
Sign up to save your podcasts
Or


https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/08/mdpsb-Khat-ke-javaab-meN-21-32-audio.mp3
Recitation
خط کے جواب میں۔۲۱۔۳۲ ۔ منشی دیوی پرشاد سحرؔ بدایونی
۲۱
بک بک کے چاٹیے نہ مرا مغز شیخ جی
یہ عرض ہے جنابِ فضیلت مآب میں
۲۲
ہوتے ہیں نازکی سے پسینے میں غرق وہ
مُدّت کے بعد ہیں کبھی آئے جو خواب میں
۲۳
دونوں کا کر چکا ہوں میں سو بار تجربہ
ہے لُطف سے بھی لُطف سِوا کچھ عتاب میں
۲۴
ہوگا وِصال بندے سے اُس بُت کا یا نہیں
یہ فال دیکھنا ہے خدا کی کتاب میں
۲۵
روئے صبیحِ یار میں خال ایک بھی نہیں
نقطہ کہیں نہیں ہے تمام اِس کتاب میں
۲۶
چہرے سے یار کے ہے عیاں سرخیِ شراب
ہے آفتاب جلوہ نُما آفتاب میں
۲۷
چلتی ہے ساتھ ساتھ میں جاتا ہوں جِس جگہ
فوجِ غم و الم مرے ہر دم رکاب میں
۲۸
ہر دم نیا سوال ہمارا ہے یار سے
کیوں کر نہ پھر سُکُوت کرے وہ جواب میں
۲۹
دونوں کو بے ثباتی میں تشبیہ تام ہے
تجنیس ہے حیات کی لفظِ حباب میں
۳۰
محرُوم خُلد میں ہو شرابِ طہور سے
دنیا میں جو کہ عیب لگائے شراب میں
۳۱
موقوف شُربِ مے پہ ہے ساقی ہماری زیست
کشتیِ عمر چلتی ہے موجِ شراب میں
۳۲
دیواں میں وصفِ زلف ہے اے سحرؔ سر بسر
مضموں ہیں پیچدار ہماری کتاب میں
منشی دیوی پرشاد سحرؔ بدایونی (١٨٤٠–١٩٠٢)—شاعر، ادیب، خوشنویس (calligrapher) اور معلم تھے۔ میرا اندازہ ہے کہ ان کی زیادہ تر تعلیم گھر پر ہی ہوئی ہوگی اور انہوں نے کسی باقاعدہ اسکول سے میٹرک پاس کیا تھا؛ وہ ہِند کی برطانوی حکومت کے شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے اور ترقی کرتے ہوئے اسکولوں کے سب انسپکٹر کے عہدے تک پہنچے، اور انہوں نے دہلی اور لکھنؤ میں خدمات انجام دیں۔ اپنے دیوان کے علاوہ، انہوں نے منطق، علمِ بلاغت (فصاحت و بلاغت)، قانونی طریقہ کار، لسانیات اور فنِ خطاطی پر تفصیلی کتابیں بھی تحریر کیں۔ یہ طویل غزل ۳۲ اشعار کی تین حِصّوں میں درج کی گئی ہے۔ غالب کی غزل ‘ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں’ کی زمین میں ہے اور غالب نقشِ قدم سے جڑی ہے۔
۲۱
بک بک کے چاٹیے نہ مرا مغز شیخ جی
یہ عرض ہے جنابِ فضیلت مآب میں
شیخ جی، میرا دماغ چاٹنا بند کیجیے۔ یہ التجا جنابِ فضیلت مآب کی خدمت میں پیش ہے۔ ‘مغز چاٹنا’ یعنی دماغ کھانا ایک محاورہ ہے جس کا مطلب کسی کو تنگ کرنا ہے۔ شیخ اُلٹی سیدھی باتیں کر کے شاعر کو تنگ کر رہا ہے۔ وہ غالباً اسے شراب کے بارے میں نصیحت کر رہا ہے اور شاعر سننے کے لئے تیّار نہیں ہے۔ شیخ کے لیے ‘فضیلت مآب’ کا لفظ طنز کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ “میرا دماغ کھانا بند کرو”، اے عالی مقام شیخ، میں آپ سے بس یہی چاہتا ہوں۔
۲۲
ہوتے ہیں نازکی سے پسینے میں غرق وہ
مُدّت کے بعد ہیں کبھی آئے جو خواب میں
یہ محبوب کے بارے میں ہے۔ وہ ایک طویل مُدّت کے بعد شاعر کے خواب میں آئی ہے۔ نازکی کی وجہ سے وہ پسینے میں غرق ہو گئی ہے۔ کیا یہ اس وجہ سے ہے کہ اسے آنے کے لیے کوئی جسمانی مشقت کرنی پڑی (خواب میں سہی) یا اِس لیے کہ وہ شرمیلی ہے – یہ واضح نہیں ہے۔
۲۳
دونوں کا کر چکا ہوں میں سو بار تجربہ
ہے لُطف سے بھی لُطف سِوا کچھ عتاب میں
ایک بار پھر شاعر نے اپنے الفاظ کے کھیل کی مہارت دکھائی ہے۔ دوسرے مصرعے میں پہلی بار لفظ ‘لطف’ کا مطلب مہربانی/کرم ہے اور دوسری بار اس کا مطلب مزہ ہے۔ میں دونوں کا سو بار تجربہ کر چکا ہوں، وہ کہتا ہے، محبوب کی عنایت کے مقابلے میں اس کے عتاب (غصے) میں زیادہ (سِوا) لطف ہے۔
۲۴
ہوگا وِصال بندے سے اُس بُت کا یا نہیں
یہ فال دیکھنا ہے خدا کی کتاب میں
الفاظ کا یہ کھیل بہت دلچسپ ہے۔ لفظ ‘بُت’ کا لفظی مطلب صنم (idol) ہے اور یہ محبوب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ وہ خوبصورت ہے اور اسے پوجا جاتا ہے۔ فال دیکھنا مُقدّس کتاب کا کوئی صفحہ کھول کر تقدیر معلوم کرنے کی ایک رسم ہے۔ خدا کی کتاب سے مراد عموماً قرآن لیا جاتا ہے۔ قرآن میں بُت پرستی کی ممانعت ہے۔ وہ قرآن میں دیکھنا چاہتا ہے کہ کیا اس کے بُت (محبوب) سے وصال کی کوئی فال نکلتی ہے۔
۲۵
روئے صبیحِ یار میں خال ایک بھی نہیں
نقطہ کہیں نہیں ہے تمام اِس کتاب میں
اِس شعر میں بھی الفاظ کا کھیل بہت دلچسپ ہے۔ اُردو شاعری میں ‘کتابی چہرہ’ خوبصورت مانا جاتا ہے۔ محبوب کا چہرہ روشن اور سفید (روئے صبیح) ہے۔ اس پر ایک بھی خال (تِل) یا نقطہ نہیں ہے (شاید شاعر تِل کو ایک داغ مانتا ہے)۔ اس کا خوبصورت چہرہ ایک ایسی کتاب کی طرح ہے جس میں بہترین خطاطی کی گئی ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام کتاب میں ایک بھی نقطہ نہیں ہے۔
۲۶
چہرے سے یار کے ہے عیاں سرخیِ شراب
ہے آفتاب جلوہ نُما آفتاب میں
محبوب کے چہرے پر شراب کی سرخی عیاں (واضح) ہے۔ دوسرے مصرعے میں آفتاب کی علامت کو ایک چمکتے ہوئے جامِ شراب کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ شراب کی سرخی ایک چمکتے ہوئے آفتاب کی طرح ہے اور یہ محبوب کے روشن چہرے (آفتاب) میں جلوہ نما ہے۔
۲۷
چلتی ہے ساتھ ساتھ میں جاتا ہوں جِس جگہ
فوجِ غم و الم مرے ہر دم رکاب میں
جہاں بھی میں جاتا ہوں، یہ میرے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ غم و الم کی فوج ہر دم میری رکاب میں ہے – یعنی میرے ساتھ ہے یا میری خِدمت میں ہے۔ رکاب سے گھوڑے کا اِشارہ ملتا ہے اور گھوڑے کے ساتھ فوج کا ذکر قابلِ غور ہے۔ نیز، گھوڑے کے دونوں طرف رکاب میں غم اور الم کا ہونا بھی ایک دلچسپ لفظی کھیل ہے۔
۲۸
ہر دم نیا سوال ہمارا ہے یار سے
کیوں کر نہ پھر سُکُوت کرے وہ جواب میں
ہر دم (ہر لمحہ) میرا محبوب سے ایک نیا سوال یا نیا تقاضا ہوتا ہے۔ پھر وہ جواب میں سکوت (خاموشی) کیوں نہ اختیار کرے؟ جواب میں خاموش رہنا ایک دلچسپ تضاد ہے۔
۲۹
دونوں کو بے ثباتی میں تشبیہ تام ہے
تجنیس ہے حیات کی لفظِ حباب میں
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ شاعر علمِ بلاغت کا ماہر تھا اور اس پر ایک کتاب بھی لکھا تھا۔ وہ اپنی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے حباب اور حیات کے لکھے ہوئے الفاظ میں تجنیس (مشابہت) اور ان کی بے ثباتی (impermanence) کی وجہ سے ان کے معنی میں تشبیہِ تام (complete/perfect analogy) کو ظاہر کرتا ہے۔
۳۰
محرُوم خُلد میں ہو شرابِ طہور سے
دنیا میں جو کہ عیب لگائے شراب میں
شاعر ان لوگوں پر بددعا نازل کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے جنہوں نے اس دنیا میں شراب پر عیب لگایا (تنقید کی)۔ خدا کرے کہ وہ جنت (خلد) میں شرابِ طہور (پاکیزہ مشروب) سے محروم رہیں۔
۳۱
موقوف شُربِ مے پہ ہے ساقی ہماری زیست
کشتیِ عمر چلتی ہے موجِ شراب میں
اے ساقی، میری زیست (زندگی) کا موقوف (انحصار) شراب پینے (شُربِ مئے) پر ہے۔ عمر کی کشتی شراب کی موجوں پر چلتی ہے۔
۳۲
دیواں میں وصفِ زلف ہے اے سحر سر بسر
مضموں ہیں پیچدار ہماری کتاب میں
اے سحرؔ، میرے دیوان میں سربسر (شروع سے آخر تک) محبوب کی زُلف کی تعریف ہے۔ میری کتاب میں تمام مضامین پیچ دار ہیں، یعنی گھومے ہوئے اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، جیسے کہ محبوب کی زُلفیں۔
ख़त के जवाब में-२१-३२ – मुंशी देवी प्रशाद सहर बदायूनी
२१
बक बक के चाटिए न मेरा मग़्ज़ शैख़ जी
ये ‘अर्ज़ है जनाब-ए फ़ज़ीलत म’आब में
२२
होते हैं नाज़ुकी से पसीने में ग़र्क़ वो
मुद्दत के बाद हैं कभी आए जो ख़्वाब में
२३
दोनों का कर चुका हूं मैं सौ बार तज्रुबा
है लुत्फ़ से भी लुत्फ़ सिवा कुछ ‘इताब में
२४
होगा विसाल बंदे से उस बुत का या नहीं
ये फ़ाल देखना है ख़ुदा की किताब में
२५
रू-ए सबीह-ए यार में ख़ाल एक भी नहीं
नुक़्ता कहीं नहीं है तमाम इस किताब में
२६
चेहरे से यार के है ‘अयां सुर्ख़ी-ए शराब
है आफ़्ताब जल्वा-नुमा आफ़्ताब में
२७
चलती है साथ साथ मैं जाता हूं जिस जगह
फ़ौज-ए ग़म-ओ अलम मरे हर दम रकाब में
२८
हर दम नया सवाल हमारा है यार से
क्यूंकर न फिर सुकून करे वो जवाब में
२९
दोनों को बे-सबाती में तश्बीह ताम है
तज्नीस है हयात की लफ़्ज़-ए हबाब में
३०
महरूम ख़ुल्द में हो शराब-ए तहूर से
दुनिया में जो के ऐब लगाए शराब में
३१
मौक़ूफ़ शुर्ब-ए मय पे है साक़ी हमारी ज़ीस्त
कश्ती-ए ‘उम्र चलती है मौज-ए शराब में
३२
दीवां में वस्फ़-ए ज़ुल्फ़ है अए सहर सर-ब-सर
मज़मूं हैं पेचदार हमारी किताब में
मुंशी देवी प्रसाद सहर बदायूनी (१८४०–१९०२)—कवि, लेखक, सुलेखक (कैलीग्राफर) और शिक्षक थे। मेरा अनुमान है के उन की ज़्यादातर शिक्षा घर पर ही हुई होगी और उन्होंने किसी औपचारिक स्कूल से मैट्रिक की पढ़ाई पूरी की थी। उन्होंने औपनिवेशिक (ब्रिटिश) सरकार के शिक्षा विभाग में काम किया और तरक़्क़ी कर के स्कूलों के सब-इंस्पेक्टर के पद तक पहुंचे, जहाँ उन्होंने दिल्ली और लखनऊ में काम किया। अपने दीवान के अलावा, उन्होंने तर्कशास्त्र (logic), अलंकार-शास्त्र (rhetoric), क़ानूनी प्रक्रियाओं, भाषाविज्ञान (linguistics) और सुलेख कला (calligraphy) पर विस्तृत पुस्तकें भी लिखीं। ये ग़ज़ल ३२ शे’र की होने से तीन हिस्सौं में दर्ज है। ग़ालिब की ग़ज़ल ‘साक़ी ने कुछ मिला न दिया हो शराब में’ – ग़ालिब नक़्श-ए क़दम से जुढी है।
२१
बक बक के चाटिए न मेरा मग़्ज़ शैख़ जी
ये ‘अर्ज़ है जनाब-ए फ़ज़ीलत म’आब में
शेख़ जी, मेरा दिमाग़ चाटना बंद कीजिए। ये इल्तेजा जनाब-ए फ़ज़ीलत मा’आब की ख़िदमत में पेश है। ‘मग़ज़ चाटना’ यानी दिमाग़ खाना एक मुहावरा है जिस का मतलब किसी को तंग करना है। शेख़ उल्टी-सीधी बातें कर के शा’एर को तंग कर रहा है। वो ग़ालिबन उसे शराब के बारे में नसीहत कर रहा है और शा’एर सुनने को तय्यार नहीं है। शेख़ के लिये ‘फ़ज़ीलत मा’आब’ का लफ़्ज़ तंज़ के तौर पर इस्तेमाल हुआ है। “मेरा दिमाग़ खाना बंद करो”, अए आली-मक़ाम शेख़, मैं आप से बस यही चाहता हूँ।
२२
होते हैं नाज़ुकी से पसीने में ग़र्क़ वो
मुद्दत के बाद हैं कभी आए जो ख़्वाब में
ये महबूब के बारे में है। वो बढी देर (बहुत दिनौं) के बाद शा’एर के ख़्वाब में आई है। नाज़ुकी की वजह से वो पसीने में भीग गई है। क्या ये इस वजह से है के उसे आने के लिये कोई जिस्मानी मशक़्क़त करनी पड़ी (ख़्वाब में हि सही) या इस लिये के वो शर्मिली है – ये वाज़ेह नहीं है।
२३
दोनों का कर चुका हूं मैं सौ बार तज्रुबा
है लुत्फ़ से भी लुत्फ़ सिवा कुछ ‘इताब में
एक बार फिर शा’एर ने अपने अल्फ़ाज़ के खेल की महारत दिखाई है। दूसरे मिसरे में पहली बार लफ़्ज़ ‘लुत्फ़’ का मतलब मेहरबानी/करम है और दूसरी बार इस का मतलब मज़ा है। मैं दोनों का सौ बार तज्रुबा कर चुका हूँ, वो ऐलान करता है, महबूब की इनायत के मुक़ाबले में उसके ‘इताब (ग़ुस्से) में ज़्यादा (सिवा) लुत्फ़ है।
२४
होगा विसाल बंदे से उस बुत का या नहीं
ये फ़ाल देखना है ख़ुदा की किताब में
अल्फ़ाज़ का ये खेल बहुत दिलचस्प है।’बुत’ का लफ़्ज़ी मतलब सनम/मूर्ती है और ये महबूब के लिये भी इस्तेमाल होता है क्यूंके वो ख़ूबसूरत है और उसे पूजा जाता है। फ़ाल देखना धार्मिक किताब का कोई सफ़्हा खोल कर तक़्दीर मालूम करने की एक रस्म है। ख़ुदा की किताब से मुराद सामान्य रूप से क़ुर’आन लिया जाता है। क़ुर’आन में बुत-परस्ती की मनाही है। वो क़ुर’आन में देखना चाहता है के क्या उस के बुत (महबूब) से विसाल की कोई फ़ाल निकलती है।
२५
रू-ए सबीह-ए यार में ख़ाल एक भी नहीं
नुक़्ता कहीं नहीं है तमाम इस किताब में
इस शे’र में भी अल्फ़ाज़ का खेल बहुत दिलचस्प है। उर्दू शा’एरी में ‘किताबी चेहरा’ ख़ूबसूरत माना जाता है। महबूब का चेहरा रोशन और सफ़ेद (रू-ए सबीह) है। उस पर एक भी ख़ाल (तिल) या नुक़्ता नहीं है (शा’एद शा’एर तिल को एक दाग़ मानता है)। उस का ख़ूबसूरत चेहरा एक ऐसी किताब की तरह है जिस में बेहतरीन हस्तलिपि (calligraphy) की गई हो। दिलचस्प बात ये है के पूरी किताब में एक भी नुक़्ता नहीं है।
२६
चेहरे से यार के है ‘अयां सुर्ख़ी-ए शराब
है आफ़्ताब जल्वा-नुमा आफ़्ताब में
महबूब के चेहरे पर शराब की सुर्ख़ी ‘अयाँ (प्रकट) है। दूसरे मिसरे में आफ़्ताब के प्रतीक (symbol) को एक चमकते हुए जाम-ए शराब के तौर पर इस्तेमाल किया गया है। शराब की सुर्ख़ी एक चमकते हुए आफ़्ताब की तरह है और ये महबूब के रोशन चेहरे (आफ़्ताब) में जल्वह-नुमा (प्रकट) है।
२७
चलती है साथ साथ मैं जाता हूं जिस जगह
फ़ौज-ए ग़म-ओ अलम मरे हर दम रकाब में
जहाँ भी मैं जाता हूँ, ये मेरे साथ-साथ चलती है। ग़म-ओ-अलम की फ़ौज हर दम मेरी रिकाब में है – या’नी मेरे साथ है या मेरी ख़िद्मत में है। रिकाब से घोड़े का इशारा मिलता है और घोड़े के साथ फ़ौज का ज़िक्र क़ाबिल-ए ग़ौर है। अथवा, घोड़े के दोनों तरफ़ रिकाब में ग़म और अलम का होना भी एक दिलचस्प लफ़्ज़ी खेल है।
२८
हर दम नया सवाल हमारा है यार से
क्यूंकर न फिर सुकून करे वो जवाब में
हर दम (हर लम्हा) मेरा महबूब से एक नया सवाल या नया तक़ाज़ा होता है। फिर वो जवाब में सुकूत (ख़ामोशी) क्यूं न एख़्तियार करे? जवाब में ख़ामोश रहना एक दिलचस्प विपरीत है।
२९
दोनों को बे-सबाती में तश्बीह ताम है
तज्नीस है हयात की लफ़्ज़-ए हबाब में
ये याद रखना चाहिए के शा’एर ‘इल्म-ए बलाग़त (rhetoric) का माहिर था और इस पर एक किताब भी लिखा था। वो अपनी महारत का इस्तेमाल करते हुए हबाब और हयात के लिखे हुए अल्फ़ाज़ में तजनीस (similarity) और उन की बे-सबाती (impermanence) की वजह से उन के मा’अनी में तश्बीह-ए तआम (perfect analogy) को ज़ाहिर करता है।
३०
महरूम ख़ुल्द में हो शराब-ए तहूर से
दुनिया में जो के ऐब लगाए शराब में
शा’एर उन लोगों पर बद-दुआ देता हुआ मालूम होता है जिन्होंने इस दुनिया में शराब पर ‘ऐब लगाया (criticised)। ख़ुदा करे के वो जन्नत (ख़ुल्द) में शराब-ए तहूर (pure/sanctified drink) से वंचित (deprived) रहें।
३१
मौक़ूफ़ शुर्ब-ए मय पे है साक़ी हमारी ज़ीस्त
कश्ती-ए ‘उम्र चलती है मौज-ए शराब में
अए साक़ी, मेरी ज़ीस्त (ज़िंदगी) का इनहेसार (निर्भरता) शराब पीने (शुर्ब-ए मए) पर है। जीवन की कश्ती शराब की मौजों पर चलती है।
३२
दीवां में वस्फ़-ए ज़ुल्फ़ है अए सहर सर-ब-सर
मज़मूं हैं पेचदार हमारी किताब में
अए सहर, मेरे दीवान में सर-ब-सर (शुरू से आख़र तक) महबूब की ज़ुलफ़ की तरीफ़ है। मेरी किताब में तमाम मज़्मून (विषय) पेचदार हैं, यानी घूमे हुए और एक दूसरे से जुड़े हुए हैं, जैसे के महबूब के बाल।
Khat ke javaab m’eN-21-32 – munshii devii prashaad sahar badaayunii
munshi devi prashaad sahar badayuni (1840-1902) – poet, writer, calligrapher and educator. I am guessing that most of his education was at home, and that he completed his matriculation from a formal school. He worked for the colonial governm’eNt in the departm’eNt of education and rose to be a sub-inspector of schools, working in dehli and lakhnow. In addition to his diivan, he wrote book length discourses on logic, rhetoric, legal procedures, linguistics and the art of calligraphy. This is a long Ghazal in the zamiin of Ghalib‘s saaqi ne kuchh mila na diya ho sharaab meN. Because it is long, I have posted it in three parts. All three parts are linked to Ghalib naqsh-e qadam.
maGhz chaaTna to lick brains is an expression meaning to annoy someone. The shaiKh keeps talking nonsense and annoys the poet. He is probably preaching him about wine and the poet is no mood to listen. The descriptor faziilat ma’aab – endowed with eminence – for the shaiKh is used as an obvious sarcasm. “Stop eating my brain”, is what I ask of you, O eminent shaiKh.
This is about the beloved. She has appeared in the poet/lover’s dream after a long time muddat. Because is show delicate naazuk she is drenched Gharq in sweat. Is that because she had to make some physical effort to appear or is it because she is bashful – it is not clear to me.
Once again the poet shows his facility in word play. In the second misra the word lutf means favour/kindness first and the second time it means pleasure. I have experienced tajrubah both, he declares, there is greater sivaa pleasure in the beloved’s anger ‘itaab than in her favours.
This wordplay is very interesting. The word but literally means “idol” and is also used for the beloved because she is beautiful and is idolized/worshipped. faal dekhna is a ritual practice to try and interpret randomly selected passages of a holy scripture to see if they predict the future/fate of the person. Khudaa ki kitaab is generally understood to mean the qur’aan. Idol worship – but-parastii is forbidden in the qur’aan. He wants to look up a passage in the qur’aan to see if it predicts his possible union with his but – beloved.
This sh’er also has interesting word play. In urdu poetic literature kitaabi chehra is considered beautiful. The beloved has a fair and bright face ruu-e sabiih. There is not a single mole or point on it (maybe the poet considers a mole/black spot to be a blemish). Her beautifully sculpted face is like a book with exquisite calligraphy. The interesting thing is that the whole tamaam book does not have a single dot.
On the face chehr’e pe of the beloved yaar is evident/manifest ‘ayaaN the redness of wine surKhi-e sharaab. In the second misra the symbolism of the aaftaab as a bright wine-cup (glowing beauty) is used. The redness of wine is like a glowing sun aaftaab and it is displayed jalva-numaa in the glowing face – aaftaab – of the beloved.
It goes side by side with me, wherever I go. The army fauj of pain and sorrow Gham-o-alam is always har dam in my stirrups – accompanying me/attending to me. Stirrup implies a horse and juxtaposition of a horse with fauj is noteworthy. Also, Gham-o-alam one on each side of the horse, in each stirrup is an interesting word play.
Every moment har dam I have a new question/new demand nayaa savaal of the beloved. Why then kyuNkar na phir would she not remain silent in reply. Remaining silent in reply are interesting opposites.
It should be remembered that the poet was an expert in rhetoric and wrote a treatise on it. He draws upon his expertise to point to the resemblence tajniis between the written words (in urdu) habaab and hayaat and their complete analogy in meaning tashbiih-e taam because of the impermanence be-sabaati of both.
The poet seems to be pronouncing a curse on those who have criticised ‘aib lagaana wine in this life. May they be deprived mahruum in heaven Khuld of sharaab-e tahuur – the purifying drink of paradise.
O saaqi, my life ziist depends on mauquuf on the drinking of wine shurb-e ma’e. The boat of life kashtii-e ‘umr sails on waves of wine mauj-e sharaab.
O sahar, my diivaan is end-to-end sar-ba-sar a praise of the curly hair of the beloved. In my book all themes are curled pechdaar meaning convoluted in the sense of one leading to another on a curved path.
The post Khat ke javaab m’eN-21-32-munshi devi prashaad sahar badayuni appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/08/mdpsb-Khat-ke-javaab-meN-11-20-audio.mp3
Recitation
خط کے جواب میں۔۱۱۔۲۰ ۔ منشی دیوی پرشاد سحرؔ بدایونی
۱۱
خوفِ فِراق وصل میں، فُرقت میں فِکرِ وصل
دونوں طرح سے جان پڑی ہے عذاب میں
۱۲
ہے جی میں جاؤں عالمِ علویٰ کی سیر کو
مِٹّی خراب اپنی ہے دیرِ خراب میں
۱۳
کس بات کا ہے سوچ مرے قتل میں تمہیں
تاخیر کیا ضرور ہے کارِ ثواب میں
۱۴
ساقی نہ دیر کر یہ خدا ساز بات ہے
ہے لطفِ آفتاب شبِ ماہتاب میں
۱۵
دیتے کسی کے عارضِ سادہ سے ہم مثال
ہوتا خطِ شعاع نہ اگر آفتاب میں
۱۶
دل تو جلا چکے کبھی ہنس بھی تو دیجیے
ہوتا نمک ضرور ہے صاحب کباب میں
۱۷
جانے کا کرتے ہیں وہ تقاضہ گھڑی گھڑی
قِسمت سے میری ہیں اگر آتے بھی خواب میں
۱۸
سوئے تمام رات وہ آغوش میں میری
مجھ کو ملی یہ دولتِ بیدار خواب میں
۱۹
کہتے ہیں جس کو خواب شبِ ہجرِ یار میں
میں کیا مرے فرشتوں نے دیکھا نہ خواب میں
۲۰
ظاہر نہ کیجے پیری میں نابالغ آپ کو
رنگ رنگ کے شیخ ریشِ مبارک خضاب میں
منشی دیوی پرشاد سحرؔ بدایونی (١٨٤٠–١٩٠٢)—شاعر، ادیب، خوشنویس (calligrapher) اور معلم تھے۔ میرا اندازہ ہے کہ ان کی زیادہ تر تعلیم گھر پر ہی ہوئی ہوگی اور انہوں نے کسی باقاعدہ اسکول سے میٹرک پاس کیا تھا؛ وہ ہِند کی برطانوی حکومت کے شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے اور ترقی کرتے ہوئے اسکولوں کے سب انسپکٹر کے عہدے تک پہنچے، اور انہوں نے دہلی اور لکھنؤ میں خدمات انجام دیں۔ اپنے دیوان کے علاوہ، انہوں نے منطق، علمِ بلاغت (فصاحت و بلاغت)، قانونی طریقہ کار، لسانیات اور فنِ خطاطی پر تفصیلی کتابیں بھی تحریر کیں۔ یہ طویل غزل ۳۲ اشعار کی تین حِصّوں میں درج کی گئی ہے۔ غالب کی غزل ‘ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں’ کی زمین میں ہے اور غالب نقشِ قدم سے جڑی ہے۔
۱۱
خوفِ فِراق وصل میں، فُرقت میں فِکرِ وصل
دونوں طرح سے جان پڑی ہے عذاب میں
وصال کے دوران جدائی کا خوف (خوفِ فراق) اور جدائی (فرقت) کے دوران وصال کی فکر۔ دونوں صورتوں میں اس کی جان عذاب میں پڑ گئی ہے۔
۱۲
ہے جی میں جاؤں عالمِ علویٰ کی سیر کو
مِٹّی خراب اپنی ہے دیرِ خراب میں
میرے دل میں ہے کہ اعلیٰ دنیا (عالمِ علویٰ) کی سیر کے لیے جاؤں۔ اس خراب دنیا (دیرِ خراب) میں ہماری مِٹّی خراب ہو رہی ہے؛ جبکہ ایک چھوٹی سی تبدیلی کے ساتھ ‘دیرِ خرابات’ کا مطلب مے خانے کی دنیا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں “عالمِ علوی” کا یہ سیری دورہ روح کو پاک کرنے کا ایک عمل ہے۔
۱۳
کس بات کا ہے سوچ مرے قتل میں تمہیں
تاخیر کیا ضرور ہے کارِ ثواب میں
یہ اس محبوب سے مخاطب ہے جو شاعر/عاشق کے قتل میں کچھ ہچکچاہٹ دکھا رہا ہے۔ تم کیا سوچ رہے ہو؛ کیا ثواب کے کام (کارِ ثواب) میں تاخیر ضروری ہے؟
۱۴
ساقی نہ دیر کر یہ خدا ساز بات ہے
ہے لطفِ آفتاب شبِ ماہتاب میں
روایتی طور پر، چودھویں کی رات (شبِ مہتاب) – اور بہار کی بارش کا دن (ابر کا دن) – شراب پینے کا بہترین موقع مانا جاتا ہے۔ غالب لکھتے ہیں
غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
پیتا ہوں روزِ اَبر و شبِ ماہتاب میں
… شاعر ساقی سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ جلدی کرے اور شراب پلائے کیونکہ یہ خدا کا دیا ہوا حکم یا بات (خدا ساز بات) ہے۔ وہ کہتا ہے… چودھویں کی رات میں روشن سورج کا لطف ملتا ہے۔ یہ سوچا جا سکتا ہے کہ یہ رات کی روشنی کی طرف اشارہ ہے، جو دن کی طرح لگ سکتی ہے، لیکن یہ سورج کی طرف بھی اشارہ ہے جو چمکتے ہوئے جامِ شراب کی علامت ہے۔ حافظؔ شیرازی نے کہا تھا…
خورشیدِ مے زِ مشرقِ ساغر طلوع کرد
۔۔۔ یعنی ۔۔۔ خورشیدِ ساغرِ مے مشرق سے طلوع ہوا ہے
۱۵
دیتے کسی کے عارضِ سادہ سے ہم مثال
ہوتا خطِ شعاع نہ اگر آفتاب میں
اُردو زبان میں ‘سادہ’ کا لفظ معمولی یا بغیر خصوصیت کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا، بلکہ بے داغ اور پاکیزہ کے معنی میں ہوتا ہے؛ اور یہاں ‘کسی’ کا اشارہ محبوب کی طرف ہے۔ شاعر کا ماننا ہے کہ سورج (آفتاب) میں روشنی کی شعاعوں کی لکیریں (خط) ہیں۔ وہ اُنہیں ایک داغ/خامی مانتا ہے۔ اگر وہ لکیریں نہ ہوتیں، تو ہم سورج کا موازنہ محبوب کے بے داغ چہرے یا رخسار کی چمک سے کر سکتے تھے۔
۱۶
دل تو جلا چکے کبھی ہنس بھی تو دیجیے
ہوتا نمک ضرور ہے صاحب کباب میں
آپ نے میرا دل تو جلا کر کباب کر دیا ہے، لیکن کبھی مسکرا بھی دیا کیجیے۔ اے صاحب، کباب میں نمک تو ضرور ہوتا ہے۔ وہ اپنے جلے ہوئے دل کو کباب کی طرح اور محبوب کی مسکراہٹ کو نمک کی طرح مانتا ہے، جو کباب کو ذائقہ دینے کے لیے ضروری ہے۔
۱۷
جانے کا کرتے ہیں وہ تقاضہ گھڑی گھڑی
قِسمت سے میری ہیں اگر آتے بھی خواب میں
یہ شعر پہلے مصرعے میں ایک غیر معمولی اور شاندار منظر تخلیق کرتا ہے اور دوسرے مصرعے میں اسے ختم کر دیتا ہے۔ محبوب ملاقات کے لیے آئی ہے لیکن ہر گھڑی (گھڑی گھڑی) جانے کا تقاضا کرتی ہے۔ دوسرا مصرع اس منظر کو یہ بتا کر توڑتا ہے کہ یہ اس کے خواب میں ہو رہا ہے، اور وہ خواب بھی خوش قسمتی سے کبھی کبھار ہی آتا ہے۔
۱۸
سوئے تمام رات وہ آغوش میں میری
مجھ کو ملی یہ دولتِ بیدار خواب میں
یہ شعر بھی پہلے مصرعے میں ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے اور دوسرے مصرعے میں اسے ختم کر دیتا ہے۔ وہ تمام رات میری آغوش میں سوئی رہی؛ مجھے یہ دولتِ بیدار (unexpected bounty) اپنے خواب میں ملی۔
۱۹
کہتے ہیں جس کو خواب شبِ ہجرِ یار میں
میں کیا مرے فرشتوں نے دیکھا نہ خواب میں
اس شعر میں الفاظ کا کھیل یہ ہے کہ پہلے مصرعے میں ‘خواب’ کا استعمال نیند کے لیے ہوا ہے اور دوسرے مصرعے میں ‘خواب’ (dream) کے لیے۔ محبوب سے جدائی کی راتوں (شبِ ہجرِ یار) میں، جسے نیند (خواب) کہتے ہیں، وہ مجھے کیسے مل سکتی ہے جب فرشتے بھی اس کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔ “نیند تو خواب میں بھی حاصل نہیں ہوتی”، یہ خیال کا ایک بہت دلچسپ اور پیچیدہ طریقہ ہے۔
۲۰
ظاہر نہ کیجے پیری میں نابالغ آپ کو
رنگ رنگ کے شیخ ریشِ مبارک خضاب میں
یہاں پہلے مصرعے میں لفظ ‘آپ’ کو ‘اپنے آپ’ کے معنی میں لیا جائے گا۔ بڑھاپے میں اپنے آپ کو نادان (نابالغ) ظاہر نہ کیجیے؛ اے شیخ، آپ اپنی داڑھی (ریشِ مبارک) کو طرح طرح کے رنگوں کے خضاب میں رنگتے ہیں؛ اس طرح وہ عمر سے چھوٹا دکھنے کی کوشش کرتا ہے اور نادان/نابالغ معلوم ہوتا ہے۔
ख़त के जवाब में-११-२० – मुंशी देवी प्रशाद सहर बदायूनी
११
ख़ौफ़-ए फ़िराक़ वस्ल में, फ़ुर्क़त में फ़िक्र-ए वस्ल
दोनों तरह से जान पड़ी है अज़ाब में
१२
है जी में जाऊं आलम-ए ‘अलवी की सैर को
मिट्टी ख़राब अपनी है दैर-ए ख़राब में
१३
किस बात का है सोच मेरे क़त्ल में तुम्हें
ताख़ीर क्या ज़रूर है कार-ए सवाब में
१४
साक़ी न देर कर ये ख़ुदा-साज़ बात है
है लुत्फ़-ए आफ़्ताब शब-ए माहताब में
१५
देते किसी के आरेज़-ए सादा से हम मिसाल
होता ख़त-ए शु’आ’ न अगर आफ़्ताब में
१६
दिल तो जला चुके कभी हंस भी तो दीजिए
होता नमक ज़रूर है साहब कबाब में
१७
जाने का करते हैं वो तक़ाज़ा घड़ी घड़ी
क़िस्मत से मेरी हैं अगर आते भी ख़्वाब में
१८
सोए तमाम रात वो आग़ोश में मेरी
मुझ को मिली ये दौलत-ए बेदार ख़्वाब में
१९
कहते हैं जिस को ख़्वाब शब-ए हिज्र-ए यार में
मैं क्या मरे फ़रिश्तों ने देखा न ख़्वाब में
२०
ज़ाहिर न कीजे पीरी में ना-बालिग़ आप को
रंग रंग के शेख़ रेश-ए मुबारक ख़िज़ाब में
मुंशी देवी प्रसाद सहर बदायूनी (१८४०–१९०२)—कवि, लेखक, सुलेखक (कैलीग्राफर) और शिक्षक थे। मेरा अनुमान है के उन की ज़्यादातर शिक्षा घर पर ही हुई होगी और उन्होंने किसी औपचारिक स्कूल से मैट्रिक की पढ़ाई पूरी की थी। उन्होंने औपनिवेशिक (ब्रिटिश) सरकार के शिक्षा विभाग में काम किया और तरक़्क़ी कर के स्कूलों के सब-इंस्पेक्टर के पद तक पहुंचे, जहाँ उन्होंने दिल्ली और लखनऊ में काम किया। अपने दीवान के अलावा, उन्होंने तर्कशास्त्र (logic), अलंकार-शास्त्र (rhetoric), क़ानूनी प्रक्रियाओं, भाषाविज्ञान (linguistics) और सुलेख कला (calligraphy) पर विस्तृत पुस्तकें भी लिखीं। ये ग़ज़ल ३२ शे’र की होने से तीन हिस्सौं में दर्ज है। ग़ालिब की ग़ज़ल ‘साक़ी ने कुछ मिला न दिया हो शराब में’ – ग़ालिब नक़्श-ए क़दम से जुढी है।
११
ख़ौफ़-ए फ़िराक़ वस्ल में, फ़ुर्क़त में फ़िक्र-ए वस्ल
दोनों तरह से जान पड़ी है अज़ाब में
विसाल (मिलन) के दौरान (वक़्त) जुदाई का डर (ख़ौफ़) (ख़ौफ़-ए फ़िराक़) और जुदाई (फ़ुर्क़त) के दौरान विसाल की फ़िक्र। दोनों तरह से उस की जान अज़ाब में पड़ी हुई है।
१२
है जी में जाऊं आलम-ए ‘अलवी की सैर को
मिट्टी ख़राब अपनी है दैर-ए ख़राब में
मेरे दिल में है के आला दुनिया (‘आलम-ए ‘अल्वा) की सैर के लिये जाऊँ। इस ख़राब दुनिया (दैर-ए ख़राब) में हमारी मिट्टी ख़राब हो रही है; जबके एक मामूली सी तब्दीली के साथ ‘दैर-ए ख़राबात’ का मतलब मयख़ाने की दुनिया होता है। मेरे ख़याल मलं “‘आलम-ए ‘अल्वा” का ये सैरी दौरा रूह को पाक करने का एक अमल है।
१३
किस बात का है सोच मेरे क़त्ल में तुम्हें
ताख़ीर क्या ज़रूर है कार-ए सवाब में
ये उस महबूब से मुख़ातिब है जो शा’एर/आशिक़ के क़त्ल में कुछ हिचकिचाहट दिखा रहा है। तुम क्या सोच रहे हो; क्या सवाब के काम (कार-ए सवाब) में ताख़ीर ज़रूरी है?
१४
साक़ी न देर कर ये ख़ुदा-साज़ बात है
है लुत्फ़-ए आफ़्ताब शब-ए माहताब में
रिवायती तौर पर, चौदहवीं की रात (शब-ए माहताब) – और बहार की बारिश का दिन (अब्र का दिन) – शराब पीने का बेहतरीन मौक़ा माना जाता है। ग़ालिब लिखते हैं…
ग़ालिब छुटी शराब पर अब भी कभी कभी
पीता हूं रोज़-ए अब्र ओ शब-ए माहताब में
शा’एर साक़ी से तक़ाज़ा करता है के वो जल्दी करे और शराब पिलाए क्यूंके ये ख़ुदा का दिया हुआ हुक्म या बात है (ख़ुदा-साज़ बात)। वो कहता है… चौदहवीं की रात में रोशन सूरज का लुत्फ़ मिलता है। कोई सोच सकता है के ये रात की रोशनी की तरफ़ इशारा है, जो दिन की तरह लग सकती है, लेकिन ये सूरज की तरफ़ भी इशारा है जो चमकते हुए जाम-ए शराब की अलामत है। हाफ़िज़ शीराज़ी ने कहा था…
ख़ुर्शीद-ए मय ज़-ए मश्रिक़-ए साग़र तुलू करद
— यानी — साग़र-ए मय का सूरज पूरब से निकला है
१५
देते किसी के आरेज़-ए सादा से हम मिसाल
होता ख़त-ए शु’आ’ न अगर आफ़्ताब में
उर्दू ज़बान में ‘सादा’ का लफ़्ज़ मामूली या बग़ैर ख़सूसियत के मा’नी में इस्तेमाल नहीं होता, बल्के बे-दाग़ और पाकीज़ा के मा’नी में होता है; और यहाँ ‘किसी’ का इशारा महबूब की तरफ़ है। शा’एर का मानना है के सूरज (आफ़्ताब) में रोशनी की शु’आ’ओं की लकीरें (ख़त) हैं। वो उन्हें एक दाग़/कलंक मानता है। अगर वो लकीरें न होतीं, तो हम सूरज की तुलना महबूब के बे-दाग़ चेहरे या रुख़्सार की चमक से कर सकते थे।
१६
दिल तो जला चुके कभी हंस भी तो दीजिए
होता नमक ज़रूर है साहब कबाब में
आप ने मेरा दिल तो जला कर कबाब कर दिया है, लेकिन कभी मुस्कुरा भी दिया कीजिए। अए साहब, कबाब में नमक तो ज़रूर होता है। वो अपने जले हुए दिल को कबाब की तरह और महबूब की मुस्कुराहट को नमक की तरह मानता है, जो कबाब को स्वाद देने के लिये ज़रूरी है।
१७
जाने का करते हैं वो तक़ाज़ा घड़ी घड़ी
क़िस्मत से मेरी हैं अगर आते भी ख़्वाब में
ये शे’र पहले मिसरे में एक ग़ैर-मामूली और शानदार मंज़र खींचता है और दूसरे मिसरे में इसे मिटा कर देता है। महबूब मुलाक़ात के लिये आई है लेकिन हर घड़ी (घड़ी-घड़ी) जाने का तक़ाज़ा करती है। दूसरा मिसरा इस मंज़र को ये बताकर मिटाता है के ये उस के ख़्वाब में हो रहा है, और वो ख़्वाब भी कभी-कभार ही आता है।
१८
सोए तमाम रात वो आग़ोश में मेरी
मुझ को मिली ये दौलत-ए बेदार ख़्वाब में
ये शे’र भी पहले मिसरे में एक ख़ूबसूरत तस्वीर पेश करता है और दूसरे मिसरे में उसे मिटा देता है। वो तमाम रात मेरी आग़ोश (बांहौं) में सोई; मुझे ये अप्रत्याशित सौभाग्य (दौलत-ए बेदार) अपने ख़्वाब में मिली।
१९
कहते हैं जिस को ख़्वाब शब-ए हिज्र-ए यार में
मैं क्या मरे फ़रिश्तों ने देखा न ख़्वाब में
इस शे’र में अल्फ़ाज़ का खेल ये है के पहले मिसरे में ‘ख़्वाब’ का इस्तेमाल नींद के लिये हुआ है और दूसरे मिसरे में ‘ख़्वाब’ (सपने) के लिये। महबूब से जुदाई की रातों (शब-ए हिज्र-ए यार) में, जिसे नींद (ख़्वाब) कहते हैं, वो मुझे कैसे मिल सकती है जब फ़रिश्ते भी इस का ख़्वाब नहीं देख सकते। “नींद तो ख़्वाब में भी हासिल नहीं होती”, ये ख़याल का एक बहुत दिलचस्प और पेचीदा तरीक़ा है।
२०
ज़ाहिर न कीजे पीरी में ना-बालिग़ आप को
रंग रंग के शेख़ रेश-ए मुबारक ख़िज़ाब में
यहाँ पहले मिसरे में लफ़्ज़ ‘आप’ को ‘अपने आप’ के मा’नी में लिया जाएगा। बुढ़ापे में अपने आप को नादान (ना-बालिग़) ज़ाहिर न कीजिए; अए शेख़, आप अपनी दाढ़ी (रेश-ए मुबारक) को तरह-तरह के रंगों के ख़िज़ाब में रंगते हैं; इस तरह जितनी उम्र है उस से छोटे दिखने की कोशिश करते हैं और नादान/नाबालिग़ मालूम होते हैं।
Khat ke javaab m’eN-11-20 – munshii devi prashaad sahar badaayunii
munshi devi prashaad sahar badayuni (1840-1902) – poet, writer, calligrapher and educator. I am guessing that most of his education was at home, and that he completed his matriculation from a formal school. He worked for the colonial governm’eNt in the departm’eNt of education and rose to be a sub-inspector of schools, working in dehli and lakhnow. In addition to his diivan, he wrote book length discourses on logic, rhetoric, legal procedures, linguistics and the art of calligraphy. This is a long Ghazal in the zamiin of Ghalib‘s saaqi ne kuchh mila na diya ho sharaab meN. Because it is long, I have posted it in three parts. All three parts are linked to Ghalib naqsh-e qadam.
Fear of separation Khauf-e firaaq during union vasl and during separation furqat worry/concern fikr of union. In both cases his life is a curse/torture ‘azaab.
It is my heart to go the higher world ‘aalam-e ‘alvii for sightseeing sair. miTTi Kharaab hona means legacy getting soiled/disreputed and da’er-e Kharaab can mean this sinful world while a slight variation da’er-e Kharaabaat means the domain of the tavern. I suppose a sightseeing tour of the “higher world” is meant to be a cleansing act.
This is addressed to the beloved who is showing some hesitation in slaughtering the poet/lover. What are you thinking of; is delay/postponem’eNt taaKhiir necessary in an act of virtue kaar-e savaab.
Traditionally the night of the full moon shab-e mahtaab (and also the day of spring rains – cloudy day) is considered a prime occasion for drinking wine. Ghalib writes …
In urdu phraseology saadaah – plain – is not used to mean ordinary, featureless but mean flawless, unblemished; and here kisii – someone’s – refers to the beloved. The poet considers that in the sun aaftaab there are lines Khat of rays of light shu’aa’. He considers these to be a blemish. If there had been no lines, then we could have compared the sun to the brilliance of the beloved’s unblemished face/cheek.
You have burnt/roasted my heart but at least smile (with a look of pleasure) sometimes. O respected one saahib there is surely zaruur salt sprinkled on the kabaab. He considers his roasted heart to be like kabaab and the beloved’s smile to be like salt, which is essential to give the kabaab any taste.
This sh’er creates an unusual and remarkable scene in the first misra and deflates it in the scond. The beloved has arrived for a rendevous but every mom’eNt ghaRii-ghaRii, she insists/demands that she depart. The second misra punctures the scene by indicating that this is happening in his dream, and even that dream occurs only sometimes by rare good fortune.
This sh’er also paints a rosy picture in the first misra and deflates it in the second. She slept all night long in my arms/embrace aaGhosh; I received this rare good fortune daulat-e bedaar in my dream.
The word play in this sh’er is that in the first misra Khwaab is used to mean sleep and dream in the second. During nights of separation from the beloved shab-e hijr-e yaar, that which is called sleep Khwaab, how can I get it when even angels cannot even dream of it. “Sleep is not achievable even in dreams”, is a very interesting and convoluted construction of thought flow.
Here, the word aap in the first misra is to be interpreted to mean apn’e aap – to you yourself. Do not appear/show yourself zaahir as immature naa-baaliGh in your old age; O shaiKh you keep dyeing (Khizaab m’eN raNg-raNg ke) your venerated hair resh-e mubaarak; thus trying to appear younger than he is, he appears immature.
The post Khat ke javaab meN-11-20-munshi devi prashaad sahar badayuni appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/08/mdpsb-Khat-ke-javaab-meN-01-10-audio.mp3
Recitation
خط کے جواب میں۔۰۱۔۱۰ ۔ منشی دیوی پرشاد سحرؔ بدایونی
۱
قاصد یہی دعا ہے خدا کی جناب میں
آ جائے یار خود مرے خط کے جواب میں
۲
دیکھے نہ غیر چہرہ چُھپا لو نقاب میں
شیطان پڑھ نہ جائے خدا کی کتاب میں
۳
فُرقت میں عیش تلخ ہے جاں ہے عذاب میں
ساقی پلا دے زہر مِلا کر شراب میں
۴
ہر بار ایک سے گِنے وہ طِفل یا خدا
ہر بار بوسہ دینے میں بھولے حِساب میں
۵
قسمت میں لکھ دیا مرے کیوں بے حِساب رنج
اُلجُھھوں گا میں خدا سے بھی جا کر حِساب میں
۶
صِفرِ دہن سے چہرے میں ہے اَزدیاد حُسن
دَہ چند ہے جمال ہمارے حِساب میں
۷
شامت ہے کِس کی کِس پہ بلا آنے والی ہے
زُلفوں کے بال کَس لیے ہیں پیچ و تاب میں
۸
جور و جفا کا آپ کے کیوں کر کروں شُمار
کس طرح بے حِساب کو لاؤں حِساب میں
۹
آؤ یہاں بھی بہرِ تماشہ کبھی کبھی
دریا کی سیر ہے مری چشمِ پُر آب میں
۱۰
گنتے وہ عاشقوں ہی میں اپنے نہیں مجھے
میں کوئی چیز ہی نہیں اُن کے حِساب میں
منشی دیوی پرشاد سحرؔ بدایونی (١٨٤٠–١٩٠٢)—شاعر، ادیب، خوشنویس (calligrapher) اور معلم تھے۔ میرا اندازہ ہے کہ ان کی زیادہ تر تعلیم گھر پر ہی ہوئی ہوگی اور انہوں نے کسی باقاعدہ اسکول سے میٹرک پاس کیا تھا؛ وہ ہِند کی برطانوی حکومت کے شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے اور ترقی کرتے ہوئے اسکولوں کے سب انسپکٹر کے عہدے تک پہنچے، اور انہوں نے دہلی اور لکھنؤ میں خدمات انجام دیں۔ اپنے دیوان کے علاوہ، انہوں نے منطق، علمِ بلاغت (فصاحت و بلاغت)، قانونی طریقہ کار، لسانیات اور فنِ خطاطی پر تفصیلی کتابیں بھی تحریر کیں۔ یہ طویل غزل ۳۲ اشعار کی تین حِصّوں میں درج کی گئی ہے۔ غالب کی غزل ‘ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں’ کی زمین میں ہے اور غالب نقشِ قدم سے جڑی ہے۔
۱
قاصد یہی دعا ہے خدا کی جناب میں
آ جائے یار خود مرے خط کے جواب میں
شاعر یا عاشق قاصد کے ہاتھ محبوب کو خط بھیج رہا ہے اور اس سے کہتا ہے – اے قاصد، میں خدا کی بارگاہ میں دعا کرتا ہوں کہ محبوب ‘یار’ خود میرے خط کے جواب کے طور پر آ جائے۔ اسی طرح کے دوسرے شوخ اشعار بھی دیکھیے جیسے ۔
قاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میں
منشی رگھوناتھ سنگھ حاجرؔ دہلوی
۲
دیکھے نہ غیر چہرہ چُھپا لو نقاب میں
شیطان پڑھ نہ جائے خدا کی کتاب میں
شاعر/عاشق کو ڈر ہے کہ کہیں رقیب/’غیر’ محبوب بے نقاب نہ دیکھ لے اور جلن کی وجہ سے وہ اُسے نقاب اوڑھنے کی تاکید کرتا ہے۔ لیکن دلچسپ الفاظ کا کھیل یہ ہے کہ محبوب کے چہرے کی تشبیہ اکثر قرآن – خدا کی کتاب سے دی جاتی ہے؛ ظاہر ہے کہ شیطان جو خدا کی ضد ہے، اسے قرآن دیکھنے یا پڑھنے سے روکنا ہی ہے۔ نہ صرف محبوب کا چہرہ قرآن جیسا ہے بلکہ رقیب/’غیر’ بھی شیطان کی مانند ہے۔
۳
فُرقت میں عیش تلخ ہے جاں ہے عذاب میں
ساقی پلا دے زہر مِلا کر شراب میں
شاعر/عاشق محبوب سے جدا (فرقت میں) ہے اور آرام و عیش بھی کڑوا لگتا ہے؛ اس کی زندگی ایک عذاب بن گئی ہے۔ وہ ساقی کو پکارتا ہے کہ اس کی شراب میں زہر ملا دے تاکہ وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر سکے۔
۴
ہر بار ایک سے گِنے وہ طِفل یا خدا
ہر بار بوسہ دینے میں بھولے حِساب میں
محبوب ایک نادان یا طفل ہے۔ شاعر یا عاشق بوسے لے رہا ہے اور محبوب گِن رہا ہے؛ شاید کوئی آخری حد مقرر ہے۔ وہ دعا کرتا ہے کہ محبوب حِساب بھول جائے اور ہر بار ایک سے گننا شروع کرے۔
۵
قسمت میں لکھ دیا مرے کیوں بے حِساب رنج
اُلجُھھوں گا میں خدا سے بھی جا کر حِساب میں
شاعر کی قِسمت میں بے شُمار رنج و غم لکھ دیے گئے ہیں۔ حساب کے دن (روزِ جزا) وہ اس ناانصافی پر خدا سے بھی اُلجھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ شعر کی خوبصورتی اس کے الفاظ کے کھیل میں ہے – حساب، بے حساب اور اُلجھا حساب۔
۶
صِفرِ دہن سے چہرے میں ہے اَزدیاد حُسن
دَہ چند ہے جمال ہمارے حِساب میں
اُردو شاعری کی رِوایت میں خوبصورتی کا معیار چھوٹا یا باریک منہ ہے، یہاں تک کہ وہ غائب معلوم ہو۔ شاعر اِسے “منہ کا صفر” – صفرِ دہن کہتا ہے؛ اس سے خوبصورتی میں اضافہ (ازدیاد) ہوتا ہے۔ شاعر کے حساب سے اس کی وجہ سے محبوب کا جمال دس گنا (دہ چند) بڑھ گیا ہے۔ ایک بار پھر، شعر کی خوبصورتی اس کے چالاک الفاظ کے کھیل میں ہے – صفر خوبصورتی کو دس گنا بڑھا دیتا ہے۔
۷
شامت ہے کِس کی کِس پہ بلا آنے والی ہے
زُلفوں کے بال کَس لیے ہیں پیچ و تاب میں
شاعر سوچتا ہے کہ شامت یا مصیبت کا نشانہ کون بننے والا ہے۔ محبوب غصے یا بے چینی (پیچ و تاب) میں ہے اور اس نے اپنی زلفوں کے بال کَس لیے ہیں۔ خوبصورتی کے معیار کے مطابق زلفیں گھنگھریالی ہوتی ہیں – ان میں پیچ ہوتا ہے جو پیچ و تاب سے ملتا ہے، اور بال کسنا غصے کی علامت ہے۔
۸
جور و جفا کا آپ کے کیوں کر کروں شُمار
کس طرح بے حِساب کو لاؤں حِساب میں
میں تمہارے جور و جفا اور ظلم کا شمار کیسے کروں؟ میں اس چیز کو حساب میں کیسے لاؤں جو بے حساب ہے؟ ایک بار پھر شاعر نے اپنے الفاظ کے کھیل کی مہارت دکھائی ہے۔
۹
آؤ یہاں بھی بہرِ تماشہ کبھی کبھی
دریا کی سیر ہے مری چشمِ پُر آب میں
کبھی کبھی ایک اچھے نظارے یا تماشے کے لیے (بہرِ تماشہ) یہاں بھی آ جایا کرو۔ عاشق کی آنسوؤں سے بھری آنکھیں (چشمِ پُر آب) دریا کی طرح بہتی ہیں، جس سے سیر و تفریح کا موقع نکلتا ہے۔ ‘بہر’ کا مطلب “کے لیے” بھی ہے اور “سمندر یا دریا” بھی، جو شاعر کی علمی و ادبی مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔
۱۰
گنتے وہ عاشقوں ہی میں اپنے نہیں مجھے
میں کوئی چیز ہی نہیں اُن کے حِساب میں
نثر کی صورت میں پہلا مصرع ہے: “وہ مجھے اپنے عاشقوں میں گنتے ہی نہیں” – اُس کی گنتی میں میری کوئی حیثیت نہیں ہے – یہ صفر گننے کی طرح ہے۔
ख़त के जवाब में -०१-१०- मुंशी देवी प्रशाद सहर बदायूनी
१
क़ासिद यही दुआ है ख़ुदा की जनाब में
आ जाए यार ख़ुद मेरे ख़त के जवाब में
२
देखे न ग़ैर चेहरा छुपा लो नक़ाब में
शैतान पढ़ न जाए ख़ुदा की किताब में
३
फ़ुर्क़त में ऐश तल्ख़ है जां है अज़ाब में
साक़ी पिला दे ज़हर मिला कर शराब में
४
हर बार एक से गिने वो तिफ़्ल या ख़ुदा
हर बार बोसा देने में भूले हिसाब में
५
क़िस्मत में लिख दिया मेरे क्यूं बे-हिसाब रंज
उलझूंगा मैं ख़ुदा से भी जा कर हिसाब में
६
सिफ़र-ए दहन से चेहरे में है अज़्दियाद-ए हुस्न
दह-चंद है जमाल हमारे हिसाब में
७
शामत है किस की किस पे बला आने वाली है
ज़ुल्फ़ों के बाल कस लिये हैं पेच-ओ ताब में
८
जौर-ओ जफ़ा का आप के क्यूंकर करूं शुमार
किस तरह बे-हिसाब को लाऊं हिसाब में
९
आओ यहां भी बहर-ए तमाशा कभी कभी
दर्या की सैर है मेरी चश्म-ए पुर-आब में
१०
गिनते वो आशिक़ों ही में अपने नहीं मुझे
मैं कोई चीज़ ही नहीं उन के हिसाब में
मुंशी देवी प्रसाद सहर बदायूनी (१८४०–१९०२)—कवि, लेखक, सुलेखक (कैलीग्राफर) और शिक्षक थे। मेरा अनुमान है के उन की ज़्यादातर शिक्षा घर पर ही हुई होगी और उन्होंने किसी औपचारिक स्कूल से मैट्रिक की पढ़ाई पूरी की थी। उन्होंने औपनिवेशिक (ब्रिटिश) सरकार के शिक्षा विभाग में काम किया और तरक़्क़ी कर के स्कूलों के सब-इंस्पेक्टर के पद तक पहुंचे, जहाँ उन्होंने दिल्ली और लखनऊ में काम किया। अपने दीवान के अलावा, उन्होंने तर्कशास्त्र (logic), अलंकार-शास्त्र (rhetoric), क़ानूनी प्रक्रियाओं, भाषाविज्ञान (linguistics) और सुलेख कला (calligraphy) पर विस्तृत पुस्तकें भी लिखीं। ये ग़ज़ल ३२ शे’र की होने से तीन हिस्सौं में दर्ज है। ग़ालिब की ग़ज़ल ‘साक़ी ने कुछ मिला न दिया हो शराब में’ – ग़ालिब नक़्श-ए क़दम से जुढी है।
१
क़ासिद यही दुआ है ख़ुदा की जनाब में
आ जाए यार ख़ुद मेरे ख़त के जवाब में
शा’एर/आशेक़ क़ासिद के हाथ महबूब को ख़त भेज रहा है और उस से कहता है – अए क़ासिद, मैं ख़ुदा की बारगाह में दुआ करता हूँ के महबूब ‘यार’ ख़ुद मेरे ख़त के जवाब में आ जाए। इसी तरह के दूसरे शोख़ अश’आर भी देखिए जैसे…
क़ासिद कि लाश आई है ख़त के जवाब में
मुंशी रघुनाथ सिंघ हाजेर देहलवी
२
देखे न ग़ैर चेहरा छुपा लो नक़ाब में
शैतान पढ़ न जाए ख़ुदा की किताब में
शा’एर/आशेक़ को डर है के कहीं रक़ीब ‘ग़ैर’ महबूब को बे-नक़ाब न देख ले और जलन की वजह से वो उसे नक़ाब ओढ़ने की ताकीद करता है। लेकिन दिलचस्प अल्फ़ाज़ का खेल ये है के महबूब के चेहरे की तश्बीह अक्सर क़ुर’आन – ख़ुदा की किताब – से दी जाती है; ज़ाहिर है के शैतान जो ख़ुदा की ज़िद है, उसे क़ुर’आन देखने या पढ़ने से रोकना ही है। न सिर्फ़ महबूब का चेहरा क़ुर’आन जैसा है बल्के रक़ीब ‘ग़ैर’ भी शैतान की मानिंद है।
३
फ़ुर्क़त में ऐश तल्ख़ है जां है अज़ाब में
साक़ी पिला दे ज़हर मिला कर शराब में
शा’एर/आशेक़ महबूब से जुदा (फ़ुर्क़त में) है और आराम ओ ऐश भी कड़वा लगता है; उस की ज़िंदगी एक अज़ाब बन गई है। वो साक़ी को पुकारता है के उस की शराब में ज़हर मिला दे ताके वो अपनी ज़िंदगी का ख़ातमा कर सके।
४
हर बार एक से गिने वो तिफ़्ल या ख़ुदा
हर बार बोसा देने में भूले हिसाब में
महबूब एक नादान या तिफ़्ल है। शा’एर/आशेक़ बोसे ले रहा है और महबूब गिन रहा है; शा’एद कोई आख़िरी हद मुक़र्रर है। वह दुआ करता है के महबूब हिसाब भूल जाए और हर बार एक से गिनना शुरू करे।
५
क़िस्मत में लिख दिया मेरे क्यूं बे-हिसाब रंज
उलझूंगा मैं ख़ुदा से भी जा कर हिसाब में
शा’एर की क़िस्मत में बे-हिसाब रंज ओ ग़म लिख दिये गए हैं। हिसाब के दिन (रोज़-ए-जज़ा) वो इस ना-इंसाफ़ी पर ख़ुदा से भी उलझने का इरादा रखता है। शे’र की ख़ूबसूरती इस के अल्फ़ाज़ के खेल में है – हिसाब, बे-हिसाब और उलझा हिसाब।
६
सिफ़र-ए दहन से चेहरे में है अज़्दियाद-ए हुस्न
दह-चंद है जमाल हमारे हिसाब में
उर्दू शा’एरी की रिवा’एत में ख़ूबसूरती का मे’आर छोटा या बारीक मुँह है, यहाँ तक के वो ग़ा’एब मालूम हो। शा’एर इसे “मुँह का सिफ़र” – सिफ़र-ए दहन – कहता है; इस से ख़ूबसूरती में इज़ाफ़ा (अज़दियाद) होता है। शा’एर के हिसाब से इस की वजह से महबूब का जमाल दस गुना (दह-चंद) बढ़ गया है। एक बार फिर, शे’र की ख़ूबसूरती उस के चालाक अल्फ़ाज़ के खेल में है – सिफ़र ख़ूबसूरती को दस गुना बढ़ा देता है।
७
शामत है किस की किस पे बला आने वाली है
ज़ुल्फ़ों के बाल कस लिये हैं पेच-ओ ताब में
शा’एर सोचता है के शामत या मुसीबत का निशाना कौन बनने वाला है। महबूब ग़ुस्से या बे-चैनी (पेच-ओ-ताब) में है और उस ने अपनी ज़ुलफ़ों के बाल कस लिये हैं। ख़ूबसूरती के मे’आर के मुताबिक़ ज़ुलफ़ें घुँघराली होती हैं – उन में पेच होता है जो पेच-ओ-ताब से मिलता है, और बाल कसना ग़ुस्से की अलामत है।
८
जौर-ओ-जफ़ा का आप के क्यूंकर करूं शुमार
किस तरह बे-हिसाब को लाऊं हिसाब में
मैं तुम्हारे जौर-ओ-जफ़ा और ज़ुल्म का शुमार कैसे करूँ? मैं उस चीज़ को हिसाब में कैसे लाऊँ जो बे-हिसाब है? एक बार फिर शा’एर ने अपने अल्फ़ाज़ के खेल की महारत दिखाई है।
९
आओ यहां भी बहर-ए तमाशा कभी कभी
दर्या की सैर है मेरी चश्म-ए पुर-आब में
कभी-कभी एक अच्छे नज़ारे या तमाशे के लिये (बहर-ए तमाशा) यहाँ भी आ जाया करो। आशिक़ की आँसुओं से भरी आँखें (चश्म-ए पुर-आब) दर्या की तरह बहती हैं, जिस से सैर-ओ-तफ़्रीह का मौक़ा मिलता है। ‘बहर’ का मतलब “के लिये” भी है और “समुंदर या दर्या” भी, जो शा’एर की इल्मी ओ अदबी महारत को ज़ाहिर करता है।
१०
गिनते वो आशिक़ों ही में अपने नहीं मुझे
मैं कोई चीज़ ही नहीं उन के हिसाब में
नस्र (prose) की सूरत में पहला मिसरा है: “वो मुझे अपने आशिक़ों में गिनते ही नहीं”। उस की गिनती में मेरी कोई हैसियत नहीं है – ये सिफ़र गिनने की तरह है।
Khat ke javaab m’eN-01-10 – munshii devii prashaad sahar badaayunii
munshi devi prashaad sahar badayuni (1840-1902) – poet, writer, calligrapher and educator. I am guessing that most of his education was at home, and that he completed his matriculation from a formal school. He worked for the colonial government in the department of education and rose to be a sub-inspector of schools, working in dehli and lakhnow. In addition to his diivan, he wrote book length discourses on logic, rhetoric, legal procedures, linguistics and the art of calligraphy. This is a long Ghazal in the zamiin of Ghalib‘s saaqi ne kuchh mila na diya ho sharaab meN. Because it is long, I have posted it in three parts. All three parts are linked to Ghalib naqsh-e qadam.
The poet/lover is sending a letter to the beloved at the hands of the qaasid messenger and says to him – O qaasid, I pray in the court/presence of god that the beloved yaar herself come as an answer to my letter. See the numerous other witty compositions such as …
The poet/lover is apprehensive that the rival Ghair might see her unveiled and out of jealousy he urges her to veil herself. But the interesting word play is that the face of the beloved is often compared to the qur’aan – Khuda ki kitaab; of course shaitaan being the antithesis of Khudaa has to be prevented from seeing/reading the qur’aan. Not only is the face of the beloved like the qur’aan but also the rival Ghair is like shaitaan.
The poet/lover is separated (in furqat) from the beloved and even comfort feels bitter; his life has become a torm’eNt ‘azaab. He calls upon the cup-bearer saaqi to poison his wine, so he may end his life.
The beloved is an adolescent/child tifl. The poet/lover is getting kisses bosa and the beloved is counting; perhaps there is an upper limit. He prays that the beloved lose count hisaab bhool’e and start counting with one aek every time.
Countless be-hisaab sorrows have been written into the poet’s fate. On the day of reckoning hisaab he intends to tangle with god about this injustice. The value of the sh’er is in its wordplay – hisaab – be-hisaab and uljha hisaab.
In urdu poetic tradition the standard of beauty is a small/narrow mouth to the point to disappearing. The poet describes it as “zero of the mouth” – sifar-e dahan; there is enhancem’eNt azdiyaad of beauty in that. By the poet’s count the beloved’s beauty/glory jamaal has increased ten-fold dah-chand because of this. Again the value of the sh’er is in its clever word play – zero multiplies/enhances beauty ten times.
The poet wonders who the target of punishm’eNt/misfortune shaamat might be. The beloved is anger/restlessness pech-o-taab has tied her hair zulf tightly. Standards of beauty suggest that hair are curled – they have pech which goes with pech-o-taab and baal kasna is a sign of anger.
How can I reckon shumaar karuuN of your cruelties and torture jaur-o-jafaa; how can I enumerate that which is countless. Once again the poet shows his skill of wordplay.
Occasionally kabhi-kabhii come here too for the sake of (bahr-e) a good view/spectacle tamaashah. The lover’s eyes, full of tears chashm-e pur-aab flow like a river creating an opportunity for sightseeing sair. bahr means “for the sake of” and also means “sea or river” demonstrating the poet’s rhetorical skills.
The first misra in prose form voh mujh’e apn’e aashiqoN m’eN gint’e hii nahiiN – she does not enumerate me among her lovers. I am nothing in her counting – it is like counting zero.
The post Khat ke javaab m’eN-01-10-munshi devi prashaad sahar badayuni appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/08/shhKhjm-kar-ke-chhoRuuNga-audio.mp3
Recitation
کر کے چھوڑوں گا ۔ شبیر حسن جوشؔ ملیح آبادی
۱
اگر اِنسان ہوں دنیا کو حیراں کر کے چھوڑوں گا
میں ہر ناچیز ذرّے کو گُلِستاں کر کے چھوڑوں گا
۲
تیری اس زُلف کی سوگند اے لیلیِ رنگینی
کہ ارضِ خار و خس کو سُنبُلِتاں کر کے چھوڑوں گا
۳
وہ پِنہاں قُوّتیں جو مِل کے زک دیتی ہیں دنیا کو
اُنہیں آپس ہی میں دست و گریباں کر کے چھوڑوں گا
۴
سرِ تقلید کو مغزِ تفکُّر سے جِلا دے کر
چراغِ مُردہ کو مہرِ درخشاں کر کے چھوڑوں گا
۵
شعارِ تازہ کو بخشوں گا آب و رنگِ جمعیت
رسومِ کہنہ کی محفل کو ویراں کر کے چھوڑوں گا
۶
چراغِ اِجتہادِ نو بہ نو کی جلوہ ریزی سے
سرِ راہِ خِرد مندی چراغاں کر کے چھوڑوں گا
۷
مُسلّط ہیں ازل کے روز سے جو اِبنِ آدم پر
میں اُن اوہام کو سر در گریباں کر کے چھوڑوں گا
۸
ترے اس پیچ و خم کھاتے دھوئیں کو شمعِ حق بینی
فرازِ عقل پر ابرِ خراماں کر کے چھوڑوں گا
۹
جو اِنساں آج سنگ و خِشت کو معبود کہتا ہے
اُس انسان کو اُلُوہیت بداماں کر کے چھوڑوں گا
۱۰
قناعت جِس نے کر لی ہے عناصر کی غلامی پر
میں اس کو کردِگارِ باد و باراں کر کے چھوڑوں گا
۱۱
قسم کھاتا ہوں اے کوہِ اَلم دستِ زُلیخا کی
کے داماں کو ترے یوسف کا داماں کر کے چھوڑوں گا
۱۲
پکاروں گا کلیمِ نو کو طورِ عصرِ حاضر سے
جو کچھ کہہ دوں گا اِس کو دین و ایماں کر کے چھوڑوں گا
۱۳
میری حِکمت بشر کو دعوتِ نو دے کے دم لے گی
میں اِس بھٹکے ہوئے اِنساں کو اِنساں کر کے چھوڑوں گا
۱۳
اگر یہ کُفر ہے جو کچھ زباں پر میری جاری ہے
تو میں اِس کُفر کو گُلبانگِ عِرفاں کر کے چھوڑوں گا
۱۴
اگر عِصیاں ہی پر موقُوف ہے اِنساں کی بیداری
تو میں دنیا کو غرقِ بحرِ عِصیاں کر کے چھوڑوں گا
جوش ملیح آبادی (۱۸۹۸-۱۹۸۲) – ملیح آباد، آگرہ، لکھنؤ، حیدرآباد، دہلی، کراچی۔ انہیں ‘شاعرِ انقلاب’ کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں شدید سیکولر اور قوم پرست ہیں اور قدامت پسندی کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔ ان کا دائرۂ زبان اور الفاظ کا ذخیرہ حیرت انگیز ہے۔ انہوں نے صبح کی خوبصورتی کے بارے میں کثرت سے لکھا ہے۔ صبح کے حسن پر مبنی ان کی نظموں، غزلوں اور رباعیات کے مجموعے تک شاعر کے نام کے تحت اور موضوعاتی انڈیکس (Theme Index) ‘جلوۂ سحر’ دونوں کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ وہ جواہر لال نہرو کے ذاتی دوست تھے اور ان کے مشورے و فہمائش کے برعکس ۱۹۵۲ میں پاکستان ہجرت کر گئے، جس پر انہوں نے بعد میں شدید افسوس کیا۔ اِس غزل میں ‘کر کے چھوڑوں گا’ کا مطلب ‘چھوڑ چاؤں گا’ سے کچھ الگ ہے لیکن میں نے بھر بھی اُنہیں ہم ردوف غزلیات سے منصوب کرنے کی جرأت کی ہے۔
۱
اگر اِنسان ہوں دنیا کو حیراں کر کے چھوڑوں گا
میں ہر ناچیز ذرّے کو گُلِستاں کر کے چھوڑوں گا
جوش انسان کی قوتِ عمل اور انقلابی رجائیت (امید پرستی) کے ایک بليغ منشور کے ساتھ نظم کا آغاز کرتے ہیں۔ وہ اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ اگرچہ وہ اِنسان ہیں اور اُن کی قدرت محدود ہے لیکن پھر بھی وہ دنیا کو ششدر کر دینے اور ایک ناچیز سے ذرّے کو بھی شاداب گلستان میں بدل دینے کی تسخیری طاقت رکھتے ہیں۔ یعنی وہ ایک معمولی چیز کو ایسے الفاظ میں بیان کر ستکے ہیں کہ دنیا دنگ رہ جائے۔
۲
تیری اس زُلف کی سوگند اے لیلیِ رنگینی
کہ ارضِ خار و خس کو سُنبُلِتاں کر کے چھوڑوں گا
زندگی کی متحرک خوبصورتی یا اپنے اعلیٰ ترین شاعراںہ تصور (لیلیِٰ رنگینی) سے مخاطب ہو کر، شاعر اس کی زلفوں کی سوگند/قسم کھا کر کانٹوں اور گھاس پھونس سے بھری بنجر زمین (ارضِ خار و خس) کو معطر سُنبُلِستاں (خوشبودار پیڑ کا باغ) میں بدلنے کا عہد کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا مقصد یہ تمام انقلاب اپنے شعر و سخن کے ذریعے برپا کرنا ہے۔
۳
وہ پِنہاں قُوّتیں جو مل کے زک دیتی ہیں دنیا کو
اُنہیں آپس ہی میں دست و گریباں کر کے چھوڑوں گا
یہاں جوشؔ اُن پوشیدہ، جابرانہ قُوّتوں (پِنہاں قُوّتوں) کو نشانہ بناتے ہیں جو مل کر انسانیت کو نقصان پہنچانے (زک دینے) اور اس کا استحصال کرنے کی سازِش کرتی ہیں۔ وہ اُن کے اندرونی تضادات کو بے نقاب کرنے اور اُنہیں آپس ہی میں دست و گریباں کر دینے کا عزم کرتے ہیں، تاکہ عوام پر ان کے اجتماعی اقتدار کا خاتمہ کیا جا سکے۔
۴
سرِ تقلید کو مغزِ تفکُّر سے جِلا دے کر
چراغِ مُردہ کو مہرِ درخشاں کر کے چھوڑوں گا
اندھی تقلید پر براہِ راست تنقید کرتے ہوئے، جوش تنقیدی فكر و عقل (مغزِ تفکُّر) کی طاقت کے ذریعے جمود کے شِکار افکار میں نئی روح پھونکنے کا، روشن کرنے کا، جِلا دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ ایسا کر کے، وہ ایک مردہ و بے نور چراغ (چراغِ مردہ) کو روشن و تابناک سورج (مہرِ درخشاں) میں بدلنے کا اِرادہ رکھتے ہیں۔ یہ مردہ چراغ دراصل عقل و شعور کے راستے کو ترک کر دینے کی علامت ہے۔
۵
شعارِ تازہ کو بخشوں گا آب و رنگِ جمعیت
رسومِ کہنہ کی محفل کو ویراں کر کے چھوڑوں گا
شاعر فرسودہ اور جابرانہ روایتوں (رسومِ کہنہ) کا خاتمہ کرنے اور ان کی محفلوں کو ویران کرنے یعنی لوگوں کو ان کو ترک کرنے کی تعلیم دینے کا عزم کرتا ہے۔ ان کی جگہ، وہ جدید اصولوں اور ترقّی پسند اِقدار (شعارِ تازہ) میں زندگی، رنگ اور یکجہتی/اتحاد (آب و رنگِ جمعیت) کو پھونکے کے اِرادے کا اِظہار کرتے ہیں۔
۶
چراغِ اِجتہادِ نو بہ نو کی جلوہ ریزی سے
سرِ راہِ خِرد مندی چراغاں کر کے چھوڑوں گا
جوشؔ مُسلسِل آزادانہ فکر و اِصلاح (اِجتہادِ نو بہ نو) کے علمبردار ہیں۔ اِجتہاد کے اس نئے چراغ کی جلوہ ریزی (روشنی پھیلانا) کے ذریعے، وہ عقل و دانش اور منطقی فکر کے پورے راستے (سرِ راہِ خردمندی) کو روشن و مُنوّر کر دینے کا عزم کرتے ہیں۔
۷
مُسلّط ہیں ازل کے روز سے جو اِبنِ آدم پر
میں اُن اوہام کو سر در گریباں کر کے چھوڑوں گا
اُن توّہُمات اور غیر منطقی سوچ/خوف (اوہام) پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جو ابتدا ہی سے (ازل سے) نوعِ انسانی (اِبنِ آدم) پر مُسلّط ہیں، جوش ان باطل تصوُّرات کو خود احتسابی (حساب دینا) اور شرمندگی (سر در گریباں) میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تاکہ اِنسانی ذہن کو آزاد کرایا جا سکے۔
۸
ترے اس پیچ و خم کھاتے دھوئیں کو شمعِ حق بینی
فرازِ عقل پر ابرِ خراماں کر کے چھوڑوں گا
انسانی عقل و اِدراک کی روشنی (شمعِ حق بینی) سے مخاطب ہوتے ہوئے، جو اُلجھن اور مغالطے (پیچ و خم کھاتا دھواں) سے دھندلا گئی ہے، جوشؔ اُسے پاک کرنے اور اس تاریک الجھن کو ایک شان دار، خراماں بادل (ابرِ خراماں) میں بدلنے کا عزم کرتے ہیں جو عقل کے بلند ترین مقام (فرازِ عقل) پر منڈلا رہا ہو۔
۹
جو اِنساں آج سنگ و خِشت کو معبود کہتا ہے
اُس انسان کو اُلُوہیت بداماں کر کے چھوڑوں گا
جوشؔ پتھروں اور اینٹوں (سنگ و خشت) کو معبود ماننے کے عمل پر تنقید کرتے ہیں—جو نہ صرف بت پرستی بلکہ اندھے عقیدے اور توہم پرستی کی علامت ہے۔ وہ انسانیت کو اُس کی اپنی خدائی صلاحیتوں سے بیدار کرنے کا عزم کرتے ہیں، جس سے خود الوہیت انسانی فہم و عقل کے دامن (الوہیت بداماں) میں آ جائے۔
۱۰
قناعت جِس نے کر لی ہے عناصر کی غلامی پر
میں اس کو کردِگارِ باد و باراں کر کے چھوڑوں گا
وہ مآدی عناصر اور جسمانی ترجیحات کی بے بس تسلیم و رضا (عناصر کی غلامی) کو مسترد کرتے ہیں۔ شاعر کا مقصد انسانی تسخیر کو اس حد تک بلند کرنا ہے کہ انسان خود قدرت کی ہوا اور بارش کا حاکم و فرماں روا (کردگارِ باد و باراں) بن جائے۔
۱۱
قسم کھاتا ہوں اے کوہِ اَلم دستِ زُلیخا کی
کے داماں کو ترے یوسف کا داماں کر کے چھوڑوں گا
یہ شعر اُس قِصّے کی طرف اِشارہ کرتا ہے جِس میں زلیخا یوسف کو ورغلانے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ بچ کر بھاگتے ہیں لیکن ان کے لباس کا ایک ٹکڑا زلیخا کے ہاتھ میں رہ جاتا ہے۔ بعد میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ اُن کا کرتہ پیچھے سے پھٹا تھا نہ کہ آگے سے، جس سے زلیخا کی مکّاری اور یوسف کی بے گناہی و پاکدامنی ثابت ہوتی ہے۔ یوں ‘دستِ زلیخا’ مکر و فریب کی علامت ہے اور ‘دامنِ یوسف’ سچائی اور راست بازی کی علامت ہے۔ زندگی مظالم اور ناانصافیوں کے دکھوں کے پہاڑ (کوہِ الم) تلے دب کر بوجھل ہے۔ شاعر وعدہ کرتا ہے کہ وہ اس کے دامن کو دامنِ یوسف یعنی سچائی، پاکیزگی اور عدل و انصاف کا مرکز بنا کر ہی دم لے گا۔
۱۲
پکاروں گا کلیمِ نو کو طورِ عصرِ حاضر سے
جو کچھ کہہ دوں گا اِس کو دین و ایماں کر کے چھوڑوں گا
یہ شعر کوہِ طور پر موسیٰ کے جانے کی روایت کا حوالہ دیتا ہے جہاں وہ خدا کے دیدار کے طالب تھے۔ اُنہوں نے بجلی کی ایک تجلّی دیکھی، بے ہوش ہو گئے، اور بعد میں ‘خدا کا پیغام’ لے کر آئے۔ جوشؔ خود کو موجودہ دور کے طور (طورِ عصرِ حاضر) پر فائز کرتے ہیں، ایک نئے موسیٰ (کلیمِ نو) کو پکارتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ ان کا یہ نیا انقلابی پیغام ایسی پختگی اور اخلاقی سچائی کا حامل ہوگا کہ وہ انسانیت کے لیے نیا دین و ایمان بن کر رہے گا۔
۱۳
میری حِکمت بشر کو دعوتِ نو دے کے دم لے گی
میں اِس بھٹکے ہوئے اِنساں کو اِنساں کر کے چھوڑوں گا
شاعر وعدہ کرتا ہے کہ اُس کی حِکمت و دانائی اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک وہ نوعِ اِنسانی کو ایک نئی دعوت (دعوتِ نو) نہ دے دے۔ اس کا بنیادی مقصد اِنسان دوستی ہے: یعنی بھٹکے ہوئے اور تباہ حال اِنسانوں کو دوبارہ اُن کی اصل، باوقار انسانیت پر بحال کرنا۔
۱۴
اگر یہ کُفر ہے جو کچھ زباں پر میری جاری ہے
تو میں اِس کُفر کو گُلبانگِ عِرفاں کر کے چھوڑوں گا
روایتی مذہبی عناصر کی طرف سے اپنے شعلہ نوا اِنسان دوست افکار پر کُفر کے فتؤوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے، جوشؔ فخر سے اس تمغے کو قبول کرتے ہیں۔ وہ قسم کھاتے ہیں کہ یہ نام نہاد کُفر ہی اصل روحانی معرفت اور بیداری کی بلند آواز (گلبانگِ عرفان) بن کر گونجے گا۔
۱۵
اگر عِصیاں ہی پر موقُوف ہے اِنساں کی بیداری
تو میں دنیا کو غرقِ بحرِ عِصیاں کر کے چھوڑوں گا
نظم کے ایک زبردست اختتامی عروج پر، جوشؔ اعلان کرتے ہیں کہ اگر اِنسانیت کی بیداری کا تمام تر اِنحصار سرکشی اور بغاوت (عِصیاں) پر ہی ہے، تو وہ اس بیداری کو حاصل کرنے کے لیے پوری دنیا کو بلا خطر بغاوت کے سمندر (بحرِ عصیاں) میں غرق کر کے ہی دم لیں گے۔
कर के छोड़ूँगा – शब्बीर हसन जोश मलीहाबादी
१
अगर इंसान हूँ दुनिया को हैरां कर के छोड़ूँगा
मैं हर नाचीज़ ज़र्रे को गुलिस्ताँ कर के छोड़ूँगा
२
तेरी इस ज़ुल्फ़ की सौगंध अए लैला-ए रंगीनी
के अर्ज़-ए ख़ार-ओ-ख़स को सुंबुलिस्ताँ कर के छोड़ूँगा
३
वो पिन्हाँ क़ुव्वतें जो मिल के ज़क देती हैं दुनिया को
उन्हें आपस ही में दस्त-ओ-गरेबाँ कर के छोड़ूँगा
४
सर-ए तक़्लीद को मग़्ज़-ए तफ़क्कुर से जिला दे कर
चराग़-ए मुर्दा को मेहर-ए दरख़्शाँ कर के छोड़ूँगा
५
शे’आर-ए ताज़ा को बख़्शूँगा आब-ओ-रंग-ए जम’ईय्यत
रुसूम-ए कोहना की महफ़िल को वीराँ कर के छोड़ूँगा
६
चराग़-ए इज्तेहाद-ए नौ-ब-नौ की जल्वा-रेज़ी से
सर-ए राह-ए ख़िरदमंदी चराग़ाँ कर के छोड़ूँगा
७
मुसल्लत हैं अज़ल के रोज़ से जो इब्न-ए आदम पर
मैं इन औहाम को सर-दर-गरेबाँ कर के छोड़ूँगा
८
तेरे इस पेच-ओ-ख़म खाते धुएँ को शम’-ए हक़-बीनी
फ़राज़-ए अक़्ल पर अब्र-ए ख़रामाँ कर के छोड़ूँगा
९
जो इंसां आज संग-ओ-ख़िश्त को मा’बूद कहता है
उस इंसां को उलूहिय्यत-ब-दामाँ कर के छोड़ूँगा
१०
क़नाअत जिस ने कर ली है अनासिर की ग़ुलामी पर
मैं इस को किर्देगार-ए बाद-ओ-बाराँ कर के छोड़ूँगा
११
क़सम खाता हूँ अए कोह-ए अलम दस्त-ए ज़ुलैख़ा की
के दामाँ को तेरे यूसुफ़ का दामाँ कर के छोड़ूँगा
१२
पुकारूँगा कलीम-ए नौ को तूर-ए अस्र-ए हाज़ेर से
जो कुछ कह दूँ गा इस को दीन-ओ-ईमाँ कर के छोड़ूँगा
१३
मेरी हिक्मत बशर को दावत-ए नौ दे के दम लेगी
मैं इस भटके हुए इन्सां को इन्सां कर के छोड़ूँगा
१४
अगर ये कुफ़्र है जो कुछ ज़बाँ पर मेरी जारी है
तो मैं इस कुफ़्र को गुलबांग-ए इर्फ़ाँ कर के छोड़ूँगा
१५
अगर इस्याँ ही पर मौक़ूफ़ है इन्सां की बेदारी
तो मैं दुनिया को ग़र्क़-ए बहर-ए इस्याँ कर के छोड़ूँगा
जोश मलीहाबादी (१८९८-१९८२)-मलीहाबाद, आगरा, लखनऊ, हैदराबाद़, देहली, कराची। उन्हें ‘शा’एर-ए इन्क़ेलाब’ कहा जाता है। वो अपने लेखन में बेहद सेक्युलर और राष्ट्रवादी हैं और रूढ़िवादिता के ख़िलाफ़ बग़ावत करते हैं। उनकी भाषा का दा’एरा और शब्द-भंडार अद्भुत है। उन्होंने सुबह की ख़ूबसूरती के बारे में बहुत विस्तार से लिखा है। सुबह के हुस्न पर लिखी गई उन की नज़्मों, ग़ज़लों और रुबाइयों के संग्रह को कवि के नाम के तहत और विषय सूची (Theme Index) ‘जल्वा-ए सहर’ दोनों के ज़रिए देखा जा सकता है। वो जवाहरलाल नेहरू के व्यक्तिगत मित्र थे और उन की सलाह ओ समझाने के बिल्कुल ख़िलाफ़ १९५२ में पाकिस्तान हिजरत कर गए, जिसका उन्हें बाद में बहुत अफ़्सोस हुआ। इस ग़ज़ल का रदीफ़ (पद्यक) “छोढ जाऊंगा” से कुछ अलग है लैकिन फिर भी मैं ने इसे उन्हीं हम-रदीफ़ ग़ज़्लौं से जोढ दिया है।
१
अगर इंसान हूँ दुनिया को हैराँ कर के छोड़ूँगा
मैं हर नाचीज़ ज़र्रे को गुलिस्ताँ कर के छोड़ूँगा
जोश इंसान के अमल (काम) करने की ताक़त और क्रांतिकारी उम्मीद के एक शानदार घोषणापत्र के साथ इस नज़्म की शुरु’आत करते हैं। वो कहते हैं के हालांके मैं केवल इन्सान हूं लैकिन फिर भी दुनिया को हैरान कर देने और एक मामूली से ज़र्रे (कण) को भी खिलता हुआ बग़ीचा बना देने की ताक़त रखता हूं। ये काम उन के अश’आर का असर होगा।
२
तेरी इस ज़ुल्फ़ की सौगंध ऐ लैला-ए रंगीनी
के अर्ज़-ए ख़ार-ओ-ख़स को सुंबुलिस्ताँ कर के छोड़ूँगा
ज़िंदगी की रंगीन ख़ूबसूरती या अपने सब से ऊँचे काव्यात्मक विचार (लैला-ए रंगीनी) को संबोधित करते हुए, कवि उस की ज़ुल्फ़ों की क़सम खा कर काँटों और घास-फूस से भरी बंजर ज़मीन (अर्ज़-ए ख़ार-ओ-ख़स) को महकती हुई फूलों की फ़सल (सुंबुलिस्ताँ – ख़ुश्बू के पोधौं का बाग़) में बदलने का वादा करता है। ज़ाहिर है, उस का इरादा ये सारा इन्क़ेलाब अपनी शा’एरी के ज़रिए लाने का है।
३
वो पिन्हाँ क़ुव्वतें जो मिल के ज़क देती हैं दुनिया को
उन्हें आपस ही में दस्त-ओ-गरेबाँ कर के छोड़ूँगा
यहाँ जोश उन छुप कर काम करने वाली, ज़ालिम ताक़तों (पिन्हाँ क़ुव्वतों) को निशाना बनाते हैं जो मिल कर इन्सानियत को नुक़्सान पहुँचाने (ज़क देने) और उस का शोषण करने की साज़िश करती हैं। वो उन के अंदरूनी मतभेदों को बेनक़ाब करने और उन्हें आपस में ही लड़ा देने (दस्त-ओ-गरेबाँ करने) का संकल्प लेते हैं, ताके आ’म लोगों पर उन का दबदबा ख़त्म किया जा सके।
४
सर-ए तक़्लीद को मग़्ज़-ए तफ़क्कुर से जिला दे कर
चराग़-ए मुर्दा को मेहर-ए दरख़्शाँ कर के छोड़ूँगा
अंधानुकरण (बिना सोचे-समझे चलने) पर सीधा हमला करते हुए, जोश वैज्ञानिक और तार्किक सोच (मग़्ज़-ए तफ़क्कुर) की ताक़त से पुरानी सोच में नई जान फूँकने का वादा करते हैं। ऐसा कर के, वो एक बुझे हुए बेनूर चराग़ (चराग़-ए मुर्दा) को एक चमकते हुए रौशन सूरज (महर-ए दरख़्शाँ) में बदलने का इरादा रखते हैं। ये बुझा हुआ चराग़ दरअस्ल समझ-बूझ और सोच-विचार का रास्ता छोड़ देने का प्रतीक है।
५
शे’आर-ए ताज़ा को बख़्शूँगा आब-ओ-रंग-ए जम’ईय्यत
रसूम-ए कोहना की महफ़िल को वीराँ कर के छोड़ूँगा
कवि पुरानी और दकियानूसी परंपराओं (रसूम-ए कोहना) को ख़त्म करने और उनकी महफ़िलों को वीरान करने यानी लोगों को उन्हें छोड़ने की सीख देने का संकल्प लेता है। उनकी जगह, वो नए उसूलों और प्रगतिशील मूल्यों (शआर-ए ताज़ा) में ताज़गी, रंग और एकता (आब-ओ-रंग-ए जमीयत) भरेगा।
६
चराग़-ए इजतिहाद-ए नौ-ब-नौ की जल्वा-रेज़ी से
सर-ए राह-ए ख़िरदमंदी चराग़ाँ कर के छोड़ूँगा
जोश लगातार नए स्वतंत्र चिंतन और सुधार (इज्तेहाद-ए नौ-ब-नौ) की वकालत करते हैं। सोच-विचार के इस नए चराग़ की रोशनी फैला कर, वो समझदारी और विवेक के पूरे रास्ते (सर-ए राह-ए ख़िरदमंदी) को जगमग (चराग़ाँ) कर देने का वादा करते हैं।
७
मुसल्लत हैं अज़ल के रोज़ से जो इब्न-ए आदम पर
मैं उन औहाम को सर-दर-गरेबाँ कर के छोड़ूँगा
इंसानियत (इब्न-ए आदम) पर दुनिया की शुरुआत (अज़ल) से ही हावी (मुसल्लत) अंधविश्वासों और बग़ैर सुबूत के आस्था और डर (औहाम) पर ध्यान देते हुए, जोश इन झूठे वहमों को आत्म-निरीक्षण और शर्मिंदगी (सर-दर-गरेबाँ) में डालने का फ़ैसला करते हैं, ताके इंसान के दिमाग़ को आज़ाद कराया जा सके।
८
तेरे इस पेच-ओ-ख़म खाते धुएँ को शम’-ए हक़-बीनी
फ़राज़-ए अक़्ल पर अब्र-ए ख़रामाँ कर के छोड़ूँगा
इंसान की समझ और सच्चाई देखने की रोशनी (शम’-ए हक़-बीनी) को संबोधित करते हुए जो उलझन और भटकाव (पेच-ओ-ख़म खाते धुएँ) से धुँधली हो गई है, वो उसे साफ़ करने और उस धुँधली उलझन को समझदारी की ऊँचाई (फ़राज़-ए अक़्ल) पर मँडराते हुए एक शानदार, बहते हुए बादल (अब्र-ए ख़रामाँ) में बदलने का संकल्प लेते हैं।
९
जो इन्सां आज संग-ओ-ख़िश्त को मा’बूद कहता है
उस इन्सां को उलूहियत-ब-दामाँ कर के छोड़ूँगा
जोश पत्थरों और ईंटों (संग-ओ-ख़िश्त) को ईश्वर मान लेने की सोच की आलोचना करते हैं—जो न सिर्फ़ मूर्तिपूजा बल्के अंधविश्वास और बेतुके यक़ीन का भी प्रतीक है। वो इन्सानियत को उस की अपनी ईश्वरीय ताक़त से जगाने का संकल्प लेते हैं, जिस से ख़ुद ईश्वरीयता (उलूहियत) इंसान की बुद्धि और समझ की गोद/पकढ (दामन) में आ जाए।
१०
क़ना’अत जिस ने कर ली है अनासिर की ग़ुलामी पर
मैं उस को किर्देगार-ए बाद-ओ-बाराँ कर के छोड़ूँगा
वो भौतिक चीज़ों और शारीरिक मजबूरियों के आगे बेबस होकर झुक जाने (अनासिर की ग़ुलामी) को ख़ारिज करते हैं। कवि का मक़्सद इन्सान की ताक़त को इस हद तक बढ़ाना है के इन्सान ख़ुद क़ुदरत की हवा और बारिश का मालिक ओ हुक्मरां (किर्देगार-ए बाद-ओ-बाराराँ) बन जाए।
११
क़सम खाता हूँ अए कोह-ए अलम दस्त-ए ज़ुलैख़ा की
के दामाँ को तेरे यूसुफ़ का दामाँ कर के छोड़ूँगा
ये शे’र उस कहानी की तरफ़ इशारा करता है जिस में ज़ुलैख़ा यूसुफ़ को आकर्षित करने की कोशिश करती है। वो भागते हैं लेकिन उन की क़बा/ख़मीज़ का एक टुकड़ा ज़ुलैख़ा के हाथ में रह जाता है। बाद में सबूत की जाँच से साबित होता है के उन का कुर्ता पीछे से फटा था न के आगे से, जिस से ज़ुलैख़ा का छल और यूसुफ़ की बेगुनाही ओ पवित्रता साबित होती है। इस तरह ‘दस्त-ए ज़ुलैख़ा’ धोखा-धड़ी का प्रतीक है और ‘दामन-ए यूसुफ़’ सच्चाई और पवित्रता का प्रतीक है। ज़ुलैख़ा का हाथ धोखे और झूठे इल्ज़ाम का प्रतीक है, जब के यूसुफ़ का दामन निष्कलंक सच्चाई का प्रतीक है। ज़िंदगी ज़ुल्मों और नाइंसाफ़ियों के दुखों के पहाड़ (कोह-ए अलम) के नीचे दबी हुई है। कवि वादा करता है के वो उस पहाड़ के दामन को यूसुफ़ का दामन यानी सच्चाई, पवित्रता और इन्साफ़ का दा’एरा बना कर ही दम लेगा।
१२
पुकारूँगा कलीम-ए नौ को तूर-ए अस्र-ए हाज़िर से
जो कुछ कह दूँ गा इस को दीन-ओ-ईमाँ कर के छोड़ूँगा
ये शे’र कोह-ए तूर पर मूसा (कलीम) के जाने की कहानी का हवाला देता है जहाँ वो ईश्वर के दर्शन के लिये गए थे। वहाँ उन्होंने एक रोशनी (बिजली) देखी, बेहोश हो गए, और बाद में ईश्वर का संदेश ले कर आए। जोश ख़ुद को आज के दौर के तूर (तूर-ए अस्र-ए हाज़िर) पर रखकर एक नए मूसा (कलीम-ए नौ) को पुकारते हैं और ये ऐलान करते हैं के उन का ये नया इन्क़ेलाबी संदेश इतनी मज़्बूत सच्चाई का होगा के वो इन्सानियत के लिये नया धर्म और ईमान (दीन-ओ-ईमाँ) बन कर रहेगा।
१३
मेरी हिक्मत बशर को दावत-ए नौ दे के दम लेगी
मैं इस भटके हुए इन्सां को इन्सां कर के छोड़ूँगा
कवि वादा करता है के उस का ज्ञान और विचार (हिक्मत) तब तक चैन से नहीं बैठेगा जब तक वो इन्सानियत को एक नई दावत (दावत-ए नौ) न दे दे। उस का मुख्य मक़्सद इंसानियत की भलाई है: यानी भटके हुए और बिगड़े हुए इन्सानों को दोबारा उन की असली, सम्मानजनक इन्सानियत पर वापस लाना।
१४
अगर ये कुफ़्र है जो कुछ ज़बाँ पर मेरी जारी है
तो मैं इस कुफ़्र को गुलबांग-ए इर्फ़ाँ कर के छोड़ूँगा
कट्टरपंथी सोच वाले लोगों की तरफ़ से अपने क्रांतिकारी विचारों पर ‘कुफ़्र’ (अधर्म/नास्तिकता) के फ़तवों का अंदाज़ा लगाते हुए, जोश फ़ख़्र से इस नाम को अपनाते हैं। वो क़सम खाते हैं के ये तथाकथित ‘कुफ़्र’ ही असली आत्म-ज्ञान और जाग्रति की गूँजती हुई आवाज़ (गुलबांग-ए इरफ़ाँ) बनकर रहेगा।
१५
अगर इस्याँ ही पर मौकूफ़ है इन्सां की बेदारी
तो मैं दुनिया को ग़र्क़-ए बह्र-ए इस्याँ कर के छोड़ूँगा
नज़्म के एक ज़बरदस्त अंतिम मोड़ पर, जोश ऐलान करते हैं के अगर इन्सानियत के जागने का पूरा दारोमदार बग़ावत और नाफ़रमानी (इस्याँ) पर ही है (मौकूफ़ है), तो वो इस जाग्रति को हासिल करने के लिये पूरी दुनिया को बेधड़क बग़ावत के समंदर (बह्र-ए इस्याँ) में डुबो कर ही दम लेंगे।
kar ke chhoRuuNga – shabiir hasan joshؔ maliihaabaadii
josh malihabadi (1898-1982) – malihabad-agra-lukhnau-hyderabad-dehli-karachi. He is called shaa’er-e inqelaab, poet of change/revolution. He is very secular and nationalistic in his writings and rebels against orthodoxy. His range of language and vocabulary is simply amazing. He has written extensively about the beauty of dawn. His collection of nazm/Ghazal and rubaaii about the beauty of dawn can be accessed both under the poet’s name and from the Theme Index, ‘jalva-e sahr’. He was a personal friend of jawaharlal nehru and much against his advice/persuasion migrated to pakistan in 1952 and bitterly regretted it. In this Ghazal/nazm he declares his resolve to do various things (stated in each she’r) come what may … kar ke chhoRuuNga. It is not quite clear that he means to leave it as his legacy, but I have taken the liberty to link this Ghazal to legacy declarations of other poets in chhoR jaa’uNga on the Refrain Index page.
josh opens with a powerful manifesto of human agency and revolutionary optimism. He asserts that to be truly human means possessing the transformative power to astonish the world and uplift even the most insignificant dust particle (naachiiz zarra) into a thriving garden (gulistaaN).
Addressing the vibrant beauty of life or his idealized vision (lailaa-e raNgiinii), the poet swears saugand by her dark tresses zulf to transform a barren landscape of thorns and weeds (arz-e Khaar-o-Khas) into a fragrant field of hyacinths (sumbulistaaN). Of course he intends to do all this through his verse.
Here, josh targets the covert, oppressive forces (pinhaaN quvvateN) that conspire to exploit and damage humanity (zak detii haiN). He vows to expose their mutual contradictions and turn them against one another (dast-o-garebaaN), dismantling their collective power over the masses.
A direct critique of blind conformity (taqliid), josh promises to revitalize dogma through the power of critical thought/reason (maGhz-e tafakkur). By doing so, he intends to turn a dying, lifeless lamp (charaaGh-e murda) into a brilliant, radiant sun (mehr-e daraKhshaaN). The dying, lifeless lamp is the abandonment of the light of reason.
The poet vows to dismantle outdated, oppressive traditions (rusuum-e kohna) and desolate viiraaN karna their gatherings i.e., teach people to abandon them. In their place, he will breathe vitality, color, and unity/cooperation (aab-o-raNg-e jam’iyyat) into modern principles and progressive values (she’aar-e taaza).
josh champions continuous independent reasoning and reform (ijtihaad-e nau-ba-nau). Through the shedding/spreading jalva-rezii of this innovative light charaaGh-e ijtehaad, he vows to illuminate the entire path of intellect, wisdom, and rational thought (sar-e raah-e Khiradmandii).
Focusing on the superstitions and irrational fears (auhaam) that have burdened humanity (ibn-e aadam) since the dawn of time (azal), josh resolves to force these illusions into self-reflection and shame (sar-dar-garebaaN), freeing the human mind.
Addressing light of human intellect or perception sham’-e haq biini clouded by confusion (pech-o-Kham khaat’a dhu’aaN), he vows to refine it, transforming murky confusion into a majestic, graceful cloud (abr-e KharaamaaN) hovering over faraaz-e aql – the peak of reason.
josh confronts the worship maa’buud of stone and brick saNg o Khisht – signifying not just idol worship but blind belief and superstitions. He vows to awaken humanity to its own divine potential, placing divinity itself within the lap of human intellect and reason (uluuhiyat-ba-daamaaN).
He rejects passive submission to the elements and physical constraints (anaasir kii Ghulaamii). The poet aims to elevate human mastery so profoundly that man becomes the ruler and commander over nature’s wind and rain (kirdegaar-e baad-o-baaraaN).
This has reference to the story in which zulaiKha tries to seduce yuusuf. He runs away but a fragment of his robe is caught in the hand of the zulaiKha. Later examination of evidence which shows that the back of the robe was torn off, rather than the front, proves that zulaiKha was deceptive and yuusuf was trying to get away rather than attack her. Thus, dast-e zulaiKha symbolizes deception and daaman-e yuusuf symbolizes righteousness. Life is suffering under the burden of a mountain of sorrows koh-e alam – oppression/injustice. The poet promises to turn its daaman into yuusuf ka daaman i.e., the domain of righteousness and justice.
This has reference to the legend that moosa/Moses went up koh-e tuur Mount Sinai, seeking to see god. He saw a flash of lightning, fainted, but later brought what was termed the ‘message of god’. josh positions himself at the modern age Mt. Sinaii (tuur-e asr-e haazir), and calls for a new moosa/Moses (kaliim-e nau) and declares that his new revolutionary message will carry such conviction and moral truth that it will become the new foundational faith (diin-o-iimaaN) for humanity.
The poet promises that his philosophy/thought (hikmat) will not rest until it extends a fresh invitation (daa’vat-e nau) to mankind. His core mission is humanistic: to restore strayed bhaTk’e hu’e, corrupted human beings back to their true, dignified essence as genuine human beings.
Anticipating orthodoxy’s accusation that his radical humanism is heresy (kufr), josh proudly embraces the label. He vows that this so-called heresy will ring out as the clear declaration gulbaaNg of true spiritual knowledge irfaan and enlightenment.
In a striking final crescendo, josh declares that if awakening of humanity is dependent mauquuf on rebellion and disobedience (isyaaN), he will fearlessly submerge Gharq the entire world in an ocean of rebellion (bahr-e isyaaN) to force that awakening.
The post kar ke chhoRuuNga-josh malihabadi appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/08/shchlyv-muqayyad-habaab-meN-audio.mp3
Recitation
مُقیّد حباب میں ۔ شیداؔ چینی لیو ینگ ون
۱
اِک لُطفِ خاص تھا گِلۂ نا ثواب میں
سُنتے ہی جس کو آ گئے وہ پیچ و تاب میں
۲
کُھلتا ہے اِس تضاد سے بھی عقدۂ حیات
اِک جا ہیں سوز و ساز جو دل کے رباب میں
۳
طوفاں سے کھیلتا ہے سفینہ حیات کا
پنہاں بلا کا زور ہے عہدِ شباب میں
۴
جب سے تری نگاہِ کرم دل پہ ہو گئی
میرے لیے کشِش نہ رہی کچھ گلاب میں
۵
اُن کی جفا سے، یا کروں اپنی وفا سے پیار
اک عمر کٹ گئی ہے اِسی اِنتخاب میں
۶
گیسو کسی کے رُخ پہ پریشاں ہے اس طرح
جیسے کہ لگ گیا ہو گہن آفتاب میں
۷
کہتے ہیں جسم و جاں میں تعلق ہے کچھ یہی
شیداؔ ہوا ہو جیسے مُقیّد حباب میں
شیدا چینی ۔ لیو ینگ وین (۱۹۳۱۔۲۰۱۵)، کولکتہ میں پیدا ہوئے، لیکن ۱۹۳۴ میں اُن کا خاندان جمشید پور منتقل ہو گیا جہاں اُنہوں نے بطور ڈینٹسٹ (دانتوں کے ڈاکٹر) کام کیا۔ اُن کے گھر میں پہلی زبان چینی بولی جاتی تھی، لیکن وہ سب اُردو میں مہارت رکھتے تھے۔ شیدا کی اِبتدائی تعلیم اُردو میں ہوئی، پھر وہ اِنگلش اسکول گئے، لیکن ہائی اسکول میں دوبارہ اُردو کی طرف لوٹ آئے۔ اُنہیں اُردو سے عشق ہو گیا اور اُنہوں نے بے شمار اشعار یاد کر لیے۔انہوں نے ۱۹۵۱ میں اپنا پہلی غزل پڑھی اور اکثر مشاعروں میں غزل کے ساتھ ایک چینی ساز ‘مُون لیوٹ’ (Moon Lute) بھی بجایا کرتے تھے۔ وہ ترقی پسند مصنفین کی تحریک (PWA) سے وابستہ تھے مگر زیادہ فعال نہیں تھے۔ ڈیکن ہیرالڈ (Deccan Herald) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا: “میں پیدائشی طور پر بدھ مت کا پیروکار ہوں اور دل سے کمیونسٹ، اور اُردو میری روح کی زبان ہے۔ یہ کسی ایک مذہب کی زبان نہیں، بلکہ تہذیب اور انسانیت کی زبان ہے۔ میرے بچے عیسائی ہیں، میری بیٹیاں شیو اور سائی بابا میں سکون پاتی ہیں۔ ہم ایک چھت کے نیچے ایک چھوٹا سا ہندوستان ہیں۔” انہوں نے خود کئی نعتیں بھی لکھیں۔ ۱۹۶۲ کی بھارت-چین جنگ اور ۱۹۶۴ کے مذہبی فسادات کے دوران اپنے ساتھ ہونے والے برے برتاؤ نے اُنہیں کافی مایوس اور دلبرداشتہ کیا۔ ان کی زندگی کے آخری ایّام میں، جب وہ بستر پر تھے، ان کے دوستوں اور خاندان نے ان کا کلام جمع کر کے شائع کروایا۔
اِک لُطفِ خاص تھا گِلۂ نا ثواب میں
سُنتے ہی جس کو آ گئے وہ پیچ و تاب میں
لفظ ‘ثواب’ کے معنی جزا یا صلے کے ہیں، اس لیے ‘گلۂ نا ثواب’ سے مراد ایک ایسا گلہ یا شکوہ ہے جس کا کوئی فائدہ یا صلہ نہ ملے۔ لیکن اس کے باوجود… عاشق کو محبوب سے ایسا بے نتیجہ اور بے اثر شکوہ (گِلۂ نا ثواب) کرنے میں ایک خاص اور انوکھا لطف حاصل ہوتا ہے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کا کوئی نتیجہ یا حل نہیں نکلنے والا۔ وہ یہ شکوہ صرف اس ردِعمل کے لیے کرتا ہے جو اس سے پیدا ہوتا ہے: یعنی شکوہ سنتے ہی محبوب کچھ دیر کے لیے اُلجھن اور حیرت میں پڑ جاتا ہے اور اُسے سمجھ نہیں آتا کہ کیا جواب دے (پیچ و تاب میں آ جاتا ہے)۔ عاشق محبوب کے اندر کی اس مختصر، میٹھی اور خاموش کشمکش کا نظارہ کرنے سے بہت لطف اندوز ہوتا ہے، اور یہی چیز اُس بے فائدہ شکوے کو بھی بالکل یادگار اور بامقصد بنا دیتی ہے۔
۲
کُھلتا ہے اِس تضاد سے بھی عقدۂ حیات
اِک جا ہیں سوز و ساز جو دل کے رباب میں
زندگی کی مشکل گتھی (عقدۂ حیات) ایک خوبصورت تضاد کے ذریعے سلجھتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دل کے ساز (دل کے رباب) کے اندر جلن و درد (سوز) اور سکون و نغمگی (ساز) دونوں بالکل ایک ہی جگہ موجود ہیں، جو یہ دکھاتا ہے کہ زندگی دراصل دکھ اور سکھ کا ایک نازک توازن ہے۔
۳
طوفاں سے کھیلتا ہے سفینہ حیات کا
پنہاں بلا کا زور ہے عہدِ شباب میں
زندگی کی کشتی (سفینۂ حیات) طوفانوں سے ٹکرانے کا حوصلہ اس لیے رکھتی ہے کیونکہ جوانی کے دور (عہدِ شباب) میں ایک بے پناہ اور پوشیدہ طاقت (پنہاں بلا کا زور) چھپی ہوتی ہے۔ جوانی انسان میں وہ بے خوفی اور جرأت پیدا کرتی ہے جو کسی خطرے کو خاطر میں نہیں لاتی۔ اس کا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ جوش اور جرأت دھیمی پڑ جاتی ہے۔
۴
جب سے تری نگاہِ کرم دل پہ ہو گئی
میرے لیے کشِش نہ رہی کچھ گلاب میں
جب سے محبوب نے عاشق کے دل پر اپنی محبت اور کرم کی ایک نظر (نگاہِ کرم) ڈالی ہے، تب سے دنیا کی باقی تمام خوبصورتیاں اس کے سامنے پھیکی پڑ گئی ہیں۔ یہاں تک کہ اب شاعر کے لیے ایک کھلے ہوئے خوبصورت گلاب میں بھی کوئی دلکشی اور کشش باقی نہیں رہی۔
۵
اُن کی جفا سے، یا کروں اپنی وفا سے پیار
اک عمر کٹ گئی ہے اِسی اِنتخاب میں
شاعر نے اپنی پوری زندگی ایک خوبصورت اور کھٹی مٹھی اُلجھن میں گزار دی ہے کہ وہ محبوب کے ظلم و ستم (جفا) سے محبت کرے کیونکہ وہ محبوب کی طرف سے ہے، یا پھر اپنی مستقل مزاجی اور وفاداری (وفا) کو سراہے؟ اس ناممکن فیصلے (انتخاب) کو کرنے میں ہی اس کی پوری عمر گزر گئی ہے۔
۶
گیسو کسی کے رُخ پہ پریشاں ہے اس طرح
جیسے کہ لگ گیا ہو گہن آفتاب میں
محبوب کے چمکتے ہوئے چہرے (رخ) پر بکھرے ہوئے سیاہ اور پریشان بالوں (گیسو) کے منظر کو ایک شاندار فلکیاتی تشبیہ کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ منظر بالکل ایسا لگتا ہے جیسے چمکتے ہوئے سورج (آفتاب) کو ایک گہرا گرہن (گہن) لگ گیا ہو۔
۷
کہتے ہیں جسم و جاں میں تعلق ہے کچھ یہی
شیداؔ ہوا ہو جیسے مُقیّد حباب میں
اس آخری شعر (مقطع) میں شاعر (شیداؔ) جسم اور روح (جسم و جاں) کے تعلق پر غور کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ رشتہ بالکل اتنا ہی کمزور، عارضی اور ناپائیدار ہے جیسے پانی کے ایک نازک بلبلے کے اندر ہَوا قید (مقید حباب میں) ہو—جو زندگی کے فانی اور عارضی ہونے کی ایک انتہائی خوبصورت تصویر ہے۔
मुक़य्यद हबाब में – लियू यंग वेन शैदा चीनी
१
एक लुत्फ़-ए ख़ास था गिला-ए ना-सवाब में
सुनते ही जिस को आ गए वो पेच-ओ-ताभ में
२
खुलता है इस तज़ाद से भी अक़्दा-ए हयात
एक जा हैं सोज़-ओ-साज़ जो दिल के रबाब में
३
तूफ़ाँ से खेलता है सफ़ीना हयात का
पिनहाँ बला का ज़ोर है अहद-ए शबाब में
४
जब से तेरी निगाह-ए करम दिल पे हो गई
मेरे लिये कशिश न रही कुछ गुलाब में
५
उन की जफ़ा से या करूँ अपनी वफ़ा से प्यार
एक उम्र कट गई है इसी इन्तेख़ाब में
६
गेसू किसी के रुख़ पे परेशाँ हैं इस तरह
जैसे के लग गया हो गहन आफ़्ताब में
७
कहते हैं जिस्म-ओ-जाँ में ता’अल्लुक़ है कुछ यही
शैदा हुआ हो जैसे मुक़य्यद हबाब में
शैदा चीनी – लिउ युंग वेन (१९३१-२०१५), कलकत्ता में पैदा हुए थे, लेकिन १९३४ में उनका परिवार जमशेदपुर चला गया जहाँ उन्होंने एक डेंटिस्ट के रूप में काम किया। उनके घर की पहली भाषा चीनी थी, लेकिन वो सभी उर्दू भी बोलते थे। उनकी प्रथम स्कूल शिक्षा उर्दू में हुई, फिर वो इंग्लिश स्कूल गए, लेकिन हाई स्कूल में वो दोबारा उर्दू की ओर लौट आए। उन्हें उर्दू से इतना लगाव हुआ के उन्होंने हज़ारों शे’र याद कर लिये। उन्होंने १९५१ में पहली ग़ज़ल पढ़ी और अक्सर मुशा’एरों में अपनी ग़ज़ल के साथ एक चीनी वाद्य यंत्र ‘मून ल्यूट’ (Moon Lute) भी बजाया करते थे। वे ‘प्रगतिशील लेखक संघ’ (PWA) के सदस्य थे, हालांके उसमें बहुत सक्रिय नहीं रहे। ‘डक्कन हेरल्ड’ को दिये एक इंटरव्यू में उन्होंने कहा था: “मैं जन्म से बौद्ध हूँ और दिल से कम्युनिस्ट, और उर्दू मेरी आत्मा की भाषा है। ये किसी एक धर्म की भाषा नहीं है, बल्के संस्कृति और इंसानियत की भाषा है। मेरे बच्चे ईसाई हैं, मेरी बेटियाँ शिव और साई बाबा में शांति पाती हैं – हम एक ही छत के नीचे एक छोटा सा हिंदुस्तान हैं।” उन्होंने ख़ुद कई ना’तें (इसलाम के बानी मोहम्मद की प्रशंसा में कविताएं) भी लिखीं। १९६२ के भारत-चीन युद्ध और १९६४ के दंगों के दौरान अपने साथ हुए दुर्व्यवहार से वो बहुत निराश हुए थे। उनके जीवन के अंतिम समय में, जब वे बिस्तर पर थे, तब उनके दोस्तों और परिवार ने उनका काम इकट्ठा करके प्रकाशित करवाया।
१
एक लुत्फ़-ए ख़ास था गिला-ए ना-सवाब में
सुनते ही जिस को आ गए वो पेच-ओ-ताभ में
यहाँ ‘सवाब’ का मतलब फल या इनाम से है, इस लिये ‘गिला-ए ना-सवाब’ का इस्तेमाल एक ऐसी शिका’एत के लिये हुआ है जिस का कोई फल या नतीजा न निकलने वाला हो। इस के बावजूद… प्रेमी को अपनी महबूबा से ऐसा बिना किसी नतीजे वाला, निष्फल शिक्वा (गिला-ए ना-सवाब) करने में एक अनोखा ही मज़ा (लुत्फ़-ए ख़ास) आता है, ये जानते हुए भी के इस का कोई सकारात्मक हल नहीं निकलने वाला। वो ये शिका’एत सिर्फ़ उस प्रतिक्रिया के लिये करता है जो इस से पैदा होती है: शिका’एत सुनते ही महबूबा कुछ पल के लिये उलझन और कशमकश में आ जाती है और उसे समझ नहीं आता के क्या जवाब दे (पेच-ओ-ताब में आ जाती है)। प्रेमी को महबूबा के अंदर की इस छोटी सी, मीठी और ख़ामोश छटपटाहट को देखने में बड़ा आनंद आता है, जो इस व्यर्थ की शिका’एत को भी पूरी तरह से सार्थक बना देता है।
२
खुलता है इस तज़ाद से भी उक़्दा-ए हयात
एक जा हैं सोज़-ओ-साज़ जो दिल के रबाब में
ज़िंदगी की पेचीदा गुत्थी (अक़्दा-ए हयात) एक बेहद ख़ूबसूरत विरोधाभास (तज़ाद) के ज़रिए सुलझती है। शा’एर कहता है के दिल के वाद्ययंत्र (दिल के रबाब) के भीतर, तड़प व दर्द (सोज़) और सुकून व ताल-मेल (साज़) दोनों बिल्कुल एक ही जगह मौजूद हैं, जो ये दिखाता है के ज़िंदगी असल में दर्द और ख़ुशी का एक बेहद नाज़ुक संतुलन है।
३ तूफ़ाँ से खेलता है सफ़ीना हयात का
पिनहाँ बला का ज़ोर है अहद-ए शबाब में
ज़िंदगी की नाव (सफ़ीना-ए हयात) भयानक तूफ़ानों से भी निडर टकराने का दम रखती है, क्यूंके जवानी के दौर (अहद-ए शबाब) में एक बेपनाह और छुपी हुई ताक़त (पिनहाँ बला का ज़ोर) होती है। जवानी इंसान में वो अदम्य साहस भर देती है जो मौत के ख़तरों को भी कुछ नहीं समझती। इस के पीछे का छुपा हुआ इशारा ये भी है के उम्र बढ़ने के साथ ये बेबाक हौसला थोड़ा धीमा पड़ जाता है।
४
जब से तेरी निगाह-ए करम दिल पे हो गई
मेरे लिये कशिश न रही कुछ गुलाब में
जब से महबूबा ने प्रेमी के दिल पर अपनी प्यार और मेहरबानी की एक नज़र (निगाह-ए करम) डाली है, तब से दुनिया की बाक़ी सारी ख़ूबसूरती उस के सामने फीकी पड़ गई है। यहाँ तक के अब शा’एर के लिये एक खिले हुए गुलाब के पारंपरिक सौंदर्य और आकर्षण (कशिश) में भी कोई खिंचाव नहीं रहा।
५
उन की जफ़ा से या करूँ अपनी वफ़ा से प्यार
एक उम्र कट गई है इसी इन्तेख़ाब में
शा’एर ने अपनी पूरी ज़िंदगी एक ख़ूबसूरत और खट्टी-मीठी दुविधा में बिता दी है: क्या वो महबूबा के ज़ुल्म ओ सितम (जफ़ा) से प्यार करे क्यूंके वो उस की तरफ़ से है, या फिर अपनी ही अडिग वफ़ादारी (वफ़ा) की तारीफ़ करे? इस कठिन चुनाव (इंतिख़ाब) को करने की दुविधा में ही उस की पूरी उम्र गुज़र गई है।
६
गेसू किसी के रुख़ पे परेशाँ हैं इस तरह
जैसे के लग गया हो गहन आफ़्ताब में
महबूबा के दमकते हुए चेहरे (रुख़) पर बिखरी हुई काली और उलझी ज़ुल्फ़ों (गेसू) के दृश्य को एक बेहद शानदार खगोलीय उपमा (astronomical metaphor) के ज़रिए पेश किया गया है। शा’एर कहता है के ये बिल्कुल ऐसा दिखाई देता है जैसे चमकते हुए सूरज (आफ़्ताब) को ग्रहण (गहन) लग गया हो।
७
कहते हैं जिस्म-ओ-जाँ में ता’अल्लुक़ है कुछ यही
शैदा हुआ हो जैसे मुक़य्यद हबाब में
इस आख़िरी शे’र (मक़्ते) में, शा’एर (शैदा) शरीर और आत्मा (जिस्म-ओ-जाँ) के आपसी संबंध पर विचार करता है। वो कहता है के ये रिश्ता उतना ही नाज़ुक और अस्थाई है जैसे पानी के एक नाज़ुक बुलबुले के अंदर हवा क़ैद (मुक़य्यद हबाब में) हो—ये ज़िंदगी के नश्वर होने की एक बेहद ख़ूबसूरत तस्वीर है।
muqayyad habaab m’eN – liu yuNg ven shaida chiini
shaida chiini-liu yuNg ven (1931-2015), born in kalkatta, but family moved to jamshedpur in 1934 where shaida lived and worked as a dentist. His family spoke Chinese as their first language, but were fluent in urdu. His early schooling was in urdu, switched to English and then back to urdu in high school. Fell in love with it and memorised ash’aar. He read his first Ghazal at a mushaa’era in 1951. He played a Chinese instrument known as the Moon Lute often along with his Ghazal reading at mushaa’era. He was a member of the Progressive Writers’ Association but not very active in it. In an interview to the Deccan Herald he said, “”I am a Buddhist by birth and a communist by heart, but Urdu is the language of my soul. It is not the language of any one religion; it is the language of culture and humanity. My children are Christians, my daughters find peace in Shiva and Sai Baba—we are a miniature India under one roof.” He himself has written several n’aat – odes to mohammed, the founder of islaam. He was deeply disappointed (perhaps disillusioned) because of his mistreatment after the India-China war of 1962 and later religious riots of 1964. His work was collected and published by family and friends towards the end of his life, while he was bedridden.
savaab (ثواب) – reward, thus gila-e naa-savaab is used to mean a fruitless complaint. But still … the lover finds a unique, exquisite pleasure (lutf-e Khaas) in making a fruitless, unrewarded complaint (gila-e na-savaab) to the beloved, fully aware that it will never yield any positive result or resolution. He complains solely because of the reaction it provokes: upon hearing it, the beloved is momentarily puzzled, confused, and caught off guard (pech-o-taab), struggling to find a response. The lover deeply enjoys witnessing this fleeting moment of sweet, silent struggle in her, making the futile complaint entirely worth making.
The complex riddle of life (uqda-e hayaat) is unraveled through a beautiful contradiction (tazaad). The poet notes that within the musical instrument of the heart (dil ka rabaab), both burning grief (soz) and harmonious peace/happiness (saaz) coexist in the exact same place, showing that life is a delicate balance of pain and pleasure.
The boat of life (safiina-e hayaat) is capable of daringly playing with violent storms because of the immense, hidden strength (pinhaaN balaa ka zor) that resides in the era of youth (ahd-e shabaab). Youth brings an untamed courage that defies all mortal dangers. The implication is that age tames this bravado.
Ever since the beloved cast a kind, affectionate glance (nigaah-e karam) upon the lover’s heart, all other worldly beauties have paled in comparison. Even the classic beauty and allure of a blooming rose (gulaab) no longer holds any attraction or charm (kashish) for the poet.
The poet has spent an entire lifetime caught in a beautiful, bittersweet dilemma: should he fall in love with the beloved’s cruelty (jafa) because it comes from her, or should he admire his own steadfast loyalty (vafa)? An entire life has passed in just trying to make this impossible choice (inteKhaab).
The sight of the beloved’s dark tresses (gesuu) scattered untamed across their bright face (ruKh) is described with a stunning astronomical metaphor. The poet suggests it looks exactly as if a dark, majestic eclipse (gahan) has cast its shadow over the radiant sun (aaftab).
In this concluding verse (maqta), the poet (shaida) muses on the relationship between the physical body (jism) and the soul (jaaN). He suggests it is as fragile and temporary as air being trapped inside a delicate water bubble (muqayyad habaab m’eN)—a beautiful image of life’s fleeting, transient nature.
The post muqayyad habaab meN-liu yuNg vin shaida chiini appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/08/faf-mere-hamdam-mere-dost-audio.mp3
Recitation
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/08/faf-mere-hamdam-mere-dost-faf.mp3
faiz ahmed faiz
مرے ہمدم مرے دوست ۔ فیض احمد فیضؔ
۱
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست
گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اُداسی ترے سینے کی جلن
میری دل جوئی مرے پیار سے مِٹ جائے گی
۲
گر مِرا حرفِ تسلّی وہ دوا ہو جِس سے
جی اُٹھے پھر تِرا اُجڑا ہوا بے نُور دماغ
تیری پیشانی سے دُھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
تیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے
۳
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست
روز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوں
میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریں
آبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیت
آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت
تجھ سے میں حُسن و محبّت کی حکایات کہوں
۴
کیسے مغرُور حسیناؤں کے برفاب سے جِسم
گرم ہاتھوں کی حرارت میں پِگھل جاتے ہیں
کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانُوس نُقُوش
دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں
۵
کس طرح عارضِ محبُوب کا شفّاف بِلور
یک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہے
کیسے گُلچیں کے لیے جُھکتی ہے خود شاخِ گُلاب
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے
۶
یونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطر
گیت بُنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطر
۷
پر مرے گیت تِرے دُکھ کا مداوا ہی نہیں
نغمہ جرّاح نہیں، مونس و غم خوار سہی
گیت نشتر تو نہیں مرہمِ آزار سہی
تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا
اور یہ سفّاک مسیحا مِرے قبضے میں نہیں
اِس جہاں کے کِسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
۸
ہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
فیض احمد فیضؔ (۱۹۱۱-۱۹۸۴) سیالکوٹ اور لاہور میں پلے بڑھے۔ اُنہوں نے اپنی شروعاتی پڑھائی چرچ مشن اسکول سے کی اور بعد میں گورنمنٹ کالج، لاہور سے انگریزی اور عربی میں ایم۔اے (MA) کی ڈگریاں لیں۔ اُنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ۱۹۳۶ میں ایم۔اے۔او (MAO) کالج، امرتسر سے بطور انگریزی کے لیکچرر کیا، جہاں محمد دین تاثیر پرنسپل تھے۔ تاثیر صاحب کے گھر اکثر آنے جانے کے دوران ان کی ملاقات تاثیر سالی، ایلیس جارج سے ہوئی اور ۱۹۴۱ میں ان دونوں کی شادی ہو گئی۔ ایلیس، جو خود کمیونسٹ پارٹی کی رکن، مارکسوادی، سماجی کارکن، صحافی اور معلمہ (ایجوکیٹر) تھیں، فیض کے جیل کے دنوں میں اور ان کے پورے کیریئر کے دوران ان کا ایک بہت بڑا سہارا بنیں۔ فیض — جو ایک سیاسی کارکن، شاعر، پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کے سرگرم رکن، نوبل انعام کے لیے نامزد، لینن امن انعام یافتہ اور صحافی رہے، اور جنہیں قید و بند اور جلاوطنی کا سامنا بھی کرنا پڑا — پورے برصغیر اور دنیا بھر میں بے انتہا مقبول تھے اور آج بھی ہیں۔ ان کے کلام کا چینی زبان سمیت دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
۱
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست
گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اُداسی ترے سینے کی جلن
میری دل جوئی مرے پیار سے مِٹ جائے گی
شاعر اپنے ایک “دوست” (ہمدم، دوست) سے مخاطب ہے۔ اوپر اوپر سے دیکھنے میں تو یہ روایتی قسم کا رومانوی انداز لگتا ہے جیسے کوئی اپنے محبوب سے بات کر رہا ہو۔ لیکن فیض کی شاعری کی لغت میں، یہ “محبوب” یا “دوست” دراصل ان کے ہم وطن، کچلے ہوئے عوام، یا اُن کا وطن ہے۔ یہاں شاعر اُن کی تھکن، اُداسی اور سینے کی جلن کو دور کرنے کی گہری خواہش کا اظہار کر رہا ہے، اور یہ چاہ رہا ہے کہ کاش محض رومانوی محبت اور تسلّی سے ان کی یہ حالت ٹھیک ہو جائے۔ یہاں بنیادی سوچ یہ ہے کہ “اگر میں یہ سب کر سکتا، تو بڑی خوشی سے کرتا”۔ لیکن آخری مصرعے میں وہ کُھل کر بتاتے ہیں کہ اصل میں کس چیز کی ضرورت ہے۔
۲
گر مِرا حرفِ تسلّی وہ دوا ہو جِس سے
جی اُٹھے پھر تِرا اُجڑا ہوا بے نُور دماغ
تیری پیشانی سے دُھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
تیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے
یہاں سیاسی ظلم و ستم کی علامتیں مزید نِکھر کر سامنے آتی ہیں۔ شاعر ایک “اُجڑے ہوئے بے نور دماغ” اور پیشانی پر لگے “تذلیل کے داغوں” کی بات کرتا ہے۔ یہ ظلم اور نوآبادیاتی نظام (colonialism) کے تحت جینے کے اُس نفسیاتی بوجھ کو دکھاتا ہے، جہاں نوجوانوں کی طاقت (بیمار جوانی) غلامی کی وجہ سے مرجھا جاتی ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ اس کے تسلّی کے الفاظ (حرفِ تسلّی) ایک شفا دینے والی دوا بن جائیں۔ مگر اِشارہ اُسی طرف ہے کہ محض اُس کے الفاظ سے یہ بیماری ٹھیک نہیں ہو سکتی۔
۳
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست
روز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوں
میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریں
آبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیت
آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت
تجھ سے میں حُسن و محبّت کی حکایات کہوں
فیض روایتی اُردو شاعری کے جانے پہچانے موضوعات کی ایک فہرست سامنے رکھتے ہیں: جیسے آبشاروں، بہاروں، چمن زاروں، صبح کی آمد، چاند اور ستاروں کے گیت گانا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر مجھے یقین ہوتا کہ اس سے کوئی مدد ملے گی، تو میں بڑی خوشی سے اس رومانوی دنیا اور حسن و محبت کی حکایات میں پناہ لے لیتا تاکہ لوگوں کا دھیان ان کی تکلیفوں سے ہٹا سکوں۔
۴
کیسے مغرُور حسیناؤں کے برفاب سے جِسم
گرم ہاتھوں کی حرارت میں پِگھل جاتے ہیں
کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانُوس نُقُوش
دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں
روایتی عشقیہ شاعری کے اسی سِلسِلے کو جاری رکھتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ (وہ لکھتے اور بتاتے کہ) کیسے مغرور حسیناؤں کے برف جیسے ٹھنڈے جسم گرم ہاتھوں کی تپش سے پگھل جاتے ہیں، اور کیسے کسی چہرے کے جانے پہچانے، منجمد نقوش محبت کی مستی میں دیکھتے ہی دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں۔ یہ بند ایک تضاد (contrast) پیدا کرنے کے لیے ہے؛ یہ اس “خالص رومانوی دنیا” کو ظاہر کرتا ہے جس پر عام طور پر شعرا توجہ دیتے ہیں، لیکن فیض کا ماننا ہے کہ جب معاشرہ لہولہان ہو تو یہ عیاشی برقرار نہیں رکھی جا سکتی؛ یہ معاشرے کی بیماریوں کا علاج نہیں ہے۔
۵
کس طرح عارضِ محبُوب کا شفّاف بِلور
یک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہے
کیسے گُلچیں کے لیے جُھکتی ہے خود شاخِ گُلاب
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے
وہ رومانوی منظر کشی کو مزید آگے بڑھاتے ہیں: محبوب کا شیشے جیسا شفّاف گال (عارض کا شفّاف بِلور) سرخ شراب (بادۂ احمر) کی طرح اچانک دمک اٹھتا ہے، گلاب کی ٹہنی خود پھول توڑنے والے (گلچیں) کے آگے جھک جاتی ہے، اور رات کا ایوان خوشبو سے مہک جاتا ہے۔ یہ رومانوی اور حسیاتی لذّت کا عروج ہے۔ لیکن مزاحمت کے حوالے سے دیکھا جائے تو فیض یہاں سے ایک بہت بڑا موڑ (pivot) لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ زندگی اور محبت کی اس بے پناہ خوبصورتی کو تسلیم تو کرتے ہیں، مگر صرف اس لیے کہ بعد میں اسے ظلم کے خلاف ایک ناکافی جواب کہہ کر رد کر سکیں۔
۶
یونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطر
گیت بُنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطر
یہ ایک چھوٹا سا عبوری لمحہ (transitional moment) ہے جہاں وہ اپنی بات دہراتے ہیں: کہ وہ صرف تفریح یا ہلکی پھلکی تسلّی کے لیے بیٹھے بیٹھے ہمیشہ ایسے خوبصورت اور مدُھر گیت بُن سکتے ہیں۔ لیکن یہاں ان کا لہجہ تھکا ہوا ہے؛ وہ جانتے ہیں کہ یہ سب کافی نہیں ہے۔
۷
پر مرے گیت تِرے دُکھ کا مداوا ہی نہیں
نغمہ جرّاح نہیں، مونس و غم خوار سہی
گیت نشتر تو نہیں مرہمِ آزار سہی
تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا
اور یہ سفّاک مسیحا مِرے قبضے میں نہیں
اِس جہاں کے کِسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
یہ اس نظم کی مزاحمت کا سب سے اہم نقطہ اور نچوڑ ہے۔ فیض یہاں سارا وہم توڑ دیتے ہیں۔ وہ صاف کہتے ہیں کہ ان کے گیت لوگوں کی تکلیفوں کا علاج (مداوا) نہیں ہیں۔ گیت یا نغمہ دل بہلانے والا اور غم خوار تو ہو سکتا ہے، لیکن وہ کوئی سرجن (جراح) نہیں ہے۔ وہ زخم کا مرہم تو ہو سکتا ہے، لیکن وہ سرجری کا چاقو (نشتر) نہیں ہے۔ وہ کُھل کر اعلان کرتے ہیں کہ معاشرے کی یہ اجتماعی بیماری—یعنی ظلم، غربت اور استحصال—نرم الفاظ سے ٹھیک نہیں ہو سکتی؛ اس کے لیے نشتر کی ضرورت ہے، جو کہ ایک بنیادی تبدیلی، انقلاب اور بغاوت کی علامت ہے۔ وہ اس نشتر کو ایک “سفّاک مسیحا” کہتے ہیں، اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انقلابی تبدیلی کی یہ خام اور طاقتور قوت نہ تو بطورِ شاعر ان کے اکیلے کے قبضے میں ہے، اور نہ ہی دنیا کے کسی اور انسان (ذی روح) کے بس میں ہے۔
۸
ہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
نظم کا اختتام اِشتراکی یکجہتی (socialist solidarity) کے ایک بہت طاقتور اور عروج کے لمحے پر ہوتا ہے۔ اگر شاعر خود انقلاب کا نشتر نہیں چلا سکتا، اور کوئی اکیلا نجات دہندہ بھی یہ نہیں کر سکتا، تو پھر ظلم کا تختہ الٹنے کی طاقت کس کے پاس ہے؟ جواب ہے: “تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا۔” یہاں “تو” سے مراد عوام کی اجتماعی طاقت ہے—یعنی مزدور اور کچلے ہوئے لوگ۔ فیض مزاحمت کی یہ طاقت اور ذِمّہ داری فنکار کے ہاتھوں سے نکال کر سیدھی عوام کے ہاتھوں میں سونپ دیتے ہیں۔ صرف عوام کے پاس ہی وہ طاقت ہے جو معاشرے کی ان گہری بیماریوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے یہ مشکل اور بڑا آپریشن (سرجری) کر سکے۔
मेरे हमदम मेरे दोस्त – फ़ैज़ अहमद फ़ैज़
१
गर मुझे इस का यक़ीं हो मेरे हमदम मेरे दोस्त
गर मुझे इस का यक़ीं हो के तेरे दिल की थकन
तेरी आँखों की उदासी तेरे सीने की जलन
मेरी दिल-जूई मेरे प्यार से मिट जाएगी
२
गर मेरा हर्फ़-ए तसल्ली वो दवा हो जिस से
जी उठे फिर तेरा उजड़ा हुआ बे-नूर दिमाग़
तेरी पेशानी से ढल जाएँ ये तज़्लील के दाग़
तेरी बीमार जवानी को शिफ़ा हो जाए
३
गर मुझे इस का यक़ीं हो मेरे हमदम मरे दोस्त
रोज़ ओ शब शाम ओ सहर मैं तुझे बहलाता रहूँ
मैं तुझे गीत सुनाता रहूँ हल्के शीरीं
आबशारों के बहारों के चमन-ज़ारों के गीत
आमद-ए सुब्ह के, महताब के, सय्यारों के गीत
तुझ से मैं हुस्न-ओ-मोहब्बत की हिकायात कहूँ
४
कैसे मग़्रूर हसीनाओं के बर्फ़ाब से जिस्म
गर्म हाथों की हरारत में पिघल जाते हैं
कैसे एक चेहरे के ठहरे हुए मानूस नुक़ूश
देखते देखते यक-लख़्त बदल जाते हैं
५
किस तरह आरिज़-ए महबूब का शफ़्फ़ाफ़ बिलोर
यक-ब-यक बादा-ए अहमर से दहक जाता है
कैसे गुलचीं के लिये झुकती है ख़ुद शाख़-ए गुलाब
किस तरह रात का ऐवान महक जाता है
६
यूँही गाता रहूँ गाता रहूँ तेरी ख़ातेर
गीत बुनता रहूँ बैठा रहूँ तेरी ख़ातेर
७
पर मेरे गीत तेरे दुख का मुदावा ही नहीं
नग़्मा जर्राह नहीं मूनिस-ओ-ग़म ख़्वार सही
गीत नश्तर तो नहीं मरहम-ए आज़ार सही
तेरे आज़ार का चारा नहीं नश्तर के सिवा
और ये सफ़्फ़ाक मसीहा मेरे क़ब्ज़े में नहीं
इस जहाँ के किसी ज़ी-रूह के क़ब्ज़े में नहीं
८
हाँ मगर तेरे सिवा तेरे सिवा तेरे सिवा
फ़ैज़ अहमद फ़ैज़ (१९११-१९८४) सियालकोट, लाहौर। चर्च मिशन स्कूल और बाद में गवर्नमेंट कॉलेज, लाहौर से अंग्रेज़ी और अरबी में एम.ए.। उन्होंने अपने करियर की शुरुआत (१९३६) एम.ए.ओ. कॉलेज, अमृतसर से बतौर अंग्रेज़ी के लेक्चरर की, जहाँ मोहम्मद दीन तासीर प्रिंसिपल थे। तासीर साहब के घर अक्सर आने-जाने के दौरान उन की मुलाक़ात तासीर साहब की साली, एलीस जॉर्ज से हुई; १९४१ में उनकी शादी हो गई। एलीस, जो कम्युनिस्ट पार्टी की सदस्य, मार्क्सवादी, एक्टिविस्ट, पत्रकार और शिक्षक थीं, फ़ैज़ के जेल के दिनों में और उनके पूरे करियर के दौरान उनका एक अहम सहारा बनीं। फ़ैज़ — राजनीतिक कार्यकर्ता, कवि, प्रोग्रेसिव राइटर्स एसोसिएशन के सदस्य, नोबेल पुरस्कार के लिये नामांकित, लेनिन शांति पुरस्कार विजेता, पत्रकार, जिन्हें जेल और निर्वासन का सामना करना पड़ा और जिन्हें बेहद सराहा गया — पूरे उपमहाद्वीप और उससे परे बहुत लोकप्रिय थे और आज भी हैं। उनके काम का चीनी सहित कई भाषाओं में अनुवाद किया जा चुका है।
१
गर मुझे इस का यक़ीं हो मेरे हमदम मेरे दोस्त
गर मुझे इस का यक़ीं हो के तेरे दिल की थकन
तेरी आँखों की उदासी तेरे सीने की जलन
मेरी दिल-जूई मेरे प्यार से मिट जाएगी
कवि अपने एक “दोस्त” (हमदम, दोस्त) को संबोधित कर रहा है। ऊपर-ऊपर से देखने में तो ये एक पारंपरिक अंदाज़ लगता है, जैसे कोई प्रेमी अपने महबूब से बात कर रहा हो। लेकिन फ़ैज़ की क्रांतिकारी शा’एरी में, ये “महबूब” या “दोस्त” अक्सर उन के देशवासी, पीड़ित समाज या ख़ुद देश होता है। यहाँ कवि उन की थकान, उदासी और सीने की जलन को दूर करने की एक गहरी इच्छा जता रहा है … यहाँ मुख्य विचार ये है के “अगर मैं ये सब कर पाता, तो बहुत ख़ुशी से करता”। लेकिन आख़िरी पंक्तियों में वो साफ़ करते हैं के असल में किस चीज़ की ज़रूरत है।
२
गर मेरा हर्फ़-ए तसल्ली वो दवा हो जिस से
जी उठे फिर तेरा उजड़ा हुआ बे-नूर दिमाग़
तेरी पेशानी से ढल जाएँ ये तज़्लील के दाग़
तेरी बीमार जवानी को शिफ़ा हो जाए
यहाँ राजनीतिक दमन और उत्पीड़न के प्रतीक (symbolism) और साफ़ हो कर सामने आते हैं। कवि एक “उजड़े हुए बे-नूर दिमाग़” और माथे पर लगे “अपमान के दाग़” (तज़्लील के दाग़) की बात करता है। ये अत्याचार और ग़ुलामी के दौर में जीने के उस मानसिक बोझ को दिखाता है, जहाँ युवाओं की ऊर्जा (बीमार जवानी) इस दमन की वजह से कमज़ोर हो जाती है। कवि कहता है के अगर उस के दिलासा देने के शब्द (हर्फ़-ए तसल्ली) एक इलाज या दवा (शिफ़ा) बन जाएं तो …। लेकिन इशारा इसी तरफ़ है के सिर्फ़ उस के शब्दों से ये बीमारी ठीक नहीं हो सकती।
३
गर मुझे इस का यक़ीं हो मेरे हमदम मरे दोस्त
रोज़ ओ शब शाम ओ सहर मैं तुझे बहलाता रहूँ
मैं तुझे गीत सुनाता रहूँ हल्के शीरीं
आबशारों के बहारों के चमन-ज़ारों के गीत
आमद-ए सुब्ह के, महताब के, सय्यारों के गीत
तुझ से मैं हुस्न-ओ-मोहब्बत की हिकायात कहूँ
फ़ैज़ पारंपरिक उर्दू शा’एरी के जाने-पहचाने विषयों की एक लिस्ट सामने रखते हैं: जैसे झरनों (आबशार), बहार, बाग़ (चमन-ज़ार), सुब्ह की आमद, चाँद और सितारों के गीत गाना। वो कहते हैं के अगर मुझे पूरा भरोसा होता के इस से कोई मदद मिलेगी, तो मैं बड़ी ख़ुशी से इस काल्पनिक और ख़ूबसूरत दुनिया की कहानियां (हुस्न-ओ-मोहब्बत की हिकायात) सुनाता रहता ताके लोगों का ध्यान उन की दिक़्क़तों से हटा सकूं।
४
कैसे मग़्रूर हसीनाओं के बर्फ़ाब से जिस्म
गर्म हाथों की हरारत में पिघल जाते हैं
कैसे एक चेहरे के ठहरे हुए मानूस नुक़ूश
देखते देखते यक-लख़्त बदल जाते हैं
पारंपरिक प्रेम कविता के इसी सिलसिले को जारी रखते हुए वो कहते हैं के (वो लिखते और बताते के) कैसे घमंडी सुंदरियों के बर्फ़ जैसे ठंडे शरीर, गर्म हाथों की तपिश (हरारत) से पिघल जाते हैं, और कैसे किसी चेहरे के जाने-पहचाने, ठहरे हुए नैन-नक़्श (मानूस नुक़ूश) प्यार के एहसास में देखते ही देखते अचानक (यक-लख़्त) बदल जाते हैं। ये बंद एक बड़ा अंतर (contrast) दिखाने के लिये है; ये उस “pure romance” को दिखाता है जिस पर आम तौर पर कवि ध्यान देते हैं, लेकिन फ़ैज़ का मानना है के जब समाज लहूलुहान हो तो ये ऐश या सुकून बरक़रार नहीं रखा जा सकता; ये समाज के दुख का इलाज नहीं है।
५
किस तरह आरेज़-ए महबूब का शफ़्फ़ाफ़ बिलोर
यक-ब-यक बादा-ए अहमर से दहक जाता है
कैसे गुलचीं के लिये झुकती है ख़ुद शाख़-ए गुलाब
किस तरह रात का ऐवान महक जाता है
वो रोमांटिक दृश्यों को और आगे बढ़ाते हैं: महबूब का शीशे जैसा साफ़ गाल (आरिज़ का शफ़्फ़ाफ़ बिलोर) लाल शराब (बादा-ए अहमर) की तरह अचानक चमक उठता है, गुलाब की डाली ख़ुद फूल तोड़ने वाले (गुलचीं) के आगे झुक जाती है, और रात का आँगन (ऐवान) ख़ुशबू से महक जाता है। ये रोमांटिक और संवेदी आनंद की चोटी है। लेकिन क्रांति और बदलाव के नज़रिए से देखें तो फ़ैज़ यहाँ से एक बहुत बड़ा मोड़ (pivot) लेने की तय्यारी कर रहे हैं। वो ज़िंदगी और प्यार की इस असीम ख़ूबसूरती को स्वीकार तो करते हैं, लेकिन सिर्फ़ इस लिये के बाद में इसे अत्याचार के ख़िलाफ़ एक नाकाफ़ी जवाब कह कर ख़ारिज कर सकें।
६
यूँ ही गाता रहूँ गाता रहूँ तेरी ख़ातेर
गीत बुनता रहूँ बैठा रहूँ तेरी ख़ातेर
ये एक छोटा सा बदलाव का पल (transitional moment) है जहाँ वो अपनी बात दोहराते हैं: के वो सिर्फ़ मनोरंजन या हल्की-फुल्की तसल्ली के लिये बैठे-बैठे हमेशा ऐसे ख़ूबसूरत और मीठे गीत बुन सकते हैं। लेकिन यहाँ उन का लहजा थका हुआ है; वो जानते हैं के ये सब काफ़ी नहीं है।
७
पर मेरे गीत तेरे दुख का मुदावा ही नहीं
नग़्मा जर्राह नहीं मूनिस-ओ-ग़म ख़्वार सही
गीत नश्तर तो नहीं मरहम-ए आज़ार सही
तेरे आज़ार का चारा नहीं नश्तर के सिवा
और ये सफ़्फ़ाक मसीहा मेरे क़ब्ज़े में नहीं
इस जहाँ के किसी ज़ी-रूह के क़ब्ज़े में नहीं
ये इस कविता की क्रांति और प्रतिरोध का सब से अहम नुक्ता और निचोड़ है। फ़ैज़ यहाँ सारा भ्रम तोड़ देते हैं। वो साफ़ कहते हैं के उन के गीत लोगों की तक्लीफ़ का इलाज (मुदावा) नहीं हैं। गीत या कविता दिल बहलाने वाली और हमदर्द (मूनिस-ओ-ग़म ख़्वार) तो हो सकती है, लेकिन वो कोई जर्राह (surgeon) नहीं है। वो ज़ख्म का मरहम तो हो सकती है, लेकिन वो सर्जरी का चाकू या ब्लेड (नश्तर) नहीं है। वो खुल कर एलान करते हैं के समाज की ये सामूहिक बीमारी—यानी तानाशाही, ग़रीबी और शोषण—मीठे शब्दों से ठीक नहीं हो सकती; इस के लिये ‘नश्तर’ की ज़रूरत है, जो के एक बड़े बदलाव, क्रांति और विद्रोह का प्रतीक है। वो इस नश्तर को एक “बेरहम मसीहा” (सफ़्फ़ाक मसीहा) कहते हैं, और ये स्वीकार करते हैं के क्रांतिकारी बदलाव की ये ज़बरदस्त ताक़त न तो व्यक्तिगत तौर पर एक कवि के रूप में उनके पास है, और न ही दुनिया के किसी और इंसान (ज़ी-रूह) के बस में है।
८
हाँ मगर तेरे सिवा तेरे सिवा तेरे सिवा
कविता का अंत समाजवादी एकजुटता (socialist solidarity) के एक बहुत ही शक्तिशाली और चरम पल पर होता है। अगर कवि खुद क्रांति का नश्तर नहीं चला सकता, और कोई अकेला मसीहा भी ये नहीं कर सकता, तो फिर ज़ुल्म का तख़्ता पलटने की ताक़त किस के पास है? जवाब है: “तेरे सिवा, तेरे सिवा, तेरे सिवा।” यहाँ “तू” से मतलब जनता की सामूहिक ताक़त से है—यानी मज़्दूर, किसान और पीड़ित लोग। फ़ैज़ क्रांति की ये ताक़त और ज़िम्मेदारी कलाकार के हाथों से निकाल कर सीधे जनता के हाथों में सौंप देते हैं। सिर्फ़ ‘आम जनता के पास ही वो ताक़त है जो समाज की इन गहरी बीमारियों को जड़ से उखाड़ने के लिये नश्तर चला सकती है।
mer’e hamdam mer’e dost – faiz ahmed faiz
faiz ahmed faiz (1911-1984) sialkoT, lahore. Church Mission School and later MA in English and arabi from Government College, lahore. He started his career (1936) as a lecturer in English, MAO College, lahore where mohammed diin taasiir was the principal. During his frequent visits to the taasiir household he met Alys George, sister-in-law to taasiir; they were married in 1941. Alys, a member of the communist party, marxist, activist, journalist educator was an important support to faiz during his time in jail and throughout his career. faiz – political activist, poet, member Progressive Writers’ Association, nominee for the Nobel Prize, Lenin Peace Prize awardee, journalist, jailed, exiled and hugely celebrated was/is very popular throught the sub-continent and beyond. His work has been translated into many languages including Chinese.
The poet addresses a “friend” (hamdam, dost). On the surface, this feels like a traditional romantic address to a lover. However, in faiz‘s lexicon of resistance, the “beloved” or “friend” is almost always a metaphor for his countrymen, the oppressed masses, or the homeland itself. Here, he expresses a deep desire to soothe their exhaustion (thakan), sadness (udaasii), and burning pain (jalan), wishing that simple romantic love and consolation could cure their plight. The overarching thought is IF I could do all this, I would gladly do it. In the final misra he reveals what really needs to be done.
The symbolism of political oppression becomes clearer here. The poet speaks of an “unlit, devastated mind” (ujRaa huaa be-nuur dimaaGh) and “stains of humiliation” (tazliil ke daaGh) on the forehead. This represents the psychological toll of living under tyranny and colonialism, where the youth’s energy (biimaar javaanii) is sickened by subjugation. He wishes his words of comfort (harf-e tasallii) could act as a healing (shifa) medicine. The implication is that his words cannot heal.
Faiz lists the classical tropes of traditional Urdu poetry: singing of waterfalls (aabshaaroN), spring (bahaaroN), gardens (chaman-zaaroN), the morning dawn, the moon, and stars. He says if he knew that it would help, he would gladly escape into this escapist, beautiful world of romantic tales (husn-o-mohabbat kii hikayaat) to distract the people from their misery.
Continuing the imagery of classical love poetry, he (says that he would) write about and describe how the cold (unresponsive), proud bodies of beauties melt under warm hands, and how the frozen, familiar features of a face transform in the ecstasy of love. This stanza serves as a contrast; it represents the “pure romance” that poets traditionally focus on, which faiz argues is a luxury that cannot be sustained when society is bleeding; is not the cure of the ills of society.
He continues painting vivid romantic pictures: the beloved’s crystal cheek (aariz ka shaffaaf bilor) blushing like red wine (baada-e ahmar), the rose branch bending for the flower-picker, the night filled with fragrance. This is the peak of sensory, romantic indulgence. But in the context of resistance, faiz is setting up a massive pivot. He is acknowledging the immense beauty of life and love, only to reject it as an adequate response to oppression.
A brief transitional moment where he reiterates: he could sit around forever spinning these beautiful, lyrical songs for the sake of entertainment or mild comfort. But the tone is weary; he knows this is not enough.
This is the crux of the poem’s resistance. faiz shatters the illusion. He says his songs are not the cure (mudaavaa) for the people’s suffering. A song (naGhma) is a sympathizer (muunis-o-Gham Khwaar), but it is not a surgeon (jarraah). It is a soothing ointment (marham), but it is not a scalpel (nashtar). He boldly declares that the collective illness of society—tyranny, poverty, and exploitation—cannot be cured by soft words; it requires a surgical scalpel (nashtar), a metaphor for radical change, revolution, and upheaval. He calls this scalpel a “ruthless saviour” (saffaak masiihaa), and admits that this power of raw, systemic revolution does not belong to him as an individual poet, nor to any single living soul (zii-ruuh).
The poem ends on a powerful, climactic note of socialist solidarity. If the poet cannot wield the scalpel of revolution, and no single savior can, who holds the power to overthrow tyranny? “None but you, none but you, none but you.” The “you” here is the collective collective power of the masses—the workers, the oppressed people. faiz shifts the agency of resistance away from the artist and places it squarely into the hands of the people themselves. Only the masses have the power to perform the brutal surgery required to cure society’s deep-rooted afflictions.
The post mer’e hamdam mer’e dost-faiz ahmed faiz appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/07/faf-shiishoN-ka-masiiha-audio.mp3
Recitation
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/07/faf-shiishoN-ka-masiiha-faiz.mp3
faiz ahmed faiz
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/07/faf-shiishoN-ka-masiiha-Tina-saani.mp3
Tina saani
شیشوں کا مسیحا ۔ فیض احمد فیضؔ
۱
موتی ہو کہ شیشہ جام کہ دُر
جو ٹُوٹ گیا سو ٹُوٹ گیا
کب اشکوں سے جُڑ سکتا ہے
جو ٹُوٹ گیا سو چُھوٹ گیا
۲
تم ناحق ٹُکڑے چُن چُن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو
۳
شاید کہ اِنہیں ٹکڑوں میں کہیں
وہ ساغرِ دل ہے جِس میں کبھی
صد ناز سے اُترا کرتی تھی
صہبائے غمِ جاناں کی پری
۴
پھر دنیا والوں نے تم سے
یہ ساغر لے کر پھوڑ دیا
جو مے تھی بہا دی مٹی میں
مہمان کا شہپر توڑ دیا
۵
یہ رنگیں ریزے ہیں شاید
ان شُوخ بِلوریں سپنوں کے
تم مست جوانی میں جِن سے
خلوت کو سجایا کرتے تھے
۶
ناداری، دفتر، بھوک اور غم
اِن سپنوں سے ٹکراتے رہے
بے رحم تھا چَومُکھ پتھراؤ
یہ کانچ کے ڈھانچے کیا کرتے
۷
یا شاید ان ذرّوں میں کہیں
موتی ہے تمہاری عِزّت کا
وہ جِس سے تمہارے عِجز پہ بھی
شمشاد قدوں نے رشک کیا
۸
اِس مال کی دُھن میں پھرتے تھے
تاجر بھی بہت رہزن بھی کئی
ہے چور نگر یاں مُفلِس کی
گر جان بچی تو آن گئی
۹
یہ ساغر شیشے لعل و گہر
سالم ہوں تو قیمت پاتے ہیں
یوں ٹُکڑے ٹُکڑے ہوں تو فقط
چُبھتے ہیں لہو رُلواتے ہیں
۱۰
تم ناحق ٹُکڑے چُن چُن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو
۱۱
یادوں کے گریبانوں کے رفُو پر
دِل کی گُزر کب ہوتی ہے
اِک بخیہ ادھیڑا ایک سیا
یوں عمر بسر کب ہوتی ہے
۱۲
اِس کار گہِ ہستی میں جہاں
یہ ساغر شیشے ڈھلتے ہیں
ہر شے کا بدل مِل سکتا ہے
سب دامن پُر ہو سکتے ہیں
۱۳
جو ہاتھ بڑھے یاور ہے یہاں
جو آنکھ اُٹھے وہ بختاور
یاں دھن دولت کا انت نہیں
ہوں گھات میں ڈاکو لاکھ مگر
۱۴
کب لُوٹ جھپٹ سے ہستی کی
دوکانیں خالی ہوتی ہیں
یاں پربت پربت ہیرے ہیں
یاں ساگر ساگر موتی ہیں
۱۵
کچھ لوگ ہیں جو اس دولت پر
پردے لٹکاتے پھرتے ہیں
ہر پربت کو ہر ساگر کو
نیلام چڑھاتے پھرتے ہیں
۱۶
کچھ وہ بھی ہیں جو لڑ بِھڑ کر
یہ پردے نوچ گراتے ہیں
ہستی کے اُٹھائی گیروں کی
ہر چال اُلجھائے جاتے ہیں
۱۷
اِن دونوں میں رَن پڑتا ہے
نِت بستی بستی نگر نگر
ہر بستے گھر کے سینے میں
ہر چلتی راہ کے ماتھے پر
۱۸
یہ کالِک بھرتے پھرتے ہیں
وہ جوت جگاتے رہتے ہیں
یہ آگ لگاتے پِھرتے ہیں
وہ آگ بجھاتے رہتے ہیں
۱۹
سب ساغر شیشے لعل و گہر
اس بازی میں بِد جاتے ہیں
اُٹھو سب خالی ہاتھوں کو
اس رَن سے بلاوے آتے ہیں
فیض احمد فیضؔ (۱۹۱۱-۱۹۸۴) سیالکوٹ اور لاہور میں پلے بڑھے۔ اُنہوں نے اپنی شروعاتی پڑھائی چرچ مشن اسکول سے کی اور بعد میں گورنمنٹ کالج، لاہور سے انگریزی اور عربی میں ایم۔اے (MA) کی ڈگریاں لیں۔ اُنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ۱۹۳۶ میں ایم۔اے۔او (MAO) کالج، امرتسر سے بطور انگریزی کے لیکچرر کیا، جہاں محمد دین تاثیر پرنسپل تھے۔ تاثیر صاحب کے گھر اکثر آنے جانے کے دوران ان کی ملاقات تاثیر سالی، ایلیس جارج سے ہوئی اور ۱۹۴۱ میں ان دونوں کی شادی ہو گئی۔ ایلیس، جو خود کمیونسٹ پارٹی کی رکن، مارکسوادی، سماجی کارکن، صحافی اور معلمہ (ایجوکیٹر) تھیں، فیض کے جیل کے دنوں میں اور ان کے پورے کیریئر کے دوران ان کا ایک بہت بڑا سہارا بنیں۔ فیض — جو ایک سیاسی کارکن، شاعر، پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کے سرگرم رکن، نوبل انعام کے لیے نامزد، لینن امن انعام یافتہ اور صحافی رہے، اور جنہیں قید و بند اور جلاوطنی کا سامنا بھی کرنا پڑا — پورے برصغیر اور دنیا بھر میں بے انتہا مقبول تھے اور آج بھی ہیں۔ ان کے کلام کا چینی زبان سمیت دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
۱
موتی ہو کہ شیشہ جام کہ دُر
جو ٹُوٹ گیا سو ٹُوٹ گیا
کب اشکوں سے جُڑ سکتا ہے
جو ٹُوٹ گیا سو چُھوٹ گیا
یہاں موتی، شیشہ، جام اور دُر دراصل ان وعدوں کی علامت ہیں جو مقتدر حلقے اور طاقتور لوگ غریب عوام سے کرتے ہیں۔ ظاہر ہے، یہ وعدے ہمیشہ توڑ دیے جاتے ہیں اور ان ٹوٹے ہوئے وعدوں پر آنسو بہانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جو ٹوٹ گیا، وہ ماضی کا حِصّہ بن چکا ہے۔ فیض کا اِشارہ اس طرف ہے کہ اب رونے دھونے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ حالات کو بدلنے کے لیے کچھ اور کرنا پڑے گا۔ آگے چل کر فیض یہی بتاتے ہیں کہ وہ قدم کیا ہونا چاہیے۔
۲
تم ناحق ٹُکڑے چُن چُن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو
اپنے دامن میں ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں، جھوٹے وعدوں یا بکھرے ہوئے خوابوں کو سمیٹ کر بیٹھے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اب ایسا کوئی مسیحا نہیں آنے والا جو ان کِرچیوں کو دوبارہ جوڑ کر سب کچھ ٹھیک کر دے۔ تو پھر تم کس امید کے سہارے انتظار کر رہے ہو؟
۳
شاید کہ اِنہیں ٹکڑوں میں کہیں
وہ ساغرِ دل ہے جِس میں کبھی
صد ناز سے اُترا کرتی تھی
صہبائے غمِ جاناں کی پری
فیض نے اکثر اپنے کلام میں ‘جاناں’ یعنی محبوب کو اپنے وطن کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ “صہبائے غمِ جاناں کی پری” (وطن کے محبوب لوگوں کے غم کی شراب کی پری) ایک بہت ہی خوبصورت اور گہرا استعارہ ہے جو اپنے ہم وطنوں سے بے پناہ محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ فیض کہتے ہیں کہ ان بکھرے ہوئے ٹکڑوں کے ڈھیر میں شاید کہیں وہ ٹوٹا ہوا دل (ساغر) بھی پڑا ہے، جس میں کبھی اپنے ہم وطنوں کے دکھ درد اور محبت کی پری بڑے ناز و انداز کے ساتھ اترا کرتی تھی۔
۴
پھر دنیا والوں نے تم سے
یہ ساغر لے کر پھوڑ دیا
جو مے تھی بہا دی مٹی میں
مہمان کا شہپر توڑ دیا
یہاں “دنیا والے” عام لوگ نہیں ہیں، بلکہ وہ سرمایہ دار اور حکمران طبقہ ہے جو اس دنیا کو چلاتا اور قابو کرتا ہے۔ وہ ساغر جو اُنہوں نے آپ سے چھین لیا، یہ وہی پچھلے بند والا دل کا ساغر ہے جس میں محبت کی پری اترا کرتی تھی، اور وہ “مہمان” دراصل وہی پری ہے۔ چنانچہ، دنیا کے ان ظالم اور طاقتور لوگوں نے آپ سے محبت کا وہ ساغر چھین کر توڑ دیا، اس پاکیزہ محبت کی مے کو مٹی میں بہا دیا اور محبت کے اس فرشتے کے پر ہی کاٹ دیے۔
۵
یہ رنگیں ریزے ہیں شاید
ان شُوخ بِلوریں سپنوں کے
تم مست جوانی میں جِن سے
خلوت کو سجایا کرتے تھے
ایک انقلابی نے اپنی جوانی کے دنوں میں ایک شاندار اور روشن مستقبل کے بہت خوبصورت، شوخ اور رنگین خواب دیکھے تھے۔ وہ تنہائی میں بیٹھ کر ان خوابوں سے اپنے دل کی دنیا کو سجایا کرتا تھا۔ شاید یہ رنگین کِرچیاں ان ہی ٹوٹے ہوئے نازک خوابوں کے ٹکڑے ہیں۔
۶
ناداری، دفتر، بھوک اور غم
اِن سپنوں سے ٹکراتے رہے
بے رحم تھا چَومُکھ پتھراؤ
یہ کانچ کے ڈھانچے کیا کرتے
غربت، دکھوں کا لامتناہی دفتر، بھوک اور زندگی کے غم مُسلسِل ان خوبصورت خوابوں پر چوٹ کرتے رہے۔ چاروں طرف سے ہونے والی اس بے رحم سنگ باری کے سامنے بھلا یہ شیشے کے نازک ڈھانچے (وہ معصوم خواب) کیسے ٹک پاتے۔ ان کا ٹوٹنا تو طے تھا۔
۷
یا شاید ان ذرّوں میں کہیں
موتی ہے تمہاری عِزّت کا
وہ جِس سے تمہارے عِجز پہ بھی
شمشاد قدوں نے رشک کیا
شاید ان بکھرے ہوئے ذرّوں میں کہیں تمہاری عِزّتِ نفس اور غیرت کا وہ موتی بھی چھپا ہوا ہے، جو اتنا انمول تھا کہ تمہاری عاجزی اور غریبی کے باوجود دنیا کے بڑے بڑے مقتدر اور مغرور لوگ (شمشاد قد) تمہاری اس خودداری پر رشک کیا کرتے تھے۔
۸
اِس مال کی دُھن میں پھرتے تھے
تاجر بھی بہت رہزن بھی کئی
ہے چور نگر یاں مُفلِس کی
گر جان بچی تو آن گئی
ایک مفلس اور غریب اِنسان کا اصل سرمایہ اُس کی عزتِ نفس، خودداری، خواب اور اس کی اُمنگیں ہی ہوتی ہیں۔ “تاجر” یعنی سرمایہ دار اور ان کے کارندے (رہزن) ہمیشہ غریبوں سے ان کا یہ قیمتی سرمایہ چھیننے کی فکر میں رہتے ہیں۔ یہ دنیا لٹیروں کا شہر ہے، جہاں اگر کوئی غریب اپنی جان بچا بھی لے، تو بدلے میں اسے اپنی عزت و وقار (آن) گنوانی پڑتی ہے۔
۹
یہ ساغر شیشے لعل و گہر
سالم ہوں تو قیمت پاتے ہیں
یوں ٹُکڑے ٹُکڑے ہوں تو فقط
چُبھتے ہیں لہو رُلواتے ہیں
پہلے کی طرح یہاں بھی ساغر، شیشے, لعل اور موتی دراصل عوام کے خوابوں، امیدوں اور ان کی عزتِ نفس کی علامت ہیں۔ ان چیزوں کی قدر و قیمت اُسی وقت تک ہے جب تک یہ سلامت رہیں اور اپنی پہچان برقرار رکھیں۔ لیکن جب یہ ایک بار ٹوٹ کر بکھر جائیں، تو یہ صرف دُکھ دیتے ہیں، پاؤں میں چبھتے ہیں اور خون کے آنسو رلاتے ہیں۔
۱۰
تم ناحق ٹُکڑے چُن چُن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو
تم بلاوجہ شیشے کی ان کِرچیوں کو چُن کر اپنے دامن میں سمیٹے بیٹھے ہو۔ کوئی ایسا چارہ گر یا مسیحا نہیں آئے گا جو ان بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو دوبارہ جوڑ سکے۔ تم کس امید پر کسی مسیحا کی راہ تک رہے ہو؟
۱۱
یادوں کے گریبانوں کے رفُو پر
دِل کی گُزر کب ہوتی ہے
اِک بخیہ ادھیڑا ایک سیا
یوں عمر بسر کب ہوتی ہے
گریبان کا پھٹا ہونا پریشانی اور مصیبت کی نشانی ہے۔ جن لوگوں کے خواب ٹوٹ چکے ہوں اور عزت پامال ہو چکی ہو، وہ شدید پریشان حال ہوتے ہیں۔ وہ اپنی پرانی عزت اور اچھے دنوں کی یادوں کے سہارے جینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یادوں کا یہ پھٹا ہوا گریبان رفو نہیں کیا جا سکتا۔ دل اس طرح کے عارضی رفو پر زندہ نہیں رہ سکتا۔ کب تک انسان ایک ٹانکا ادھیڑنے اور دوسرا سینے کے اس چکر میں پھنسا رہے گا؟ اس طرح تو زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔
۱۲
اِس کار گہِ ہستی میں جہاں
یہ ساغر شیشے ڈھلتے ہیں
ہر شے کا بدل مِل سکتا ہے
سب دامن پُر ہو سکتے ہیں
یہاں سے نظم ایک دم روشن اور پُراُمید رخ اختیار کرتی ہے۔ “دامن پُر ہونا” یا “دامن بھرنا” کا مطلب ہے تمام ضرورتوں کا پورا ہو جانا۔ فیض کہتے ہیں کہ زندگی کے اس کارخانے (کارگہِ ہستی) میں، جہاں یہ ساغر اور شیشے بنتے ہیں، وہاں ہر چیز کا متبادل موجود ہے اور سب کے دامن بھرے جا سکتے ہیں۔ یعنی اس دنیا میں اتنے وسائل موجود ہیں کہ اگر انہیں اِنصاف کے ساتھ تقسیم کیا جائے تو ہر انسان کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔
۱۳
جو ہاتھ بڑھے یاور ہے یہاں
جو آنکھ اُٹھے وہ بختاور
یاں دھن دولت کا انت نہیں
ہوں گھات میں ڈاکو لاکھ مگر
یہاں سے فیض ہمیں جدوجہد اور مزاحمت کی دعوت دے رہے ہیں۔ “ہاتھ بڑھانا” کا مطلب یہاں کچھ کر گزرنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھانا ہے۔ اسی طرح “آنکھ اُٹھانا” سوال کرنے اور احتجاج کرنے کے معنی میں ہے۔ چنانچہ، جو ہاتھ بھی آگے بڑھ کر جدوجہد کرے گا وہ کامیاب ہوگا، اور جو آنکھ بھی ظلم کے خلاف سوال اُٹھائے گی وہ خوش بخت ہوگی۔ اس دنیا میں وسائل اور دولت کی کوئی کمی نہیں ہے، اگرچہ راستے میں لاکھوں لٹیرے گھات لگائے بیٹھے ہیں۔
۱۴
کب لُوٹ جھپٹ سے ہستی کی
دوکانیں خالی ہوتی ہیں
یاں پربت پربت ہیرے ہیں
یاں ساگر ساگر موتی ہیں
کیا کبھی لوٹ مار اور چوری چکاری سے دنیا کے خزانے خالی ہوئے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہاں تو ہر پہاڑ کے اندر ہیروں کی کانیں ہیں اور ہر سمندر موتیوں سے بھرا پڑا ہے۔ مطلب یہ کہ کائنات میں وسائل کی فراوانی ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان وسائل کو سب میں برابر اور انصاف کے ساتھ بانٹا جائے۔
۱۵
کچھ لوگ ہیں جو اس دولت پر
پردے لٹکاتے پھرتے ہیں
ہر پربت کو ہر ساگر کو
نیلام چڑھاتے پھرتے ہیں
فیض نے یہاں ہیروں اور موتیوں کو قدرتی وسائل کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے، اور “پردے” ان ہتھکنڈوں کو ظاہر کرتے ہیں جن کے ذریعے ان وسائل کو عوام کی نظروں سے چھپایا جاتا ہے۔ کچھ لالچی لوگ ایسے ہیں جو ان وسائل پر پردے ڈال دیتے ہیں اور ہر پہاڑ اور سمندر کو نیلام کرتے پھرتے ہیں تاکہ تمام دولت پر خود قبضہ کر سکیں۔
۱۶
کچھ وہ بھی ہیں جو لڑ بِھڑ کر
یہ پردے نوچ گراتے ہیں
ہستی کے اُٹھائی گیروں کی
ہر چال اُلجھائے جاتے ہیں
لیکن دوسری طرف کچھ ایسے سرپھرے اور اِنقلابی بھی ہیں جو لڑ بِھڑ کر اِن پردوں کو نوچ پھینکتے ہیں تاکہ چھپی ہوئی دولت سب کو نظر آ سکے۔ وہ ان لٹیروں (اُٹھائی گیروں) کی ہر چال اور سازش کو ناکام بنا کر اُنہیں ان کے اپنے ہی بنے ہوئے جال میں الجھا دیتے ہیں۔
۱۷
اِن دونوں میں رِن پڑتا ہے
نِت بستی بستی نگر نگر
ہر بستے گھر کے سینے میں
ہر چلتی راہ کے ماتھے پر
اب ان دونوں گروہوں (ظالم اور مظلوم) کے درمیان روزانہ بستی بستی اور شہر شہر ایک جنگ (رن) چھڑی ہوئی ہے۔ یہ لڑائی صرف میدانوں میں نہیں، بلکہ ہر آباد گھر کے اندر رہنے والوں کے دلوں میں اور ہر چلتی ہوئی راہ پر موجود انسان کے ماتھے پر یعنی ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہے۔
۱۸
یہ کالِک بھرتے پھرتے ہیں
وہ جوت جگاتے رہتے ہیں
یہ آگ لگاتے پھرتے ہیں
وہ آگ بُجھاتے رہتے ہیں
ایک گروہ (غاصب اور ظالم طبقہ) ہر طرف اندھیرا اور مایوسی کی کالک پھیلاتا پھرتا ہے، جبکہ دوسرا گروہ (انقلابی) امید اور شعور کا دیا جلاتا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ہر طرف نفرت اور تباہی کی آگ لگاتے ہیں، اور دوسری طرف وہ ہیں جو اس آگ کو بجھانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔
۱۹
سب ساغر شیشے لعل و گہر
اس بازی میں بِد جاتے ہیں
اُٹھو سب خالی ہاتھوں کو
اس رَن سے بلاوے آتے ہیں
اب زندگی کے تمام خوبصورت خواب، امیدیں اور عزتِ نفس (ساغر، شیشے، لعل و گہر) اس بڑی بازی پر داؤ پر لگ چکے ہیں۔ اس لیے اب اٹھ کھڑے ہو! اے دنیا کے تمام خالی ہاتھ والو (مزدورو اور غریبوں)، تمہیں اس جنگ کے میدان سے پکارا جا رہا ہے۔ اٹھو اور اس پکار کا جواب دو!
शीशों का मसीहा – फ़ैज़ अहमद फ़ैज़
१
मोती हो के शीशा जाम के दुर
जो टूट गया सो टूट गया
कब अश्कों से जुड़ सकता है
जो टूट गया सो छूट गया
२
तुम नाहक़ टुकड़े चुन चुन कर
दामन में छुपाए बैठे हो
शीशों का मसीहा कोई नहीं
क्या आस लगाए बैठे हो
३
शा’एद के इन्हीं टुकड़ों में कहीं
वो साग़र-ए दिल है जिस में कभी
सद-नाज़ से उतरा करती थी
सहबा-ए ग़म-ए जानाँ की परी
४
फिर दुनिया वालों ने तुम से
ये साग़र ले कर फोड़ दिया
जो मय थी बहा दी मिट्टी में
मेहमान का शहपर तोड़ दिया
५
ये रंगीं रेज़े हैं शा’एद
उन शूख़ बिलोरीं सपनों के
तुम मस्त जवानी में जिन से
ख़ल्वत को सजाया करते थे
६
नादारी दफ़्तर भूक और ग़म
उन सपनों से टकराते रहे
बे-रहम था चौमुख पथरा’ऊ
ये काँच के ढाँचे क्या करते
७
या शा’एद इन ज़र्रों में कहीं
मोती है तुम्हारी इज़्ज़त का
वो जिस से तुम्हारे इज्ज़ पे भी
शमशाद-क़दों ने रश्क किया
८
इस माल की धुन में फिरते थे
ताजेर भी बहुत रहज़न भी कई
है चोर-नगर याँ मुफ़्लिस की
गर जान बची तो आन गई
९
ये साग़र शीशे लाल-ओ-गोहर
सालिम हों तो क़ीमत पाते हैं
यूँ टुकड़े टुकड़े हों तो फ़क़त
चुभते हैं लहू रुलवाते हैं
१०
तुम नाहक़ शीशे चुन चुन कर
दामन में छुपाए बैठे हो
शीशों का मसीहा कोई नहीं
क्या आस लगाए बैठे हो
११
यादों के गरेबानों के रफ़ू पर
दिल की गुज़र कब होती है
एक बख़िया उधेड़ा एक सिया
यूँ उम्र बसर कब होती है
१२
इस कार-गह-ए हस्ती में जहाँ
ये साग़र शीशे ढलते हैं
हर शय का बदल मिल सकता है
सब दामन पुर हो सकते हैं
१३
जो हाथ बढ़े यावर है यहाँ
जो आँख उठे वो बख़्तावर
याँ धन-दौलत का अंत नहीं
हों घात में डाकू लाख मगर
१४
कब लूट-झपट से हस्ती की
दूकानें ख़ाली होती हैं
याँ परबत-परबत हीरे हैं
याँ सागर सागर मोती हैं
१५
कुछ लोग हैं जो इस दौलत पर
पर्दे लटकाते फिरते हैं
हर पर्बत को हर सागर को
नीलाम चढ़ाते फिरते हैं
१६
कुछ वो भी हैं जो लड़ भिड़ कर
ये पर्दे नोच गिराते हैं
हस्ती के उठाई-गीरों की
हर चाल उलझाए जाते हैं
१७
इन दोनों में रन पड़ता है
नित बस्ती-बस्ती नगर-नगर
हर बस्ते घर के सीने में
हर चलती राह के माथे पर
१८
ये कालक भरते फिरते हैं
वो जोत जगाते रहते हैं
ये आग लगाते फिरते हैं
वो आग बुझाते रहते हैं
१९
सब साग़र शीशे लाल-ओ-गुहर
इस बाज़ी में बिद जाते हैं
उट्ठो सब ख़ाली हाथों को
इस रन से बुलावे आते हैं
फ़ैज़ अहमद फ़ैज़ (१९११-१९८४) सियालकोट, लाहौर। चर्च मिशन स्कूल और बाद में गवर्नमेंट कॉलेज, लाहौर से अंग्रेज़ी और अरबी में एम.ए.। उन्होंने अपने करियर की शुरुआत (१९३६) एम.ए.ओ. कॉलेज, अमृतसर से बतौर अंग्रेज़ी के लेक्चरर की, जहाँ मोहम्मद दीन तासीर प्रिंसिपल थे। तासीर साहब के घर अक्सर आने-जाने के दौरान उन की मुलाक़ात तासीर साहब की साली, एलीस जॉर्ज से हुई; १९४१ में उनकी शादी हो गई। एलीस, जो कम्युनिस्ट पार्टी की सदस्य, मार्क्सवादी, एक्टिविस्ट, पत्रकार और शिक्षक थीं, फ़ैज़ के जेल के दिनों में और उनके पूरे करियर के दौरान उनका एक अहम सहारा बनीं। फ़ैज़ — राजनीतिक कार्यकर्ता, कवि, प्रोग्रेसिव राइटर्स एसोसिएशन के सदस्य, नोबेल पुरस्कार के लिये नामांकित, लेनिन शांति पुरस्कार विजेता, पत्रकार, जिन्हें जेल और निर्वासन का सामना करना पड़ा और जिन्हें बेहद सराहा गया — पूरे उपमहाद्वीप और उससे परे बहुत लोकप्रिय थे और आज भी हैं। उनके काम का चीनी सहित कई भाषाओं में अनुवाद किया जा चुका है।
१
मोती हो के शीशा जाम के दुर
जो टूट गया सो टूट गया
कब अश्कों से जुड़ सकता है
जो टूट गया सो छूट गया
यहाँ मोती, शीशा, जाम और दुर असल में उन वादों के प्रतीक हैं जो ताक़तवर और हुक्मरान लोग आम जनता से करते हैं। ज़ाहिर है, ये वादे हमेशा तोड़ दिए जाते हैं और इन टूटे हुए वादों पर आँसू बहाने से कुछ हासिल नहीं होता। जो टूट गया, वो अब अतीत (past) का हिस्सा बन चुका है। फ़ैज़ का इशारा इस तरफ़ है के अब सिर्फ़ रोने-धोने से काम नहीं चलेगा, बल्के हालात को बदलने के लिये कुछ और (ठोस क़दम) करना होगा। आगे चल कर फ़ैज़ यही समझाते हैं के वो क़दम क्या होना चाहिए।
२
तुम नाहक़ टुकड़े चुन चुन कर
दामन में छुपाए बैठे हो
शीशों का मसीहा कोई नहीं
क्या आस लगाए बैठे हो
अपने दामन में इन टूटे हुए टुकड़ों, झूठे वादों या बिखरे हुए सपनों को बटोर कर बैठे रहने से कोई फ़ा’एदा नहीं होने वाला। ऐसा कोई मसीहा या रक्षक नहीं आने वाला जो इन टूटे हुए काँच के टुकड़ों को दोबारा जोड़कर सब कुछ ठीक कर दे। तो फिर तुम किस उम्मीद के सहारे बेकार में इन्तेज़ार कर रहे हो?
३
शा’एद के इन्हीं टुकड़ों में कहीं
वो साग़र-ए दिल है जिस में कभी
सद-नाज़ से उतरा करती थी
सहबा-ए ग़म-ए जानाँ की परी
फ़ैज़ ने अक्सर अपनी शा’एरी में ‘जानाँ’ यानी प्रियतम को अपने देश या मातृभूमि के प्रतीक (symbol) के रूप में इस्तेमाल किया है। “सहबा-ए ग़म-ए जानाँ की परी” (वतन के प्यारे लोगों के दुख-दर्द और मोहब्बत की शराब की परी) अपने देशवासियों के प्रति गहरी और ख़ूबसूरत मोहब्बत को बयाँ करने का एक लाजवाब तरीक़ा है। फ़ैज़ कहते हैं के इन बिखरे हुए टुकड़ों के ढेर में शा’एद कहीं वो टूटा हुआ दिल (साग़र) भी पड़ा है, जिस में कभी वतन के लोगों से बेपनाह मोहब्बत की परी बड़े नाज़ और गर्व के साथ उतरा करती थी।
४
फिर दुनिया वालों ने तुम से
ये साग़र ले कर फोड़ दिया
जो मय थी बहा दी मिट्टी में
मेहमान का शहपर तोड़ दिया
यहाँ “दुनिया वाले” आम लोग नहीं हैं, बल्के वो पूँजीपति और शासक वर्ग है जो इस दुनिया को चलाता और कंट्रोल करता है। वो साग़र जो उन्होंने आप से छीन लिया, ये वही पिछले बंद वाला दिल का साग़र है जिस में मोहब्बत की परी उतरा करती थी, और वो “मेहमान” दरअसल वही परी है। यानी, दुनिया के इन ज़ालिम और ताक़तवर लोगों ने आप से मोहब्बत का वो साग़र छीन कर तोड़ दिया, उस पाकीज़ा मोहब्बत की मय (शराब) को मिट्टी में बहा दिया और मोहब्बत के उस फ़रिश्ते के पंख (शहपर) ही काट दिए।
५
ये रंगीं रेज़े हैं शा’एद
उन शूख़ बिलोरीं सपनों के
तुम मस्त जवानी में जिन से
ख़ल्वत को सजाया करते थे
एक क्रांतिकारी ने अपनी जवानी के दिनों में एक सुनहरे और उजले भविष्य के बहुत ही सुंदर, चंचल और रंगीन सपने देखे थे। वो तन्हाई (ख़ल्वत) में बैठकर इन सपनों से अपने दिल की दुनिया को सजाया करता था। शा’एद ये रंग-बिरंगे टुकड़े उन्हीं टूटे हुए नाज़ुक सपनों के हिस्से हैं।
६
नादारी दफ़्तर भूक और ग़म
उन सपनों से टकराते रहे
बे-रहम था चौमुख पथरा’ऊ
ये काँच के ढाँचे क्या करते
ये ग़रीबी (नादारी), दुखों की लंबी लिस्ट (दफ़्तर), भूख और ज़िंदगी की तकलीफ़ें लगातार उन ख़ूबसूरत सपनों पर चोट करती रहीं। चारों दिशाओं से होने वाली इस बेदर्द पत्थरबाज़ी (चौमुख पथराऊ) के सामने भला ये काँच के नाज़ुक ढाँचे (वो मासूम सपने) कैसे टिक पाते। उनका बिखर जाना तो तय ही था।
७
या शा’एद इन ज़र्रों में कहीं
मोती है तुम्हारी इज़्ज़त का
वो जिस से तुम्हारे इज्ज़ पे भी
शमशाद-क़दों ने रश्क किया
शा’एद इन बिखरे हुए कणों (ज़र्रों) में कहीं तुम्हारी इज़्ज़त और स्वाभिमान का वो अनमोल मोती भी छुपा हुआ है, जो इतना क़ीमती था के तुम्हारी लाचारी और ग़रीबी (इज्ज़) के बावजूद दुनिया के बड़े-बड़े रईस और घमंडी लोग (शमशाद-क़द) तुम्हारी इस ख़ुद्दारी से ईर्ष्या (रश्क) किया करते थे।
८
इस माल की धुन में फिरते थे
ताजेर भी बहुत रहज़न भी कई
है चोर-नगर याँ मुफ़्लिस की
गर जान बची तो आन गई
एक ग़रीब (मुफ़्लिस) इंसान की असली दौलत उसका आत्मसम्मान, ख़ुद्दारी, सपने और उसकी उम्मीदें ही होती हैं। “ताजेर” यानी पूँजीपति (कैपिटलिस्ट) और उनके गुर्गे (रहज़न यानी लुटेरे) हमेशा ग़रीबों से उन की इसी अनमोल दौलत को छीनने की ताक में रहते हैं। ये दुनिया चोरों का शहर है, जहाँ अगर कोई ग़रीब अपनी जान बचा भी ले, तो बदले में उसे अपनी इज़्ज़त और स्वाभिमान (आन) दांव पर लगानी ही पड़ती है।
९
ये साग़र शीशे लाल-ओ-गोहर
सालिम हों तो क़ीमत पाते हैं
यूँ टुकड़े टुकड़े हों तो फ़क़त
चुभते हैं लहू रुलवाते हैं
पहले की तरह यहाँ भी साग़र, शीशे, लाल (रत्न) और मोती दरअस्ल जनता के सपनों, उम्मीदों और उनकी इज़्ज़त के प्रतीक हैं। इन चीज़ों की क़द्र और क़ीमत तभी तक है जब तक ये सही-सलामत (सालिम) रहें और अपनी गरिमा बनाए रखें। लेकिन जब ये एक बार टूट कर बिखर जाएँ, तो ये सिर्फ़ तक्लीफ़ देते हैं, चुभते हैं और ख़ून के आँसू रुलाते हैं।
१०
तुम नाहक़ शीशे चुन चुन कर
दामन में छुपाए बैठे हो
शीशों का मसीहा कोई नहीं
क्या आस लगाए बैठे हो
तुम बिना किसी वजह के काँच के इन टूटे हुए टुकड़ों को बटोरकर अपने दामन में समेटे बैठे हो। कोई ऐसा इलाज करने वाला या मसीहा नहीं आएगा जो इन बिखरे हुए टुकड़ों को दोबारा आपस में जोड़ सके। तुम किस उम्मीद में किसी मसीहा का इन्तेज़ार कर रहे हो?
११
यादों के गरेबानों के रफ़ू पर
दिल की गुज़र कब होती है
एक बख़िया उधेड़ा एक सिया
यूँ उम्र बसर कब होती है
गरेबान का फटा होना परेशानी और पागलपन का इशारा है। जिन लोगों के सपने टूट चुके हों और इज़्ज़त लूट ली गई हो, वो बेहद परेशान हाल होते हैं। वो अपने पुराने स्वाभिमान और बीते अच्छे दिनों की यादों के सहारे जीने की कोशिश करते हैं। लेकिन यादों का ये फटा हुआ गरेबान रफ़ू नहीं किया जा सकता, और दिल ऐसी अस्थाई मरम्मत के सहारे नहीं जी सकता। कब तक कोई एक टाँका (बख़िया) उधेड़ने और दूसरा सीने के इस चक्कर में फँसा रहेगा? ऐसे भला पूरी ज़िंदगी कैसे काटी जा सकती है।
१२
इस कार-गह-ए हस्ती में जहाँ
ये साग़र शीशे ढलते हैं
हर शय का बदल मिल सकता है
सब दामन पुर हो सकते हैं
यहाँ से नज़्म का मिज़ाज एकदम बदल जाता है और एक उजले भविष्य की उम्मीद जागती है। “दामन पुर होना” या “दामन भरना” एक मुहावरा है जिस का मतलब है सारी ज़रूरतें पूरी हो जाना। फ़ैज़ कहते हैं के ज़िंदगी के इस कारख़ाने (कारगह-ए हस्ती) में, जहाँ ये साग़र और शीशे बनते हैं, वहाँ हर चीज़ का विकल्प (बदल) मौजूद है और हर किसी की ज़रूरतें पूरी की जा सकती हैं। यानी इस दुनिया में इतने साधन हैं के अगर उनका सही बटवारा हो, तो हर इंसान की ज़रूरत आराम से पूरी हो सकती है।
१३
जो हाथ बढ़े यावर है यहाँ
जो आँख उठे वो बख़्तावर
याँ धन-दौलत का अंत नहीं
हों घात में डाकू लाख मगर
यहाँ से फ़ैज़ हमें संघर्ष और विरोध करने का न्योता दे रहे हैं। “हाथ बढ़ाना” यहाँ किसी काम को करने के लिये आगे आने के अर्थ में है। इसी तरह “आँख उठाना” सवाल करने और विरोध जताने के लिये इस्तेमाल हुआ है। जो हाथ भी संघर्ष के लिये आगे बढ़ेगा वो मददगार (यावर) साबित होगा, और जो आँख भी नाइंसाफ़ी के ख़िलाफ़ सवाल उठाएगी वो ख़ुशक़िस्मत (बख़्तावर) होगी। इस दुनिया में साधनों और दौलत की कोई कमी नहीं है, भले ही रास्ते में लाखों लुटेरे घात लगा कर क्यों न बैठे हों।
१४
कब लूट-झपट से हस्ती की
दूकानें ख़ाली होती हैं
याँ परबत-परबत हीरे हैं
याँ सागर सागर मोती हैं
क्या कभी लूट-खसोट और चोरी से इस दुनिया के ख़ज़ाने ख़ाली हुए हैं? बिल्कुल नहीं। यहाँ तो हर पहाड़ के भीतर हीरों की कानें हैं और हर समंदर मोतियों से भरा पड़ा है। कहने का मतलब ये है के क़ुद्रत के पास साधनों की कोई कमी नहीं है, बस ज़रूरत इस बात की है के इन साधनों को सब में बराबरी और ईमानदारी से बाटा जाए।
१५
कुछ लोग हैं जो इस दौलत पर
पर्दे लटकाते फिरते हैं
हर पर्बत को हर सागर को
नीलाम चढ़ाते फिरते हैं
फ़ैज़ ने यहाँ हीरों और मोती को खनिज (mineral) और प्राकृतिक संसाधनों (resources) की तरह इस्तेमाल किया है, और “पर्दे” उन चालों को दिखाते हैं जिन के ज़रिए इन संसाधनों को आम जनता से छुपाया जाता है। कुछ लालची लोग ऐसे हैं जो इन संसाधनों पर परदे डाल देते हैं और हर पहाड़ और समंदर को नीलाम करते फिरते हैं ताके वो सारी दौलत पर ख़ुद क़ब्ज़ा कर सकें।
१६
कुछ वो भी हैं जो लड़ भिड़ कर
ये पर्दे नोच गिराते हैं
हस्ती के उठाई-गीरों की
हर चाल उलझाए जाते हैं
लेकिन दूसरी तरफ़ कुछ ऐसे हिम्मत वाले क्रांतिकारी भी हैं जो लड़-भिड़कर इन परदों को नोच फेंकते हैं ताके छुपा हुआ ख़ज़ाना सब के सामने आ सके। वो इन लुटेरों (उठाई-गीरों) की हर चाल और साज़िश को नाकाम कर के उन्हें उन के अपने ही बुने हुए जाल में उलझा देते हैं।
१७
इन दोनों में रन पड़ता है
नित बस्ती-बस्ती नगर-नगर
हर बस्ते घर के सीने में
हर चलती राह के माथे पर
अब इन दोनों गुटों (शोषक और शोषित) के बीच रोज़ाना हर बस्ती और हर शहर में एक जंग (रन) छिड़ी हुई है। ये लड़ाई सिर्फ़ मैदानों में नहीं, बल्के हर हँसते-खेलते घर के भीतर रहने वालों के दिलों में और सड़क/रास्ते पर साफ़ देखी जा सकती है।
१८
ये कालक भरते फिरते हैं
वो जोत जगाते रहते हैं
ये आग लगाते फिरते हैं
वो आग बुझाते रहते हैं
एक गुट (ज़ालिम और शोषक वर्ग) हर तरफ़ मायूसी और अंधियारे की कालिक फैलाता फिरता है, जब के दूसरा गुट (क्रांतिकारी) उम्मीद और चेतना का दीया (जोत) जलाता रहता है। एक तरफ़ वो लोग हैं जो हर तरफ़ नफ़्रत और तबाही की आग लगाते हैं, और दूसरी तरफ़ वो हैं जो उस आग को बुझाने में जी-जान से जुटे रहते हैं।
१९
सब साग़र शीशे लाल-ओ-गुहर
इस बाज़ी में बिद जाते हैं
उट्ठो सब ख़ाली हाथों को
इस रन से बुलावो आते हैं
अब ज़िंदगी के सारे हसीन सपने, उम्मीदें और सम्मान (साग़र, शीशे, लाल और मोती) इस अंतिम बाज़ी पर दांव पर लग चुके हैं। इसलिये अब उठ खड़े हो! ऐ दुनिया के तमाम खाली हाथ वालो (ग़रीबों और मज़दूरों), तुम्हें इस जंग के मैदान से बुलावा आ रहा है। उठो और इस पुकार का जवाब दो!
shiishoN ka masiiha-faiz ahmed faiz
faiz ahmed faiz (1911-1984) sialkoT, lahore. Church Mission School and later MA in English and arabi from Government College, lahore. He started his career (1936) as a lecturer in English, MAO College, lahore where mohammed diin taasiir was the principal. During his frequent visits to the taasiir household he met Alys George, sister-in-law to taasiir; they were married in 1941. Alys, a member of the communist party, marxist, activist, journalist educator was an important support to faiz during his time in jail and throughout his career. faiz – political activist, poet, member Progressive Writers’ Association, nominee for the Nobel Prize, Lenin Peace Prize awardee, journalist, jailed, exiled and hugely celebrated was/is very popular throught the sub-continent and beyond. His work has been translated into many languages including Chinese. In this nazm, written in 1952, faiz uses symbolism and abstract imagery to talk about the deprivation of the working class and exhorting them to action.
1.pearl 2.glass, bottle 3.cup, goblet 4.gem 5.tears
The pearl, bottle, goblet and gem symbolize the promises that the powerful make to the masses. Of course, these promises are broken and they cannot be fixed by crying over them. Broken promises are stories of the past. The implication is that something other than crying has to be done to rectify the situation. faiz goes on to suggest what needs to be done.
1.unnecessarily, to no effect 2.hem of the garment 3.healer, saviour 4.hope
Collecting shards/broken promises/destroyed dreams in the hem of your garment is not going to help. There is no saviour that can come and fix everything. Why do you wait clinging on to hope.
1.perhaps 2.cup, goblet 3.with a hundred dignities 4.wine 5.beloved 6.fairy, angel
faiz has often used ‘jaanaaN-beloved’ to represent the homeland. The ‘sahbaa-e Gham-e jaanaaN ki pari – angel of the wine of love for the homeland’ is a complex yet beautiful way of conveying the idea of love for the people of the homeland. Somewhere in the heap of shards, perhaps there is a goblet (the broken heart) in which used to proudly descend the angel of the wine of love for the beloved.
1.goblet 2.wine 3.guest 4.principal feather
Here ‘duniya vaale’ are not the people of the world, but the people who control the world – the capitalists and the rulers. The saaGhar which they snatch away from his is the same saaGhar from the previous stanza in which the angel of the wine of love used to descend and the mehmaan is the angel. Thus, the powerful of the world snatched your goblet and smashed it, spilled the wine of love on the ground and clipped the wings of the angel of love.
1.splinters 2.perhaps 3.playful, mischievous 4.crystalline, beautiful but fragile 5.dreams 6.solitude, seclusion 7.adorn, embellish
The revolutionary, in his/her youthful days, dreamt colourful, hopeful, playful dreams – dreams of a grand future. He/she used to adorn his/her solitude with these dreams. Perhaps these multi-coloured splinters are those shattered dreams.
1.penury, 2.list (of woes) 3.dreams 4.merciless 5.four-faced i.e., from all around 6.glass 7.skeletons, forms
This penury, the long list of woes, hunger and pain kept smashing those colourful dreams. This merciless stoning from all four directions; how could these fragile crystal skeletons (delicate dreams) withstand this onslaught.
1.perhaps 2.pieces 3.pearl 4.respect, dignity 5.humility, helplessness, powerlessness 6.stature of a tall tree i.e., privileged, powerful 7.envy
Perhaps somewhere among these broken pieces is the pearl of your dignity which made even the most powerful and arrogant (shamshaad-qad) envy you in your humble but dignified state.
1.goods, possessions, wealth 2.obsession 3.traders 4.robbers 5.pauper 6.dignity
The wealth that the ‘muflis-pauper’ possesses is their self-esteem, dignity, dreams, aspirations. Traders-taajir are capitalists. Thus, the capitalists and their henchmen (robbers) are obsessed with snatching this wealth. This is a world of robbers, if you come away with your life, you lose your dignity.
1.goblets 2.glasses 3.rubies 4.pearls 5.intact, unbroken 6.value 7.only 8.pierce 9.blood
As before goblets, glasses, rubies and pearls symbolize the dignity and dreams and aspirations of the masses. They hold value as long as they are intact, maintain their integrity and dignity. Once shattered, they only pierce and bruise and cause tears of blood.
1.uselessly, needlessly 2.broken pieces of glass 3.pick, collect 4.hem of garment 5.healer 6.hope
You needlessly collect these shards of glass and hold them in the hem of your garment. There is no healer who can put these shards back together. Why have you pinned your hopes and wait for the healer.
1.memories 2.collar 3.darning 4.survival, passing life 5.sewing 6.unstitching 7.stitch 8.life 9.pass, sustain
A torn collar is a sign of distress. People with shattered dreams, violated dignities are distressed. The hang on to memories of their dignity and dreams; but the shattered memories, the torn collar cannot be darned; the heart cannot survive on this darning. Sewing here, unstiching there to sew it back up again, how can you sustain life like this.
1.workshop 2.life 3.where 4.goblet 5.glass 6.moulded, cast 7.everything 8.replacement 9.garment hem
There is a sharp turn towards an optimistic future. ‘daaman pur karna, daaman bharna’ is an expression meaning fulfill all needs. Thus, in this workshop of life, where goblets and glasses are cast, everything can be replaced; all needs can be met i.e., there is enough wealth/resources in the world to meet all needs (provide there is just distribution).
1.helper, successful 2.fortunate, lucky 3.wealth 4.end, limit 5.waiting in ambush 6.robbers
Here is an invitation to resist; to do something. ‘haath baRhaana’ to extend hand could mean extend to ask or help or do something. Here it is used to mean extend to do something. Similarly ‘aaNkh uThaana’ is used to mean raise eyes in questioning and protesting. Thus, the hand that is extended to do something is successful, the eye that is raised to question brings good fortune. There is no limit to wealth here but there are robbers waiting to ambush and loot.
1.plunder and snatch 2.life, world 3.every mountain 4.every sea
Has plundering and stealing ever emptied the storehouse of wealth of this world. There are plenty of diamonds in the caves of every hill and mountain; there are uncountable pearls in every ocean and sea i.e., there are plenty of resources to go around; all that is needed is fair and just sharing.
1.wealth, resources 2.curtains, veils 3.mountain 4.ocean, sea 5.auction
faiz has used diamonds and pearls as symbolic of mineral resources, and curtains and veils as instruments of hiding this wealth from the masses. There are some people who hide these resources and put every mountain and every sea up for auction (so that they can expropriate all the wealth of the resources.
1.fight and confront 2.curtains, veils 3.grasp and rip 4.life, world 5.overpowering progress 6.trickery 7.obstruct, entangle, tie up
But then there are those who protest/fight and confront and grasp these curtains and rip them apart to reveal the hidden wealth. They tie up those who try to overpower progress in their own trickery.
1.war, conflict 2.always, every day 3.every neighbourhood 4.every town 5.settled 6.forehead, brow
There is conflict between these two groups playing out in every neighbourhood, every town; in the throbbing hearts of every home and on the brow of every busy street.
1.blackness 2.jyoti-light 3.fire 4.extinguish, put out
One group (the usurpers) smear blackness all over; the other (protestors) shine a light all around; one sets fires, the other keeps putting them out.
1.goblets 2.glasses 3.rubies 4.pearls 5.game 6.wager 7.conflict 8.calls, summons
All the goblets, glasses, rubies and pearls (symbolic of shining but fragile dreams and desires) are wagered in this game. Rise all available hands, there is a call summoning you to this conflict; answer that call.
The post shiishoN ka masiiha-faiz ahmed faiz appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/07/srKh-shams-o-qamar-chhoR-jaauNga-audio.mp3
Recitation
شمس و قمر چھوڑ جاؤِ گا ۔ سیتا رام خلِشؔ
۱
شاعر ہوں شمع علم و ہُنر چھوڑ جاؤں گا
چرخِ ادب پہ شمس و قمر چھوڑ جاؤں گا
۲
میرے لبوں سے تو نے اگر چھین لی ہنسی
تیری ہنسی میں غم کے شرر چھوڑ جاؤں گا
۳
جی کھول کر جو رویا کبھی اضطراب میں
برسات کی جھڑی کا اثر چھوڑ جاؤں گا
۴
دیکھیں گے آپ سب کو محبت کی آنکھ سے
آنکھوں میں آپ کی وہ نظر چھوڑ جاؤں گا
۵
نقشِ قدم کی شکل میں راہِ حیات پر
جلتا ہوا چراغِ سفر چھوڑ جاؤں گا
۶
بچیے کہ اب دکھاوے کی ہیں دین داریاں
ہم قوم میں یہ ایک خبر چھوڑ جاؤں گا
۷
اس کشتیِ خلِش پہ جو اُن کا ہوا کرم
حیرت زدہ تجھے اے بھنور چھوڑ جاؤں گا
سیتا رام خلِشؔ (xxxx–xxxx) کے بارے میں مجھے ان کے نام اور تخلُّص کے علاوہ بہت ہی کم معلومات حاصل ہیں۔ وہ ناگپور اور اس کے آس پاس کے علاقے میں پیدا ہوئے، وہیں ان کی پرورش ہوئی اور انہوں نے اپنی زندگی گزاری، جہاں وہ سلائی مشینوں کی مرمت کا کام کر کے اپنی روزی روٹی کماتے تھے۔ ۱۹۶۰ کی دہائی میں وہ اس علاقے کی ادبی اور شعری محفلوں میں کافی فعال اور متحرک تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم اُردو میں ہوئی تھی، اور ان کے کالج جانے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا۔
۱
شاعر ہوں شمع علم و ہُنر چھوڑ جاؤں گا
چرخِ ادب پہ شمس و قمر چھوڑ جاؤں گا
میں ایک شاعر ہوں اور اپنے بعد علم و ہنر کے چراغ کی روشنی چھوڑ جاؤں گا۔ ادب کے آسمان (چرخِِ ادب) پر میں سورج (شمس) اور چاند (قمر) چھوڑ کر جاؤں گا یعنی اُن کے اشعار۔
۲
میرے لبوں سے تو نے اگر چھین لی ہنسی
تیری ہنسی میں غم کے شرر چھوڑ جاؤں گا
یہ شعر غالباً دنیا سے مخاطب ہو کر کہا گیا ہے۔ دنیا نے اس کے ساتھ سخت رویہ اپنایا ہے اور اس کے ہونٹوں سے ہنسی چھین لی ہے۔ اس کا ارادہ ہے کہ وہ دنیا کی خوشی اور ہنسی میں غم کی چنگاریاں (غم کے شرر) شامل کر کے جائے (تاکہ دنیا ان لوگوں کے لیے ہمدردی محسوس کر سکے جو کم خوش نصیب ہیں)۔
۳
جی کھول کر جو رویا کبھی اضطراب میں
برسات کی جھڑی کا اثر چھوڑ جاؤں گا
جب میں شدید بے چینی اور اضطراب میں کبھی جی کھول کر رویا، تو اس کا اثر برسات کی لمبی اور مسلسل جھڑی کی طرح ہوگا، یعنی اس کا غم بہت گہرا اور اثر انگیز ہے۔
۴
دیکھیں گے آپ سب کو محبت کی آنکھ سے
آنکھوں میں آپ کی وہ نظر چھوڑ جاؤں گا
یہ شعر یا تو محبوب سے مخاطب ہے یا پھر باقی اشعار کے سیاق و سباق میں عام دنیا اور اپنے انسان ساتھیوں سے۔ میں آپ کی آنکھوں میں وہ پرکھنے والی اور ہمدردانہ بصیرت (وہ نظر) چھوڑ جاؤں گا جو آپ کو ہر ایک انسان کو محبت کی نظر سے دیکھنے پر مجبور کرے گی۔
۵
نقشِ قدم کی شکل میں راہِ حیات پر
جلتا ہوا چراغِ سفر چھوڑ جاؤں گا
زندگی کے راستے (راہِ حیات) پر اپنے نقشِ قدم کی صورت میں، میں پیچھے آنے والوں کے لیے سفر کا ایک روشن اور جلتا ہوا چراغ (چراغِ سفر) چھوڑ جاؤں گا۔
۶
بچیے کہ اب دکھاوے کی ہیں دین داریاں
ہم قوم میں یہ ایک خبر چھوڑ جاؤں گا
وہ اپنے ہم وطنوں اور انسانوں (ہم قوم) کو اس ایک آگاہی (خبر) کے ساتھ مشورہ دیتا ہے کہ انہیں محتاط رہنا چاہیے اور خود کو بچانا چاہیے، کیونکہ اب دین داری محض ایک منافقانہ دکھاوا بن چکی ہے۔
۷
اس کشتیِ خلِش پہ جو اُن کا ہوا کرم
حیرت زدہ تجھے اے بھنور چھوڑ جاؤں گا
شاعر خلِشؔ اپنی زندگی کے سفر پر روانہ ہے جسے ایک کشتی کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ وہ اپنے تخلص کو استعمال کرتے ہوئے یہ اشارہ بھی کرتا ہے کہ اس کی کشتی کا سفر دراصل درد اور خلِش کا سفر ہے۔ جب یہ کسی طوفانی بھنور میں پھنس جاتی ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے ڈوبنے کی توقع کی جاتی ہے۔ لیکن اگر محبوب نے اس پر کرم کی نظر کی، تو اس کے اندر اپنی کشتی کو بچانے کا اتنا حوصلہ اور طاقت آ جائے گی کہ وہ اس طوفان اور بھنور کو اپنی مہارت سے حیرت زدہ چھوڑ کر نکل جائے گا۔
शम्स-ओ-क़मर छोड़ जाऊँगा – सीता राम ख़लिश
१
शा’एर हूँ शम-ए इल्म-ओ-हुनर छोड़ जाऊँगा
चर्ख़-ए अदब पे शम्स-ओ-क़मर छोड़ जाऊँगा
२
मेरे लबों से तू ने अगर छीन ली हँसी
तेरी हँसी में ग़म के शरर छोड़ जाऊँगा
३
जी खोल कर जो रोया कभी इज़्तेराब में
बरसात की झड़ी का असर छोड़ जाऊँगा
४
देखेंगे आप सब को मोहब्बत की आँख से
आँखों में आप की वो नज़र छोड़ जाऊँगा
५
नक़्श-ए क़दम की शक्ल में राह-ए हयात पर
जलता हुआ चराग़-ए सफ़र छोड़ जाऊँगा
६
बचिये के अब दिखावे की हैं दीन-दारियाँ
हम-क़ौम में ये एक ख़बर छोड़ जाऊँगा
७
इस कश्ती-ए ख़लिश पे जो उन का हुआ करम
हैरत-ज़दा तुझे अए भँवर छोड़ जाऊँगा
सीता राम ख़लिश (xxxx–xxxx) के बारे में मुझे उन के नाम और तख़ल्लुस के अलावा बहुत ही कम जानकारी है। वो नागपुर और उस के आस-पास के इलाक़े में पैदा हुए, वहीं पले-बढ़े और रहे, जहाँ वो सिलाई मशीनों की मरम्मत का काम कर के अपनी रोज़ी-रोटी कमाते थे। १९६० के दशक में वो इस क्षेत्र की मुशा’एरा-महफ़िलों में काफ़ी सक्रिय थे। उन की शुरुआती पढ़ाई उर्दू में हुई थी, और उन के कॉलेज जाने का कोई रेकॉर्ड नहीं मिलता है।
१
शा’एर हूँ शम-ए इल्म-ओ-हुनर छोड़ जाऊँगा
चर्ख़-ए अदब पे शम्स-ओ-क़मर छोड़ जाऊँगा
मैं एक शा’एर हूँ और अपने पीछे ज्ञान और कला के चराग़ की रोशनी छोड़ कर जाऊँगा। साहित्य के आसमान (चर्ख़-ए अदब) पर मैं सूरज (शम्स) और चाँद (क़मर) छोड़ कर जाऊँगा – अपने अश’आर से मतलब है।
२
मेरे लबों से तू ने अगर छीन ली हँसी
तेरी हँसी में ग़म के शरर छोड़ जाऊँगा
ये शे’र ग़ालिबन दुनिया से मुख़ातिब हो कर कहा गया है। दुनिया ने उस के साथ सख़्त रवय्या अपनाया है और उस के होंठों से हँसी छीन ली है। उस का इरादा है के वो दुनिया की ख़ुशी और हँसी में दुख की चिंगारियाँ (ग़म के शरर) शामिल कर के जाए (ताके दुनिया उन लोगों के लिये हमदर्दी महसूस कर सके जो कम ख़ुशनसीब हैं)।
३
जी खोल कर जो रोया कभी इज़्तेराब में
बरसात की झड़ी का असर छोड़ जाऊँगा
जब मैं बेहद बेचैनी और इज़्तेराब में कभी जी खोल कर रोया, तो उस का असर बरसात की लंबी और लगातार झड़ी की तरह होगा, यानी उस का दुख बहुत गहरा और असरदार है।
४
देखेंगे आप सब को मोहब्बत की आँख से
आँखों में आप की वो नज़र छोड़ जाऊँगा
ये शे’र या तो महबूब से मुख़ातिब है या फिर बाक़ी अश’आर के संदर्भ में आम दुनिया और अपने इंसान साथियों से। मैं आप की आँखों में वो परखने वाली और हमदर्दाना दृष्टि (वो नज़र) छोड़ जाऊँगा जो आप को हर एक इंसान को मोहब्बत की नज़र से देखने पर मज्बूर कर देगी।
५
नक़्श-ए क़दम की शक्ल में राह-ए हयात पर
जलता हुआ चराग़-ए सफ़र छोड़ जाऊँगा
ज़िंदगी के रास्ते (राह-ए हयात) पर अपने नक़्श-ए-क़दम के रूप में, मैं पीछे आने वालों के लिये सफ़र का एक रौशन और जलता हुआ चराग़ (चराग़-ए सफ़र) छोड़ जाऊँगा।
६
बचिये के अब दिखावे की हैं दीन-दारियाँ
हम-क़ौम में ये एक ख़बर छोड़ जाऊँगा
वो अपने देशवासियों और इंसानों (हम-क़ौम) को इस एक जागरूकता (ख़बर) के साथ सलाह देता है के उन्हें सावधान रहना चाहिए और ख़ुद को बचाना चाहिए, क्यूंके अब धर्मनिष्ठा (दीन-दारी) महज़ एक दिखावा बन कर रह गई है।
७
इस कश्ती-ए ख़लिश पे जो उन का हुआ करम
हैरत-ज़दा तुझे अए भँवर छोड़ जाऊँगा
शा’एर ख़लिश अपनी ज़िंदगी के सफ़र पर आगे बढ़ रहा है जिसे एक नाव (कश्ती) के रूप में पेश किया गया है। वो अपने तख़ल्लुस का इस्तेमाल करते हुए ये इशारा भी करता है के उस की नाव का सफ़र दरअस्ल दर्द और ख़लिश का सफ़र है। जब ये किसी तूफ़ानी भँवर में फँस जाती है तो ज़ाहिर है के इस के डूबने का डर होता है। लेकिन अगर महबूब ने उस पर करम की नज़र की, तो उस के अंदर अपनी नाव को बचाने का इतना हौसला और ताक़त आ जाएगी के वो उस तूफ़ान और भँवर को अपनी महारत से हैरान छोड़ कर निकल जाएगा।
shams-o-qamar chhoR jaau’Nga – siitaa raam Khalish
siita raam Khalish (xxxx-xxxx). I know very little about him except his name and taKhallus. He was born, grew up and lived in the area around nagpur, where he made his living repairing sewing machines. He was active in poetic circles in the area, in the 1960s. He received his schooling in urdu. There is no record of college.
I am a poet and will leave behind the light of the lamp of knowledge and art (hunar). On the sky of literature (adab), I will leave behind suns (shams) and moons (qamar), meaning his ash’aar.
This is probably addressed to the world at large. It has dealt him a difficult life, snatching the smile/laughter (haNsi) away from his lips (laboN). He intends to leave behind sparks of sorrow (Gham ke sharar) mingled with the laughter/joy of the world (so that it can feel empathy for those who are less fortunate).
If I cry profusely (jii khol kar) in extreme restlessness (izteraab), then it will have the effects of a long/continuous drizzle/shower i.e., his sorrow is profound.
This is addressed either to the beloved or perhaps in the context of other ash’aar to the world in general, to fellow human beings. I will leave in you eyes that discerning/empathetic sight (vo nazar) which will make you look at every one with love.
In the shape (shakl) of footprints (naqsh-e qadam), on the path of life (raah-e hayaat), I will leave behind a shining lamp for the journey (charaaGh-e safar).
He advises his fellow humans (ham-qaum) with this one awareness (Khabar) that they should be cautious, save themselves (bachiye) because orthodoxy (diin-daari) has become a hypocritical show (dikhaava).
The poet Khalish is on his journey of life presented as a boat – kashtii. He uses his taKhallus to also imply that his boat is a journey of pain Khalish. When it is caught in a stormy whirlpool (bhaNvar) you expect it to sink/drown. But if the beloved looks upon him with favour (karam) then he will enough courage/power to save his boat and will leave the storm amazed (hairat-zada) at his skill.
The post shams-o-qamar chhoR jaau’Nga-siita raam Khalish appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/07/kbn-sharar-chhoR-jaauNga-audio.mp3
Recitation
شرر چھوڑ جاؤں گا ۔ کرشن بہاری نورؔ
۱
اپنا پتہ نہ اپنی خبر چھوڑ جاؤں گا
بے سمتیوں کی گردِ سفر چھوڑ جاؤں گا
۲
تجھ سے اگر بچھڑ بھی گیا میں تو یاد رکھ
چہرے پہ تیرے اپنی نظر چھوڑ جاؤں گا
۳
غم دُوریوں کا دُور نہ ہو پائے گا کبھی
وہ اپنی قربتوں کا اثر چھوڑ جاؤں گا
۴
گزرے گی رات رات مرے ہی خیال میں
تیرے لیے میں صرف سحر چھوڑ جاؤں گا
۵
جیسے کہ شمع دان میں بجھ جائے کوئی شمع
بس یوں ہی اپنے جسم کا گھر چھوڑ جاؤں گا
۶
میں تجھ کو جیت کر بھی کہاں جیت پاؤں گا
لیکن محبتوں کا ہنر چھوڑ جاؤں گا
۷
آنسو ملیں گے میرے نہ پھر تیرے قہقہے
سُونی ہر ایک راہ گزر چھوڑ جاؤں گا
۸
سنسار میں اکیلا تجھے اگلے جنم تک
ہے چھوڑنا محال مگر چھوڑ جاؤں گا
۹
اُس پار جا سکیں گی تو یادیں ہی جائیں گی
جو کچھ اِدھر ملا ہے اِدھر چھوڑ جاؤں گا
۱۰
غم ہوگا سب کو اور جدا ہوگا سب کا غم
کیا جانے کتنے دیدۂ تر چھوڑ جاؤں گا
۱۱
بس تم ہی پا سکو گے کُریدو گے تم اگر
میں اپنی راکھ میں بھی شرر چھوڑ جاؤں گا
۱۲
کچھ دیر کو نگاہ ٹھہر جائے گی ضرور
افسانے میں اِک ایسا کھنڈر چھوڑ جاؤں گا
۱۳
کوئی خیال تک بھی نہ چُھو پائے گا مجھے
یہ چاروں سمت آٹھوں پہر چھوڑ جاؤں گا
کرشن بہاری شریواستو نورؔ (۱۹۲۶۔۲۰۰۳) لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور وہیں اُن کی پرورش ہوئی۔ اِبتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد، انہوں نے ہائی اسکول پاس کیا اور پھر لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔ اس کے بعد وہ محکمہ ڈاک کے (Returned Letter Office) سے وابستہ ہو گئے، جہاں سے ۱۹۸۴میں اسسٹنٹ مینیجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اُردو اور ہندی دونوں زبانوں میں ان کی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ وہ پورے ہندوستان کے مشاعروں کی ایک معروف اور مستقل شخصیت تھے۔ ان کے کلام کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے سماجی، سیاسی اور مذہبی میدانوں میں بہت خوبصورتی اور وقار کے ساتھ فرقہ وارانہ حد بندیوں کو پار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اُردو زبان کے بہت بڑے عاشق اور شیدائی بھی تھے۔
۱
اپنا پتہ نہ اپنی خبر چھوڑ جاؤں گا
بے سمتیوں کی گردِ سفر چھوڑ جاؤں گا
شاعر اپنی موت کے بعد پیچھے رہ جانے والی میراث کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ وہ بغیر کوئی پتہ، نشان یا اپنی کوئی خبر چھوڑے خاموشی سے غائب ہو جائے گا۔ اُس کی کوئی یادگار یا مآدی دولت نہیں ہوگی۔ اُس کے سفر کی دُھول ایک بے سمت اور دھندلے غبار کی طرح ہوگی۔ آگے کے اشعار میں وہ اپنی شاعری کی عظیم میراث کا دعویٰ کرتا ہے، جس سے میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ اگرچہ اُس کی کوئی مآدی یادگار یا جانے کا نشان نہیں ہوگا، پھر بھی وہ اپنے اشعار کی صورت میں ایک عظیم میراث چھوڑ کر جا رہا ہے۔
۲
تجھ سے اگر بچھڑ بھی گیا میں تو یاد رکھ
چہرے پہ تیرے اپنی نظر چھوڑ جاؤں گا
اپنے قارئین اور سامعین سے مخاطب ہو کر شاعر وعدہ کرتا ہے کہ اپنے بچھڑنے (موت) کے بعد بھی، وہ اپنا مخصوص فنکارانہ نقطۂ نظر کا اُن کے ذہن اور شعور پر نقش چھوڑ جائے گا۔ اس کا سوچنے اور دیکھنے کا انداز، جو اس کی شاعری میں محفوظ ہے، ہمیشہ قائم رہے گا۔
۳
غم دُوریوں کا دُور نہ ہو پائے گا کبھی
وہ اپنی قربتوں کا اثر چھوڑ جاؤں گا
دوسرے مصرعے میں لفظ ’وہ‘ بہت اہم ہے اور کسی خاص اور منفرد چیز کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں اپنی قربت اور تعلق (جو شاعری کے ذریعے قائم ہوا ہے) کا ایسا منفرد اور گہرا اثر چھوڑ جاؤں گا کہ میری جدائی کا غم کبھی ختم نہیں ہو سکے گا۔ تم مجھے کبھی بھول نہیں پاؤ گے اور بطور شاعر میری شہرت ہمیشہ قائم رہے گی۔
۴
گزرے گی رات رات مرے ہی خیال میں
تیرے لیے میں صرف سحر چھوڑ جاؤں گا
راتیں میرے ہی خیالوں میں اور میری شاعری پر غور و فکر کرتے ہوئے گزریں گی۔ میں تمہارے لیے جو واحد چیز چھوڑ کر جاؤں گا وہ سحر (صبح) ہے۔ یہاں صبح نادانی یا غم کی لمبی رات کے بعد علم، روشنی اور خوشی کی علامت ہے۔ لفظ ’صرف‘ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنی میراث کو کم تر سمجھ رہا ہے، بلکہ اس بات پر زور دینا ہے کہ بس یہی ایک چیز سب سے زیادہ اہم ہے—سحر یعنی روشنی، علم، امید اور ترقی؛ وہ کوئی مآدی یادگاریں یا دیگر دنیوی چیزیں نہیں چھوڑ رہا ہے۔
۵
جیسے کہ شمع دان میں بجھ جائے کوئی شمع
بس یوں ہی اپنے جسم کا گھر چھوڑ جاؤں گا
اس دنیا سے اُس کی رخصتی بہت سادہ اور خاموش ہوگی، جیسے شمع دان میں کوئی شمع خاموشی سے بجھ جاتی ہے۔ وہ بغیر کسی جدوجہد یا شور شرابے کے اپنے جسم کو—جو اس کی روح کا گھر تھا—چھوڑ دے گا۔
۶
میں تجھ کو جیت کر بھی کہاں جیت پاؤں گا
لیکن محبتوں کا ہنر چھوڑ جاؤں گا
شاعر کو اس بات کا احساس ہے کہ زندگی یا محبت میں حتمی/مستقل فتح حاصل کرنا ناممکن ہے (کہاں جیت پاؤں گا)۔ اس کی اصل کامیابی اور ہمیشہ قائم رہنے والی چیز نتائج نہیں، بلکہ محبت کرنے کا فن اور سلیقہ (محبتوں کا ہنر) ہے، جو اس کی شاعری میں محفوظ رہے گا۔
۷
آنسو ملیں گے میرے نہ پھر تیرے قہقہے
سُونی ہر ایک راہ گزر چھوڑ جاؤں گا
اس کی رخصتی سے جذبات کا ایک مکمل خلا پیدا ہو جائے گا: اس کا گہرا غم اور اس کی شاعری سے متاثر ہونے والی سامعین کی خوشی (قہقہے)، دونوں ختم ہو جائیں گے۔ وہ ادب اور زندگی کی راہوں کو بالکل سُونا اور ویران چھوڑ جائے گا—ایک ایسا خلا جسے کوئی دوسرا ہم عصر شاعر نہیں بھر سکے گا۔
۸
سَنسار میں اکیلا تجھے اگلے جنم تک
ہے چھوڑنا محال مگر چھوڑ جاؤں گا
اپنے مدّاحوں اور سامعین کو اگلے جنم تک اس دنیا میں اکیلا چھوڑ جانا شاعر کے لیے ایک انتہائی تکلیف دہ اور تقریباً ناممکن کام لگتا ہے۔ لیکن پھر بھی اسے قسمت کے نظام کے آگے جھکنا پڑے گا، اور اس کا اپنے فن کی طرف لوٹنے کا وعدہ ایک ابدی عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
۹
اُس پار جا سکیں گی تو یادیں ہی جائیں گی
جو کچھ اِدھر ملا ہے اِدھر چھوڑ جاؤں گا
فلسفیانہ انداز میں شاعر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اگلے عالم میں جو واحد چیزیں ساتھ جا سکتی ہیں وہ صرف یادیں اور تجربات ہیں۔ تمام مآدی اشیاء، شہرت اور اس کا جسم (جو کچھ اِدھر ملا ہے) اسی دنیا میں چھوڑنا پڑے گا۔
۱۰
غم ہوگا سب کو اور جدا ہوگا سب کا غم
کیا جانے کتنے دیدۂ تر چھوڑ جاؤں گا
اس کی رخصتی پر سب کو غم ہوگا، لیکن ہر شخص کا غم الگ اور منفرد ہوگا—جو اس کے وسیع اور ذاتی اثر و رسوخ کا ثبوت ہے۔ اپنے پیچھے وہ کتنی روتی ہوئی آنکھیں (دیدۂ تر) چھوڑ جائے گا، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
۱۱
بس تم ہی پا سکو گے کُریدو گے تم اگر
میں اپنی راکھ میں بھی شرر چھوڑ جاؤں گا
شاعر کی اصل حقیقت آسانی سے نظر آنے والی نہیں ہے۔ سامعین یا قارئین کو اس کے جذبے اور ذہانت کی چنگاری (شرر) صرف تبھی ملے گی جب وہ اس کے کلام (جو بظاہر راکھ کی طرح ختم یا مردہ لگتا ہے) کی گہرائی میں جا کر چھان بین (کُریدنا) کریں گے۔ یہ چنگاری ان کے ذہنوں میں نئے معانی اور تشریحات کو جنم دے سکتی ہے۔
۱۲
کچھ دیر کو نگاہ ٹھہر جائے گی ضرور
افسانے میں اِک ایسا کھنڈر چھوڑ جاؤں گا
اُس کی زندگی کی کہانی ایک عظیم الشان کھنڈر کی طرح ہوگی۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس کا کام دھندلا سکتا ہے، لیکن اس کی اصل عظمت اتنی واضح ہوگی کہ مستقبل میں دیکھنے والے کی نظر کچھ دیر کے لیے رکنے اور ٹھہرنے پر مجبور ہو جائے گی، اور وہ اس کی گہری اہمیت کا اعتراف کرے گی۔
۱۳
کوئی خیال تک بھی نہ چُھو پائے گا مجھے
یہ چاروں سمت آٹھوں پہر چھوڑ جاؤں گا
یہ شاعر کا آخری فخر اور اِدّعا ہے: اس کے فکر اور خیال کی بلندی اتنی زیادہ ہے کہ آنے والے کسی شاعر کا خیال اس تک نہیں پہنچ سکے گا (چُھو نہیں پائے گا)۔ دوسرے مصرعے میں ’یہ‘ یا تو اس کے خیال کی طرف اشارہ ہے یا پھر ایک پُرکشش اعلان ہے کہ “یہ” وہ چیز ہے جو میں چھوڑ کر جاؤں گا، جس میں گہرے معانی پوشیدہ ہیں۔ تاہم، اس کے موضوعات ہر دور (آٹھوں پہر—یعنی پورا دن/ہر وقت) اور ہر جگہ (چاروں سمت) ہمیشہ اہم اور زندہ رہیں گے۔
शरर छोड़ जाऊँगा – क्रिष्ण बिहारी नूर
१
अपना पता न अपनी ख़बर छोड़ जाऊँगा
बे-सम्तियों की गर्द-ए सफ़र छोड़ जाऊँगा
२
तुझ से अगर बिछड़ भी गया मैं तो याद रख
चेहरे पे तेरे अपनी नज़र छोड़ जाऊँगा
३
ग़म दूरियों का दूर न हो पाएगा कभी
वो अपनी क़ुर्बतों का असर छोड़ जाऊँगा
४
गुज़रेगी रात रात मेरे ही ख़याल में
तेरे लिये मैं सिर्फ़ सहर छोड़ जाऊँगा
५
जैसे कि शमा’-दान में बुझ जाए कोई शम’अ
बस यूँ ही अपने जिस्म का घर छोड़ जाऊँगा
६
मैं तुझ को जीत कर भी कहाँ जीत पाऊँगा
लेकिन मोहब्बतों का हुनर छोड़ जाऊँगा
७
आँसू मिलेंगे मेरे न फिर तेरे क़हक़हे
सूनी हर एक राहगुज़र छोड़ जाऊँगा
८
संसार में अकेला तुझे अगले जन्म तक
है छोड़ना महाल मगर छोड़ जाऊँगा
९
उस पार जा सकेंगी तो यादें ही जाएँगी
जो कुछ इधर मिला है इधर छोड़ जाऊँगा
१०
ग़म होगा सब को और जुदा होगा सब का ग़म
क्या जाने कितने दीदा-ए तर छोड़ जाऊँगा
११
बस तुम ही पा सकोगे कुरेदोगे तुम अगर
मैं अपनी राख में भी शरर छोड़ जाऊँगा
१२
कुछ देर को निगाह ठहर जाएगी ज़रूर
अफ़्साने में एक ऐसा खंडर छोड़ जाऊँगा
१३
कोई ख़याल तक भी न छू पाएगा मुझे
ये चारों सम्त आठों पहर छोड़ जाऊँगा
कृष्ण बिहारी श्रीवास्तव नूर (१९२६-२००३) का जन्म लखनऊ में हुआ था और वो वहीं पले-बढ़े। शुरुआती घरेलू पढ़ाई के बाद उन्होंने हाई स्कूल पास किया और बाद में लखनऊ यूनिवर्सिटी से ग्रेजुएशन की डिग्री हासिल की। इस के बाद वो डाक विभाग के आर-एल-ओ (Returned Letter Office) में नौकरी पर लग गए, जहाँ से वो १९८४ में असिस्टेंट मैनेजर के पद से रिटा’एर हुए। उर्दू और हिंदी में उन की शा’एरी के कई संग्रह प्रकाशित हो चुके हैं। वो पूरे भारत के मुशा’एरों की एक जानी-मानी और नियमित शख़्सियत थे। उन की शा’एरी की सब से ख़ास बात ये है के उन्होंने सामाजिक, राजनीतिक और धार्मिक—हर क्षेत्र में बहुत ही ख़ूबसूरती के साथ सांप्रदायिक दा’एरों से ऊपर उठ कर बात की है। इस के साथ ही वो उर्दू भाषा के बहुत बड़े प्रेमी भी थे।
१
अपना पता न अपनी ख़बर छोड़ जाऊँगा
बे-सम्तियों की गर्द-ए सफ़र छोड़ जाऊँगा
शा’एर अपनी मौत के बाद पीछे रह जाने वाली विरासत के बारे में बात कर रहा है। वो बिना कोई पता, निशान या अपनी कोई ख़बर छोड़े ख़ामोशी से ग़ा’एब हो जाएगा। उस की कोई यादगार या भौतिक दौलत नहीं होगी। उस के सफ़र की धूल एक दिशाहीन और धुंधले ग़ुबार की तरह होगी। आगे के अश’आर में वो अपनी शा’एरी की महान विरासत का दावा करता है; जिस से मैं ये नतीजा निकालता हूँ के भले ही उस की कोई यादगार या जाने का निशान न हो, फिर भी वो अपने अश’आर के रूप में एक महान विरासत छोड़ कर जा रहा है।
२
तुझ से अगर बिछड़ भी गया मैं तो याद रख
चेहरे पे तेरे अपनी नज़र छोड़ जाऊँगा
अपने पाठकों और श्रोताओं से मुख़ातिब होकर शा’एर दावा करता है के अपने बिछड़ने (मौत) के बाद भी, वो अपना अनोखा कलात्मक दृष्टिकोण (अपनी नज़र) उन के ज़हन और चेतना पर छाप जा’एगा। उस का सोचने और देखने का अंदाज़, जो उस की शा’एरी में महफ़ूज़ है, हमेशा क़ा’एम रहेगा।
३
ग़म दूरियों का दूर न हो पाएगा कभी
वो अपनी क़ुर्बतों का असर छोड़ जाऊँगा
दूसरे मिसरे में ‘वो’ शब्द बहुत महत्व है और किसी ख़ास ओ अनोखी चीज़ की तरफ़ इशारा करता है। वो कहता है के मैं अपनी क़ुर्बत और लगाव (जो शा’एरी के ज़रिए क़ा’एम हुआ है) का ऐसा अनोखा और गहरा असर छोड़ जाऊँगा के मेरी जुदाई का ग़म कभी ख़त्म नहीं हो सकेगा। तुम मुझे कभी भूल नहीं पाओगे और बतौर शा’एर मेरी शोहरत हमेशा क़ा’एम रहेगी।
४
गुज़रेगी रात रात मेरे ही ख़याल में
तेरे लिये मैं सिर्फ़ सहर छोड़ जाऊँगा
रातें मेरे ही ख़यालों में और मेरी शा’एरी पर विचार करते हुए गुज़रेंगी। मैं तुम्हारे लिये जो अकेली चीज़ छोड़ कर जाऊँगा वो सहर (सुब्ह) है। यहाँ सुब्ह अज्ञानता या दुख की लंबी रात के बाद ज्ञान, रोशनी और ख़ुशी का प्रतीक है। ‘सिर्फ़’ का मतलब ये नहीं के वो अपनी विरासत को कमतर समझ रहा है, बल्के इस बात पर ज़ोर देना है के बस यही एक चीज़ सब से ज़्यादा मा’ने रखती है—सहर यानी रोशनी, ज्ञान, उम्मीद और प्रगति; वो कोई भौतिक यादगारें या अन्य सांसारिक चीज़ें नहीं छोड़ रहा है।
५
जैसे के शमा’-दान में बुझ जाए कोई शम’अ
बस यूँ ही अपने जिस्म का घर छोड़ जाऊँगा
इस दुनिया से उस की रुख़्सत बहुत सादी और ख़ामोश होगी, जैसे शमा’-दान में कोई शमा’ ख़ामोशी से बुझ जाती है। वो बिना किसी कशमकश या शोर-शराबे के अपने शरीर को—जो उस की रूह का घर था—छोड़ देगा।
६
मैं तुझ को जीत कर भी कहाँ जीत पाऊँगा
लेकिन मोहब्बतों का हुनर छोड़ जाऊँगा
शा’एर को इस बात का एहसास है के ज़िंदगी या मोहब्बत में अंतिम जीत हासिल करना नामुमकिन है (कहाँ जीत पाऊँगा)। उस की असल कामयाबी और हमेशा क़ा’एम रहने वाली चीज़ नतीजा नहीं, बल्के मोहब्बत करने की कला और तरीक़ा (मोहब्बतों का हुनर) है, जो उस की शा’एरी में महफ़ूज़ रहेगा।
७
आँसू मिलेंगे मेरे न फिर तेरे क़हक़हे
सूनी हर एक राहगुज़र छोड़ जाऊँगा
उस की रुख़्सत से भावनाओं का एक मुकम्मल ख़ालीपन पैदा हो जाएगा: उस का गहरा दुख और उस की शा’एरी से मुतास्सिर (प्रेरित) होने वाली श्रोताओं की ख़ुशी (क़हक़हे), दोनों ख़त्म हो जाएँगे। वो साहित्य और ज़िंदगी के रास्तों को बिलकुल सूना और वीरान छोड़ जाएगा—एक ऐसा ख़ालीपन जिसे कोई दूसरा समकालीन शा’एर नहीं भर सकेगा।
८
संसार में अकेला तुझे अगले जन्म तक
है छोड़ना महाल मगर छोड़ जाऊँगा
अपने प्रशंसकों और श्रोताओं को अगले जन्म तक इस दुनिया में अकेला छोड़ जाना शा’एर के लिये एक बेहद दर्दनाक और लगभग नामुमकिन काम लगता है। लेकिन फिर भी उसे क़िस्मत के नियम के आगे झुकना पड़ेगा, और उस का अपनी कला की तरफ़ लौटने का वादा एक अमर संकल्प को दर्शाता है।
९
उस पार जा सकेंगी तो यादें ही जाएँगी
जो कुछ इधर मिला है इधर छोड़ जाऊँगा
दार्शनिक अंदाज़ में शा’एर इस बात की पुष्टि करता है के अगले लोक में जो अकेली चीज़ें साथ जा सकती हैं वो सिर्फ़ यादें और अनुभव हैं। तमाम भौतिक चीज़ें, शोहरत और उस का शरीर (जो कुछ इधर मिला है) इसी दुनिया में छोड़ना पड़ेगा।
१०
ग़म होगा सब को और जुदा होगा सब का ग़म
क्या जाने कितने दीदा-ए तर छोड़ जाऊँगा
उस की रुख़्सत पर सब को दुख होगा, लेकिन हर इंसान का दुख अलग और अनोखा होगा—जो उस के व्यापक और व्यक्तिगत प्रभाव का प्रमाण है। अपने पीछे वो कितनी रोती हुई आँखें (दीदा-ए तर) छोड़ जाएगा, इस का अंदाज़ा लगाना मुश्किल है।
११
बस तुम ही पा सकोगे कुरेदोगे तुम अगर
मैं अपनी राख में भी शरर छोड़ जाऊँगा
शा’एर की असल सच्चाई आसानी से नज़र आने वाली नहीं है। श्रोताओं या पाठकों को उस के जज़्बे और ज़हानत की चिंगारी (शरर) तब ही मिलेगी जब वो उसकी रचनाओं (जो ज़ाहिरी तौर पर राख की तरह मुर्दा लगती हैं) की गहराई में जा कर छान-बीन करेंगे/कुरेदेंगे। ये चिंगारी उनके ज़ेहन में नए अर्थों और व्याख्याओं को जन्म दे सकती है।
१२
कुछ देर को निगाह ठहर जाएगी ज़रूर
अफ़्साने में एक ऐसा खंडर छोड़ जाऊँगा
उसकी ज़िंदगी की कहानी एक भव्य खंडहर की तरह होगी। भले ही वक़्त के साथ उस का काम धुंधला पड़ जाए, लेकिन उस की असल महानता इतनी साफ़ होगी के भविष्य में देखने वाले की नज़र कुछ देर के लिये रुकने और ठहरने पर मजबूर हो जाएगी, और वो उसके गहरे महत्व को स्वीकार करेगा।
१३
कोई ख़याल तक भी न छू पाएगा मुझे
ये चारों सम्त आठों पहर छोड़ जाऊँगा
ये शा’एर का अंतिम स्वाभिमान और दावा है: उस के विचार और सोच की ऊँचाई इतनी ज़्यादा है के आने वाले किसी शा’एर की सोच उस तक नहीं पहुँच पाएगी (छू नहीं पाएगी)। दूसरे मिसरे में ‘ये’ या तो उस के ख़याल की तरफ़ इशारा है या फिर एक ओजस्वी (radiant) ऐलान है के “ये” वो चीज़ है जो मैं छोड़ कर जाऊँगा, जिस में गहरे अर्थ छुपे हैं। हालाँके, उस के विषय हर दौर (आठों पहर—यानी पूरा दिन/हर वक़्त) और हर जगह (चारों सम्त) हमेशा प्रासंगिक और ज़िंदा रहेंगे।
sharar chhoR jaa’uNga – krishn bihaari noor
krishn bihari srivastav noor (1926 – 2003), was born and grew up in lucknow. After initial home schooling, he graduated from high school and later lukhnau university and got employment in the postal service (Returned Letter Office) from which he retired as assistant manager in 1984. There are several collections of his work in urdu and hindi. He was a regular presence in mushaa’era all over India. In a lot of his work, he gracefully reaches across communal lines both in the social/political and religious fields. He also was a great lover of urdu.
1.whereabouts, clue 2.news, trace 3.directionlessness, aimlessness 4.dust, fog, vagueness 5.journey (of life)
The poet is talking about the legacy he will leave behind upon his death. He will simply vanish, without leaving an address or any news about him. There will be no monuments to him, or no material wealth. The dust of his journey will be like a fog, directionless – be-samt. In subsequent ash’aar he makes a strong claim to a great legacy in verse; from which I conclude that while there is no monument, no trace of where he went, he is about to show that he still leaves behind a legacy in his ash’aar.
1.to be separated 2.remember 3.face 4.gaze, sight, perspective, point of view
Addressing his audience/beloved, the poet promises that even after his separation (death), he will leave his unique artistic perspective (his nazar-point of view) imprinted on their minds and consciousness. His viewpoint, preserved in his verse, will be an enduring presence.
1.distances, separation 2.duur ho paana-to be able to dispel/remove 3.closeness, intimacy 4.effect, impact
In the second misra the word vo is very important and implies something special and unique. He says – I will leave behind such a unique and powerful effect of closeness (the intimacy forged through poetry), that the pain of separation will never be able to be dispelled. You will never be able to forget me; my fame as a poet will endure.
1.will pass 2.night after night 3.in my thoughts (of me), or with my thoughts/verse 4.only, merely 5.dawn, morning
Night after night you will pass with my thoughts/comtemplating my verse. The only thing that I will leave behind for you is the dawn. Here, dawn symbolizes knowledge/joy after a long night of struggle with ignorance or sorrow. By ‘sirf‘ in not meant ‘only’ in the sense of devaluing the legacy he is leaving behind but an emphasis that this is the only thing that counts – sahar – stands for light, knowledge, hope, progress; he is not leaving behind monuments or other material instruments of legacy.
1.candleholder 2.body
His departure from life will be simple and quiet, like a flame being extinguished in the candelabra. He will relinquish his body, the ‘house’ that held his soul, without struggle or fanfare.
1.idiomatically-how (not where) 2.art/skill/craft of love
The poet realizes that ultimate victory in life or love is impossible (kahaaN jiit paa’uNgaa). His true achievement, and what will endure, is not the outcome but the art and technique of loving (mohabbatoN ka hunar), which is preserved in his verse.
1.tears 2.laughter 3.desolate, empty, silent 4.(literary) pathway
His departure will cause a total emotional void: both his intense sorrow and the audience’s joy (inspired by his verse) will cease. He will leave the path of literature and life desolate (suuni)—a gap no contemporary poet will be able to fill.
1.world 2.next birth (reincarnation) 3.impossible, extremely difficult
The poet views leaving his admiring audience alone for the entire span until his next birth as an excruciating, almost impossible task. Yet, he must submit to the cycle of fate, making his promise to return to his art an eternal commitment.
1.the other side, afterlife 2.memories 3.here (this world)
Philosophically, the poet confirms that the only elements transferable to the next realm are memories and experiences. All material possessions, fame, and his physical body (jo kuchh idhar milaa) must be left behind in this world.
1.grief 2.separate, unique, different 3.who knows, how can one say 4.wet weeping eyes
His departure will cause universal grief, yet each person’s sorrow will be unique and different—a testament to his wide-ranging and personal impact. The number of people left weeping is beyond calculation.
1.dig/poke around, analyze deeply 2.ashes 3.spark, ember
The poet’s true essence is not easily visible. The audience will only find the spark (sharar) of his passion and genius if they make the effort to dig deeply (kuredna) into his remains (the body of his work), which may initially appear finished or dead (raakh). The spark might trigger new interpretations in their mind.
1.gaze 2. story/tale (of his life/work) 3.ruin, wreckage
His life’s story will resemble a majestic ruin (khanDar). Though his work may fade over time, its original grandeur will be so evident that the gaze of any future observer will be forced to pause and linger for a while, acknowledging its profound significance.
1.thought, concept 2.able to touch/reach/equal 3.directions 4.three-hour period
This is the poet’s final boast: The quality and depth of his thought are so high that no succeeding poet’s thought will be able to reach/equal (chhuu nahiN paa’egaa) it. The ‘ye‘ in the second misra refers to either his Khayaal or is meant as an exclamation – this is what I will leave behind, with “this” being loaded with meaning. His themes will, however, remain relevant for all time (aaThoN pahar – making a full day, representing all time) and everywhere (chaaroN samt).
The post sharar chhoR jaau’Nga-krishn bihaari srivastav noor appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/07/jnaa-mahak-chhoR-jaauNga-audio.mp3
Recitation
مہک چھوڑ جاؤں گا ۔ جگن ناتھ آزادؔ
۱
ہوں نغمگی کا پھول تپک چھوڑ جاؤں گا
مُرجھا بھی میں گیا تو مہک چھوڑ جاؤں گا
۲
بھٹکے نہ میرے قافلے والوں میں پھر کوئی
رستوں پہ اِس طرح سے چمک چھوڑ جاؤں گا
۳
بُجھنے نہ پائیں تاکہ کبھی سوچ کے دیے
افکار میں وہ ایک دمک چھوڑ جاؤں گا
۴
جو بن سنور رہی ہے خیالوں میں آج کل
اُس زندگی کی ایک جھلک چھوڑ جاؤں گا
۵
ہے میری شاعری میں کئی رنگ کی پھوار
تم دیکھنا زمیں پہ دھنک چھوڑ جاؤں گا
۶
اے ساکِنانِ شہرِ جفا دیکھنا کہ میں
خُوشبُو وفا کی دُور تلک چھوڑ جاؤں گا
۷
مہر و مہ و نجومِ خیالات کی قسم
اک روز میں زمیں پہ فلک چھوڑ جاؤں گا
جگن ناتھ آزادؔ (۱۹۱۸۔۲۰۰۴) میانوالی (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے اور وہ ایک اور نامور شاعر، تلوک چند محروم کے بیٹے تھے۔ انہوں نے گارڈن کالج راولپنڈی سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے اور ایم او ایل (Master of Oriental Languages) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ تحریکِ رفاقت کا حِصّہ بن کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے سیاست میں متحرک رہے اور کسان مزدور پارٹی کے سکندر حیات خاں کے ساتھ کام کیا۔ انہوں نے ہندو مسلم اتحاد اور ہند-پاک تعلقات کو بہتر بنانے پر بڑی محبت اور جذبے سے لکھا ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ کچھ مہینے لاہور ہی میں رہے اور پھر ہندوستان منتقل ہو گئے، لیکن لاہور اور پاکستان سے ان کی محبت انہیں بار بار وہاں واپس لے جاتی رہی۔ ہندوستان آنے کے بعد انہوں نے مرکزی حکومت کے لیے کام کیا اور ریٹائرمنٹ کے بعد کشمیر میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ وہ علامہ اقبال کے بہت بڑے مدّاح تھے اور انہوں نے اقبال پر کئی کتابیں بھی لکھیں۔
۱
ہوں نغمگی کا پھول تپک چھوڑ جاؤں گا
مُرجھا بھی میں گیا تو مہک چھوڑ جاؤں گا
یہاں ’نغمگی‘ سے مُراد صرف گانا گانا نہیں، بلکہ ایک خوبصورت اور ترنُّم والی غزل کہنے کا فن ہے۔ اور ’تپک‘ سے مُراد دل کا تڑپنا یا درد و سوز کا ہونا ہے۔ میں غزل کے فن کا کِھلتا ہوا پھول ہوں؛ میں ایسی غزلیں چھوڑ کر جاؤں گا جو دلوں کو تڑپاتی رہیں گی۔ اگر میں مُرجھا بھی گیا (یعنی دنیا سے چلا گیا)، تب بھی اپنی شاعری کی خوشبو پیچھے چھوڑ جاؤں گا۔
۲
بھٹکے نہ میرے قافلے والوں میں پھر کوئی
رستوں پہ اِس طرح سے چمک چھوڑ جاؤں گا
تاکہ میرے ساتھ سفر کرنے والے (یعنی میرے قافلے کے لوگ/ہم سفر/سالک) کبھی راستہ نہ بھٹکیں، میں راستوں پر رہنمائی کرنے والے چمکتے ہوئے دیے چھوڑ جاؤں گا۔ ظاہر ہے، یہ دیے شاعر کے اشعار ہی ہیں۔
۳
بُجھنے نہ پائیں تاکہ کبھی سوچ کے دیے
افکار میں وہ ایک دمک چھوڑ جاؤں گا
تاکہ سوچ، فکر اور عقل کے دیے کبھی بجھنے نہ پائیں، میں اپنے افکار اور الفاظ میں ایسی چمک اور روشنی چھوڑ جاؤں گا جو ہمیشہ قائم رہے گی۔
۴
جو بن سنور رہی ہے خیالوں میں آج کل
اُس زندگی کی ایک جھلک چھوڑ جاؤں گا
وہ خوبصورت زندگی جو آج کل میرے خیالوں اور تصور میں بن سنور رہی ہے، میں اس کی ایک جھلک اپنے اشعار میں چھوڑ جاؤں گا۔ شاعر جس خوبصورتی کا تصور کرتا ہے، اسے شاعری کا روپ دے دیتا ہے اور یہی اس کا اصل سرمایہ بن جاتا ہے۔
۵
ہے میری شاعری میں کئی رنگ کی پھوار
تم دیکھنا زمیں پہ دھنک چھوڑ جاؤں گا
یہاں ’پھوار‘ سے مراد فوارے یا ندی کی رنگ برنگی دھاریں ہیں۔ میری شاعری میں کئی طرح کے رنگ اور نوعیتیں ہیں۔ اپنے ان رنگین الفاظ کے ذریعے میں اس زمین پر ایک قوسِ قزح (دھنک) چھوڑ کر جاؤں گا۔
۶
اے ساکِنانِ شہرِ جفا دیکھنا کہ میں
خُوشبُو وفا کی دُور تلک چھوڑ جاؤں گا
یہاں ’وفا‘ کا لفظ سچائی اور انصاف کی پاسداری کے لیے استعمال ہوا ہے۔ شاعر ظلم کی نگری میں رہنے والوں (یعنی ظالموں) سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ دیکھنا، میں سچائی اور انصاف کی خوشبو دور دور تک پھیلا جاؤں گا۔ میرے اشعار مظلوموں کی طرف سے بولیں گے اور انصاف کا تقاضا کریں گے۔
۷
مہر و مہ و نجومِ خیالات کی قسم
اک روز میں زمیں پہ فلک چھوڑ جاؤں گا
شاعر اپنی فکر اور خیال کے سورج، چاند اور ستاروں کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ اتنے شاندار اور روشن خیالات چھوڑ کر جائے گا کہ یہ زمین اپنے چمکتے ہوئے ستاروں اور سیاروں کی وجہ سے بالکل آسمان کی طرح نظر آنے لگے گی۔
महक छोड़ जाऊँगा – जगन्नाथ आज़ाद
१
हूँ नग़्मगी का फूल तपक छोड़ जाऊँगा
मुर्झा भी मैं गया तो महक छोड़ जाऊँगा
२
भटके न मेरे क़ाफ़िले वालों में फिर कोई
रस्तों पे इस तरह से चमक छोड़ जाऊँगा
३
बुझने न पाएँ ताके कभी सोच के दिये
अफ़्कार में वो एक दमक छोड़ जाऊँगा
४
जो बन सँवर रही है ख़यालों में आज-कल
उस ज़िंदगी की एक झलक छोड़ जाऊँगा
५
है मेरी शा’एरी में कई रंग की फुवार
तुम देखना ज़मीं पे धनक छोड़ जाऊँगा
६
अए साकिनान-ए शहर-ए जफ़ा देखना के मैं
ख़ुश्बू वफ़ा की दूर तलक छोड़ जाऊँगा
७
महर-ओ-मह-ओ-नुजूम-ए ख़यालात की क़सम
एक रोज़ मैं ज़मीं पे फ़लक छोड़ जाऊँगा
जगन नाथ आज़ाद (१९१८-२००४) का जन्म मियाँवाली (अब पाकिस्तान में) हुआ था और वो एक और महान शा’एर, तिलोक चंद महरूम के बेटे थे। उन्होंने गॉर्डन कॉलेज रावलपिंडी से बी-ए और पंजाब यूनिवर्सिटी लाहौर से एम-ए और एम-ओ-एल (Master of Oriental Languages) की पढ़ाई की। वो तहरीक-ए रिफ़ाक़त के साथ जुड़कर सांप्रदायिक सौहार्द (मज़हबी भाईचारे) को बढ़ावा देने के लिये राजनीति में सक्रिय रहे और किसान-मज़्दूर पार्टी के सिकंदर हयात ख़ां के साथ काम किया। उन्होंने हिंदू-मुस्लिम और भारत-पाकिस्तान के रिश्तों पर बड़े जज़्बे और मोहब्बत के साथ लिखा है। विभाजन के बाद वो कुछ महीने लाहौर में ही रहे और फिर भारत आ गए, लेकिन लाहौर और पाकिस्तान के लिये उन का प्यार उन्हें बार-बार वहाँ खींच ले जाता था। भारत आने के बाद उन्होंने केंद्र सरकार के लिये काम किया और रिटा’एरमेंट के बाद कश्मीर में पढ़ाया। वो एक़्बाल के बहुत बड़े प्रशंसक थे और उन्होंने उन पर कई किताबें लिखीं।
१
हूँ नग़्मगी का फूल तपक छोड़ जाऊँगा
मुर्झा भी मैं गया तो महक छोड़ जाऊँगा
यहाँ ‘नग़मगी’ का मतलब सिर्फ़ गाना गाना नहीं, बल्के एक ख़ूबसूरत और सुरीली ग़ज़ल कहने की कला है। और ‘तपक’ से मतलब दिल की तड़प या उस में उठने वाला दर्द और जज़्बा है। मैं ग़ज़ल की कला का खिलता हुआ फूल हूँ; मैं ऐसी ग़ज़लें छोड़ कर जाऊँगा जो दिलों को तड़पाती रहेंगी। अगर मैं मुर्झा भी गया (यानी दुनिया से चला गया), तब भी अपनी शा’एरी की महक पीछे छोड़ जाऊँगा।
२
भटके न मेरे क़ाफ़िले वालों में फिर कोई
रस्तों पे इस तरह से चमक छोड़ जाऊँगा
ताके मेरे साथी राही (यानी मेरे क़ाफ़िले के लोग) कभी रास्ता न भटकें, मैं रास्तों पर रहनुमाई करने वाले चमकते हुए चिराग़ छोड़ जाऊँगा। ज़ाहिर है, ये चिराग़ शा’एर के अश’आर ही हैं।
३
बुझने न पाएँ ताके कभी सोच के दिये
अफ़्कार में वो एक दमक छोड़ जाऊँगा
ताके सोच, विचार और समझ के दिये कभी बुझने न पाएँ, मैं अपने अफ़्कार (विचारों) और अलफ़ाज़ में ऐसी चमक और रौशनी छोड़ जाऊँगा जो हमेशा क़ा’एम रहेगी।
४
जो बन-सँवर रही है ख़यालों में आज-कल
उस ज़िंदगी की एक झलक छोड़ जाऊँगा
वो ख़ूबसूरत ज़िंदगी जो आज-कल मेरे ख़यालों और कल्पना में बन-सँवर रही है, मैं उस की एक झलक अपने अश’आर में छोड़ जाऊँगा। शा’एर जिस सुंदरता की कल्पना करता है, उसे अपनी शा’एरी में ढाल देता है और यही उसकी असली विरासत बन जाती है।
५
है मेरी शा’एरी में कई रंग की फुवार
तुम देखना ज़मीं पे धनक छोड़ जाऊँगा
यहाँ ‘फुवार’ से मतलब फ़व्वारे की रंग-बिरंगी धारें या धुंध हैं। मेरी शा’एरी में कई तरह के रंग और विविधता है। अपने इन रंगीन शब्दों के ज़रिए मैं इस ज़मीन पर एक इंद्रधनुष (धनक) छोड़ कर जाऊँगा।
६
अए साकिनान-ए शहर-ए जफ़ा देखना के मैं
ख़ुश्बू वफ़ा की दूर तलक छोड़ जाऊँगा
यहाँ ‘वफ़ा’ का शब्द सच्चाई और इंसाफ़ की वफ़ादारी के लिये इस्तेमाल हुआ है। शा’एर ज़ुल्म के शहर में रहने वालों (यानी ज़ालिमों) को संबोधित करते हुए कहता है के देखना, मैं सच्चाई और इंसाफ़ की ख़ुश्बू दूर-दूर तक फैला जाऊँगा। मेरे अश’आर मज़्लूमों (पीड़ितों) की तरफ़ से बोलेंगे और इंसाफ़ की माँग करेंगे।
७
महर-ओ-मह-ओ-नुजूम-ए ख़यालात की क़सम
एक रोज़ मैं ज़मीं पे फ़लक छोड़ जाऊँगा
शा’एर अपने विचारों के सूरज, चाँद और सितारों की क़सम खा कर कहता है के वो इतने शानदार और रौशन विचार छोड़ कर जाएगा के ये ज़मीन अश’आर के चमकते हुए सितारों की वजह से बिलकुल आसमान (फ़लक) जैसी नज़र आने लगेगी।
mahak chhoR jaau’Nga – jagan naath aazaad
jagan nath aazaad (1918-2004), born in miyaaNvaali (now in pakistan) was the son of another great poet, tilok chand mahroom. BA, Gordon College, raavalpinDi and MA and MoL panjab university, lahore. He became active in politics promoting communal harmony, working for tarhriik-e rifaaqat. He worked with sikandar hayaat KhaaN of the kisaan-mazdoor party. He has written with much passion about hindu-muslim and India-pakistan accord. He lived in lahore for a few months after partition before migrating to India, and his love for lahore/pakistan took him back frequently. After migrating to India, he worked for the central government and after retirement taught in kashmir. He was a great admirer of iqbal and has written several books on him.
Here naGhmagi is not simply the art of singing but the art of composing melodious Ghazal and tapak – throbbing is meant as throbbing of the heart in pain or passion. I am the blooming flower of the art of Ghazal; I will leave such Ghazal as will keep hearts throbbing. Even if I wilt (murjhaa), I will behind a fragrance (mahak).
So that no one among my fellow seekers qaafil’e vaal’e gets lost, I will leave behind on the path shining/guiding lamps. Of course, these will be his ash’aar.
So that the lamps diy’e of thought/reason soch never get extinguished, I will leave behing a glow damak in my thoughts/words afkaar.
That which is taking form and getting adorned ban-saNvar in my thoughts/imagination KhayaaloN these days, I will behind a glimpse jhalak of the vision of the beauty of that life. The poet gives expression to the beauty he imagines and this becomes his legacy.
Here phuvaar implies streams of mist or spouts of fountain. His poetry streams of many colours/varieties. With his colourful words he will leave behind a rainbow dhanak on earth.
Here vafaa is used to imply fidelity to truth/justice. He is addressing the residents of the city of oppression saakinaan-e shahr-e jafaa i.e., oppressors and declares that he will leave behind the fragrance of truth and justice. His words, his verse ash’aar will speak on behalf of the oppressed, will demand justice.
He swears by the sun-moon-stars mahr-o-mah-o-nujuum of thought/imagination that he will leave behind such sparkling/brilliant thoughts that the earth will look like the sky with its shining constellations and heavenly bodies.
The post mahak chhoR jaau’Nga-jagan nath aazaad appeared first on UrduShahkar.