
Sign up to save your podcasts
Or


آپ کا کہنا ہے کہ آپ نصف انسانیت ہیں ۔ بھلا اس سے کون انکار کرسکتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے یہ بات بھی تسلیم کہ آپ کے وجود سے دنیا کی رنگینیاں قائم ہیں ۔ یہ بازاروں کی رونقیں آنکھوں کے سامنے نظر آنے والی حقیقت ہے ان بازاروں میں رنگ برنگی تتلیوں کی طرح آپ ہی آپ پھرتی نظر آتی ہیں اور اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں ۔ اگر آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ دنیا کی تعمیر و ترقی میں آپ برابر کی شریک ہیں تو یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے ۔ماضی کی بات نہیں ہے حال کی بات کیجئے ۔اس حال کی بات جس میں آپ سانس لے رہی ہیں اور اس بات پر آپ نازاں ہیں کہ ہر قید و بند سے جانور آزاد ہوتاہے ۔انسان چند اخلاقی قیود کا پابند ہوتا ہے کیونکہ انسانی فطرت بے لگام آزادی کو پسند نہیں کرتی ۔ آپ نے فطرت کو بدل دیا ۔آپ خوش ہیں کہ آپ آزاد ہیں۔ آپ کا کوئی واحد ٹھکانے میں قید نہیں ہیں ۔جب کہ جانور بھی اپنا ایک گھر بناتا ہے، گھر بساتا ہے، بچوں کو پالتااور پوستا ہے…. اور آپ نے گھر بچوں کو اپنے پیروں کی بیڑیاں سمجھ کر اپنے ہی آشیانہ کو آگ لگا دی ۔ ان شعلوں کو دیکھ کر خوش ہیں کہ آپ نے ماحول کو روشن کردیا… اس روشنی نے آپ کی آنکھوں کو چکا چوند کردیا ۔ جس کی وجہ سے آپ دیکھ نہیں پارہی ہیں کہ آپ کا کیا کچھ اس آگ میں جل رہا ہے ۔ آپ کی نسوانیت جل رہی ہے آپ کا وقار جل رہا ہے آپ کی ممتا جل رہی ہے آپ کی پہچان جل رہی ہے آپ کی شخصیت جل رہی ہے… بلکہ آپ کا ذہن ماؤف ہوگیا ہے، آپ بھول گئیں کہ آپ کیا ہیں… میں یاد دلاؤں کہ آپ کیا ہیں ۔ نعیم صدیقی کے اشعار کی روشنی میں سن لیں کہ آپ کیا ہیں
By Haadiya e-Magazineآپ کا کہنا ہے کہ آپ نصف انسانیت ہیں ۔ بھلا اس سے کون انکار کرسکتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے یہ بات بھی تسلیم کہ آپ کے وجود سے دنیا کی رنگینیاں قائم ہیں ۔ یہ بازاروں کی رونقیں آنکھوں کے سامنے نظر آنے والی حقیقت ہے ان بازاروں میں رنگ برنگی تتلیوں کی طرح آپ ہی آپ پھرتی نظر آتی ہیں اور اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں ۔ اگر آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ دنیا کی تعمیر و ترقی میں آپ برابر کی شریک ہیں تو یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے ۔ماضی کی بات نہیں ہے حال کی بات کیجئے ۔اس حال کی بات جس میں آپ سانس لے رہی ہیں اور اس بات پر آپ نازاں ہیں کہ ہر قید و بند سے جانور آزاد ہوتاہے ۔انسان چند اخلاقی قیود کا پابند ہوتا ہے کیونکہ انسانی فطرت بے لگام آزادی کو پسند نہیں کرتی ۔ آپ نے فطرت کو بدل دیا ۔آپ خوش ہیں کہ آپ آزاد ہیں۔ آپ کا کوئی واحد ٹھکانے میں قید نہیں ہیں ۔جب کہ جانور بھی اپنا ایک گھر بناتا ہے، گھر بساتا ہے، بچوں کو پالتااور پوستا ہے…. اور آپ نے گھر بچوں کو اپنے پیروں کی بیڑیاں سمجھ کر اپنے ہی آشیانہ کو آگ لگا دی ۔ ان شعلوں کو دیکھ کر خوش ہیں کہ آپ نے ماحول کو روشن کردیا… اس روشنی نے آپ کی آنکھوں کو چکا چوند کردیا ۔ جس کی وجہ سے آپ دیکھ نہیں پارہی ہیں کہ آپ کا کیا کچھ اس آگ میں جل رہا ہے ۔ آپ کی نسوانیت جل رہی ہے آپ کا وقار جل رہا ہے آپ کی ممتا جل رہی ہے آپ کی پہچان جل رہی ہے آپ کی شخصیت جل رہی ہے… بلکہ آپ کا ذہن ماؤف ہوگیا ہے، آپ بھول گئیں کہ آپ کیا ہیں… میں یاد دلاؤں کہ آپ کیا ہیں ۔ نعیم صدیقی کے اشعار کی روشنی میں سن لیں کہ آپ کیا ہیں