https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/05/bdshrp-sukh-nidra-meN-soti-hai-audio.mp3
اُردوتشریحदेवनागरीव्याख्याRomanExplanationسُکھ نِدرا میں سوتی ہے ۔ بام دیو شرما رشیؔ پٹیالوی
کیا جانیں اب اُن آنکھوں میں کتنے دن کی جیوتی ہے
درشن آشا جن آنکھوں سے آنسو ہار پِروتی ہے
تم کو دیکھیں مُوند کر آنکھیں جن کے من میں جیوتی ہے
ایسے نِرمل درشن ہی سے پریم کی شوبھا ہوتی ہے
تم آؤ تو کِھل جائے اگیات پربھاسی مستی سی
نینوں کی مدِرا مدِرا ہے روپ کی جیوتی جیوتی ہے
تم جو مسکاتی پلکوں سے کرتے ہو سنکیت کوئی
خاموشی کے پردے میں کچھ بات بھی اُس میں ہوتی ہے
راتری کی نِرمم سی پیڑا شبنم جس کو کہتے ہیں
پھولوں میں مد بھر دیتی ہے کلیوں کا منہ دھوتی ہے
یوں تو آنکھیں بھی لڑتی ہیں دل بھی دل سے ملتے ہیں
جس کا نام محبت ہے وہ ہوتے ہوتے ہوتی ہے
دے گا کون سہارا میرے پیار کی ساہس نیّا کو
طوفانوں سے ٹکراتی ہے تٹ پر ناؤ ڈبوتی ہے
ملتا ہے مرتیو سے جیون پیار میں مرنے والوں کو
دنیا سے منہ موڑ گئے جو دنیا اُن کو روتی ہے
پریم کا درپن صاف نہیں تو درشن کا آبھاس کہاں
دل روئے تو بات بنے کچھ آنکھ تو نِشدِن روتی ہے
مول محبت کا گھٹتا ہے درد کا دارو ملنے سے
پریم کی دیوی دو کانٹوں پر سکھ نِدرا میں سوتی ہے
دوری ہو یا نزدیکی ہو ملنا ہے آسان رِشیؔ
کچھ ہوتی ہے دیر تو کیول دل ملنے کی ہوتی ہے
بام دیو شرما رشیؔ پٹیالوی (۱۹۱۷۔۱۹۹۹) پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نسیم نور محلی کے شاگرد تھے، اور ان کا ادبی سلسلہ پنڈت لبھو رام جوشؔ ملسیانی سے ہوتا ہوا براہِ راست داغؔ دہلوی تک جاتا ہے۔ انہوں نے کئی سالوں تک اسٹیٹ بینک آف پٹیالہ میں ملازمت کی، جس کے بعد وہ چنڈی گڑھ چلے گئے اور وہاں مینجمنٹ کے اعلیٰ عہدوں پر کام کیا۔ انہوں نے بہت خوبصورت غزلیں اور کئی ترقی پسند نظمیں لکھی ہیں، جن میں خالص اردو کے ساتھ ساتھ سادہ ہندوستانی زبان بھی استعمال کی گئی ہے۔ وہ دوستوں کے ایک ایسے گروہ کا حصہ تھے جو ایک دوسرے کے مذہبی تہوار مل کر مناتے تھے اور مشاعرے کرواتے تھے، تاکہ تقسیم کے پہلے اور بعد کے مشکل حالات میں بھائی چارہ اور امن قائم رہے۔
کیا جانیں اب اُن آنکھوں میں کتنے دن کی جیوتی۱ ہے
درشن۲ آشا۳ جن آنکھوں سے آنسو ہار پِروتی ہے
۱۔روشنی ۲۔زیارت، رُو نمائی ۳۔اُمّید
شاعر زندگی کی نا اعتباری اور انتظار کی تھکن کا ذکر کر رہا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اب اس کی آنکھوں میں زندگی کی روشنی (جیوتی) اور کتنے دن باقی ہے، کیونکہ یہی آنکھیں محبوب کی ایک جھلک (درشن) کی آس میں مدتوں سے آنسوؤں کے ہار پرو رہی ہیں۔ یہاں آنسو صرف بہہ نہیں رہے، بلکہ محبوب کے دیدار کی امید میں ایک مالا کی طرح پروئے جا رہے ہیں۔
تم کو دیکھیں مُوند۱ کر آنکھیں جن کے من۲ میں جیوتی۳ ہے
ایسے نِرمل۴ درشن۵ ہی سے پریم۶ کی شوبھا۷ ہوتی ہے
۱۔بند ۲۔دِل ۳۔روشنی ۴۔شفّاف ۵۔نظارہ، زیارت ۶۔عشق ۷۔خوبصورتی
اصل دیکھنا دل سے ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جن کے دل روشن (من میں جیوتی) ہوتے ہیں، وہ آنکھیں بند کر کے بھی محبوب (کوئی ideal یا خدا بھی ہو سکیتا ہے) کو دیکھ سکتے ہیں۔ ایسا پاکیزہ دیدار (نرمل درشن) ہی عشق کو سچی خوبصورتی اور وقار بخشتا ہے۔ یہ محبت کو جسمانی لگاؤ سے اٹھا کر ایک روحانی تجربہ بنا دیتا ہے۔
تم آؤ تو کِھل جائے اگیات۱ پربھاسی۲ مستی سی
نینوں۳ کی مدِرا۴ مدِرا ہے روپ۵ کی جیوتی۶ جیوتی ہے
۱۔نامعلوم، اندیکھا، اچانک ۲۔روشنی ۳۔آنکھیں ۴۔شراب ۵۔پیکر، صورت ۶۔جمال، روشنی
محبوب کی آمد ایک انجانی اور چمکتی ہوئی مستی لے کر آتی ہے۔ شاعر یہاں ایک خوبصورت تکرار کرتا ہے: وہ کہتا ہے کہ آنکھوں کی مے (مدرا) ہی اصل نشہ ہے، اور محبوب کے روپ کی روشنی ہی اصل چمک ہے۔ محبوب کی موجودگی پوری دنیا کو روشن کر دیتی ہے اور روح کو سرشار کر دیتی ہے۔
تم جو مسکاتی پلکوں سے کرتے ہو سنکیت۱ کوئی
خاموشی کے پردے میں کچھ بات بھی اُس میں ہوتی ہے
اس شعر میں محبت کے خاموش اِشاروں کو بیان کیا گیا ہے۔ جب محبوب مسکاتی ہوئی پلکوں سے کوئی اشارہ (سنکیت) کرتا ہے، تو “خاموشی کے پردے میں” ایک گہری گفتگو ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محبت میں سب سے زیادہ اثر رکھنے والی باتیں وہ ہوتی ہیں جو زبان سے نہیں بلکہ نظروں سے کہی جاتی ہیں۔ جوش ملیح آبادی ۔۔۔
تمام محفل کے رُو بہ رُو گو، اُٹھائی آنکھیں ملائیں نظریں
سمجھ سکا ایک بھی نہ لیکن، سوال میرا جواب تیرا
راتری۱ کی نِرمم۲ سی پیڑا شبنم جس کو کہتے ہیں
پھولوں میں مد۳ بھر دیتی ہے کلیوں کا منہ دھوتی ہے
شاعر نے شبنم کو “رات کا بے رحم درد/غم” کہا ہے۔ لیکن زندگی میں اس درد کا بھی ایک مقصد ہے؛ صبح کی شبنم کی طرح یہ درد پھولوں میں رس (مد) بھر دیتا ہے اور کھلتی ہوئی کلیوں کا منہ دھوتا ہے۔ یعنی رات خود درد سہتی ہے تاکہ پھولوں کو رس دے سکے اور کلیوں کو پاک کر سکے۔
یوں تو آنکھیں بھی لڑتی ہیں دل بھی دل سے ملتے ہیں
جس کا نام محبت ہے وہ ہوتے ہوتے ہوتی ہے
شاعر عام کشِش اور سچی محبت میں فرق واضح کرتا ہے۔ زندگی میں آنکھیں لڑنا اور دلوں کا مِلنا عام بات ہے، لیکن جسے سچی “محبت” کہتے ہیں وہ فوراً نہیں ہوتی۔ یہ ایک آہستہ اور بتدریج ہونے والا کام ہے ۔ یہ ہوتے ہوتے ہی ہوتی ہے۔ یعنی حقیقی محبت پروان چڑھنے میں وقت لیتی ہے۔
دے گا کون سہارا میرے پیار کی ساہس۱ نیّا کو
طوفانوں سے ٹکراتی ہے تٹ۲ پر ناؤ ڈبوتی ہے
شاعر اپنی محبت کی “ہمت والی کشتی” (ساحس نیّا) کے لیے کسی سہارے کی کمی پر افسوس کرتا ہے۔ یہاں ایک دکھ بھری بات یہ ہے کہ یہ کشتی کھلے سمندر کے بڑے طوفانوں سے تو ٹکرا جاتی ہے، مگر کنارے (تٹ) پر پہنچ کر ڈوب جاتی ہے۔ یہ اس مایوسی کو دکھاتا ہے جب انسان منزل کے بالکل قریب پہنچ کر ناکام ہو جائے، یا شاید یہ بتاتا ہے کہ منزل سے زیادہ جدوجہد کی اہمیت ہے۔
ملتا ہے مرتیو۱ سے جیون۲ پیار میں مرنے والوں کو
دنیا سے منہ موڑ گئے جو دنیا اُن کو روتی ہے
اس شعر میں محبت کی قربانی کا تضاد بیان کیا گیا ہے۔ جو لوگ محبت میں “مر” جاتے ہیں، انہیں دراصل اپنی اس قربانی سے ہمیشہ کی زندگی مل جاتی ہے۔ یہ دنیا، جو اکثر جیتے جی عاشقوں کو نظر انداز کرتی ہے یا ان کا مذاق اڑاتی ہے، ان کے چلے جانے کے بعد ان کے لیے آنسو بہاتی ہے۔
پریم۱ کا درپن۲ صاف نہیں تو درشن۳ کا آبھاس۴ کہاں
دل روئے تو بات بنے کچھ آنکھ تو نِشدِن۵ روتی ہے
۱۔عشق ۲۔آئینہ ۳۔زیارت، آشکار ۴۔جھلک، وہم ۵۔رات دن
اگر محبت کا آئینہ (پریم کا درپن) صاف نہ ہو، تو محبوب کی جھلک (آبھاس) کی اُمّید بھی نہیں کی جا سکتی۔ شاعر کہتا ہے کہ جسمانی آنکھیں تو روزانہ (نِش دن) روتی ہیں، لیکن صرف اتنا کافی نہیں ہے۔ سچی روحانی وابستگی کے لیے دل کا رونا ضروری ہے؛ اندرونی سچائی ہی اصل فرق پیدا کرتی ہے۔
مول محبت کا گھٹتا ہے درد کا دارو۱ ملنے سے
پریم۲ کی دیوی دو کانٹوں پر سکھ۳ نِدرا۴ میں سوتی ہے
۱۔دوا، چارہ ۲۔عشق ۳۔آرام، چین ۴۔نیند
اگر محبت کے درد کا کوئی علاج (دارو) یا حل مل جائے، تو اس محبت کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔ “محبت کی دیوی” پھولوں کی سیج پر نہیں بلکہ کانٹوں پر سکون کی نیند (سکھ ندرا) سوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ درد کو قبول کرنا اور اسے سہنا ہی محبت کی اصل روح ہے۔ جیسا کہ غالب نے کہا تھا ۔۔۔
میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا
دوری ہو یا نزدیکی ہو ملنا ہے آسان رِشیؔ
کچھ ہوتی ہے دیر تو کیول۱ دل ملنے کی ہوتی ہے
شاعر، اپنے تخلص “رشیؔ” کا استعمال کرتے ہوئے ایک فلسفیانہ سچائی پر بات ختم کرتا ہے۔ جسمانی دوری کم ہو یا زیادہ، (جسمانی طور پر) ملنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ محبت کے سفر میں اگر کوئی اصل دیر ہوتی ہے، تو وہ صرف دو دلوں کے ایک ہونے میں ہوتی ہے۔ جب تک دل نہ ملیں، جسمانی نزدیکی کی کوئی اہمیت نہیں۔
सुख निद्रा में सोती है – बाम देव शर्मा ऋषि पटियालवी
क्या जानें अब उन आँखों में कितने दिन की ज्योती है
दर्शन आशा जिन आँखों से आँसू हार पिरोती है
तुम को देखें मूंद कर आँखें जिन के मन में ज्योती है
ऐसे निर्मल दर्शन ही से प्रेम की शोभा होती है
तुम आओ तो खिल जाए अज्ञात प्रभासी मस्ती सी
नैनों की मदिरा मदिरा है रूप की ज्योती ज्योती है
तुम जो मुस्काती पलकों से करते हो संकेत कोई
ख़ामोशी के पर्दे में कुछ बात भी उस में होती है
रात्री की निर्मम सी पीड़ा ग़म जिस को कहते हैं
फूलों में मद भर देती है कलियों का मुँह धोती है
यूँ तो आँखें भी लड़ती हैं दिल भी दिल से मिलते हैं
जिसका नाम मोहब्बत है वो होते होते होती है
दे गा कौन सहारा मेरे प्यार की साहस नय्या को
तूफ़ानों से टकराती है तट पर नाव डुबोती है
मिलता है मृत्यु से जीवन प्यार में मरने वालों को
दुनिया से मुँह मोड़ गए जो दुनिया उन को रोती है
प्रेम का दर्पण साफ़ नहीं तो दर्शन का आभास कहाँ
दिल रोये तो बात बने कुछ आँख तो निशदिन रोती है
मोल मोहब्बत का घटता है दर्द का दारू मिलने से
प्रेम की देवी दो काँटों पर सुख निद्रा में सोती है
दूरी हो या नज़्दीकी हो मिलना है आसान ऋषि
कुछ होती है देर तो केवल दिल मिलने की होती है
बाम देव शर्मा ऋषि पटियालवी (१९१७-१९९९) पंजाब के होशियारपुर में पैदा हुए थे। वो नसीम नूर महली के शागिर्द (शिष्य) थे, और उनका साहित्यिक सिलसिला पंडित लभुराम जोश मलसियानी से होता हुआ सीधे दाग़ देहलवी तक जाता है। उन्होंने कई साल तक स्टेट बैंक ऑफ़ पटियाला में नौकरी की, जिसके बाद वो चंडीगढ़ चले गए और वहाँ मैनेजमेंट के ऊँचे पदों पर काम किया। उन्होंने बहुत ही सुंदर ग़ज़लें और कई प्रगतिशील नज़्में लिखी हैं, जिनमें शुद्ध उर्दू के साथ-साथ बोलचाल की हिंदुस्तानी भाषा का भी इस्तेमाल किया गया है। वे दोस्तों के एक ऐसे ग्रुप का हिस्सा थे जो एक-दूसरे के धार्मिक त्योहार मिलकर मनाते थे और मुशायरे करवाते थे, ताकि बँटवारे के पहले और बाद के मुश्किल वक़्त में आपसी भाईचारा और शांति बनी रहे।
क्या जानें अब उन आँखों में कितने दिन की ज्योती है
दर्शन आशा जिन आँखों से आँसू हार पिरोती है
शा’एर ज़िंदगी के बे-भरोसा होने की और इंतेज़ार की थकान का ज़िक्र कर रहा है। वो सोचता है के अब उसकी आँखों में ज़िंदगी की रोशनी (ज्योती) और कितने दिन बाक़ी है, क्यूंके यही आँखें महबूब की एक झलक (दर्शन) की आस में बरसों से आँसुओं के हार पिरो रही हैं। यहाँ आँसू सिर्फ़ बह नहीं रहे, बल्के महबूब को देखने की उम्मीद में एक माला की तरह पिरोए जा रहे हैं।
तुम को देखें मूंद कर आँखें जिन के मन में ज्योती है
ऐसे निर्मल१ दर्शन ही से प्रेम की शोभा होती है
असली देखना अंदरूनी होता है। शा’एर कहता है के जिनके दिल रोशन (मन में ज्योती) होते हैं, वे आँखें बंद करके भी महबूब को देख सकते हैं। ऐसा पावन दीदार (निर्मल दर्शन) ही प्यार को असली ख़ूबसूरती और गरिमा देता है। ये प्रेम को शरीर के आकर्षण से उठाकर एक रूहानी एहसास बना देता है।
तुम आओ तो खिल जाए अज्ञात१ प्रभासी२ मस्ती सी
नैनों की मदिरा मदिरा है रूप की ज्योती ज्योती है
महबूब के आने से एक अनजानी और रौशन मस्ती छा जाती है। शा’एर यहाँ एक सुंदर दोहराव करता है: वो कहता है के आँखों की शराब (मदिरा) ही असली नशा है, और महबूब के रूप की रोशनी ही असली चमक है। महबूब की मौजूदगी पूरी दुनिया को रोशन कर देती है और रूह को मदहोश कर देती है।
तुम जो मुस्काती पलकों से करते हो संकेत कोई
ख़ामोशी के पर्दे में कुछ बात भी उस में होती है
ये शे’र प्यार के बारीक इशारों को बयान करता है। जब महबूब मुस्कुराती पलकों से कोई इशारा (संकेत) करता है, तो “ख़ामोशी के पर्दे में” एक गहरी बात हो जाती है। इसका मतलब ये है के प्यार में सबसे क़ीमती बातें वही होती हैं जो ज़बान से नहीं बल्के नज़रों से कही और समझी जाती हैं। जोश मलीहाबादी का कहना है —
तमाम महफ़िल के रू-ब-रू गो, उठाई आंखें मिलाई नज़्रें
समझ सका एक भी न लैकिन, सवाल मेरा जवाब तेरा
रात्री की निर्मम१ सी पीड़ा शबनम जिस को कहते हैं
फूलों में मद भर देती है कलियों का मुँह धोती है
शा’एर ने शबनम को “रात का बेरहम दर्द” कहा है। लेकिन ज़िंदगी में इस दर्द का भी एक मक़्सद है; सुबह की शबनम की तरह ये दर्द फूलों में रस (मद) भर देता है और खिलती हुई कलियों का मुँह धोता है। यानी रात ख़ुद दर्द सहती है ताके फूलों को रस दे सके और कलियों को साफ़ कर सके।
यूँ तो आँखें भी लड़ती हैं दिल भी दिल से मिलते हैं
जिसका नाम मोहब्बत है वो होते होते होती है
शा’एर आम लगाव और सच्चे प्यार में फ़र्क़ बताता है। ज़िंदगी में आँखें लड़ना और दिलों का मिलना आम बात है, लेकिन जिसे असली “मोहब्बत” कहते हैं वो एकदम से नहीं होती। ये एक धीरे-धीरे होने वाला काम है, ये होते-होते ही होती है। यानी सच्चा प्यार वक़्त के साथ गहरा होता है।
दे गा कौन सहारा मेरे प्यार की साहस नय्या को
तूफ़ानों से टकराती है तट पर नाव डुबोती है
शा’एर अपनी मोहब्बत की “हिम्मत वाली नाव” (साहस नय्या) के लिये किसी सहारे की कमी पर दुख जताता है। यहाँ एक बड़ी विडंबना (irony) है: ये नाव खुले समंदर के बड़े तूफ़ानों से तो टकरा जाती है, मगर किनारे (तट) पर पहुँचकर डूब जाती है। ये उस हताशा को दिखाता है जब इंसान मंज़िल के बिल्कुल पास पहुँचकर हार जाए। या फिर शा’एर कहना चाहता है के किनारे की सुरक्षा से संघर्ष ज़्यादा अच्छा है।
मिलता है मृत्यु से जीवन प्यार में मरने वालों को
दुनिया से मुँह मोड़ गए जो दुनिया उन को रोती है
यहाँ प्यार में जान देने वालों के बारे में बात की गई है। जो लोग प्यार के लिये जान दे देते हैं, उन्हें अपनी इस क़ुर्बानी से असल में अमर ज़िंदगी मिल जाती है। ये दुनिया, जो अक्सर जीते-जी प्रेमियों को नज़रअंदाज़ करती है, उनके चले जाने के बाद उनके लिये आँसू बहाती है।
प्रेम का दर्पण साफ़ नहीं तो दर्शन का आभास१ कहाँ
दिल रोये तो बात बने कुछ आँख तो निशदिन२ रोती है
१-झलक, वहम २-रात-दिन, हर दिन
अगर प्यार का आईना (प्रेम का दर्पण) साफ़ न हो, तो महबूब की झलक (आभास) की उम्मीद भी नहीं की जा सकती। शा’एर कहता है के बाहरी आँखें तो रोज़ (निशदिन) रोती हैं, पर सिर्फ़ उतना काफ़ी नहीं है। सच्ची गहराई के लिये दिल का रोना ज़रूरी है; अंदर की सच्चाई ही असली असर करती है।
मोल मोहब्बत का घटता है दर्द का दारू मिलने से
प्रेम की देवी दो काँटों पर सुख निद्रा में सोती है
अगर प्यार के दर्द का कोई इलाज (दारू) या दवा मिल जाए, तो उस प्यार की क़ीमत कम हो जाती है। “प्यार की देवी” फूलों की सेज पर नहीं बल्के काँटों पर चैन की नींद (सुख निद्रा) सोती है। इसका मतलब ये है के दर्द को अपनाना और उसे सहना ही प्यार की असली जान है। जैसा ग़ालिब ने कहा था —
दर्द मिन्नत-कश-ए दवा न हुआ
मैं न अच्छा हुआ, बुरा न हुआ
दूरी हो या नज़्दीकी हो मिलना है आसान ऋषि१
कुछ होती है देर तो केवल दिल मिलने की होती है
शा’एर, अपने तख़ल्लुस “ऋषि” का इस्तेमाल करते हुए एक सच्चाई पर बात ख़त्म करता है। जिस्मानी दूरी कम हो या ज़्यादा, (बाहरी तौर पर) मिलना काफ़ी आसान है। प्यार के सफ़र में अगर कोई असली देरी होती है, तो वो सिर्फ़ दो दिलों के एक होने में होती है। जब तक दिल न मिलें, पास होना भी “मिलना” नहीं कहलाता।
sukh nidra meN soti hai – baam dev sharma rishi paTiaalavi
1
kya jaaneN ab un aaNkhoN meN kitn’e din ki jyoti hai
darshan aasha jin aaNkhoN se aaNsu haar piroti hai
2
tum ko dekheN mooNd kar aaNkheN jin ke man meN jyoti hai
aise nirmal darshan hi se prem ki shobha hoti hai
3
tum aao to khil jaa’e agyaat prabhaasi masti si
nainoN ki madira madira hai roop ki jyoti jyoti hai
4
tum jo muskaati palkoN se kart’e ho saNket koi
Khaamoshi ke pard’e meN kuchh baat bhi us meN hoti hai
5
raatri ki nirmam si piiRa shabnam jis ko kaht’e haiN
phooloN meN mad bhar deti hai kaliyoN ka muNh dhoti hai
6
yuN to aaNkheN bhi laRti haiN dil bhi dil se milt’e haiN
jis ka naam mohabbat hai vo hot’e hot’e hoti hai
7
de gaa kaun sahaara mere pyaar ki saahas naiyya ko
toofaanoN se Takraati hai taT par naa’u Duboti hai
8
milta hai mrityu se jiivan pyaar meN marn’e vaaloN ko
duniya se muNh moR ga’e jo duniya un ko roti hai
9
prem ka darpan saaf nahiN to darshan ka aabhaas kahaaN
dil ro’e to baat ban’e kuchh aaNkh to nishdin roti hai
10
mol mohabbat ka ghaT’ta hai dard ka daaru milne se
prem ki devi do kaaNToN par sukh nidra meN soti hai
11
duuri ho ya nazdiiki ho milna hai aasaan rishi
kuchh hoti hai d’er to keval dil miln’e ki hoti hai
baam dev sharma rishi paTialavi (1917-1999) originally from hoshiarpur in punjab. He was a disciple of nasim noormahli, with the line going through panDit labhuram josh malsiani to daaGh dehlavi. He worked for the State Bank of Patiala for a number of years before moving to other management positions in chandigaRh. He has written exquisite Ghazal in chaste urdu and many progressive nazm in chaste urdu as well as in spoken hindi/urdu/hindustani. He was part of a group of friends who organized joint celebration of one another’s religious festivities and mushaa’era to promote communal harmony during tense times pre and post partition.
1
kya jaaneN ab un aaNkhoN meN kitn’e din ki jyoti1 hai
darshan2 aasha3 jin aaNkhoN se aaNsu haar piroti4 hai
1.light 2.glimpse 3.hope 4.string together (in a garland)
The poet reflects on the fragility of life and the toll of waiting. He wonders how much longer the light of life (jyoti) will remain in his eyes, as those very eyes have spent an eternity “stringing a garland of tears” while hoping for a single glimpse (darshan) of the beloved. The imagery suggests that the tears aren’t just falling; they are being carefully collected and strung in a necklace, in the hope of seeing the beloved.
2
tum ko dekheN mooNd1 kar aaNkheN jin ke man2 meN jyoti3 hai
aise nirmal4 darshan5 hi se prem6 ki shobha7 hoti hai
1.shut 2.heart 3.light 4.clean, pure 5.manifestation 6.love 7.beauty
True vision is internal. The poet suggests that those whose hearts are enlightened (man meN jyoti) can see the beloved (the beloved could be an ideal/god) even with their eyes closed (mooNd kar). This kind of pure, untainted manifestation/reflection (nirmal darshan) is what gives love its true beauty and grace. It elevates love from a physical attraction to a spiritual experience.
3
tum aao to khil1 jaa’e agyaat2 prabhaasi3 masti si
nainoN4 ki madira5 madira hai roop6 ki jyoti7 jyoti hai
1.blossom 2.unknown, unexpected 3.brilliance 4.eyes 5.wine, intoxication 6.form, appearance 7.light
The arrival of the beloved brings an unknown/unexpected, radiant intoxication (agyaat prabhaasi masti). The poet uses a beautiful repetition here: the wine (madira) of the eyes is the ultimate intoxication, and the light (jyoti) of the beloved’s beauty is the ultimate brilliance. It creates a sensory overload where the beloved’s presence lights up the world and intoxicates the soul.
4
tum jo muskaati1 palkoN2 se kart’e ho saNket3 koi
Khaamoshi4 ke pard’e5 meN kuchh baat bhi us meN hoti hai
1.smiling 2.eyelashes 3.sign, hint 4.silence 5.veil
This verse captures the subtle communication of love. When the beloved gives a sign (saNket) through smiling eyelashes, a profound conversation occurs behind the “veil of silence” ‘Khaamoshi ke pard’e meN‘. It suggests that the most meaningful words in love are often those that are never spoken aloud but are understood through a glance. Said josh malihabadi …
tamaam mahfil ke ruu-ba-ruu go, uThaa’ii aaNkhen milaa’ii nazreN
samajh sakaa ek bhi na laikin, savaal mera, javaab tera
5
raatri1 ki nirmam2 si piiRa3 shabnam4 jis ko kaht’e haiN
phooloN meN mad5 bhar deti hai kaliyoN6 ka muNh dhoti hai
1.night 2.merciless 3.pain, sorrow 4.dew 5.nectar 6.buds
In a brilliant metaphorical turn, the poet describes dew (shabnam) as the “merciless pain of the night.” However, this pain serves a purpose in nature/life; like the morning dew, it fills the flowers with nectar (mad) and washes the faces of the budding blossoms; the night goes through pain to provide nectar and to wash buds clean.
6
yuN to aaNkheN bhi laRti haiN dil bhi dil se milt’e haiN
jis ka naam mohabbat hai vo hot’e hot’e hoti hai
The poet distinguishes between mere attraction and true love. Eyes clash and hearts meet often in life, but that which is truly called “mohabbat” does not happen instantly. It is a slow, gradual process—it happens bit by bit (hot’e hot’e). It emphasizes that real love requires time to mature and take root.
7
de gaa kaun sahaara1 mer’e pyaar ki saahas2 naiyya3 ko
toofaanoN4 se Takraati5 hai taT6 par naa’u7 Duboti8 hai
1.support 2.courage 3.boat 4.storms 5.clash, face 6.shore 7.boat 8.drown
The poet laments the lack of support for his “boat of courage” (saahas naiyya) of love. The irony here is tragic: the boat is courageous/daring enough to battle fierce storms in the open sea, yet it somehow sinks just as it reaches the shore (taT). It reflects the frustration of failing just when one thinks they have reached their destination or perhaps it reflects the importance of the struggle compared to a destination.
8
milta hai mrityu1 se jiivan2 pyaar meN marn’e vaaloN ko
duniya se muNh moR ga’e jo duniya un ko roti hai
This verse explores the paradox of martyrdom in love. Those who “die” for love actually find eternal life through their sacrifice. The world, which often ignores or ridicules lovers while they are alive, ends up weeping for them once they have turned their faces away from this existence.
9
prem1 ka darpan2 saaf nahiN to darshan3 ka aabhaas4 kahaaN
dil ro’e to baat ban’e kuchh aaNkh to nishdin5 roti hai
1.love 2.mirror 3.reflection, manifestation 4.glimpse, illusion 5.day and night, every day
If the “mirror of love” (prem ka darpan) is not clean, one cannot even hope for a glimmer/illusion aabhaas of the beloved’s presence. The poet notes that while the physical eyes cry every day (nishdin), that is not enough. For true spiritual progress or connection, the heart must weep; internal sincerity is the only thing that “makes the difference.”
10
mol1 mohabbat ka ghaT’ta2 hai dard ka daaru3 milne se
prem4 ki devi5 do kaaNToN6 par sukh7 nidra8 meN soti hai
1.value 2.reduces 3.remedy 4.love 5.godess 6.thorns 7.comfort, peace 8.sleep
The value of love actually decreases if one finds a remedy (daaru) or a quick fix for the pain. The “goddess of love” finds her peaceful sleep (sukh nidra) not on a bed of roses, but on thorns. This suggests that the very essence of love is the acceptance and endurance of pain. Said Ghalib …
dard minnat-kash-e davaa na hua
maiN na achchha hua, bura na hua
11
duuri1 ho ya nazdiiki2 ho milna hai aasaan3 rishi4
kuchh hoti hai d’er to keval5 dil miln’e ki hoti hai
1.distance, separation 2.nearness 3.easy 4.pen-name 5.only
The poet, using his pen-name rishi, concludes with a philosophical truth. Whether physical distance is great or small, (physical) meeting is actually quite easy. The only real delay (d’er) in the journey of love is the time it takes for two hearts to truly become one. Until the hearts align, no amount of physical proximity counts as a “meeting.”
The post sukh nidra meN soti hai-baam dev sharma rishi paTialavi appeared first on UrduShahkar.