
Sign up to save your podcasts
Or


اللّٰہ کے رسول کو جب اسلام کی علانیہ تبلیغ کا حکم ملا تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کوہ صفا پر تشریف لے گئے اور آواز لگائی:
’’ ہائے صبح کا خطرہ !ہائے صبح کا خطرہ!‘‘
یہ نعرہ شدید خطرے کے وقت لگایا جاتا تھا ۔ جب لوگوں نے سنا تو تیزی سے جمع ہوگئے ۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے عقب سے ایک لشکر آ رہا ہے اور وہ تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم کو یقین آئے گا ؟‘‘
سب نے کہا :’’ہاں، کیونکہ ہم نے آپ کو ہمیشہ سے سچ بولتے دیکھا ہے ۔ ہم نے آپ پر کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا ۔‘‘
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ اچھا تو میں ایک سخت عذاب سے پہلے تمھیںخبردار کرنے کےلیے بھیجا گیا ہوں ۔ میری اور تمہاری مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی آدمی نے دشمن کو دیکھا، پھر اس نے کسی اونچی جگہ چڑھ کر اپنے خاندان والوں پر نظر ڈالی تو اسے اندیشہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے پہنچ جائے گا۔ لہذا، اس نے وہیں سے پکار لگانی شروع کردی ۔ قریش کے لوگو !اپنے آپ کو اللّٰہ سے خرید لو ۔ جہنم سے بچا لو ، میں تمھارے نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتا ، نہ تمھیں اللّٰہ سے بچانے کے کام آ سکتا ہوں ۔‘‘
اس کے بعد اور اس پورے واقعے میں دعوت دین کا کام کرنے والوں کےلیے بہت سےچھپے ہوئے سبق ہیں ، جن کو کھلے دماغ سے پڑھ کر دعوت کے کام کو آسان بنایا جا سکتا ہے ۔
’’بنو کعب بن لوئی! بنو مرہ بن کعب! بنو قصی! بنو عبد مناف! بنو عبد شمس ! بنو ہاشم! بنو عبد المطلب !
اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو، کیونکہ میں تمھارے نفع و نقصان کا مالک نہیں اور نہ تمھیںاللّٰہ سے بچانے کےکچھ کام آسکتا ہوں ۔ میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو، مگر میں تمھیں اللّٰہ سے بچانے کا کچھ اختیار نہیں رکھتا ۔‘‘
By Haadiya e-Magazineاللّٰہ کے رسول کو جب اسلام کی علانیہ تبلیغ کا حکم ملا تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کوہ صفا پر تشریف لے گئے اور آواز لگائی:
’’ ہائے صبح کا خطرہ !ہائے صبح کا خطرہ!‘‘
یہ نعرہ شدید خطرے کے وقت لگایا جاتا تھا ۔ جب لوگوں نے سنا تو تیزی سے جمع ہوگئے ۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے عقب سے ایک لشکر آ رہا ہے اور وہ تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم کو یقین آئے گا ؟‘‘
سب نے کہا :’’ہاں، کیونکہ ہم نے آپ کو ہمیشہ سے سچ بولتے دیکھا ہے ۔ ہم نے آپ پر کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا ۔‘‘
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ اچھا تو میں ایک سخت عذاب سے پہلے تمھیںخبردار کرنے کےلیے بھیجا گیا ہوں ۔ میری اور تمہاری مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی آدمی نے دشمن کو دیکھا، پھر اس نے کسی اونچی جگہ چڑھ کر اپنے خاندان والوں پر نظر ڈالی تو اسے اندیشہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے پہنچ جائے گا۔ لہذا، اس نے وہیں سے پکار لگانی شروع کردی ۔ قریش کے لوگو !اپنے آپ کو اللّٰہ سے خرید لو ۔ جہنم سے بچا لو ، میں تمھارے نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتا ، نہ تمھیں اللّٰہ سے بچانے کے کام آ سکتا ہوں ۔‘‘
اس کے بعد اور اس پورے واقعے میں دعوت دین کا کام کرنے والوں کےلیے بہت سےچھپے ہوئے سبق ہیں ، جن کو کھلے دماغ سے پڑھ کر دعوت کے کام کو آسان بنایا جا سکتا ہے ۔
’’بنو کعب بن لوئی! بنو مرہ بن کعب! بنو قصی! بنو عبد مناف! بنو عبد شمس ! بنو ہاشم! بنو عبد المطلب !
اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو، کیونکہ میں تمھارے نفع و نقصان کا مالک نہیں اور نہ تمھیںاللّٰہ سے بچانے کےکچھ کام آسکتا ہوں ۔ میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو، مگر میں تمھیں اللّٰہ سے بچانے کا کچھ اختیار نہیں رکھتا ۔‘‘