Haadiya e-Magazine

لوگ کیا کہیں گے؟ تسنیم فاطمہ


Listen Later

آج مسلمان کی زندگی کا مقصد، خوشنودیِ اللہ سے ہٹ کر ’’خوشنودیِ سماج‘‘ ہوگیا ہے۔ اگر ہم اپنے آس پاس نگاہ دوڑائیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر کوئی سماج میں، اپنی ایک پہچان اور اعلیٰ اسٹیٹس بنانے میں مصروف ہے، اور اس اسٹیٹس کو حاصل کرنے کےلیےجو راستہ وہ اپناتا ہے، اس میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ وہ راستہ حرام ہے یا حلال، پھر گناہوں کا دروازہ کھل جاتا ہے، جس کی وجہ سے فساد اور بدحالی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ اسلام میں ریا کاری اور دکھاواکی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اس لیے جب ایک مسلمان کوئی بھی کام کرتا ہے تو وہ لوگوں سے اپنی تعریف سننے یا لوگوں میں اپنی ساکھ قائم کرنے کے لیے نہیں کرتا، نہ ہی اسے اس بات کی فکر رہتی ہے کہ اس کے اس عمل سے لوگ کتنا متاثر ہوں گے یا لوگ کیا کہیںگے؟ بلکہ اس کے کسی بھی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی واحد وجہ اللہ کا حکم ماننا اور اس کی رضا حاصل کرنا ہوتی ہے۔

آج مسلمان اس کبھی نہ ختم ہونے والی ریس میں اتنا گم ہوگیا ہے کہ وہ سماج میں اپنا نام اور جگہ بنانے کےلیےگناہ کبیرہ کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتا، اور اس طرح وہ اللہ اور دین سے دور ،بس نام کا مسلمان رہ جاتا ہے۔ ایسی کئی مثالیں ہیں جہاں یہ بات معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ فلاں عمل کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں اور یہ حرام کام ہے، اس کام کو مسلمانوں نے کیا ہے۔صرف اپنی دنیوی ساکھ کو بچانے اور قائم رکھنے کے لیے ہر طرح کے گناہ کے کام کیے ہیں۔ خاص کر شادی بیاہ کے موقعوں پر ،اسلام اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ سادگی کو اپنایا جائے، فضول خرچی اور دکھاوے سے پرہیز کیا جائے، لیکن آج جس طرح کی شادیاں مسلمان کرتے ہیں، بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ احکام الہی کے خلاف جاکر، اللہ کی نافرمانی اور اس کی ناراضگی کا باعث بنتی ہیں۔

...more
View all episodesView all episodes
Download on the App Store

Haadiya e-MagazineBy Haadiya e-Magazine