
Sign up to save your podcasts
Or


آج مسلمان کی زندگی کا مقصد، خوشنودیِ اللہ سے ہٹ کر ’’خوشنودیِ سماج‘‘ ہوگیا ہے۔ اگر ہم اپنے آس پاس نگاہ دوڑائیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر کوئی سماج میں، اپنی ایک پہچان اور اعلیٰ اسٹیٹس بنانے میں مصروف ہے، اور اس اسٹیٹس کو حاصل کرنے کےلیےجو راستہ وہ اپناتا ہے، اس میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ وہ راستہ حرام ہے یا حلال، پھر گناہوں کا دروازہ کھل جاتا ہے، جس کی وجہ سے فساد اور بدحالی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ اسلام میں ریا کاری اور دکھاواکی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اس لیے جب ایک مسلمان کوئی بھی کام کرتا ہے تو وہ لوگوں سے اپنی تعریف سننے یا لوگوں میں اپنی ساکھ قائم کرنے کے لیے نہیں کرتا، نہ ہی اسے اس بات کی فکر رہتی ہے کہ اس کے اس عمل سے لوگ کتنا متاثر ہوں گے یا لوگ کیا کہیںگے؟ بلکہ اس کے کسی بھی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی واحد وجہ اللہ کا حکم ماننا اور اس کی رضا حاصل کرنا ہوتی ہے۔
By Haadiya e-Magazineآج مسلمان کی زندگی کا مقصد، خوشنودیِ اللہ سے ہٹ کر ’’خوشنودیِ سماج‘‘ ہوگیا ہے۔ اگر ہم اپنے آس پاس نگاہ دوڑائیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر کوئی سماج میں، اپنی ایک پہچان اور اعلیٰ اسٹیٹس بنانے میں مصروف ہے، اور اس اسٹیٹس کو حاصل کرنے کےلیےجو راستہ وہ اپناتا ہے، اس میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ وہ راستہ حرام ہے یا حلال، پھر گناہوں کا دروازہ کھل جاتا ہے، جس کی وجہ سے فساد اور بدحالی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ اسلام میں ریا کاری اور دکھاواکی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اس لیے جب ایک مسلمان کوئی بھی کام کرتا ہے تو وہ لوگوں سے اپنی تعریف سننے یا لوگوں میں اپنی ساکھ قائم کرنے کے لیے نہیں کرتا، نہ ہی اسے اس بات کی فکر رہتی ہے کہ اس کے اس عمل سے لوگ کتنا متاثر ہوں گے یا لوگ کیا کہیںگے؟ بلکہ اس کے کسی بھی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی واحد وجہ اللہ کا حکم ماننا اور اس کی رضا حاصل کرنا ہوتی ہے۔