’اَ‘‘ استفہام ہے یعنی سوال کیا جا رہا ہے۔’’اَرَءَ یْتَ‘‘ کااسلوب کسی کی طرف تعجب اور نفرت کے ساتھ متوجہ کرنے کے لیے آتا ہے۔
آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے، لیکن حقیقت میں یہ خطاب ہر اس آدمی سے ہے جو عقل رکھتا ہے اور جس کے اندر نصیحت قبول کرنے کی صلاحیت ہے، اور یہاں دیکھنے سے مراد آنکھوں سے دیکھنا بھی ہے اور جاننا،سمجھنا اور غور کرنا بھی ہے ۔
لفظ ’’دِیْن‘‘ یہاں جزاء و سزا کے معنی میں ہے، جس طرح ’’مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ‘‘ (الفاتحہ) میں ہے۔ ’’الدین ‘‘کے معنی جزا ءاور سزا بھی ہیں اور وہ نظام زندگی بھی جس کو اسلام کہتے ہیں ۔ یہاں دونوں مراد ہو سکتے ہیں ۔ تعجب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ تم نے دیکھا ہے اس شخص کو جو دین کو جھٹلاتا ہے، یا نفرت کے اظہار کے لیے کہا جا رہا ہے کہ تم نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے ؟مراد اس سے یہ ہے کہ جب تم اسے دیکھوگے تو تمھیں معلوم ہوگا کہ اسلام بطور نظام زندگی کا انکار یا آخرت کا انکار انسان کے اندر کیسے برے اخلاق پیدا کرتا ہے ۔
آیت کے شروع میں’’ فا‘‘ کا لفظ یہ بتلاتا ہے کہ یہ جملہ جزائیہ ہے اور اس سے پہلے جملہ شرطیہ محذوف ہے۔ اصل میں’’ فذالک الذی‘‘ فرمایا گیا ہے، اس فقرے میں ’’ف‘‘ ایک پورے جملے کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں :’’اگر تم نہیں جانتے تو تمھیں معلوم ہو کہ وہی تو ہے جو …‘‘ یا پھر یہ اس معنی میں ہے:’’ اپنے اسی انکار آخرت کی وجہ سے وہ ایسا شخص ہے جو…‘‘ ’’ذا ‘‘کا لفظ اسم اشارہ ہے ،جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لیے آتا ہے ۔
(دع ) الدع کے معنی سختی کے ساتھ دھکا دینے کے ہیں، اصل میں یہ کلمہ ٔزجر ہے ۔
(ی ت م) الیتیم کے معنی نابالغ بچہ کے شفقت پدری سے محروم ہو جانے کے ہیں۔انسان کے علاوہ دیگر حیوانات میں یتیم کا اعتبار ماں کی طرف سے ہوتا ہے اور جانور کے چھوٹے بچے کو بن ماں کے رہ جانے کو یتیم کہتے ہیں ۔
اصل میں’’ یدع الیتیم‘‘ کا فقرہ استعمال ہوا ہے جس کےکئی معنی ہیں ۔ ایک یہ وہ یتیم کا حق مار کر کھاتا ہے اور اس کے باپ کی چھوڑی ہوئی میراث سے بے دخل کر کے اسے دھکے مار کر نکال دیتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ یتیم اس سے مدد مانگنے آتا ہے، تو رحم کھانے کے بجائے اسے دھتکار دیتا ہے ،اور اگر اس کا بس چلے تو وہ یتیم پر ظلم ڈھانے سے بھی باز نہیں آتا ،اور اس کی سنگ دلی کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اسے اس بات کا کوئی کھٹکا نہیں کہ قیامت آئے گی اور اسے اپنے مظالم اور ان حرکتوں کا جواب دینا پڑےگا ۔ اس سلسلے میں قاضی ابوالحسن ماوری نے اپنی کتاب :’’اعلام النبوۃ‘‘ میں ایک عجیب واقعہ لکھا ہے کہ ابو جہل ایک یتیم کا وصی تھا ۔وہ بچہ ایک روز اس حالت میں اس کے پاس آیا کہ اس کے بدن پر کپڑے تک نہ تھے اور اس نے التجا کی کہ اس کے باپ کے چھوڑے ہوئے مال میں سے وہ اسے کچھ دے دے، مگراس ظالم نے اس کی طرف توجہ نہ کی اور وہ کھڑے کھڑے مایوس ہو کر پلٹ گیا ۔ قریش کے سرداروں نے ازراہ شرارت اس سے کہا کہ محمدﷺ کے پاس جا کر شکایت کر، وہ ابو جہل سے سفارش کرکے تیرا مال دلوا دیںگے ۔ بچہ بےچارہ ناواقف تھا کہ ابو جہل کا حضورﷺ سے کیا تعلق ہے ؟ اور یہ بدبخت کس غرض کے لیے اسے یہ مشورہ دے رہے ہیں ۔ وہ سیدھا حضورﷺ کے پاس پہنچا اور اپنا حال آپ سے بیان کیا ۔آپ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر اپنے بدترین دشمن کے گھر تشریف لے گئے ۔ آپ کو دیکھ کر اس نے آپﷺ کا استقبال کیا اور جب آپ نے فرمایا کہ اس بچے کا حق ادا کر دو تو وہ فوراً مان گیا اور اس کا مال لا کر اسے دے دیا ۔ قریش کے سردار تاک میں لگے ہوئے تھے کہ دیکھیں کہ دونوں کے درمیان کیا معاملہ پیش آتا ہے ۔ وہ کسی مزید جھڑپ کی امید کر رہے تھے، مگر جب انھوں نے یہ معاملہ دیکھا تو حیران ہو کر ابو جہل کے پاس آئے اور اسے طعنہ دیا کہ تم بھی اپنا دین چھوڑ گئے ۔ اس نے کہا :’’خدا کی قسم! میں نے اپنا دین نہیں چھوڑا ، مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ محمد(ﷺ) کے دائیں اور بائیں ایک ایک حربہ ہے ،جو میرے اندر گھس جائے گا ،اگر میں نے ذرا بھی ان کی مرضی کے خلاف حرکت کی ۔‘‘