امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت
درس: 06
طبیعتِ انسانیہ کی مبادیات، الٰہی تجلیات، امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت اور انسان کے مختلف مواطن میں وجود کا تصور
(فاتحہ: فصل 3)
مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ: 15؍ مارچ 2023ء / 22 شعبان المُعَظَّم 1444ھ
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز
0:30 مقدمے کی پہلی دو فصلوں کی مباحث کا خلاصہ
3:47 تیسری فصل میں چار بنیادی امور کا بیان
5:22 کتاب کے اگلے تین مقالات کی تفہیم‘ مقدمے کی تین فصول کی فہم پر منحصر
6:02 طبیعتِ انسانی اور اس کی سات خصوصیات
9:20 (۱) وجودِ طبیعتِ انسانیہ اور انسانوں میں اس کی وحدت کی نوعیت
10:28 ’’لمحات‘‘ کی روشنی میں وحدت کی حقیقت
11:17 وحدت اور وجود کی مثال اشخاص کی طرح نہیں!
12:10 (۲) انسانوں میں طبیعتِ انسانیہ کی بقاء کا پیمانہ
13:07 اس گہری بات کو سمجھنے کے لیے شاہ صاحبؒ کی تاکید
16:21 (۳) طبیعتِ انسانیہ کی وجہ سے انسانوں کی معلوم مقدار اور حد بندی
17:55 (۴) نظرِ مُمعِن (گہری نظر) سے انسانی طبیعت کے امتیازی خواص کی فہم
19:14 (۵) طبیعتِ انسانیہ کی انسانی صورت کا دوسری مخلوق سے اشتراک نہیں ہوگا
20:30 (۶) مرتبۂ صفات اور ظرفِ زمان میں انسانی صورتیں الگ الگ تھیں
22:59 (۷) ہر انسانی رُوح منفرد خصوصیات کے ساتھ ابتداءً ہی الگ شناخت کی حامل تھی
25:32 دہر اور زمان کی حقیقت و دائرہ کار اور فلاسفہ کی کج فہمی کی نشان دہی
28:00 تحقیقِ بلیغ کے بعد شاہ صاحبؒ کا طبیعتِ انسانیہ کی حقیقت سے متعلق سوال
29:19 طبیعتِ انسانی کی اصل فطرت کی گہری حقیقت کا مطالعہ
30:34 (الف) ہر حقیقت پر رحمٰن ذات کا فیضان اور کامل دسترس
31:51 طبیعتِ انسانیہ پر رحمٰن کا فیضان اور صورتِ انسانیہ کا وجود
33:59 (ب) ہر انسان پر فیضانِ رحمٰن کی صورت میں چار چیزیں ضرور آتی ہیں
35:24 حجۃ اللہ البالغہ سے اس اصول کی توضیح
37:01 (ج) طبیعتِ انسانیہ کے افاضہ کی حد اور نوعیت بھی طے شدہ
37:33 اِفاضے کا معلوم وزن اور حد ‘رحمٰن کی شُئُون میں سے ایک شان کا اظہار
38:51 انسان دنیا میں اسمائے الہیہ میں سے ایک خاص اسم جزئی
40:05 فلاسفہ کی اصطلاح میں اسے عقلِ طِباعی کہا جاتا ہے
42:05 حقائقِ کائنات پر فیضانِ رحمٰن کا قرآن و حدیث سے ثبوت کا سوال کرنے والوں کو تنبیہ
45:04 بدورِ بازغہ پڑھنے والوں پر خبط سوار نہیں ہونا چاہیے!
46:40 وحدتِ انسانیت کا بنیادی مرکز و مِحور؛ امامِ نوعِ انسانی
47:24 فلاسفہ کے غلط تصوُّر کا ردّ
48:43 ہر فلک اپنی حرکتِ دَوری کے لیے امام؛ فلکِ اَطلس کا محتاج؛ فلاسفہ کا مُسلَّمہ اُصول
51:05 فلاسفہ ہر فلک کا امام مانتے ہیں لیکن انواعِ طبائعِ ارضیہ کے امام کے منکر کیوں؟
53:01 بغیر امام اور ماڈل کے امت اور نوع کا وجود کیسے؟ فلاسفہ کی کمی فہمی پر سوال
55:23 کتاب پڑھنے والے شک اور لالچ مت کر!
57:20 اسمِ الہی کا طبیعت الکل، نفس الکل اور شخصِ اکبر میں سریان کا عمل
59:29 طبیعت کا اشخاص میں سریان‘ نظرِ جلّی میں
1:00:20 شخص کی اپنے اسم کے ساتھ نسبت کی وضاحت
1:03:37 اسم کے تمام اثرات کامل طور پر ہر شخص میں پائے جاتے ہیں
1:04:36 باریک بینی سے طبیعت کے اشخاص میں سرایت کے معاملے کی وضاحت
1:05:07 (ا) تمام انسانوں میں جاری‘ تدبیر الکل؛ طبیعتِ انسانیہ سے وضاحت
1:08:00 (ب) اسمِ جزئی کے ظُہور کے مختلف مراحِل سے وضاحت
1:10:32 حدبُ الاسم کی بنیاد پر معرفتِ خداوندی یا نفس کی ساخت لیکن استعدادیں مختلف
1:13:07 ہر انسان کی ترقیات اسمِ مربّی سے وابستہ ہیں
1:14:09 کثرت سے ذکر کرنے والے ’’مفرِّدین‘‘ کو اُوپر کے دائرے کا علم تک رسائی
1:15:40 کثرت سے ذکر کرنے والوں کے سامنے کائنات کی وحدتِ کبریٰ روشن
1:16:46 (ج) تدبیرِ الٰہی کے تصادم سے اسمائے جزئیہ کا ٹکراؤ؛ اس مثال سے وضاحت
1:18:25 ملّتوں کے تحت اسمائے جزئیہ سے مزید وضاحت
1:19:11 ان تینوں علوم کا اِدارک صرف علمائے ربّانیین کو حاصل
1:20:00 علماء باللہ کے ہاں اس کا نام ”هیأة سریانیة“
1:21:07 کائنات‘ اسماءُ الحسنیٰ کا مَظہر
1:22:51 امامِ نوعِ انسانی دراصل وہ اسماء ہیں جن کے تحت انسانی نظام کام کر رہا ہے
1:24:27 اَشخاص میں مِسطرِ انسانی اور امامِ نوعِ انسانی کے مُعِدَّات کا فرق
1:27:09 روزمرہ کے واقعات کا دو مرتبوں میں رحمٰن ذات کے زیرِ اثر وقوع
1:28:41 ہر مُمکن الوجود ضرور وجود میں آئے گا
1:30:28 حضرتِ انسان پر تمام اِماموں کا فیضان لیکن امامِ نوعِ انسانی حکمران
1:31:38 عالمِ اَمر و عقل کی حقیقت
1:33:22 ”دَرَّاکةُ الموجودةِ الکلِّ“ کی اصطلاح لانے کی وجہ
1:34:11 عالمِ مُجرَّد و ناسوت میں کارفرماں قوتِ متوسِّطہ؛ عالمِ مثال اور اس کی شان
1:35:36 مَشائیہ بھی عالمِ مثال کو قوتِ متوسِّطہ مانتے کے قائل
1:36:38 عالمِ مثال کا مکمل مظَہر‘ خیالُ الْعرش
1:37:42 انسان کے مختلف عوالِم میں چار وجود؛ 1-انسان کا وجودِ جبروتی 2- وجودِ روحانی
1:38:33 3- وجودِ مثالی 4- وجودِ ناسوتی
1:39:56 اگلے تین مقالوں میں عالمِ اجسام میں موجود انسان سے متعلق گفتگو
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا