Haadiya e-Magazine

حیاتیاتی تنوع خان سعدیہ ندرت


Listen Later

قدیم اصحابِ کشف نے اس کارخانۂ قدرت کو ایک عالمی کنبہ قرار دیا ہے۔ اس کے تحت ایک زمینی کیڑے سے لے کردیو قامت ہاتھی تک کی جانداروں میں باہمی تعاون کا تصور دیا گیا ہے۔ بعض اوقات ہم مصیبتوں (قحط، سیلابوں وغیرہ) سے ہی اجتماعی شعور اور تمام جانداروں کے باہمی تعاون سے متعلق سبق سیکھتے ہیں۔دُنیا بھر میں حیاتیاتی تنوع کا بین الاقوامی دن منایا جاتا ہے۔ حیاتیاتی تنوع کا بین الاقوامی دن سب سے پہلے 90 کی دہائی میں شروع کیا گیا تھا۔ جب 1992 ءمیں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’’ارتھ کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں ماحولیاتی تحفظ پر خصوصی زور دیا گیا۔ اس کے بعد 29 دسمبر 1993 ءکو پہلی بار بائیوڈائیورسٹی ڈے کے طور پر منایا گیا۔ اس کے بعد یہ مسلسل منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ دنیا کے تمام لوگوں کو حیاتیاتی تنوع کے بارے میں آگاہ کیا جائے ،تاکہ دنیا کے حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھا جاسکے اور اس کی حفاظت کی جاسکے۔ مختلف قسم کے جانور، پرندے اور پودے ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرتے ہیں، جن کی زندگی کا انحصار ایک دوسرے پر ہے۔ صحیح معنوں میں حیاتیاتی تنوع کی فراوانی زمین کو رہنے اور رہنے کے لیے موزوں بناتی ہے، لیکن یہ ستم ظریفی ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی آلودگی جیسے عفریت کے ماحول پر اس قدر خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں کہ حیوانات اور نباتات کی بہت سی انواع آہستہ آہستہ معدوم ہو رہی ہیں۔ اِسی لیے حیاتیاتی تنوع کے بچاؤ کا شعور بیدار کرنا اور اِس نصب العین کے حصول کے لیے اہم اقدامات کی ضرورت پر زور دینا ہے۔حیاتیاتی تنوع کے لیے موسمیاتی تبدیلیاں ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ تبدیلیاں قدرتی ماحول کو اس قدر تیزی کے ساتھ متأثر کرتی ہیں کہ بہت سے جانور اور نباتات اُس تیزی سے خود کو نئے حالات کے مطابق نہیں ڈھال پاتے۔ قدرتی ماحول کے تحفظ کی ایجنسی ’’نیچرل انگلینڈ‘‘ سے وابستہ نکولس میک گریگر(Nicholas MacGregor)بتاتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں پر مختلف جانوروں کا رد عمل مختلف ہوتا ہے اور یہ چیز مسائل کا باعث بنتی ہے کیونکہ کوئی بھی جانور تنہا نہیں بلکہ ایک پوری کمیونٹی کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں مختلف طرح کے جانوروں یا پودوں کو ہی نہیں بلکہ پورے کے پورے حیاتیاتی نظاموں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ قدرتی ماحول کے وفاقی جرمن محکمے کی صدر بیاٹے ژیسل (Beate Jessel) کو یورپ میں نظر آنے والی تبدیلیوں پر ہی تشویش نہیں ہے، بلکہ وہ زمینی درجۂ حرارت میں اضافے کی وجہ سے اُستوائی اور نیم حاری خطّوں میں مونگے کی چٹانوں کو درپیش خطرات پر بھی فکر مند ہیں: ’’مونگے کی چٹانیں بہت بڑی ماحولیاتی خدمات انجام دیتی ہیں۔ یہ سیلابی لہروں کو روکتی ہیں۔ یہ ماہی گیری، خوراک کی یقینی فراہمی اور سیاحت کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ تاہم ان چٹانوں کو ابھی سے نقصان پہنچ رہا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دُنیا بھر میں مونگے کی چٹانوں کو بچانے کے لیے زمینی درجۂ حرارت میں زیادہ سے زیادہ دو سینٹی گریڈ اضافے کا ہدف کافی نہیں ہو گا۔‘‘

...more
View all episodesView all episodes
Download on the App Store

Haadiya e-MagazineBy Haadiya e-Magazine