
Sign up to save your podcasts
Or


https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/02/manank-masnui-zehaanat-mkaudio.mp3
Recitation
مصنوعی زہانت – منن کمار
۱
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۲
جب بےبس یہ عالم ہوگا
نہ شاعر ہونگے بستی میں
نہ بزم کا ہوگا نام و نشاں
نہ محبوبہ نہ سرگوشی
ہر سو ہوگی بس خاموشی
۳
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۴
نہ چٹخارے نہ جیکارے
نہ ٹھٹّھے ہی نہ کوئی نعرے
نہ رونق بھرے بازاروں کی
نہ ٹھیلے کوئی پکوانوں کے
نہ میلے کھیل کھلونوں کے
نہ محفل چھیل چھبیلوں کی
۵
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۶
نہ ہوگی گندم نہ سرسوں ہی
نہ پینگیں باغ بہاروں کی
نہ ہوگی پسینے کی خوشبو
نہ دہقاں کی نہ گیسو کی
نہ اُپلوں کی نہ ہنڈیا کی
۷
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۸
محل کہیں کچھ تو ہونگے
بستی کی پہنچ سے دور بہت
کمخاب لباسوں میں لپٹے
خود کار مشینوں میں غافل
بے ذوق ہنسی میں لتھڑے ہوئے
کچھ بے حِس ہونگے مستی میں
۹
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۱۰
بستی بستی ماتم ماتم
بھیگی سی صدائیں گونجیں گیں
جہاں آدم اور حوّا کے جنے
ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے
غمگین ترانے لکّھیں گے
۱۱
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۱۲
وہ دنیا ایسی کیوں ہوگی
کیا تُم نے کبھی کچھ سوچا ہے
۱۳
مصنوعی ذہانت ہر سو ہوگی
انساں کی ترقی کے بل پر
قابض ہوگی وہ ہر شے پر
انسان کی بولی بولےگی
بےخوف وہ دھرتی گھومےگی
جب چاہے گی نازل ہوگی
۱۴
سلطنتِ رُوما کی طرح
آزاد سوچ کے باغی کو
تخلیق کے عمدہ نمونوں کو
وہ جانچیگی اور پرکھے گی
پھر بستی سے باہر لاکر
بیڑی باندھے لے جاےگی
جو بھی سرمایہ باقی ہے
اس کی تجارت کرنے کو
۱۵
کیا چاہتے ہو کہ ایسا ہو
جو نہ چاہو تو اس کے لئے
۱۶
اک ساتھ اٹھو مٹھی باندھے
یکلخت اٹھو سینہ تانے
ہر ایک ادارے میں جا کر
مضبوط یہ اپنی بزم کرو
مصنوعی زہانت کو لے کر
اعلانِ مسلسل جہد کرو
۱۷
کہہ دو کے ترقّی ممکن ہے
اس بات سے کچھ انکار نہیں
پر قیمت کیا ہوگی اِس کی
طے کرنا بھی تو لازم ہے
۱۸
جس گام پے تم آ پہنچے ہو
تہذیب کے دم پر آیا ہے
اور اس سارے سرمائے میں
صدیوں کی ثقافت شامل ہے
مزدور کی انتھک محنت کا
اجداد کا حصّہ شامل ہے
کیا اس سچ سے ناواقف ہو
منن کمار (پیدائش: ۱۹۶۷)، دہلی۔ وہ ایک آزاد صحافی ہیں۔ اپنے والد کی وجہ سے، جو کہ ایک ٹریڈ یونینسٹ اور صحافی تھے، منن کمار چھوٹی عمر میں ہی ترقی پسند شاعری میں دلچسپی لینے لگے۔ ان کے والد اکثر فیض، ساحر، مخدوم اور غالب کا کلام سنایا کرتے تھے۔ منن نے شاعری سے محبت اور سرمایہ دارانہ و صارفیت پسند معاشرے (capitalist and consumerist society) کے خلاف اپنے اندر دبے غصے کے اظہار کی خاطر اُردو سیکھی۔ اس نظم میں وہ مصنوعی ذہانت (AI) سے پیدا ہونے والے خوف اور انسانیت پر اس کے ممکنہ قبضے کے بارے میں بڑی فصاحت سے اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔
۱
وہ دنیا اب اور دور نہیں
وہ مستقبل جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں، اب بہت قریب آ چکا ہے۔
۲
جب بےبس یہ عالم ہوگا
نہ شاعر ہونگے بستی میں
نہ بزم کا ہوگا نام و نشاں
نہ محبوبہ نہ سرگوشی
ہر سُو ہوگی بس خاموشی
ایک ایسا وقت آئے گا جب انسانی جذبات اور محفلیں ختم ہو جائیں گی۔ نہ کوئی شاعری کرنے والا ہوگا اور نہ ہی انسانی تعلقات کی وہ گرمجوشی باقی رہے گی۔ ہر طرف ایک مشینی سناٹا ہوگا۔ اِس بدلتے ہوئے عالم کے آگے دنیا بے بس ہوگی۔
۳
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۴
نہ چٹخارے نہ جے کارے
نہ ٹھٹّھے ہی نہ کوئی نعرے
نہ رونق بھرے بازاروں کی
نہ ٹھیلے کوئی پکوانوں کے
نہ میلے کھیل کھلونوں کے
نہ محفل چھیل چھبیلوں کی
ہماری زندگی کی رونقیں، جیسے بھرے بازاروں کی چہل پہل، ٹھیلوں سے کھانے کی لذّت اور چٹخارے، قہقہے اور خوشی کے نعرے، گاؤں کے میلے اور کھلونے، بے فکر نوجوانی کی کھیل، سب مٹ جائیں گے۔ زندگی کی وہ زندہ دلی جو انسانی میل جول سے تھی، ختم ہو جائے گی۔
۵
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۶
نہ ہوگی گندم نہ سرسوں ہی
نہ پینگیں باغ بہاروں کی
نہ ہوگی پسینے کی خوشبو
نہ دہقاں کی نہ گیسو کی
نہ اُپلوں کی نہ ہنڈیا کی
قدرتی اور دیہاتی زندگی کی خوبصورتی ختم ہو جائے گی۔ نہ کھیت ہوں گے، نہ محنت کی خوشبو، نہ شرم سے بھیگے بالوں کی، اور نہ ہی وہ روایتی گھرانے جہاں مٹی کے چولہوں پر کھانا پکتا تھا۔
۷
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۸
محل کہیں کچھ تو ہونگے
بستی کی پہنچ سے دور بہت
کمخاب لباسوں میں لپٹے
خود کار مشینوں میں غافل
بے ذوق ہنسی میں لتھڑے ہوئے
کچھ بے حِس ہونگے مستی میں
امیر اور طاقتور لوگ بستیوں سے دور محلوں میں مشینوں کے سہارے ایک بے حِس زندگی گزاریں گے۔ ان کی ہنسی کھوکھلی ہوگی اور وہ انسانی دکھوں سے بے خبر اپنی ہی مصنوعی دنیا میں مگن ہوں گے۔
۹
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۱۰
بستی بستی ماتم ماتم
بھیگی سی صدائیں گونجیں گیں
جہاں آدم اور حوّا کے جنے
ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے
غمگین ترانے لکّھیں گے
عام بستیوں میں صرف اداسی اور رونے کی آوازیں ہوں گی۔ آدم و حوّا کی اولاد اپنے گزرے ہوئے اچھے وقتوں کو یاد کر کے غمگین گیت لکھے گی۔
۱۱
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۱۲
وہ دنیا ایسی کیوں ہوگی
کیا تُم نے کبھی کچھ سوچا ہے
شاعر سوال کرتا ہے کہ آخر دنیا اتنی بے روح اور سرد کیوں ہو جائے گی؟ کیا کبھی ہم نے اس کی وجہ پر غور کیا ہے؟
۱۳
مصنوعی ذہانت ہر سُو ہوگی
اِنساں کی ترقّی کے بل پر
قابض ہوگی وہ ہر شے پر
انسان کی بولی بولےگی
بےخوف وہ دھرتی گھومےگی
جب چاہے گی نازل ہوگی
اس سب کی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) ہے۔ یہ آِٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓنسانوں ہی کی ترقّی کا نتیجہ ہے لیکن اب یہ ہر چیز پر قبضہ کر لے گی اور انسانوں کی طرح بات کرتے ہوئے پوری زمین پر راج کرے گی۔
۱۴
سلطنتِ رُوما کی طرح
آزاد سوچ کے باغی کو
تخلیق کے عمدہ نمونوں کو
وہ جانچیگی اور پرکھے گی
پھر بستی سے باہر لاکر
بیڑی باندھے لے جاےگی
جو بھی سرمایہ باقی ہے
اس کی تجارت کرنے کو
قدیم رومی سلطنت کی طرح، مصنوعی ذہانت آزاد خیال لوگوں اور فنکاروں پر پہرے بٹھائے گی، ان کی تخلیقات کو پرکھے گی اور پھر انسانیت کے مشرترکہ سرمائے کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے گی۔
۱۵
کیا چاہتے ہو کہ ایسا ہو
جو نہ چاہو تو اس کے لئے
کیا ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ایسا مستقبل آئے؟ اگر نہیں، تو ہمیں بچاؤ کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔
۱۶
اک ساتھ اُٹھو مُٹّھی باندھے
یکلخت اٹھو سینہ تانے
ہر ایک ادارے میں جا کر
مضبوط یہ اپنی بزم کرو
مصنوعی زہانت کو لے کر
اعلانِ مسلسل جہد کرو
شاعر اتحاد کی دعوت دیتا ہے کہ ہمیں مل کر اس مشینی غلبے کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور ہر ادارے میں جا کر اپنی انسانی محفلوں اور انجمنوں کو مضبوط کرنا چاہیے۔
۱۷
کہہ دو کے ترقّی ممکن ہے
اس بات سے کچھ انکار نہیں
پر قیمت کیا ہوگی اِس کی
طے کرنا بھی تو لازم ہے
ہمیں ترقی سے انکار نہیں، لیکن اس مشینی ترقی کے بدلے ہم سے کیا کچھ چھین لیا جائے گا؟ اس قیمت کا فیصلہ کرنا اب ہم پر لازم ہے۔
۱۸
جس گام پے تم آ پہنچے ہو
تہذیب کے دم پر آیا ہے
اور اس سارے سرمائے میں
صدیوں کی ثقافت شامل ہے
مزدور کی انتھک محنت کا
اجداد کا حصّہ شامل ہے
کیا اس سچ سے ناواقف ہو
یہ موجودہ ترقی صدیوں کی انسانی تہذیب اور محنت کا نچوڑ ہے۔ اس میں ہمارے بزرگوں اور مزدوروں کا خون پسینہ شامل ہے۔ کیا ہم اس حقیقت سے انجان بن سکتے ہیں؟
मसनुई ज़ेहानत – मनन कुमार
१
२
जब बेबस ये आलम होगा
ना शा’एर होंगे बस्ती में
ना बज़्म का होगा नाम-ओ-निशां
ना मेहबूबा, ना सरगोशी
हर सू होगी बस ख़ामोशी
३
वो दुनिया अब और दूर नहीं
४
ना चटख़ारे, न जयकारे
ना ठट्ठे ही, ना कोई ना’रे
ना रौनक़ भरे बाज़ारों की
ना ठेले कोई पकवानों के
ना मेले खेल खिलौनों के
ना महफ़िल छैल छबीलों की
५
वो दुनिया अब और दूर नहीं
६
ना होगी गंदुम, ना सरसों ही
ना पेंगें बाग़ बहारों की
ना होगी पसीने की ख़ुशबू
ना दहक़ां की, ना गेसू की
ना उपलों की, ना हंडिया की
७
वो दुनिया अब और दूर नहीं
८
महल कहीं कुछ तो होंगे
९
वो दुनिया अब और दूर नहीं
१०
बस्ती बस्ती मातम मातम
भीगी सी सदाएं गूंजेंगी
जहां आदम और हव्वा के जने
माज़ी का हवाला देते हुए
ग़मगीन तराने लिक्खेंगे
११
वो दुनिया अब और दूर नहीं
१२
वो दुनिया, क्यूं ऐसी होगी
क्या तुमने कभी कुछ सोचा है
१३
मसनुई ज़ेहानत हर सू होगी
इंसां की तरक़्क़ी के बल पर
क़ाबिज़ होगी वो हर शै पर
इंसान की बोली बोलेगी
बेख़ौफ़ वो धरती घूमेगी
जब चाहेगी नाज़िल होगी
१४
सल्तनत-ए-रूमा की तरह
आज़ाद सोच के बाग़ी को
तख़्लीक़ के उम्दा नमूनों को
वो जांचेगी और पकड़ेगी
फिर बस्ती से बाहर ला कर
बेड़ी बांधे ले जाएगी
जो भी सरमाया बाक़ी है
उस सबकी तिजारत करने को
१५
क्या चाहते हो, के ऐसा हो ?
जो ना चाहो तो उसके लिए
१६
यकलख़्त उठो सीना ताने
हर एक इदारे में जा कर
मज़्बूत ये अपनी बज़्म करो
मसनुई ज़ेहानत को लेकर
ए’लान-ए मुसलसल जहद करो
१७
कह दो के तरक़्क़ी मुमकिन है
इस बात से कुछ इन्कार नहीं
पर क़ीमत क्या होगी उस की
तय करना भी तो लाज़िम है
१८
जिस गाम पे तुम आ पहुंचे हो
तहज़ीब के दम पर आया है
और इस सारे सरमाए में
सदियों की सक़ाफ़त शामिल है
मज़्दूर की अनथक मेहनत का
अज्दाद का हिस्सा शामिल है
क्या इस सच से नावाकिफ़ हो?
मनन कुमार (जन्म: १९६७), दिल्ली, एक स्वतंत्र पत्रकार हैं। अपने पिता के कारण, जो एक ट्रेड यूनियनवादी (trade unionist) और पत्रकार थे, मनन कुमार कम उम्र में ही प्रगतिशील शा’एरी में रुचि लेने लगे। उनके पिता अक्सर फ़ैज़, साहिर, मख़्दूम और ग़ालिब की रचनाएँ सुनाया करते थे। मनन ने शा’एरी के प्रति अपने प्रेम और पूंजीवादी ओ उपभोक्तावादी समाज के ख़िलाफ अपने दबे ग़ुस्से को प्रकाशित करने के लिये उर्दू सीखी। यहाँ वे ‘आर्टिफ़िश्यल इंटेलिजेंस’ (AI) से उत्पन्न होने वाले डर और मानवता पर इसके संभावित नियंत्रण के बारे में बड़े जोश से अपने विचार व्यक्त कर रहे हैं।
१
वो दुनिया अब और दूर नहीं
वो भविष्य जिसका हम ज़िक्र कर रहे हैं, अब बहुत क़रीब आ चुका है।
२
जब बेबस ये आलम होगा
न शा’एर होंगे बस्ती में
न बज़्म का होगा नाम-ओ-निशां
न महबूबा न सरगोशी
हर सू होगी बस ख़ामोशी
एक ऐसा वक़्त आएगा जब इंसानी जज़्बात और महफ़िलें ख़त्म हो जाएंगी। न कोई शा’एरी करने वाला होगा और न प्यार का सरगोशियां, न ही इंसानी ताल्लुक़ात की वो गर्मजोशी बाक़ी रहेगी। हर तरफ़ एक मशीनी सन्नाटा होगा।
३
वो दुनिया अब और दूर नहीं
४
ना चटख़ारे, न जयकारे
ना ठट्ठे ही, ना कोई ना’रे
ना रौनक़ भरे बाज़ारों की
ना ठेले कोई पकवानों के
ना मेले खेल खिलौनों के
ना महफ़िल छैल छबीलों की
हमारी ज़िंदगी की रौनकें, जैसे बाज़ारों की चहल पहल, ठेले के लज़ीज़ खानौं के चटख़ारे, मेलौं की रंग रलियां, क़हक़हे और ख़ुशी के ना’रे, सब मिट जाएंगे। ज़िंदगी की वो ज़िंदादिली जो इंसानी मेल-जोल से थी, ख़त्म हो जाएगी।
५
वो दुनिया अब और दूर नहीं
६
ना होगी गंदुम, ना सरसों ही
ना पेंगें बाग़ बहारों की
ना होगी पसीने की ख़ुशबू
ना दहक़ां की, ना गेसू की
ना उपलों की, ना हंडिया की
क़ुदरती और देहाती ज़िंदगी की ख़ूबसूरती ख़त्म हो जाएगी। न खेत होंगे, न मेहनत की ख़ुशबू, और न ही वो रिवायती घराने जहां मिट्टी के चूल्हों पर खाना पकता था।
७
वो दुनिया अब और दूर नहीं
८
महल कहीं कुछ तो होंगे
अमीर और ताक़तवर लोग बस्तियों से दूर महलों में मशीनों के सहारे एक बे-हिस (insensitive) ज़िंदगी गुज़ारेंगे। उनकी हंसी खोखली होगी और वो इंसानी दुखों से बेख़बर अपनी ही मसनूई (artificial) दुनिया में मगन होंगे।
९
वो दुनिया अब और दूर नहीं
१०
बस्ती बस्ती मातम मातम
भीगी सी सदाएं गूंजेंगी
जहां आदम और हव्वा के जने
माज़ी का हवाला देते हुए
ग़मगीन तराने लिक्खेंगे
आम बस्तियों में सिर्फ़ उदासी और रोने की आवाज़ें होंगी। इंसान अपने गुज़रे हुए अच्छे वक़्तौं को याद कर के ग़मगीन गीत लिखेंगे।
११
वो दुनिया अब और दूर नहीं
१२
वो दुनिया ऐसी क्यूं होगी
क्या तुमने कभी कुछ सोचा है
शा’एर सवाल करता है के आख़िर दुनिया इतनी बे-रूह और सर्द क्यों हो जाएगी? क्या कभी हमने इसकी वजह पर ग़ौर किया है?
१३
मसनुई ज़ेहानत हर सू होगी
इंसां की तरक़्क़ी के बल पर
क़ाबिज़ होगी वो हर शै पर
इंसान की बोली बोलेगी
बेख़ौफ़ वो धरती घूमेगी
जब चाहेगी नाज़िल होगी
इस की वजह मसनूई ज़हानत (AI) है। ये इंसानों ही की तरक़्क़ी का नतीजा है लेकिन अब ये हर चीज़ पर क़ब्ज़ा कर लेगी और इंसानों की तरह बात करते हुए पूरी ज़मीन पर राज करेगी।
१४
सल्तनत-ए-रूमा की तरह
आज़ाद सोच के बाग़ी को
तख़्लीक़ के उम्दा नमूनों को
वो जांचेगी और पकड़ेगी
फिर बस्ती से बाहर ला कर
बेड़ी बांधे ले जाएगी
जो भी सरमाया बाक़ी है
उस सबकी तिजारत करने को
प्राचीन रोमन साम्राज्य की तरह, ए-आई (AI) आज़ाद ख़याल लोगों और कलाकारों पर पहरे बिठाएगी, उनकी रचनाओं को परखेगी और फिर इंसानियत के सांस्कृतिक सरमाए (heritage) को अपने फ़ाएदे के लिये इस्तेमाल करेगी।
१५
क्या चाहते हो के ऐसा हो
जो न चाहो तो इस के लिए
क्या हम वाक़’ई चाहते हैं के ऐसा भविष्य आए? अगर नहीं, तो हमें बचाव के लिए कुछ करना होगा।
१६
एक साथ उठो मुठ्ठी बांधे
यकलख़्त उठो सीना ताने
हर एक इदारे में जा कर
मज़्बूत ये अपनी बज़्म करो
मसनुई ज़ेहानत को लेकर
ए’लान-ए मुसलसल जहद करो
शा’एर एकता की दावत देता है के हमें मिल कर इस मशीनी ग़लबे के ख़िलाफ़ आवाज़ उठानी चाहिये और हर इदारे (institution) में जा कर अपनी इंसानी महफ़िलों और अंजुमनों को मज़बूत करना चाहिये।
१७
कह दो के तरक़्क़ी मुमकिन है
इस बात से कुछ इन्कार नहीं
पर क़ीमत क्या होगी उस की
तय करना भी तो लाज़िम है
हमें तरक़्क़ी से इंकार नहीं, लेकिन इस मशीनी तरक़्क़ी के बदले हमसे क्या कुछ छीन लिया जाएगा? इस क़ीमत का फ़ौसला करना अब हम पर लाज़िम है।
१८
जिस गाम पे तुम आ पहुंचे हो
तहज़ीब के दम पर आया है
और इस सारे सरमाए में
सदियों की सक़ाफ़त शामिल है
मज़्दूर की अनथक मेहनत का
अज्दाद का हिस्सा शामिल है
क्या इस सच से नावाकिफ़ हो?
ये मौजूदा तरक़्क़ी सदियों की इंसानी तहज़ीब और मेहनत का निचोड़ है। इसमें हमारे पूर्वजों और मज़्दूरों का ख़ून-पसीना शामिल है। क्या हम इस हक़ीक़त से अनजान बन सकते हैं?
masnui zehaanat – manan kumar
manan kumar (1967 – living), dehli. An independent journalist, became interested in progressive shaa’eri at a young age because of his trade unionist and journalist father who often recited faiz, saahir, maKhdoom, and Ghalib. Learned basic urdu for the love of shaa’eri and the desire to express build up angst against the value system of the capitalist and consumerist society. Here he expresses himself eloquently about the fears generated by AI and its possible control of humanity.
That world is no longer far away.
When the world will stand helpless; no poets left among us; no trace of social gatherings; no human contact. No beloved, no whispered secrets; only silence, echoing everywhere.
That world is no longer far away.
No savory tastes, no joyous cries; no bursts of laughter, no slogans raised; no splendour of bustling markets; no street-carts with spicy delights; no village fairs of fun and play, of handmade toys; no gatherings of the young and the bold.
That world is no longer far away.
There will be no fields of wheat, nor mustard gold; no garden swings celebrating spring; the sweet scent of the sweat of hard labour dripping from the farmer’s brow; no sweat of passion from the beloved’s locks. No smell of dung-fires, nor the earthen pot.
That world is no longer far away.
There are mansions over there somewhere, far beyond the reach of the common folk, where wrapped in velvet and brocaded robes, oblivious amidst automated machines, wallowing in a joyless, hollow mirth, a few heartless/insensitive souls lost in induced trance.
That world is no longer far away.
Mourful cries from every neighbourhood, echoeing with tearful cries start to ring, where the children of Adam and Eve, citing tales of a vanished past, will write their songs of deepest grief.
That world is no longer far away.
Why does the world have to be so cold and strange? Have you ever paused to wonder why?
Artificial Intelligence will be all around us; built on the foundations of the rising strength of human progress, seizing everything in its grip, speaking with a human tongue, roaming the earth without fear, descending wherever and whenever it chooses to strike.
Like the Empire of ancient Rome, it will take free thinkers and rebels, And the finest models of creativity; it will judge them, it will test them; then drag them out beyond the gates, bound in chains, taken away, to trade whatever wealth remains.
Do you truly wish for this to be? If not, then for the sake of preservation …
… rise up together with clenched fists; rise all at once shoulders squared, heads held high. Go into every institution, making your associations strong and firm. Confronting this “Artificial Intelligence”
Say that “progress” is possible, of this, there is no denial. But what price must be paid for it? That, too, must be decided now.
The path you have taken, the place you have arrived, was reached with the labour of past civilizations; and in all of this accumulated wealth, centuries of culture are woven in. The tireless toil of the worker, the legacy of our ancestors too. Are you truly unaware of this truth?
The post masnui zehaanat-manan kumar appeared first on UrduShahkar.
By https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/02/manank-masnui-zehaanat-mkaudio.mp3
Recitation
مصنوعی زہانت – منن کمار
۱
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۲
جب بےبس یہ عالم ہوگا
نہ شاعر ہونگے بستی میں
نہ بزم کا ہوگا نام و نشاں
نہ محبوبہ نہ سرگوشی
ہر سو ہوگی بس خاموشی
۳
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۴
نہ چٹخارے نہ جیکارے
نہ ٹھٹّھے ہی نہ کوئی نعرے
نہ رونق بھرے بازاروں کی
نہ ٹھیلے کوئی پکوانوں کے
نہ میلے کھیل کھلونوں کے
نہ محفل چھیل چھبیلوں کی
۵
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۶
نہ ہوگی گندم نہ سرسوں ہی
نہ پینگیں باغ بہاروں کی
نہ ہوگی پسینے کی خوشبو
نہ دہقاں کی نہ گیسو کی
نہ اُپلوں کی نہ ہنڈیا کی
۷
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۸
محل کہیں کچھ تو ہونگے
بستی کی پہنچ سے دور بہت
کمخاب لباسوں میں لپٹے
خود کار مشینوں میں غافل
بے ذوق ہنسی میں لتھڑے ہوئے
کچھ بے حِس ہونگے مستی میں
۹
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۱۰
بستی بستی ماتم ماتم
بھیگی سی صدائیں گونجیں گیں
جہاں آدم اور حوّا کے جنے
ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے
غمگین ترانے لکّھیں گے
۱۱
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۱۲
وہ دنیا ایسی کیوں ہوگی
کیا تُم نے کبھی کچھ سوچا ہے
۱۳
مصنوعی ذہانت ہر سو ہوگی
انساں کی ترقی کے بل پر
قابض ہوگی وہ ہر شے پر
انسان کی بولی بولےگی
بےخوف وہ دھرتی گھومےگی
جب چاہے گی نازل ہوگی
۱۴
سلطنتِ رُوما کی طرح
آزاد سوچ کے باغی کو
تخلیق کے عمدہ نمونوں کو
وہ جانچیگی اور پرکھے گی
پھر بستی سے باہر لاکر
بیڑی باندھے لے جاےگی
جو بھی سرمایہ باقی ہے
اس کی تجارت کرنے کو
۱۵
کیا چاہتے ہو کہ ایسا ہو
جو نہ چاہو تو اس کے لئے
۱۶
اک ساتھ اٹھو مٹھی باندھے
یکلخت اٹھو سینہ تانے
ہر ایک ادارے میں جا کر
مضبوط یہ اپنی بزم کرو
مصنوعی زہانت کو لے کر
اعلانِ مسلسل جہد کرو
۱۷
کہہ دو کے ترقّی ممکن ہے
اس بات سے کچھ انکار نہیں
پر قیمت کیا ہوگی اِس کی
طے کرنا بھی تو لازم ہے
۱۸
جس گام پے تم آ پہنچے ہو
تہذیب کے دم پر آیا ہے
اور اس سارے سرمائے میں
صدیوں کی ثقافت شامل ہے
مزدور کی انتھک محنت کا
اجداد کا حصّہ شامل ہے
کیا اس سچ سے ناواقف ہو
منن کمار (پیدائش: ۱۹۶۷)، دہلی۔ وہ ایک آزاد صحافی ہیں۔ اپنے والد کی وجہ سے، جو کہ ایک ٹریڈ یونینسٹ اور صحافی تھے، منن کمار چھوٹی عمر میں ہی ترقی پسند شاعری میں دلچسپی لینے لگے۔ ان کے والد اکثر فیض، ساحر، مخدوم اور غالب کا کلام سنایا کرتے تھے۔ منن نے شاعری سے محبت اور سرمایہ دارانہ و صارفیت پسند معاشرے (capitalist and consumerist society) کے خلاف اپنے اندر دبے غصے کے اظہار کی خاطر اُردو سیکھی۔ اس نظم میں وہ مصنوعی ذہانت (AI) سے پیدا ہونے والے خوف اور انسانیت پر اس کے ممکنہ قبضے کے بارے میں بڑی فصاحت سے اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔
۱
وہ دنیا اب اور دور نہیں
وہ مستقبل جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں، اب بہت قریب آ چکا ہے۔
۲
جب بےبس یہ عالم ہوگا
نہ شاعر ہونگے بستی میں
نہ بزم کا ہوگا نام و نشاں
نہ محبوبہ نہ سرگوشی
ہر سُو ہوگی بس خاموشی
ایک ایسا وقت آئے گا جب انسانی جذبات اور محفلیں ختم ہو جائیں گی۔ نہ کوئی شاعری کرنے والا ہوگا اور نہ ہی انسانی تعلقات کی وہ گرمجوشی باقی رہے گی۔ ہر طرف ایک مشینی سناٹا ہوگا۔ اِس بدلتے ہوئے عالم کے آگے دنیا بے بس ہوگی۔
۳
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۴
نہ چٹخارے نہ جے کارے
نہ ٹھٹّھے ہی نہ کوئی نعرے
نہ رونق بھرے بازاروں کی
نہ ٹھیلے کوئی پکوانوں کے
نہ میلے کھیل کھلونوں کے
نہ محفل چھیل چھبیلوں کی
ہماری زندگی کی رونقیں، جیسے بھرے بازاروں کی چہل پہل، ٹھیلوں سے کھانے کی لذّت اور چٹخارے، قہقہے اور خوشی کے نعرے، گاؤں کے میلے اور کھلونے، بے فکر نوجوانی کی کھیل، سب مٹ جائیں گے۔ زندگی کی وہ زندہ دلی جو انسانی میل جول سے تھی، ختم ہو جائے گی۔
۵
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۶
نہ ہوگی گندم نہ سرسوں ہی
نہ پینگیں باغ بہاروں کی
نہ ہوگی پسینے کی خوشبو
نہ دہقاں کی نہ گیسو کی
نہ اُپلوں کی نہ ہنڈیا کی
قدرتی اور دیہاتی زندگی کی خوبصورتی ختم ہو جائے گی۔ نہ کھیت ہوں گے، نہ محنت کی خوشبو، نہ شرم سے بھیگے بالوں کی، اور نہ ہی وہ روایتی گھرانے جہاں مٹی کے چولہوں پر کھانا پکتا تھا۔
۷
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۸
محل کہیں کچھ تو ہونگے
بستی کی پہنچ سے دور بہت
کمخاب لباسوں میں لپٹے
خود کار مشینوں میں غافل
بے ذوق ہنسی میں لتھڑے ہوئے
کچھ بے حِس ہونگے مستی میں
امیر اور طاقتور لوگ بستیوں سے دور محلوں میں مشینوں کے سہارے ایک بے حِس زندگی گزاریں گے۔ ان کی ہنسی کھوکھلی ہوگی اور وہ انسانی دکھوں سے بے خبر اپنی ہی مصنوعی دنیا میں مگن ہوں گے۔
۹
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۱۰
بستی بستی ماتم ماتم
بھیگی سی صدائیں گونجیں گیں
جہاں آدم اور حوّا کے جنے
ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے
غمگین ترانے لکّھیں گے
عام بستیوں میں صرف اداسی اور رونے کی آوازیں ہوں گی۔ آدم و حوّا کی اولاد اپنے گزرے ہوئے اچھے وقتوں کو یاد کر کے غمگین گیت لکھے گی۔
۱۱
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۱۲
وہ دنیا ایسی کیوں ہوگی
کیا تُم نے کبھی کچھ سوچا ہے
شاعر سوال کرتا ہے کہ آخر دنیا اتنی بے روح اور سرد کیوں ہو جائے گی؟ کیا کبھی ہم نے اس کی وجہ پر غور کیا ہے؟
۱۳
مصنوعی ذہانت ہر سُو ہوگی
اِنساں کی ترقّی کے بل پر
قابض ہوگی وہ ہر شے پر
انسان کی بولی بولےگی
بےخوف وہ دھرتی گھومےگی
جب چاہے گی نازل ہوگی
اس سب کی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) ہے۔ یہ آِٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓنسانوں ہی کی ترقّی کا نتیجہ ہے لیکن اب یہ ہر چیز پر قبضہ کر لے گی اور انسانوں کی طرح بات کرتے ہوئے پوری زمین پر راج کرے گی۔
۱۴
سلطنتِ رُوما کی طرح
آزاد سوچ کے باغی کو
تخلیق کے عمدہ نمونوں کو
وہ جانچیگی اور پرکھے گی
پھر بستی سے باہر لاکر
بیڑی باندھے لے جاےگی
جو بھی سرمایہ باقی ہے
اس کی تجارت کرنے کو
قدیم رومی سلطنت کی طرح، مصنوعی ذہانت آزاد خیال لوگوں اور فنکاروں پر پہرے بٹھائے گی، ان کی تخلیقات کو پرکھے گی اور پھر انسانیت کے مشرترکہ سرمائے کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے گی۔
۱۵
کیا چاہتے ہو کہ ایسا ہو
جو نہ چاہو تو اس کے لئے
کیا ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ایسا مستقبل آئے؟ اگر نہیں، تو ہمیں بچاؤ کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔
۱۶
اک ساتھ اُٹھو مُٹّھی باندھے
یکلخت اٹھو سینہ تانے
ہر ایک ادارے میں جا کر
مضبوط یہ اپنی بزم کرو
مصنوعی زہانت کو لے کر
اعلانِ مسلسل جہد کرو
شاعر اتحاد کی دعوت دیتا ہے کہ ہمیں مل کر اس مشینی غلبے کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور ہر ادارے میں جا کر اپنی انسانی محفلوں اور انجمنوں کو مضبوط کرنا چاہیے۔
۱۷
کہہ دو کے ترقّی ممکن ہے
اس بات سے کچھ انکار نہیں
پر قیمت کیا ہوگی اِس کی
طے کرنا بھی تو لازم ہے
ہمیں ترقی سے انکار نہیں، لیکن اس مشینی ترقی کے بدلے ہم سے کیا کچھ چھین لیا جائے گا؟ اس قیمت کا فیصلہ کرنا اب ہم پر لازم ہے۔
۱۸
جس گام پے تم آ پہنچے ہو
تہذیب کے دم پر آیا ہے
اور اس سارے سرمائے میں
صدیوں کی ثقافت شامل ہے
مزدور کی انتھک محنت کا
اجداد کا حصّہ شامل ہے
کیا اس سچ سے ناواقف ہو
یہ موجودہ ترقی صدیوں کی انسانی تہذیب اور محنت کا نچوڑ ہے۔ اس میں ہمارے بزرگوں اور مزدوروں کا خون پسینہ شامل ہے۔ کیا ہم اس حقیقت سے انجان بن سکتے ہیں؟
मसनुई ज़ेहानत – मनन कुमार
१
२
जब बेबस ये आलम होगा
ना शा’एर होंगे बस्ती में
ना बज़्म का होगा नाम-ओ-निशां
ना मेहबूबा, ना सरगोशी
हर सू होगी बस ख़ामोशी
३
वो दुनिया अब और दूर नहीं
४
ना चटख़ारे, न जयकारे
ना ठट्ठे ही, ना कोई ना’रे
ना रौनक़ भरे बाज़ारों की
ना ठेले कोई पकवानों के
ना मेले खेल खिलौनों के
ना महफ़िल छैल छबीलों की
५
वो दुनिया अब और दूर नहीं
६
ना होगी गंदुम, ना सरसों ही
ना पेंगें बाग़ बहारों की
ना होगी पसीने की ख़ुशबू
ना दहक़ां की, ना गेसू की
ना उपलों की, ना हंडिया की
७
वो दुनिया अब और दूर नहीं
८
महल कहीं कुछ तो होंगे
९
वो दुनिया अब और दूर नहीं
१०
बस्ती बस्ती मातम मातम
भीगी सी सदाएं गूंजेंगी
जहां आदम और हव्वा के जने
माज़ी का हवाला देते हुए
ग़मगीन तराने लिक्खेंगे
११
वो दुनिया अब और दूर नहीं
१२
वो दुनिया, क्यूं ऐसी होगी
क्या तुमने कभी कुछ सोचा है
१३
मसनुई ज़ेहानत हर सू होगी
इंसां की तरक़्क़ी के बल पर
क़ाबिज़ होगी वो हर शै पर
इंसान की बोली बोलेगी
बेख़ौफ़ वो धरती घूमेगी
जब चाहेगी नाज़िल होगी
१४
सल्तनत-ए-रूमा की तरह
आज़ाद सोच के बाग़ी को
तख़्लीक़ के उम्दा नमूनों को
वो जांचेगी और पकड़ेगी
फिर बस्ती से बाहर ला कर
बेड़ी बांधे ले जाएगी
जो भी सरमाया बाक़ी है
उस सबकी तिजारत करने को
१५
क्या चाहते हो, के ऐसा हो ?
जो ना चाहो तो उसके लिए
१६
यकलख़्त उठो सीना ताने
हर एक इदारे में जा कर
मज़्बूत ये अपनी बज़्म करो
मसनुई ज़ेहानत को लेकर
ए’लान-ए मुसलसल जहद करो
१७
कह दो के तरक़्क़ी मुमकिन है
इस बात से कुछ इन्कार नहीं
पर क़ीमत क्या होगी उस की
तय करना भी तो लाज़िम है
१८
जिस गाम पे तुम आ पहुंचे हो
तहज़ीब के दम पर आया है
और इस सारे सरमाए में
सदियों की सक़ाफ़त शामिल है
मज़्दूर की अनथक मेहनत का
अज्दाद का हिस्सा शामिल है
क्या इस सच से नावाकिफ़ हो?
मनन कुमार (जन्म: १९६७), दिल्ली, एक स्वतंत्र पत्रकार हैं। अपने पिता के कारण, जो एक ट्रेड यूनियनवादी (trade unionist) और पत्रकार थे, मनन कुमार कम उम्र में ही प्रगतिशील शा’एरी में रुचि लेने लगे। उनके पिता अक्सर फ़ैज़, साहिर, मख़्दूम और ग़ालिब की रचनाएँ सुनाया करते थे। मनन ने शा’एरी के प्रति अपने प्रेम और पूंजीवादी ओ उपभोक्तावादी समाज के ख़िलाफ अपने दबे ग़ुस्से को प्रकाशित करने के लिये उर्दू सीखी। यहाँ वे ‘आर्टिफ़िश्यल इंटेलिजेंस’ (AI) से उत्पन्न होने वाले डर और मानवता पर इसके संभावित नियंत्रण के बारे में बड़े जोश से अपने विचार व्यक्त कर रहे हैं।
१
वो दुनिया अब और दूर नहीं
वो भविष्य जिसका हम ज़िक्र कर रहे हैं, अब बहुत क़रीब आ चुका है।
२
जब बेबस ये आलम होगा
न शा’एर होंगे बस्ती में
न बज़्म का होगा नाम-ओ-निशां
न महबूबा न सरगोशी
हर सू होगी बस ख़ामोशी
एक ऐसा वक़्त आएगा जब इंसानी जज़्बात और महफ़िलें ख़त्म हो जाएंगी। न कोई शा’एरी करने वाला होगा और न प्यार का सरगोशियां, न ही इंसानी ताल्लुक़ात की वो गर्मजोशी बाक़ी रहेगी। हर तरफ़ एक मशीनी सन्नाटा होगा।
३
वो दुनिया अब और दूर नहीं
४
ना चटख़ारे, न जयकारे
ना ठट्ठे ही, ना कोई ना’रे
ना रौनक़ भरे बाज़ारों की
ना ठेले कोई पकवानों के
ना मेले खेल खिलौनों के
ना महफ़िल छैल छबीलों की
हमारी ज़िंदगी की रौनकें, जैसे बाज़ारों की चहल पहल, ठेले के लज़ीज़ खानौं के चटख़ारे, मेलौं की रंग रलियां, क़हक़हे और ख़ुशी के ना’रे, सब मिट जाएंगे। ज़िंदगी की वो ज़िंदादिली जो इंसानी मेल-जोल से थी, ख़त्म हो जाएगी।
५
वो दुनिया अब और दूर नहीं
६
ना होगी गंदुम, ना सरसों ही
ना पेंगें बाग़ बहारों की
ना होगी पसीने की ख़ुशबू
ना दहक़ां की, ना गेसू की
ना उपलों की, ना हंडिया की
क़ुदरती और देहाती ज़िंदगी की ख़ूबसूरती ख़त्म हो जाएगी। न खेत होंगे, न मेहनत की ख़ुशबू, और न ही वो रिवायती घराने जहां मिट्टी के चूल्हों पर खाना पकता था।
७
वो दुनिया अब और दूर नहीं
८
महल कहीं कुछ तो होंगे
अमीर और ताक़तवर लोग बस्तियों से दूर महलों में मशीनों के सहारे एक बे-हिस (insensitive) ज़िंदगी गुज़ारेंगे। उनकी हंसी खोखली होगी और वो इंसानी दुखों से बेख़बर अपनी ही मसनूई (artificial) दुनिया में मगन होंगे।
९
वो दुनिया अब और दूर नहीं
१०
बस्ती बस्ती मातम मातम
भीगी सी सदाएं गूंजेंगी
जहां आदम और हव्वा के जने
माज़ी का हवाला देते हुए
ग़मगीन तराने लिक्खेंगे
आम बस्तियों में सिर्फ़ उदासी और रोने की आवाज़ें होंगी। इंसान अपने गुज़रे हुए अच्छे वक़्तौं को याद कर के ग़मगीन गीत लिखेंगे।
११
वो दुनिया अब और दूर नहीं
१२
वो दुनिया ऐसी क्यूं होगी
क्या तुमने कभी कुछ सोचा है
शा’एर सवाल करता है के आख़िर दुनिया इतनी बे-रूह और सर्द क्यों हो जाएगी? क्या कभी हमने इसकी वजह पर ग़ौर किया है?
१३
मसनुई ज़ेहानत हर सू होगी
इंसां की तरक़्क़ी के बल पर
क़ाबिज़ होगी वो हर शै पर
इंसान की बोली बोलेगी
बेख़ौफ़ वो धरती घूमेगी
जब चाहेगी नाज़िल होगी
इस की वजह मसनूई ज़हानत (AI) है। ये इंसानों ही की तरक़्क़ी का नतीजा है लेकिन अब ये हर चीज़ पर क़ब्ज़ा कर लेगी और इंसानों की तरह बात करते हुए पूरी ज़मीन पर राज करेगी।
१४
सल्तनत-ए-रूमा की तरह
आज़ाद सोच के बाग़ी को
तख़्लीक़ के उम्दा नमूनों को
वो जांचेगी और पकड़ेगी
फिर बस्ती से बाहर ला कर
बेड़ी बांधे ले जाएगी
जो भी सरमाया बाक़ी है
उस सबकी तिजारत करने को
प्राचीन रोमन साम्राज्य की तरह, ए-आई (AI) आज़ाद ख़याल लोगों और कलाकारों पर पहरे बिठाएगी, उनकी रचनाओं को परखेगी और फिर इंसानियत के सांस्कृतिक सरमाए (heritage) को अपने फ़ाएदे के लिये इस्तेमाल करेगी।
१५
क्या चाहते हो के ऐसा हो
जो न चाहो तो इस के लिए
क्या हम वाक़’ई चाहते हैं के ऐसा भविष्य आए? अगर नहीं, तो हमें बचाव के लिए कुछ करना होगा।
१६
एक साथ उठो मुठ्ठी बांधे
यकलख़्त उठो सीना ताने
हर एक इदारे में जा कर
मज़्बूत ये अपनी बज़्म करो
मसनुई ज़ेहानत को लेकर
ए’लान-ए मुसलसल जहद करो
शा’एर एकता की दावत देता है के हमें मिल कर इस मशीनी ग़लबे के ख़िलाफ़ आवाज़ उठानी चाहिये और हर इदारे (institution) में जा कर अपनी इंसानी महफ़िलों और अंजुमनों को मज़बूत करना चाहिये।
१७
कह दो के तरक़्क़ी मुमकिन है
इस बात से कुछ इन्कार नहीं
पर क़ीमत क्या होगी उस की
तय करना भी तो लाज़िम है
हमें तरक़्क़ी से इंकार नहीं, लेकिन इस मशीनी तरक़्क़ी के बदले हमसे क्या कुछ छीन लिया जाएगा? इस क़ीमत का फ़ौसला करना अब हम पर लाज़िम है।
१८
जिस गाम पे तुम आ पहुंचे हो
तहज़ीब के दम पर आया है
और इस सारे सरमाए में
सदियों की सक़ाफ़त शामिल है
मज़्दूर की अनथक मेहनत का
अज्दाद का हिस्सा शामिल है
क्या इस सच से नावाकिफ़ हो?
ये मौजूदा तरक़्क़ी सदियों की इंसानी तहज़ीब और मेहनत का निचोड़ है। इसमें हमारे पूर्वजों और मज़्दूरों का ख़ून-पसीना शामिल है। क्या हम इस हक़ीक़त से अनजान बन सकते हैं?
masnui zehaanat – manan kumar
manan kumar (1967 – living), dehli. An independent journalist, became interested in progressive shaa’eri at a young age because of his trade unionist and journalist father who often recited faiz, saahir, maKhdoom, and Ghalib. Learned basic urdu for the love of shaa’eri and the desire to express build up angst against the value system of the capitalist and consumerist society. Here he expresses himself eloquently about the fears generated by AI and its possible control of humanity.
That world is no longer far away.
When the world will stand helpless; no poets left among us; no trace of social gatherings; no human contact. No beloved, no whispered secrets; only silence, echoing everywhere.
That world is no longer far away.
No savory tastes, no joyous cries; no bursts of laughter, no slogans raised; no splendour of bustling markets; no street-carts with spicy delights; no village fairs of fun and play, of handmade toys; no gatherings of the young and the bold.
That world is no longer far away.
There will be no fields of wheat, nor mustard gold; no garden swings celebrating spring; the sweet scent of the sweat of hard labour dripping from the farmer’s brow; no sweat of passion from the beloved’s locks. No smell of dung-fires, nor the earthen pot.
That world is no longer far away.
There are mansions over there somewhere, far beyond the reach of the common folk, where wrapped in velvet and brocaded robes, oblivious amidst automated machines, wallowing in a joyless, hollow mirth, a few heartless/insensitive souls lost in induced trance.
That world is no longer far away.
Mourful cries from every neighbourhood, echoeing with tearful cries start to ring, where the children of Adam and Eve, citing tales of a vanished past, will write their songs of deepest grief.
That world is no longer far away.
Why does the world have to be so cold and strange? Have you ever paused to wonder why?
Artificial Intelligence will be all around us; built on the foundations of the rising strength of human progress, seizing everything in its grip, speaking with a human tongue, roaming the earth without fear, descending wherever and whenever it chooses to strike.
Like the Empire of ancient Rome, it will take free thinkers and rebels, And the finest models of creativity; it will judge them, it will test them; then drag them out beyond the gates, bound in chains, taken away, to trade whatever wealth remains.
Do you truly wish for this to be? If not, then for the sake of preservation …
… rise up together with clenched fists; rise all at once shoulders squared, heads held high. Go into every institution, making your associations strong and firm. Confronting this “Artificial Intelligence”
Say that “progress” is possible, of this, there is no denial. But what price must be paid for it? That, too, must be decided now.
The path you have taken, the place you have arrived, was reached with the labour of past civilizations; and in all of this accumulated wealth, centuries of culture are woven in. The tireless toil of the worker, the legacy of our ancestors too. Are you truly unaware of this truth?
The post masnui zehaanat-manan kumar appeared first on UrduShahkar.