
Sign up to save your podcasts
Or


بعض دفعہ مجھے یہ معمولی سی بات سمجھ میں نہیں آتی اور ایک معمہ بن جاتی ہے کہ آخر یہ غریب امیروں کی اس قدر عزت کیوں کرتے ہیں کہ اُن کے راستے پر اپنی پلکیں بچھا دیتے ہیں، اُن کی خدمت میں ایسے کمربستہ ہوجاتے ہیں جیسا کہ غلام اپنے آقا کا حکم بجالانے کے لیے کمربستہ ہوجایا کرتے ہیں۔ بظاہر اُن امیروں سےنہ اُن کا کوئی مفاد وابستہ ہوتا ہے نہ مستقبل میں اُن سے کوئی فائدہ کی امید ہوتی ہے۔ جب کہ امیر اُن کی جانب ایک نظر ڈالنا بھی کسرِ شان سمجھتے ہیں اور غریب سمجھتے ہیں کہ وہ امیروں کی خدمت کے لیے ہی پیدا کیے گئے ہیں۔ اُن کی زندگی کا مقصد ہی جیسے امیروں کی خدمت ہو۔ آخر انسان اپنے آپ کو ذلت کے اِس مقام تک کیوں پہنچا دیتا ہے۔ معاشی حالت خراب ہونے کی وجہ سے یہ بھی تونہیں کہ وہ حقیر و کمزور ہوگیا ہو۔ دولت عزت و ذلت کا معیار تونہیں ہے کہ جب انسان دولت سے محروم ہوا ہو تو اپنے آپ کو کمتر سمجھنے لگے اور دولت پاکر انسان اپنے آپ کو برتر و اعلیٰ سمجھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرمادیا ہے کہ:
By Haadiya e-Magazineبعض دفعہ مجھے یہ معمولی سی بات سمجھ میں نہیں آتی اور ایک معمہ بن جاتی ہے کہ آخر یہ غریب امیروں کی اس قدر عزت کیوں کرتے ہیں کہ اُن کے راستے پر اپنی پلکیں بچھا دیتے ہیں، اُن کی خدمت میں ایسے کمربستہ ہوجاتے ہیں جیسا کہ غلام اپنے آقا کا حکم بجالانے کے لیے کمربستہ ہوجایا کرتے ہیں۔ بظاہر اُن امیروں سےنہ اُن کا کوئی مفاد وابستہ ہوتا ہے نہ مستقبل میں اُن سے کوئی فائدہ کی امید ہوتی ہے۔ جب کہ امیر اُن کی جانب ایک نظر ڈالنا بھی کسرِ شان سمجھتے ہیں اور غریب سمجھتے ہیں کہ وہ امیروں کی خدمت کے لیے ہی پیدا کیے گئے ہیں۔ اُن کی زندگی کا مقصد ہی جیسے امیروں کی خدمت ہو۔ آخر انسان اپنے آپ کو ذلت کے اِس مقام تک کیوں پہنچا دیتا ہے۔ معاشی حالت خراب ہونے کی وجہ سے یہ بھی تونہیں کہ وہ حقیر و کمزور ہوگیا ہو۔ دولت عزت و ذلت کا معیار تونہیں ہے کہ جب انسان دولت سے محروم ہوا ہو تو اپنے آپ کو کمتر سمجھنے لگے اور دولت پاکر انسان اپنے آپ کو برتر و اعلیٰ سمجھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرمادیا ہے کہ: