Haadiya e-Magazine

النور درس قرآن ساجدہ منور فلاحی


Listen Later

انسانی زندگی میں قدم قدم پر آزمائش ومصائب ہیں ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی دشمن کے ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و مصائب سے اور کبھی نت نئے فتنوں سے آزماتا ہے اور راہِ دین اور تبلیغِ دین تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اسی سے فرمانبردار و نافرمان، محبت میں سچے اور محبت کے صرف دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا آگ میں ڈالا جانا، فرزند کو قربان کرنا، حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کو بیماری میں مبتلا کیا جانا ،ان کی اولاد اور اموال کو ختم کر دیا جانا، حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا ستایا جانا اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا شہید کیا جانا ؛یہ سب آزمائشوں اور صبر ہی کی مثالیں ہیں اور ان مقدس ہستیوں کی آزمائشیں اور صبر ہر مسلمان کے لیے ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں ۔لہٰذا ہر مسلمان کوچاہیے کہ اسے جب بھی کوئی مصیبت آئے اوروہ کسی تکلیف یا اذیت میں مبتلا ہو تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے ۔
مفتی امجد علی اعظمی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
’’بہت موٹی سی بات ہے، جو ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہی غافل ہو مگر جب( اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ کسی مصیبت اور) مرض میں مبتلا ہوتا ہے ،تو کس قدر خداکو یاد کرتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے اور یہ تو بڑے رتبہ والوں کی شان ہے کہ وہ تکلیف کا بھی اسی طرح استقبال کرتے ہیں جیسے راحت کا(استقبال کرتے ہیں ) مگر ہم جیسے کم سے کم اتنا تو کریں کہ (جب کوئی مصیبت یا تکلیف آئے تو )صبر و استقلال سے کام لیں اور جزع و فزع (یعنی رونا پیٹنا) کرکے آتے ہوئے ثواب کو ہاتھ سے نہ جانےدیں اور اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ آمدشدہ مصیبت بے صبری سے ٹلنے والی نہیں ۔‘‘
چونکہ انسان کو اس زندگی میں مختلف پریشانیوں اور مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے، وہ ان مصائب کو کیسے برداشت کرے اور کس طرح ان مسائل سے چھٹکارے اور نجات کی راہ اپنائے؟ان مصائب کو برداشت کرنے اور ان کو آسان تربنانے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ مومن کے لیے ہر وقت یہ تصور پیشِ نظر رہے کہ یہ دنیادار الامتحان ہے، یہ دائمی گھر نہیں ہے، یہ عمل کی جگہ ہے اور آخرت دارالجزاء ہے، وہاں بدلہ ملے گا۔مزدور صبح سے شام تک محنت و مشقت، کسان کاشتکاری کر کے تمام تکالیف، سردی کی شدت،دھوپ کی حدت اور عمل کی محنت اس لیے برداشت کرتا ہے کہ مزدور کو شام ڈھلنے پر اجرت کی امید اور کسان کو کٹائی کے وقت پھل کی توقع ہوتی ہے۔مومن بھی دین پر عمل کی راہ میں مصائب کی بھٹیوں میں اپنے آپ کو اس لیے جلاتا ہے کہ اسے گناہوں کے میل کچیل سے پاک صاف ہوکر دخول جنت کی توقع ہوتی ہے، آخرت کے آرام وراحت اور وہاں کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کے مصائب، بلکہ یہاں کی اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کی نعمت بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

...more
View all episodesView all episodes
Download on the App Store

Haadiya e-MagazineBy Haadiya e-Magazine