
Sign up to save your podcasts
Or


انسان کے وجود میں دل کو ایک خاص مقام حاصل ہے، کیونکہ اسلام میں دل صرف جذبات کا مرکز نہیں بلکہ ایمان، نیت، اخلاص اور روحانی کیفیت کی بنیاد بھی ہے۔ جب دل میں اللہ کی محبت، اس کا خوف اور اس پر یقین مضبوط ہو تو انسان کے اعمال میں بھی پاکیزگی اور کردار میں بھی خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے؛ خبردار! وہ دل ہے۔ (صحیح البخاری: 52، صحیح مسلم: 1599)۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارا دل کس حال میں ہے؟ کیا وہ اللہ کی یاد سے زندہ ہے یا دنیا کی محبت، گناہوں اور غفلت نے اسے ڈھانپ لیا ہے؟ اسی اہم موضوع پر ہمارا یہ پوڈکاسٹ دل کی حقیقت، ایمان میں اس کے مقام اور اس کی اصلاح کے راستوں پر غور کرنے کی ایک کوشش ہے۔
Send us Fan Mail
آپ سن رہے ہیں "گمنام مگر زندہ تحریریں"۔ آج کی گفتگو ایک نہایت اہم اور بنیادی موضوع "سچا شرک" کے بارے میں ہے۔ ہم اکثر شرک کا لفظ سنتے ہیں اور اسے صرف بت پرستی یا کسی ظاہری رسم سے جوڑ دیتے ہیں، لیکن کیا شرک کی حقیقت صرف اتنی ہی ہے؟ کیا انسان زبان سے اللہ کو واحد مانتے ہوئے بھی اپنے قول، عمل، امید، خوف یا عقیدے میں کسی اور کو اللہ کے برابر لا سکتا ہے؟ آج ہم اسی سوال پر غور کریں گے کہ توحید کا حقیقی مفہوم کیا ہے، شرک کی اصل حقیقت کیا ہے، اور ایک مسلمان کو اپنے ایمان اور عمل میں کن باتوں سے محتاط رہنا چاہیے۔ یہ گفتگو کسی فرد کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے دل اور اپنے عقیدے کا جائزہ لینے کے لیے ہے۔
Send us Fan Mail
انسان کی زندگی میں خیر اور شر کے درمیان ایک مسلسل کشمکش جاری رہتی ہے۔ اہریمن اور یزداں اسی کشمکش کی علامتی تصویر پیش کرتے ہیں—ایک طرف تاریکی، گمراہی اور برائی کی قوتیں، اور دوسری طرف روشنی، نیکی اور حق کی طرف بلانے والی قوت۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان اپنے دل اور کردار میں کس راستے کو اختیار کرتا ہے۔ ہماری زندگی کے فیصلے ہی یہ طے کرتے ہیں کہ ہم اپنے اندر کی روشنی کو مضبوط کرتے ہیں یا تاریکی کو جگہ دیتے ہیں۔ اسی اندرونی جنگ اور انسان کے انتخاب پر آج کی یہ گفتگو ایک فکری سفر ہے۔
Send us Fan Mail
خواتین و حضرات، اجنبی تہذیبوں کی چکا چوند میں ہم اکثر اپنے اصل اثاثے بھولتے جا رہے ہیں۔ اج ہم بات کریں گے ایک ایسے موضوع پر جو ہمارے دین کی روح اور ہمارے معاشرے کی ڈھال ہے۔ ایک ایسی چیز، جس کے بارے میں کہا گیا کہ غیرت ہے بڑی چیز۔
اسلام میں حیا صرف ایک صفت نہیں، بلکہ ایمان کا حصہ ہے جو انسان کو پاکیزگی سکھاتی ہے۔ اور غیرت؟ غیرت وہ بیداری ہے جو ہمارے رشتوں، ہماری اقدار اور ہماری عزت و ناموس کی حفاظت کرتی ہے۔ جب کسی معاشرے سے حیا چلی جائے تو اخلاق مر جاتا ہے، اور جب غیرت ختم ہو جائے تو معاشرہ مٹ جاتا ہے۔"
Send us Fan Mail
توحید قرآن کا بنیادی پیغام ہے۔ قرآن انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ پوری کائنات کا خالق، مالک، رازق اور حقیقی حاکم صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس جیسا کوئی ہے اور نہ عبادت کے لائق کوئی اور۔ قرآن کی توحید صرف زبان سے یہ کہنے کا نام نہیں کہ اللہ ایک ہے؛ بلکہ یہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے—دل کا یقین، عقل کی پہچان، عبادت کی سمت اور زندگی کے ہر فیصلے میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرنا۔ جب انسان حقیقی توحید کو سمجھ لیتا ہے تو اس کا تعلق دنیا، انسانوں اور خود اپنی ذات سے بھی ایک نئے شعور کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ آج ہم قرآن کی روشنی میں یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ سچی توحید کیا ہے، قرآن اسے کس انداز میں بیان کرتا ہے، اور ایک انسان کی زندگی میں اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
Send us Fan Mail
انسان گناہ کو اکثر ایک چھوٹی سی لغزش سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے، لیکن گناہ صرف ہمارے اعمال کو نہیں، ہمارے دل اور ہماری روح کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جب انسان بار بار گناہ کی طرف بڑھتا ہے تو دل کی حساسیت کم ہونے لگتی ہے، نیکی مشکل اور گناہ معمول محسوس ہونے لگتا ہے۔ کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے کہ انسان اپنے ہی دل کی آواز سننا چھوڑ دیتا ہے۔ گناہ: جب دل ہی اپنا نہ رہے اسی خاموش تبدیلی کی داستان ہے—ایک ایسی کیفیت جس میں انسان بظاہر اپنی زندگی گزار رہا ہوتا ہے، مگر اندر سے اپنے رب سے دور ہوتا جاتا ہے۔ لیکن ہر اندھیرے کے بعد روشنی کا راستہ موجود ہے، اور سچی توبہ انسان کے دل کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔
Send us Fan Mail
علامہ اقبال کی نظم “حضورِ رسالت مآبؐ میں” طرابلس کی جنگ کے پس منظر میں لکھی گئی وہ صدائے دل ہے جس میں امتِ مسلمہ کے زخم، بے بسی اور عزتِ نفس کی ٹوٹی ہوئی حالت صاف جھلکتی ہے۔ اقبالؒ اس نظم میں اس سوز کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں کہ ایک طرف مسلمان دشمن کے ظلم و ستم میں پس رہے ہیں اور دوسری طرف امت کے دلوں سے ایمان کی حرارت اور عمل کی قوت کمزور ہو چکی ہے۔ نظم کا مرکزی احساس یہی ہے کہ طرابلس کے مجاہدین کا خون ہمیں جگانے آیا ہے، اور اب امت کو پھر اسی عشقِ رسول ﷺ، جرأتِ ایمانی اور روحِ محمدیؐ کی طرف لوٹنا ہوگا جو کبھی مسلمانوں کی پہچان، قوت اور قیادت تھی۔
Send us Fan Mail
علامہ اقبال کی نظم "نصیحت" ایک طنزیہ مگر فکری آئینہ ہے جو موجودہ دور کی قیادت، مذہب، صحافت اور ادبی دنیا کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس نظم میں اقبال نہایت فصاحت سے ان افراد پر تنقید کرتے ہیں جو دین، دانش اور قیادت کے دعوے تو کرتے ہیں، مگر اندر سے اقتدار، شہرت اور مفاد پرستی کے اسیر ہوتے ہیں۔ اقبال ہر شعر میں معاشرتی، فکری اور روحانی زوال کی کسی نہ کسی صورت کو نمایاں کرتے ہیں — کبھی میڈیا کی غلامی، کبھی رسمی عبادت، کبھی دین کے پردے میں دنیا کمانے کا فریب، اور کبھی علم و ادب کو سچ کے بجائے مفاد کے لیے استعمال کرنا۔ نظم کا اختتامی فارسی شعر پوری نظم کو ایک روحانی اونچائی پر پہنچاتا ہے: "اگرچہ موت مقدر ہے، مگر جب تک زندہ ہو، اپنی آواز بلند کرو۔" گویا "نصیحت" صرف تنقید نہیں، بلکہ دعوتِ بیداری اور تجدیدِ کردار ہے۔
Send us Fan Mail
علامہ اقبال کی نظم "گدائی" ایک انقلابی اور فکری نظم ہے جو ظاہری حکومت، بادشاہی اور امارت کے پسِ پردہ چھپی ہوئی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس نظم میں اقبال نے حکمرانوں کی شان و شوکت کو ایک فریب قرار دیا ہے، جو درحقیقت عوام کی محنت، قربانی اور خون سے تعمیر ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص دوسروں پر انحصار کرتا ہے، چاہے وہ صدقہ مانگے یا ٹیکس، وہ دراصل ایک فقیر ہے — اور یہی حال حکمرانوں کا بھی ہے۔ اقبال کی یہ نظم صرف سماجی تنقید نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے کہ عزت، اختیار اور عظمت کا اصل معیار خودی، خودداری اور خدمتِ خلق ہے، نہ کہ ظاہری تاج و تخت۔
Send us Fan Mail
From the publisher's feed
I am a person whose heart still beats to the rhythm of his childhood, where memories of simpler days are forever alive. Every story I tell is a piece of my past—a glimpse into the moments that…