانیت میں برابر کی شریک ہے ۔ اس کو حقیر و ذلیل سمجھ کر نہ تو حقوق سے محروم کیا جا سکتا ہے اور نہ کمزور خیال کرکے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے سماج کے سب سے کمزور طبقے یعنی یتیموں کے حقوق کی تفصیلات بیان کیں ۔ یتامیٰ کے حقوق کے تحفظ کے بعد عورتوں کے حقوق کی حفاظت کا ذکر شروع ہورہا ہے ،جس میں سب سے پہلے میراث میں ان کے حقوق کی نشان دہی کی گئی ہے۔
By Haadiya e-Magazineأَعُوذُ بِاللٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لِلرِّجَالِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ ۖ وَلِلنِّسَآءِنَصِيۡبٌ مِّمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ مِمَّا قَلَّ مِنۡهُ اَوۡ كَثُرَ ؕ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا ۞ (النساءآیت:7)
(مردوں کے لیےاس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے، جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور حصہ ،اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔)
یہ سورہ نساء کی آیت نمبر7 ہے ۔ سورہ نساء وہ سورہ ہے جس میں عورتوں،یتیموں، خاندانی و معاشرتی زندگی، شادی بیاہ، رشتے ناطے، طلاق و خلع ، وراثت اور صلہ رحمی وغیرہ سے متعلق ضح احکامات ملتے ہیں۔ سورہ کی تمہید میں اللہ تعا لی ٰ تقوی اختیار کرنے کا حکم دے رہا ہے ۔ اس تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ تمام مخلوقات اللہ کی پیدا کردہ ہیں اور اس کائنات کا خالق و مالک اور رب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، تو کسی کے لئے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس کی مخلوق کو ظلم و تعدی کا شکار بنائے اور ان کے حقوق کو ضبط کرے۔ تمہید میں دوسری بات یہ بیان فرمائی گئی کہ تمام نسل انسانی ایک ہی آدم و حوا کا گھرانہ ہے ۔ اس اعتبار سے حقوق کے حصول میں سب برابر ہیں۔چونکہ حوا علیہا السلام، آدم علیہ السلام کی ہی جنس سے بنی ہیں اور وہ نسل انسانی کی ماں ہیں۔ اس لحاظ سے عورت شرف انسانیت میں برابر کی شریک ہے ۔ اس کو حقیر و ذلیل سمجھ کر نہ تو حقوق سے محروم کیا جا سکتا ہے اور نہ کمزور خیال کرکے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے سماج کے سب سے کمزور طبقے یعنی یتیموں کے حقوق کی تفصیلات بیان کیں ۔ یتامیٰ کے حقوق کے تحفظ کے بعد عورتوں کے حقوق کی حفاظت کا ذکر شروع ہورہا ہے ،جس میں سب سے پہلے میراث میں ان کے حقوق کی نشان دہی کی گئی ہے۔